Shahzad-ul-Haq

Shahzad-ul-Haq Empowering brands with expert Amazon PPC and DSP management. CEO at Brain Souls, Amazon Ads Certified, dedicated to maximizing your online success

23/04/2026

جنگلوں میں پھر رہا ہوں ڈھونڈتا اپنا وجود،
شہر کی رونق میں خود کو کھو چکا ہوں میں۔

I've just reached 300 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏...
22/04/2026

I've just reached 300 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

18/04/2026

Allhumdulillah- Toyta Fortuner

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!JahanZaib Nasir, Mir Salim Ur Rahman, Miraj Shinwari, Amin...
21/05/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!

JahanZaib Nasir, Mir Salim Ur Rahman, Miraj Shinwari, Amin Chughtai, Said Asif, Hanzla Umar, Muhammad Ahmad

16/05/2025

راشن کا تھیلا اور ضمیر کا بوجھ — کل بھی یہی تھا، آج بھی یہی ہے

شہاب نامہ کی دوسری کہانی میں شہاب صاحب جب راشن ڈپو پر چھاپہ مارتے ہیں، تو ایک گندے سے تھیلے سے صرف چینی، آٹا اور دال ہی نہیں برآمد ہوتی — بلکہ اُس تھیلے سے کرپشن، خودغرضی، اور ظلم کی بو بھی نکلتی ہے۔

ایک طرف غریب عورتیں قطار میں لگی ہیں، جن کی نظریں امید سے تھیلے کی طرف ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے عہدے اور تعلقات کی بنیاد پر انصاف کو روندتے جا رہے ہیں۔ شہاب صاحب دل سے تڑپ جاتے ہیں۔ وہ قانون کے محافظ تھے، مگر ضمیر کے قیدی بھی۔

یہ کہانی ہمیں لمحہ بھر کے لیے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا وہ دور گزر گیا؟ کیا آج ہمارے راشن ڈپو، ہمارے دفاتر، ہماری عدالتیں، اور ہمارے دل صاف ہو چکے ہیں؟

نہیں… آج بھی وہی راشن کے تھیلے کسی نہ کسی شکل میں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ آج بھی حق دار محروم ہے، آج بھی طاقتور چھین رہا ہے، اور آج بھی حساس دل رکھنے والے انسانوں کی ضرورت ہے جو ضمیر کی آواز سن سکیں

وہ عورت تھی… مگر عورت نہیں تھی!”کرشن چندر کی ایک عورت ہزار دیوانے پڑھی — اور یوں لگا جیسے لفظوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا...
14/05/2025

وہ عورت تھی… مگر عورت نہیں تھی!”
کرشن چندر کی ایک عورت ہزار دیوانے پڑھی — اور یوں لگا جیسے لفظوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہو۔ وہ عورت جو ہزار دیوانوں کے بیچ جیتی ہے، دراصل کہیں مر چکی ہوتی ہے۔ ہر مرد اسے اپنی نظروں سے تولتا ہے، اپنے جسم کی بھوک سے پرکھتا ہے، اور جب وہ تھک جاتی ہے تو اسے بدچلن، بےحیا، یا محض ایک استعمال شدہ چیز کہہ کر گلی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

لیکن قصور کس کا ہوتا ہے؟ اس عورت کا، جس نے محبت چاہی؟ عزت چاہی؟ یا اس معاشرے کا، جو صرف حسن کا بھوکا ہے مگر کردار کا اندھا؟

کرشن چندر نے اس عورت کو لکھا نہیں، جیا ہے۔ اس کے ہر کردار میں ایک کرب ہے، ایک فریاد ہے، ایک دہکتا سوال ہے جو ہم سب کے منہ پر ہے:
“عورت کب صرف ایک جسم تھی؟ اور کب وہ صرف ہوس کے لیے بنی؟”

یہ کتاب پڑھ کر مجھے لگا، اگر تم عورت کو نہیں سمجھ سکتے، تو کم از کم اس کے درد پر خاموش تو رہو۔ اسے گالی نہ دو، اس کے قدموں کو زنا کے ترازو میں نہ تولو۔

میں نے یہ کتاب بند کی، اور دیر تک سوچتا رہا — شاید ہم سب اس عورت کے قاتل ہیں… تھوڑا تھوڑا۔

14/05/2025

یہ لیک نہیں، مارکیٹنگ ہے!

اب زمانہ وہ ہے جہاں عزت بیچ کر ویوز کمائے جاتے ہیں،
جہاں بےحیائی کو “ٹرینڈنگ” کہا جاتا ہے،
اور جہاں ننگا ناچ کرنے والے “کانٹینٹ کریئیٹر” کہلاتے ہیں۔

مناہل ملک ہو یا کوئی اور —
یہ ویڈیو لیک نہیں ہوتیں، پلان کی جاتی ہیں۔
پہلے تھوڑا نخرہ، پھر تھوڑا شوق،
اور پھر ایک “لیک” ویڈیو…
پھر لاکھوں کی فالوونگ، پھر برانڈز کے اشتہار، پھر پیسے، پھر انٹرویوز۔

جب غیرت مر جائے، اور مقصد صرف شہرت بن جائے
تو پھر نہ ویڈیو سے شرم آتی ہے، نہ تبصروں سے تکلیف۔

منٹو کے الفاظ آج چیخ رہے ہیں:
“اگر تمہیں فحاشی نظر آتی ہے، تو آنکھیں بند کر لو — کیونکہ یہ دنیا اب ننگی ہے، اور فخر سے ہے!”

08/05/2025

جہلم میں اچانک گاڑی کو آگ لگئی۔ وجہ معلوم نہ ہو سکی۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!Zulqarnain Majeed, Haji Shahbaz Ali, Wali Jutt, Khubaib Af...
07/05/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!

Zulqarnain Majeed, Haji Shahbaz Ali, Wali Jutt, Khubaib Afridi

04/05/2025

آج “حوصلے جیت جاتے ہیں” پڑھ کر یوں لگا جیسے لفظ نہیں، کسی درویش کی پکار ہو۔
یہ کوئی عام سی کتاب نہیں تھی،
یہ تو جیسے آئینہ تھا — جو چہرہ نہیں، دل دکھاتا ہے۔

کتاب نے سمجھایا کہ جیتنے کے لیے شور مچانا ضروری نہیں،
کبھی کبھی خاموشی سے گر کر اٹھتے رہنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
حوصلہ وہ پرندہ ہے جو طوفان میں راستہ نہیں ڈھونڈتا —
خود اپنی سمت بناتا ہے۔

آج میں نے جانا،
گرنا کوئی ہار نہیں،
بس اٹھنے کا ایک اور موقع ہوتا ہے۔

04/05/2025

میں جنگ کے خلاف ہوں — کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ جنگیں قوموں کو عظیم بناتی ہیں،
لیکن میں نے قبروں میں دیکھا ہے کہ وہ نسلیں کھا جاتی ہیں۔

جنگیں نہ صرف بموں سے شہروں کو، بلکہ نفرت سے دلوں کو بھی راکھ کر دیتی ہیں۔
جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، تہذیب، ادب، سکون، محبت، رزق، اور انسانیت بھی دم توڑ دیتی ہے۔

میں امن کا حامی ہوں…
کیونکہ بندوق کبھی بھی وہ سکون نہیں دے سکتی، جو ایک نرم لفظ، ایک گرم روٹی، اور ایک مسکراتے بچّے کی ہنسی دے سکتی ہے۔

“نہیں چاہیئے ہمیں ایسی جیت، جس کی قیمت انسان ہو۔”

01/05/2025

“ہم سب دوسروں کی زندگیوں پر بڑے دانشور بن جاتے ہیں… جج کرتے ہیں، مشورے دیتے ہیں، فیصلے سناتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہی کٹہرہ ہمارا ہو جائے، زبان گنگ، دل بے بس، اور سچائی کا وزن اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ عجیب لوگ ہیں ہم… خود پر وار ہو تو درد، اور دوسروں پر ہو تو تجزیہ

Address

Al Barsha
Dubai
25314

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahzad-ul-Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share