TARIQ URDU PRESS

TARIQ URDU PRESS TariQ Urdu Press is a Advertising service agency that sells Printing and Related Services. Products

21/02/2026

داونگیرے (الطاف رضوی / انڈو ٹائمز میڈیا)
شہر کے جنوب اسمبلی حلقہ کے رُکنِ اسمبلی شامنور شیوشنکرپا کے انتقال سے خالی سیٹ پر عنقریب ضمنی الیکشن ہونے کو ہیں اس ضمنی الیکشن میں کانگریس پارٹی کسی مسلمان کو ٹکٹ ورنہ اس حلقہ مسلم طبقہ کی جانب سے پلان بی پر عمل ہوسکتا ہے ،ان خیالات کا اظہارجنوب اسمبلی حلقہ کے اقلیتی طبقہ کے لیڈر و یم سی ٹی چارٹیبل ٹرسٹ کے صدر یو یم منصور علی نےشہر کے صحافی انجمن دفتر میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک و ریاست کے علاوہ ضلع میں خاص کر داونگیرے میں آہندہ طبقات کے ووٹوں بالخصوص مسلم ووٹوں سے مسلسل سات مرتبہ شامنور شیو شنکرپا کامیاب ہوئے اُنہوں نے وعدہ کیا تھا2023ء کے عام اسمبلی الیکشن کے بعد اس حلقہ سے کسی مسلماں کو کانگریس پارٹی سے ٹکٹ دلاکر کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے اُن کے گھر میں ایک وزیر اور ایک رکن پارلیمان موجود ہیں اب شامنور شیوشنکرپا کے انتقال سے مجوزعہ ضمنی الیکشن میں اس حلقہ سے کسی مسلمان کو کانگریس پارٹی سے موقع فراہم کیا جانا ضروری ہے ایسےمیں چار پانچ نام حلقہ میں گردش کررہے ہیں کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ دینے کی صورت میں مسلمان اور آہندہ طبقات کی جانب سے متحد ہوکر کانگریس پارٹی کو کامیابی دلانے کی کوشش کی جائے ،ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ شامنور شیوشنکرپا کے انتقال کے فوری بعد خود اُن کے گھر سے یہ آواز آنی چاہیئے تھی اب مسلمان متحدہ طور پرداونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ سے کسی ایک مسلمان کا نام پیش کریں تاکہ اُس کو کانگریس پارٹی سے ٹکٹ دلاکر کامیاب کرانے کی ذمہ داری ہماری ہوگی اس لئے کہ مرحوم سابق وزیر ورکن اسمبلی نے مسلم طبقہ سے وعدہ کیا تھا اور اُ س وعدے کو پورہ کرنا اب ہماری ذمہ داری ہے،مگر ایساء نہیں ہورہا یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں شہر کے بودال روڈ پر واقع تاج پیالس میں ضلع بھر کے مسلم سیاسی و ملی رہنماؤں کے اجلاس میں کانگریس پارٹی سے مسلمان کو ٹکٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ متفقہ طور پر سب نے رکن کونسل کے عبدالجبار کے نام کو منظور بھی دی ہے،لہذاء ایک پارٹی کارکن ہونے کے ناطے میں پارٹی اعلیٰ کمان سے مطالبہ کرتاہوں کہ ضمنی الیکشن میں کانگریس پارٹی کسی مسلماں کو ٹکٹ دے ورنہ اس قوم کے پاس پلان بی تیار ہے اگر مسلم قوم پلان بی پر عمل کرتی ہے تو 2008 ءکے عام اسمبلی میں الیکشن میں پارٹی بی فارم سے چھیڑچھاڑ کرنے کے تیجہ میں جو نتائج ضلع میں آئے تھے وہی نتائج پھر 2028ء میں ہمیں دیکھنے اور سننے کو مل سکتے ہیں ،پلان بی کے تعلق سے صحافیوں کے ذریعہ وضاحت طلب کرنے پر موصوف نے کہا کہ وقت آنے پر خود پتہ چل جائےگا،اخباری کانفرنس میں عنایت علی خان ،ہاکی عارف ،محبوب باشاہ ،فراز خان،عمران خان وغیرہ موجود رہے۔

21/02/2026

داونگیرے(الطاف رضوی/ انڈو ٹائمز میڈیا) آنجہانی سابق وزیر و رکن اسمبلی شامنور شیوشنکرپا کے انتقال سے خالی ہوئی اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں اُن کے خاندان سے ہٹ کر دوسروں کو موقع فراہم کیا جانا چاہیئے ،اِ ن خیالات کا اظہار سابق ضلع وقف بورڈ چیرمن و موجودہ کے یم ڈی سی ڈائرکٹر محمد سراج نے شہر کے صحافی انجمن دفتر میں منعقد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مزید اُنہوں نے کا کہ بہت سارے ایماندار پارٹی کاررکنوں کے مطالبہ کو غلط انداز میں نہیں لیا جانا چاہیئے،پارٹی اعلیٰ کمان کی جانب سے ٹکٹ کسی کو بھی دی جائے تو ایمانداری سے اُمیدوار کی کامیابی کے لئے کوشش کی جائے گی یہ کہنا تو ٹھیک مگر زبردستی یہ کہنا کہ اُسی خاندان کو پھر سے موقع دیا جائے یہ کہنا کسی صورت درست نہیں ،علاوہ اس کے کیا ایماندار پارٹی کارکنوں کے جذبات سے کھلواڑ نہیں کہہ کر سابق منسپل مئیر چمن صاحب سے سوال کیا ،اس کا مطلب آپ کی نظر میں ہمارہ کانگریس پارٹی سے ٹکٹ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،پارٹی ٹکٹ صلاحیت کی بنیاد پر دی جاتی ہے ،مگر آپ نےکس طرح ٹکٹ حاصل کی کارپوریٹر اور مئیر جو بنے کیا وہ آپ کو یا د نہیں ،ٹکٹ کی مانگ کرنا یہ ہمارا حق ہے کانگریس پارٹی اعلیٰ قائدین سے ہم نے مطالبہ کیا ہے اور اپنا حق جتلایا ہے ،پارٹی اعلیٰ قیادت کے فیصلے کو ماننا ہم سب پر لازمی ہے،کانگریس پارٹی سماجی انصاف پر مبنی پارٹی ہے وہ سماجی انصاف پر مبنی فیصلہ ہی لے اس بات کی ہمیں اُمید ہے،محمد سراج نے مزید اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کانگریس پارٹی سے ہماراہ پُرزور مطالبہ ہے کہ اس مرتبہ ضمنی الیکشن میں داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ سے کانگریس پارٹی مسلم لیڈر کوہی ٹکٹ دے،اخباری کانفرنس میں تنظیم المسلمین فنڈ اسوسیشن کے سابق نائب صدر یس کے امجد اُللہ ،سابق سکریٹری شہنواز خان ،ریاستی وقف کونسل کے رکن و اقلیتی بیداری انجمن کے ریاستی صدر عبدالغنی طاہر،سید ریاض،پی قاسم صاحب ،سید شفیع،عنایت اُللہ خان،سابق رکن ضلع وقف بورڈ داونگیرے عبدالجبار ،نور آحمد ،مقصود وغیرہ شریک رہے۔

21/02/2026

کرناٹک اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام گلبرگہ میں ’خواتین کا مشاعرہ‘، محترمہ کنیز فاطمہ اور مفتی محمد علی قاضی کا خطاب

​گلبرگہ (ای میل):

خواتین اور اردو زبان کا رشتہ نہایت گہرا اور اٹوٹ ہے۔ خواتین نے اپنی لوریوں اور گھریلو گفتگو کے ذریعے نہ صرف اس زبان کی آبیاری کی ہے، بلکہ وہ اردو کی شیرینی اور اس کے تہذیبی رچاؤ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا فریضہ بھی نہایت خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں۔ ​ان خیالات کا اظہار محترمہ کنیز فاطمہ ایم ایل اے گلبرگہ شمال و چیئرپرسن کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن نے شہر کے پُرشکوہ کلیان کرناٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ہال میں کرناٹک اردو اکادمی، بنگلور کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’خواتین کے مشاعرے‘ کی افتتاحی تقریب میں شمع افروزی کے ذریعے مشاعرے کا افتتاح کرنے کے بعد کیا۔

​محترمہ کنیز فاطمہ نے مزید کہا کہ خواتین شعر و ادب کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انھوں نے مفتی محمد علی قاضی کی قیادت میں کرناٹک اردو اکادمی کی حالیہ سرگرمیوں کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انھیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور اس منفرد مشاعرے کے انعقاد پر کنوینر ڈاکٹر انیس صدیقی کو مبارکباد دی۔

​مولانا مفتی محمد علی قاضی چیرمین کرناٹک اردو اکادمی، بنگلور نے اپنے صدارتی خطاب میں اکادمی کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تشکیلِ نو کے بعد، محدود وسائل کے باوجود اکادمی اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے مثالی خدمات انجام دے رہی ہے۔ انھوں نے شاعرات کی تخلیقی زرخیزی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مشاعرے میں ریاست بھر سے شاعرات کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شعر و ادب میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

افتتاحی تقریب کی مہمانِ اعزازی، ممتاز ادیبہ ڈاکٹر میناکشی بالی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اردو ایک خالص ہندوستانی زبان ہے۔ انھوں نے اردو کو محبت، رواداری اور باہمی یگانگت کی علامت قرار دیتے ہوئے اسے دلوں کو جوڑنے والی زبان کہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شمیم ثریا سکریٹری سلیمان خطیب میموریل ایجوکیشنل ٹرسٹ، ڈاکٹر کنیز فاطمہ علوی پرنسپل بی بی رضا ویمنس ڈگری کالج اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر انیس النساء نے بھی بطور مہمانِ خصوصی شرکت کر کے محفل کی رونق بڑھائی۔

​مشاعرے کا آغاز صبا محسن بنت محمد محسن طالبہ ہیومن ایج اردو میڈیم ہائی سکول کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ریاستی ترانے ناڈ گیتے کے بعد کنوینر مشاعرہ و رکن کرناٹک اردو اکادمی نے مشاعرے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور تمام شرکا کا خیر مقدم کیا۔ اس مشاعرے میں مقامی شاعرات ڈاکٹر اسما تبسّم، اسما عالم اور ڈاکٹر رخسانہ سلطانہ کے علاوہ دیگر اضلاع سے تشریف لانے والی ممتاز شاعرات ڈاکٹر مہ جبین نجم غزال (میسور)، ڈاکٹر فرزانہ فرح (بھٹکل)، ڈاکٹر شکیلہ گوری خان (دھارواڑ)، نسرین حمزہ علی (بیدر)، ریشماں طلعت شبنم (کولار)، عشرت جہاں زیب (وجئے پور)، بی بی عائشہ چاند (میسور)، مومنہ مختار صوفی (میسور)، ڈاکٹر نسیم مہک (ہبلی)، مبین تاج (میسور) اور محترمہ یاسمین تماپوری (یادگیر) نے اپنا کلام پیش کر کے سامعات کو محظوظ کیا۔ معروف شاعرہ ڈاکٹر فرزانہ فرح (بھٹکل) کے نہایت دل نشین انداز نظامت نے مشاعرے کو چار چاند لگائے۔ ان ہی کے اظہارِ تشکر پر یہ عظیم الشان اور یادگار مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔

21/02/2026

Indo Times Media

ದಾವಣಗೆರೆ: ವಿವಿಧ ಕ್ಷೇತ್ರಗಳ ವೃತ್ತಿಪರರೊಂದಿಗೆ ಮುಖಾಮುಖಿ ಸಭೆಯನ್ನು ಅಖಿಲ ಭಾರತ ರಾಷ್ಟ್ರೀಯ ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಕಾರ್ಯದರ್ಶಿ ಸೈಯದ್ ಖಾಲಿದ್ ಅಹ್ಮದ್ ನಡೆಸಿದರು.

ಮಿಲ್ಲತ್ ಶಾಲೆಯ ಆಡಿಟೋರಿಯಂನಲ್ಲಿ ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರದಲ್ಲಿ ಸಮಾಜದ ಅಭಿವೃದ್ಧಿಗಾಗಿ ಜ್ಞಾನ ಹಂಚಿಕೆ ಮತ್ತು ಕಾರ್ಯತಂತ್ರದ ಸಹಭಾಗಿತ್ವವನ್ನು ಬೆಳೆಸುವ ಸಲುವಾಗಿ ಒನ್ ಟು ಒನ್ ಸಭೆ ನಡೆಸಲಾಯಿತು. ಈ ಸಭೆಯಲ್ಲಿ ವೈದ್ಯರು, ಎಂಜಿನಿಯರ್‌ಗಳು, ಶಿಕ್ಷಕರು, ಉದ್ಯಮಿಗಳು, ಮಹಿಳಾ ಉದ್ಯಮಿಗಳು ಸೇರಿದಂತೆ ವೈವಿಧ ವೃತ್ತಿಯಲ್ಲಿ ತೊಡಗಿರುವ ವೃತ್ತಿಪರರೊಂದಿಗೆ ಮುಖಾಮುಖಿ ಸಭೆ ನಡೆಸಿದರು.

ಸಭೆಯಲ್ಲಿ ಮಾತನಾಡಿದ ಸೈಯದ್ ಖಾಲಿದ್ ಅಹ್ಮದ್ ಅವರು, ಸಮಾಜದಲ್ಲಿ ವಿದ್ಯಾವಂತರು ಮನಸ್ಸು ಮಾಡಿದರೆ ಎಂಥ ಸಮಸ್ಯೆಗಳಿದ್ದರೂ ಪರಿಹಾರ ಕಂಡುಕೊಳ್ಳಬಹುದು. ಮುಖಾಮುಖಿ ಸಭೆ ನಡೆಸುವುದರಿಂದ ಸಮಸ್ಯೆಗಳ ಅರಿವಾಗುತ್ತದೆ. ಈಗ ಆಗಿರುವ ಕೆಲಸಗಳು ಹಾಗೂ ಮುಂದೆ ಆಗಬೇಕಾದ ಕೆಲಸಗಳ ಕುರಿತಂತೆ ನಮಗೆ ತಿಳಿಯುತ್ತದೆ. ಎಲ್ಲರೂ ತಮ್ಮ ಅಭಿಪ್ರಾಯ ವ್ಯಕ್ತಪಡಿಸಿದರೆ ಅವಕಾಶ ಸಿಕ್ಕರೆ ಸಮಸ್ಯೆಗಳ ಪರಿಹಾರಕ್ಕೆ ಪ್ರಾಮಾಣಿಕ ಪ್ರಯತ್ನ ನಡೆಸುತ್ತೇನೆಂದು ಭರವಸೆ ನೀಡಿದರು.

ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರವು ಇನ್ನಷ್ಟು ಅಭಿವೃದ್ಧಿಯಾಗಬೇಕಿದೆ. ಅಲ್ಪಸಂಖ್ಯಾತರು ಸೇರಿದಂತೆ ಅಹಿಂದ ವರ್ಗದವರೇ ಹೆಚ್ಚಿದ್ದಾರೆ. ಈ ಭಾಗದಲ್ಲಿ ಸಾಕಷ್ಟು ಅಭಿವೃದ್ಧಿ ಕಾರ್ಯಗಳಾಗಿವೆ. ಅದೇ ರೀತಿಯಲ್ಲಿ ಮತ್ತಷ್ಟು ಅಭಿವೃದ್ಧಿ ಯೋಜನೆಗಳು ಬರಬೇಕಿದೆ. ಈ ನಿಟ್ಟಿನಲ್ಲಿ ನೀವೆಲ್ಲರೂ ನೀಡಿರುವ ಸಲಹೆ, ಯೋಜನೆಗಳು, ಆಗಬೇಕಿರುವ ಕೆಲಸಗಳು, ಮುಂದೆ ದೊಡ್ಡ ದೊಡ್ಡ ಕಾರ್ಯಕ್ರಮಗಳಾಗಬೇಕೆಂಬ ಅಭಿಪ್ರಾಯಕ್ಕೆ ನನ್ನ ಸಹಮತ ಇದೆ ಎಂದು ಹೇಳಿದರು.

ವೈದ್ಯರು, ಎಂಜಿನಿಯರ್, ಶಿಕ್ಷಕರು, ಉದ್ಯಮಿಗಳು ಸೇರಿದಂತೆ ವೃತ್ತಿಪರರು ಸಮಾಜದ ಆರ್ಥಿಕತೆಯಲ್ಲಿ ಪ್ರಮುಖ ಪಾತ್ರ ವಹಿಸುತ್ತಾರೆ. ಸಮಾಜ ಅಭಿವೃದ್ಧಿಯಾಗಬೇಕಾದರೆ ಎಲ್ಲರ ಸಹಕಾರ, ಸಹಭಾಗಿತ್ವ ಅತ್ಯಗತ್ಯ. ಪ್ರಾಣ ಉಳಿಸುವ ಕೆಲಸ ವೈದ್ಯರು ಮಾಡುತ್ತಾರೆ. ರೋಗಿಗಳು, ನಮ್ಮ ಆರೋಗ್ಯದ ಬಗ್ಗೆ ಕಾಳಜಿ ವಹಿಸುತ್ತಾರೆ. ಎಂಜಿನಿಯರ್ ಗಳು ಕಟ್ಟಡಗಳು ಸೇರಿದಂತೆ ದೊಡ್ಡ ದೊಡ್ಡ ಯೋಜನೆಗಳು ಸಾಕಾರಗೊಳ್ಳಬೇಕಾದರೆ ಶ್ರಮ ಬೇಕೇ ಬೇಕು. ಮುಂದಿನ ಭವಿಷ್ಯದ ಪ್ರಜೆಗಳ ರೂಪಿಸುವಲ್ಲಿ ಶಿಕ್ಷಕರ ಪಾತ್ರ ಪ್ರಮುಖವಾದದ್ದು. ಉದ್ಯಮಿಗಳು ಹೆಚ್ಚಾಗಿ ಉದ್ಯಮಗಳನ್ನು ತಂದು ಯಶಸ್ವಿಯಾದರೆ ಉದ್ಯೋಗವೂ ಸಿಗುತ್ತದೆ. ಎಲ್ಲಾ ವೃತ್ತಿಪರರೂ ತಮ್ಮದೇ ಆದ ಕೊಡುಗೆ ಸಮಾಜಕ್ಕೆ ನೀಡಿದ್ದಾರೆ. ಮುಂದೆಯೂ ನೀಡಬೇಕಿದೆ. ಈ ನಿಟ್ಟಿನಲ್ಲಿ ನಡೆದ ಸಭೆಯು ಅತ್ಯಂತ ಯಶಸ್ವಿಯಾಗಿ ನಡೆದದ್ದು ಸಂತಸ ತಂದಿದೆ ಎಂದು ತಿಳಿಸಿದರು.

ಲೋಕಸಭೆ ವಿರೋಧ ಪಕ್ಷದ ನಾಯಕ ರಾಹುಲ್ ಗಾಂಧಿ ಅವರು ಸಹ ಒನ್ ಟು ಒನ್ ಸಭೆ ನಡೆಸುತ್ತಾರೆ. ಜನರು ಎದುರಿಸುತ್ತಿರುವ ಸಂಕಷ್ಟ, ಆಗಬೇಕಾಗಿರುವ ಬದಲಾವಣೆ, ಅಭಿವೃದ್ಧಿ ಸೇರಿದಂತೆ ಹತ್ತು ಹಲವು ವಿಚಾರಗಳ ಕುರಿತಂತೆ ಚರ್ಚಿಸುತ್ತಾರೆ. ಅದೇ ರೀತಿಯಲ್ಲಿ ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರದ ವ್ಯಾಪ್ತಿಯಲ್ಲಿಯೂ ನಡೆಸಲಾಗುತ್ತಿದೆ. ನಿಮ್ಮ ಸಹಕಾರ ಅತ್ಯಗತ್ಯ ಎಂದು ಮನವಿ ಮಾಡಿದರು.

ಸಭೆಯಲ್ಲಿ ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರ ವ್ಯಾಪ್ತಿಯ ವೈದ್ಯರು, ಎಂಜಿನಿಯರ್ ಗಳು, ಶಿಕ್ಷಕರು ಸೇರಿದಂತೆ ವಿವಿಧ ವೃತ್ತಿಗಳಲ್ಲಿ ತೊಡಗಿರುವ ಪ್ರಮುಖರು ಪಾಲ್ಗೊಂಡಿದ್ದರು.

21/02/2026

ہندوستانی سنیما اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں فن اور سیاست کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ کہانی اور بیانیہ اب محض تفریح نہیں رہے بلکہ رائے سازی اور ذہن سازی کے مؤثر اوزار بن چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں مجوزہ فلم کیرلا اسٹوری 2 گوز بیانڈ منظرِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس کا ٹریلر جاری ہوتے ہی نہ صرف سماجی حلقوں بلکہ قانونی اور سیاسی میدانوں میں بھی ایک سنجیدہ مکالمہ شروع ہو گیا ہے۔ فلم کی متوقع نمائش 27 فروری کو بتائی جا رہی ہے، مگر اس سے قبل ہی اس کے مندرجات نے ایک بڑی فکری بحث کو جنم دے دیا ہے۔

یہ فلم اپنی پہلی قسط دی کیرلا اسٹوری کے تسلسل کا دعویٰ کرتی ہے۔ پہلی فلم میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور دعووں پر بعد ازاں سوالات اٹھائے گئے اور عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات واضح کی گئی کہ بعض اعداد تخلیقی انداز میں پیش کیے گئے تھے، انہیں حتمی سرکاری اعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی نکتہ اس نئی قسط کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جب کسی تخلیق کو حقیقی واقعات سے منسوب کیا جائے تو اس کی ذمہ داری محض فنی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہو جاتی ہے۔

ٹریلر کے مناظر میں ایک مخصوص مذہبی شناخت کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے گویا وہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہو۔ مکالموں کی ساخت، پس منظر کی موسیقی اور مناظر کی ترتیب مجموعی طور پر ایک خوف اور خطرے کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی مسئلے کو موضوع کیوں بنایا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس زاویے سے اور کس توازن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اگر چند واقعات کو پورے معاشرے کی علامت بنا دیا جائے تو تصویر یک رخی ہو جاتی ہے، اور یک رخی تصویر اکثر حقیقت کی مکمل ترجمان نہیں ہوتی۔

کیرالہ کی سرزمین صدیوں سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی اشتراک کی علامت رہی ہے۔ تعلیم، سماجی ترقی اور مذہبی ہم آہنگی کے اشاریوں میں اس ریاست کا نام نمایاں ہے۔ ایسے میں اگر اسے سازشوں اور انتہا پسندی کے مرکز کے طور پر پیش کیا جائے تو فطری طور پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ریاستی قیادت کی جانب سے بھی اس نوعیت کی پیشکش پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں، اور معاملہ عدالتی دائرے تک پہنچ چکا ہے جہاں فلم کے اثرات اور اس کے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی دلیل ہے کہ بحث محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ آئینی و قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔

سنیما کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک منظر، ایک جملہ یا ایک کردار برسوں تک ذہنوں میں نقش رہتا ہے۔ اگر کسی کمیونٹی کو بار بار منفی علامت کے طور پر دکھایا جائے تو یہ تاثر رفتہ رفتہ اجتماعی شعور کا حصہ بن سکتا ہے۔ سماجی نفسیات یہی بتاتی ہے کہ دہرایا گیا تصور حقیقت کا درجہ اختیار کرنے لگتا ہے، خواہ وہ جزوی ہو یا مبالغہ آمیز۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزمرہ تعلقات میں غیر محسوس فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایک ہم جماعت، ایک ہمسایہ یا ایک ساتھی ملازم محض فرد نہیں رہتا بلکہ ایک عمومی شبیہ کا نمائندہ سمجھا جانے لگتا ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ جب کسی بیانیے کو غیر اعلانیہ سیاسی سرپرستی حاصل ہو جائے تو اس کی رسائی اور اثر بڑھ جاتا ہے۔ سرکاری تقاریب، بیانات یا اعزازات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ پیش کردہ مؤقف ہی واحد سچائی ہے۔ اس ماحول میں اختلافی آواز کو اکثر شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی اصل روح سوال اٹھانے اور دلیل پیش کرنے میں مضمر ہے۔

مزید یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم اس نوع کے بیانیوں کو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ایک ٹریلر کا مختصر سا منظر بھی بار بار شیئر ہو کر ایک مستقل تاثر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب جذباتی مناظر اور اشتعال انگیز جملے سیاق و سباق سے ہٹ کر گردش کریں تو وہ حقیقت سے زیادہ اثر انگیز معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ناظرین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مکمل تناظر کو سامنے رکھ کر رائے قائم کریں، نہ کہ محض چند مناظر کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیں۔

اسی تناظر میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا سنیما معاشرتی حقیقتوں کو ان کی پوری پیچیدگی کے ساتھ پیش کر رہا ہے یا انہیں سہل اور دو رُخی تقسیم میں سمیٹ رہا ہے۔ معاشرے سیاہ و سفید خانوں میں بند نہیں ہوتے؛ ان کے اندر تاریخی عوامل، سماجی حالات، معاشی محرکات اور انسانی کمزوریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر کسی مسئلے کو محض ایک رخ سے دکھایا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے اور ادھوری تصویر اکثر غلط فہمی کو جنم دیتی ہے۔

متوازن اور ذمہ دار فن کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نہ تو حقائق کو چھپائے اور نہ ہی انہیں مبالغے کے پردے میں لپیٹے۔ وہ مشکل سوالات ضرور اٹھائے، مگر ان کی پیشکش میں سنجیدگی، تحقیق اور فکری دیانت کو ملحوظ رکھے۔ جذباتی ہیجان وقتی اثر تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن دیرپا اعتماد صرف اسی بیانیے کو حاصل ہوتا ہے جو مختلف زاویوں کو جگہ دے اور ناظر کو سوچنے کا موقع فراہم کرے، نہ کہ اسے کسی طے شدہ نتیجے تک دھکیل دے۔

تخلیقی آزادی ایک مسلمہ حق ہے، مگر ہر حق کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی فلم کو حقیقی واقعات سے جوڑا جائے تو اس کی بنیاد مستند اعداد، تحقیقاتی رپورٹوں اور غیر جانب دار شواہد پر ہونی چاہیے۔ سنسنی خیزی وقتی توجہ ضرور حاصل کرتی ہے، لیکن سماجی سطح پر اس کے اثرات دیرپا اور بعض اوقات نقصان دہ ہوتے ہیں۔ نفرت کا بیج بونا آسان ہے، مگر اسے ختم کرنا نسلوں کا کام بن جاتا ہے۔

اس بحث کا ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ معاشرہ اب فلم کو محض تفریح نہیں سمجھتا بلکہ اس کے پیغام پر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ یہ بیداری جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ اگر سنیما اختلافی موضوعات کو دیانت اور توازن کے ساتھ پیش کرے تو وہ مکالمے کا دروازہ کھول سکتا ہے، مگر اگر وہ تقسیم کو گہرا کرے تو یہ سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔

کیرلا اسٹوری 2 گوز بیانڈ کے گرد جاری گفتگو دراصل اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اسے مشترکہ ورثے، باہمی احترام اور فکری مکالمے کا ذریعہ بنائیں گے یا اسے سیاسی مفاد کے تحت تقسیم کا آلہ کار بننے دیں گے؟ تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب اختلاف کے باوجود احترام برقرار رہے۔

سچائی کا حسن یہ ہے کہ اسے زیادہ آرائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کسی کہانی میں صداقت اور توازن ہو تو وہ خود اپنا دفاع کر لیتی ہے، اگر اسے مبالغے اور خوف کے سہارے پیش کیا جائے تو سوالات اس کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ آج کے باشعور ناظر کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے تحقیق اور دلیل کی روشنی میں رائے قائم کرے۔

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے

کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

14/02/2026

جب پورا ملک 26 جنوری 2026 کو یوم جمہوریہ منارہا تھا- ملک کی جمہوریت اور ہمارے بے مثال آئین کی دہائی دے رہا تھا- اس دوران ملک کے دورالحکومت (راجدھانی) دلی سے پانچ گھنٹوں کے فاصلے (243کلو میٹر) پر واقع ریاست اتراکھنڈ کے پہاڑی شہر کوٹ دووار (Kotdwar) میں آئین کی مراعات کو شرمسار کرنے والا افسوس ناک واقع درپیش آیا – اس شہر میں 75 سالہ بزرگ وکیل احمد بچوں کے اسکول یونیفارم کپڑوں کی ”دکان“ بابا کلاتھ اسٹورس، میں کاروبار کرتے ہیں -یہ پرلنسن بیماری کے مریض بھی ہیں – ہوایوں کہ اس دن بجرنگ دل کے چند کارکنان ان کی دکان پر آئے-بڑے میاں سے جبراً کہنے لگے کہ دکان کے نام میں ”بابا“ کا مقدس لفظ نکال دیں -اورکچھ ایسا نام رکھ لیں جس سے ان کی مسلم شناخت واضح ہو- وطن عزیز میں سبھی کو اپنی پسند سے زندگی گزارنے کا حق بنیادی طورپر حاصل ہے – اپنا کاروبار یا تجارت اپنے انداز سے چلانے کی بھی آزادی ہے -مگر ہر بات کو ہر چیز کو دھرم کی عینک سے دیکھنے والے دھرم کے محافظوں نے جب نام بدلنے کا واویلا مچانا شروع کیا -ایسے میں ایک تندمند نوجوان ان پریشان بزرگ کی حمایت میں آتا ہے -شرپسندوں کو روکتا ہے – بجرنگ دل کے پرجوش کارکنان جب مداخلت کرنے والے شخص کا نام پوچھتے ہیں تو وہ غصہ میں مغلوب ہوکر کہتا ہے ……”میرا نام محمددیپک ہے بھائی“ -یہ دراصل 38سالہ مضبوط جسم کا نوجوان دیپک کمار ہے جو Halk Gym ہلک جم (ورزش مرکز) چلاتا ہے -یہ عقیدتمند ہندو جو بڑے فخر کے ساتھ ”جئے سیارام“ کا جاپ کرتا ہے اور اس نے اپنے جسم میں ہنومان جی کی بڑی تصویر بھی آویزاں کی ہوئی ہے – بڑے میاں وکیل احمد کی دکان نام بدلنے کا شرپسند تقاضہ کرنے والے دیپک کی مداخلت سے تو اس وقت وہاں سے چلے جاتے ہیں مگر دوبارہ 31 جنوری کو دیپک کمار کا اپنے ایک بڑے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کرتے ہیں -گالی گلوچ کے ساتھ اسے دھمکیاں بھی دیتے ہیں – بجرنگ دل کے کرتا دھرتاؤں کا کہنا تھا کہ ”بابا“ دھارمک شردھا عزت واحترام کے اظہار کے طورپر استعمال کیا جانے والا لفظ یا نام ہے – اس نام کو کیسے ایک مسلمان کھلے عام اپنی تجارت میں استعمال کرسکتا ہے -جیسے ہی دیپک کی بجرنگ دل کے کارکنان کے ساتھ مداخلت کا ویڈیو وائرل ہوا -یہ واقعہ محمد دیپک کے حوالے سے سبھی کی توجہ کا مرکز بن گیا -جہاں لوگ اس دیپک کی مذہبی رواداری اورنفرت کو محبت سے نمٹنے کے اس جرأتمندانہ اقدام کی تعریف کررہے تھے -اس دوران اس کی مخالفت بھی ہونے لگی – دیپک نے بتایا ہے کہ اس واقعے سے اس کا شہر دوگروہوں میں تقسیم ہوگیا -ایک اس کی روشن خیالی کی ستائش کرنے لگا اوردوسرا اس پر تنقید کرنے لگا-اس نے کہاکہ مجھے میرے شہر، میری ریاست کے باہر سے لوگ میری حمایت کررہے ہیں -جب کہ میرے اپنے میری اچھائی اور میری خوبی کی تعریف کرنے سے کترارہے ہیں -شاید اس کے لئے وقت لگے گا-

دیپک کی اس مثالی اچھائی اورایک مسلمان بزرگ تاجر کی حمایت کے باعث اس کا جم کا روبار بری طرح متاثر ہونے لگا ہے – جہاں 150 لوگ اس جم کے ممبر تھے -اب یہاں ان کی تعداد گھٹ کر 15 ہوگئی ہے – فرقہ وارانہ دھمکیاں دیپک کو ملنے لگی ہیں -ایسے ماحول میں جم کے ممبران جم آنے سے گھبرانے لگے ہیں – دیپک جس نے ماہانہ چالیس ہزار روپیوں کے کرایہ پر عمارت کا پورا ایک فلور جم کیلئے لیا ہوا ہے -اس نے حال ہی میں اپنا نیامکان بھی تعمیر کروارہا ہے – جس کیلئے ماہانہ سولہ ہزار روپیوں کی قرض کی قسط اس کو ادا کرنی پڑتی ہے – دیپک کی نیک نامی اس کے لئے اب مہنگی پڑنے لگی ہے -اس دوران گذشتہ اتوار 8 فروری 2026 کو کیرلا سے تعلق رکھنے والے سی پی آئی (ایم) کے رکن راجیہ سبھا جان برٹاس دیپک کمار کے ساتھ بزرگ تاجر وکیل احمد سے کوٹ دوارپہنچ کر ملاقات کرتے ہیں – مقامی پولیس اسٹیشن پر وہ مظاہرہ کرتے ہیں جہاں خاطیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اوران پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے – اور دیپک پر مقدمہ درج کیا گیا ہے -دیپک کے جم پہنچ کر رکن پارلیمان خیرسگالی علامت کے طورپر جم کی ممبر شپ لیتے ہیں -مبارکباد دیتے ہوئے دیپک کو برٹاس نے کہا ہے کہ ”محمد دیپک نے فسطائی ٹھگوں کے ساتھ مزاحمت کرکے مثال قائم کی ہے – دراصل اسی طرح کے لوگ ہمارے ملک کی امید اور طاقت ہیں – ہندوستان میں نفرت اور عدم رواداری کے بڑھتے ماحول میں دیپک کمار جیسے روشن خیال اورجرأتمند لوگ Real India ”حقیقی ہندوستان“ کے نمائندہ ہیں – ایسے ہی لوگوں کے باعث ملک کے باشندوں کی امن پسندی اوراچھائی پر دوبارہ اعتماد بحال ہوتا ہے –

دیپک کمار نے چند اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے درد بھرے لہجے میں کہا ہے -مجھے اب تک نہیں معلوم ہوسکا کہ میں نے کچھ غلط کام کیا ہے -میں نے میرے نام سے متعلق پوچھے جانے پر ”محمددیپک“ اس لئے بتایا کہ میں ہندوستانی ہوں اور سبھی کو اس ملک میں جینے کا حق ہے -اور سبھی ملک کے قانون کے مطابق یکساں حقوق کے حامل ہیں – میں نہ ہندو نہ مسلمان ہوں بلکہ بنیادی طورپر ایک انسان ہوں – اور اپنا ملک یہ ہندوستان ہے -ہندوستان میں سب کو رہنے کا ادھیکار ہے – دیپک کے یہ الفاظ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں اورگندی سیاست کرنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے-

ایک بے بس بزرگ مسلم تاجر کی حمایت میں ایک ہندو نوجوان کا آکھڑا ہوجانا اورفرقہ پرست عناصر کا منہ توڑ جواب دینا ایسے بے شمار رواداری کے واقعات کی یادیں تازہ کردیتا ہے -تقریباً سات سال قبل نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں نمازیوں پر فائرنگ کی گئی اورکئی لوگ جاں بحق ہوگئے-واقعہ کے بعد کئی عیسائی عورتیں سرپر حجاب پہنے وہاں مظاہرہ میں شامل ہوگئی تھیں – اب ان سے پوچھا گیا کہ حجاب کیوں پہن کررکھا ہے؟ ان عورتوں نے بتایا کہ اگر دہشت گرد صرف مسلمانوں کو اپنی دہشت کا نشانہ بنانا چاہتے ہوں انہیں مارنا چاہتے ہوں تو ہم پر بھی گولیاں چلائیں – مذہب کی تفریقات امن پسندی کے خلاف ہیں – صحیح معنوں میں سب انسان ہی ہیں -ان کا مذہب چاہے مختلف ہو مگر انسانیت میں تفریق نہیں ہوسکتی- اس طرح ہندوؤں کی حفاظت کیلئے مسلمانوں کی حمایت اور مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف ہندوؤں کا جرأتمندانہ اقدام ایسے واقعات ملک میں ہوتے رہے ہیں -یہی بھائی چارہ، ہم آہنگی، یکجہتی اور ہماری طاقت ہے – اس طاقت کو توڑنے کی روزافزوں کوشش ہوتی رہی ہیں – مگر اس ملک کی عظمت کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ اب بھی یہاں ایسے دانشوراور جہدکار موجود ہیں جن کا تعلق ہندودھرم سے ہو یا عیسائیت یا پھر سکھ مت سے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی اشتعال انگیزی، زہرافشانی اور ناانصافیوں کے خلاف مدلل آواز اٹھائی ہیں –
نفرت جو سکھائے وہ دھرم تیرا نہیں ہے
انسان کو جو روندے وہ قدم تیرا نہیں ہے
(ساحر لدھیانوی)

14/02/2026

اونگیرے (الطاف رضوی / انڈو ٹائمز میڈیا) داونگیرےجنوب اسمبلی حلقہ کے ضمنی الیکشن میں کانگریس پارٹی کی طرف سے ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کی مانگ کرتے ہوئے فیصلہ لیا گیامزید یہ کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے مسلم لیڈروں ضلع کی مساجد کے متولیان۔ مختلف تنظیموں کے عہدیداروں کا شہر کے بودال روڑ پر واقع تاج تالیس میں ایک اجلاس منعقد کیا گیاتھا اجلاس میں حصہ لے کر رکن قانون ساز کونسل کے عبدالجبار نے کہا،داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ کے لیے کانگریس پارٹی کی طرف سے ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے، اگر کانگریس پارٹی سے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو اسے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر ووٹوں کی حمایت حاصل ہوگی۔اب سے کانگریس پارٹی میں کسی ایک خاندان کو ٹکٹ دینا ممکن نہیں ہوگا۔ مسلم کمیونٹی 1994 سے شامنور خاندان کو کامیاب کراتی آئی ہے۔ تعلیمی، معاشی، سماجی، سیاسی طور پر۔ انہوں نے رائے دی کہ شامنور خاندان کو مسلمانوں اور پسماندہ طبقے کی حمایت کرنی چاہیے۔ مسلم کمیونٹی نے ماضی سے شامنور خاندان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ شامنور خاندان کو اس بات کو سمجھنا چاہئے اور مستقبل میں مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ہم نے اب ایسا نہیں کیا تو ہمیں کبھی سیاسی انصاف نہیں ملے گا۔ لہذا، ہمیں اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ بات چیت کرنی چاہئے،جے ڈی ایس پارٹی کے جے امان اللہ خان نے مسلم کمیونٹی سے مطالبہ کیا، ضلع داونگیرے کے تمام عمائدین، سیاسی قائدین اور مختلف مسلم تنظیموں کے قائدین کو ایک ساتھ آنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کانگریس پارٹی کو داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ نہیں ملتا ہے تو ہمیں اصرار کرنا چاہیے کہ ہم اگلے انتخابات میں کانگریس پارٹی کی حمایت نہیں کریں گے۔تنظیم المسلمین فنڈ اسوسیشن کے سابق صدر صادق پیلوان نے کہا، ”کانگریس پارٹی ہمارے ووٹوں کی حمایت کے بغیر جیت نہیں سکتی۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ میں اور عبدالجبار ہم سے کسی کو بھی ٹکٹ ملے ساتھ رہ کر الیکشن کرین گے مسلمانوں اور تمام ووٹران سے مطالبہ کیا کہ ہم سے کسی کو بھی ٹکٹ ملے آپ سب اس کی حمایت کریں گے۔ (SIR) مسلم کمیونٹی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ SIR کے مسئلہ پر بیداری کے ساتھ کام کریں اور اپنا ووٹ بچائیں۔ AIMIM داونگیرے کے ضلع صدر محمد علی شعیب نے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی ضمنی انتخاب میں داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ میں کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہے تو سماجی انصاف فراہم ہوگا اس میٹنگ میں مختلف پارٹیوں کے قائدین، ضلع داونگیرے کی زیادہ تر مساجد کے متولی اور مسلم کمیونٹی کی زیادہ تر تنظیموں کے قائدین ایک سیاسی پلیٹ فارم پر نظر آئے، اس میٹنگ میں مسلم یونین کے عبدالغنی طاہر،محمد سراج، ڈاکٹر سی آر نصیر احمد، جے ڈی ایس پارٹی کے ٹی اصغر، سی، اے، ناصر احمد، عام آدمی پارٹی کے عادل خان، ایس ڈی پی آئی پارٹی کے قائدین کے طور پر ضلع داونگیری تنظیم کے کئی رہنماوں نے شرکت کی۔ مسلم کمیونٹی نے شرکت کی۔مولانا علی رضا کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہو ۔عبدالغنی طاہر نے معززین و شرکا کا استقبال کیا۔سابق ضلع وقف بورڈ چیرمن و کے یم ڈی سی ڈائرکٹر محمد سراج احمد نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

14/02/2026

ತಾರಿಕ್ ನಕಾಶ್ | ಇಂಡೋ ಟೈಮ್ಸ್ ಮೀಡಿಯಾ

ಎಸ್ ಐ ಆರ್ ಬಗ್ಗೆ ಅರಿವು ಮತ್ತು
ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷದಿಂದ ಮುಸ್ಲಿಂ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗೆ ಟಿಕೆಟ್ ನೀಡಬೇಕು ಎಂದು ಒತ್ತಾಯಿಸಲು ಇಂದು ನಗರದ ತಾಜ್ ಪ್ಯಾಲೇಸ್ ನಲ್ಲಿ ಎಂಎಲ್ಸಿ ಅಬ್ದುಲ್ ಜಬ್ಬಾರ್ ಮತ್ತು ಇನ್ನಿತರ ಮುಖಂಡರ ನೇತೃತ್ವದಲ್ಲಿ ಬೃಹತ್ ಸಭೆ ಯನ್ನು ನಡೆಸಲಾಯಿತು
ಈ ವೇಳೆ ಮಾತನಾಡಿದ ವಿಧಾನಪರಿಷತ್ ಸದಸ್ಯರಾದ ಅಬ್ದುಲ್ ಜಬ್ಬಾರ್ ಒಮ್ಮತದ ನಿರ್ಣಯ ಕೈಗೊಳ್ಳಲಾಗಿದೆ. ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷದಿಂದ ಮುಸ್ಲಿಂ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗೆ ಟಿಕೆಟ್ ನೀಡಿದರೆ ಅಹಿಂದ ಮತಗಳ ಬೆಂಬಲ ಸಿಗಲಿದೆ. ಈ ಹಿಂದಿನಿಂದಲು ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷದಲ್ಲಿ ಒಂದೇ ಕುಟುಂಬಕ್ಕೆ ಟಿಕೆಟ್ ಎನ್ನುವುದು ಇನ್ನೂ ಮುಂದೆ ಸಾಧ್ಯವಿಲ್ಲ” ಎಂದು ಸ್ಪಷ್ಟಪಡಿಸಿದರು.‌

ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರದ ಉಪಚುನಾವಣೆಯಲ್ಲಿ ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷದಿಂದ ಮುಸ್ಲಿಂ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗೆ ಟಿಕೆಟ್ ನೀಡಬೇಕು ಎಂದು ನಿರ್ಣಯ ಕೈಗೊಂಡು, ದಾವಣಗೆರೆ ಲೋಕಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರದ ಮಸೀದಿಗಳ ಮುತುವಲ್ಲಿ ಹಾಗೂ ವಿವಿಧ ಪಕ್ಷಗಳ ಮುಸ್ಲಿಂ ಮುಖಂಡರು ಮತ್ತು ವಿವಿಧ ಸಂಘ ಸಂಸ್ಥೆಗಳ ಪದಾಧಿಕಾರಿಗಳು ಒತ್ತಾಯಿಸಿದರು.‌

“ಶಾಮನೂರು ಕುಟುಂಬವನ್ನು 1994 ರಿಂದ ಮುಸ್ಲಿಂ ಸಮುದಾಯ ಗೆಲ್ಲಿಸಿಕೊಂಡು ಬಂದಿದೆ. ಶೈಕ್ಷಣಿಕ, ಆರ್ಥಿಕ, ಸಾಮಾಜಿಕ, ರಾಜಕೀಯವಾಗಿ. ಹಿಂದುಳಿದ ಸಮುದಾಯವಾದ ಮುಸಲ್ಮಾನರಿಗೆ ಶಾಮನೂರು ಕುಟುಂಬ ಬೆಂಬಲಿಸಬೇಕು” ಎಂದು ಅಭಿಪ್ರಾಯಪಟ್ಟರು.

“ಶಾಮನೂರು ಕುಟುಂಬಕ್ಕೆ ಮುಸ್ಲಿಂ ಸಮುದಾಯ ಈ ಹಿಂದಿನಿಂದಲೂ ತ್ಯಾಗ ಮಾಡಿಕೊಂಡು ಬಂದಿದೆ. ಇನ್ನೂ ಮುಂದೆ ಇದನ್ನು ಅರಿತು ಶಾಮನೂರು ಕುಟುಂಬ ಮುಸಲ್ಮಾನರಿಗೆ ಬೆಂಬಲಿಸಬೇಕು. ಈಗ ಇಲ್ಲವೆಂದರೆ ಯಾವತ್ತೂ ನಮಗೆ ರಾಜಕೀಯ ನ್ಯಾಯ ಸಿಗಲು ಸಾಧ್ಯವಿಲ್ಲ. ಅದರಿಂದ ತಮ ತಮ್ಮ ಏರಿಯದಲ್ಲಿ ಹೆಚ್ಚು ಹೆಚ್ಚು ಚರ್ಚೆ ಮಾಡಿ” ಎಂದು ಮುಸ್ಲಿಂ ಬಾಂಧವರಿಗೆ ಕರೆ ನೀಡಿದರು

ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರದ ಆಕಾಂಕ್ಷಿ ಸಾಧಿಕ್ ಪೈಲ್ವಾನ್ ಮಾತನಾಡ “ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷ ನಮ್ಮ ಮತಗಳ ಬೆಂಬಲ ಇಲ್ಲದೆ ಗೆಲ್ಲಲು ಸಾಧ್ಯವಿಲ್ಲ ನನ್ನ ಆತ್ಮೀಯ ಸ್ನೇಹಿತ ಕೆ. ಅಬ್ದುಲ್ ಜಬ್ಬಾರ್ ಮತ್ತು ನನಗೆ, ಯಾರಿಗೂ ಟಿಕೆಟ್ ನೀಡಿದರೂ ನಮ್ಮ ಮುಸ್ಲಿಂ ಸಮುದಾಯ ಒಗ್ಗಟ್ಟಿನಿಂದ ಬೆಂಬಲಿಸಲಿದೆ. (SIR) ಎಸ್ ಐ ಆರ್ ವಿಷಯದಲ್ಲಿ ಮುಸ್ಲಿಂ ಸಮುದಾಯದ ವಿದ್ಯಾವಂತ ಯುವಕರು ಜಾಗೃತಿ ಯಿಂದ ಕೆಲಸ ಮಾಡಿ ತಮ ಮತ ಉಳಿಸಿಕೊಳ್ಳಬೇಕು” ಎಂದು ಸೂಚಿಸಿದರು

ಜೆಡಿಎಸ್ ಪಕ್ಷದ ಜೆ.ಅಮನುಲ್ಲಾ ಖಾನ್ “ದಾವಣಗೆರೆ ಜಿಲ್ಲೆ ಎಲ್ಲ ಮುತುವಲ್ಲಿಗಳು ಹಾಗೂ ರಾಜಕೀಯ ಮುಖಂಡರುಗಳು ಹಾಗೂ ಮುಸ್ಲಿಂ ವಿವಿಧ ಸಂಘ ಸಂಸ್ಥೆಗಳ ಮುಖಂಡರು ಸೇರಿ ಒಂದು ತೀರ್ಮಾನಕ್ಕೆ ಬರಬೇಕಾಗಿದೆ. ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರಕ್ಕೆ ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷದ ಟಿಕೆಟ್ ಸಿಗದೇ ಇದ್ದರೆ ಮುಂದಿನ ಯಾವ ಚುನಾವಣೆಯಲ್ಲೂ ನಾವು ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷಕ್ಕೆ ಬೆಂಬಲ ನೀಡುವುದಿಲ್ಲ ಎಂದು ಪಟ್ಟು ಹಿಡಿಯಬೇಕು” ಎಂದು ಹೇಳಿದರು.

ಎಐಎಂಐಎಂ (AIMIM) ಪಕ್ಷದ ದಾವಣಗೆರೆ ಜಿಲ್ಲಾಧ್ಯಕ್ಷ ಮಹಮ್ಮದ್ ಅಲಿ ಶೋಯೇಬ್ ಮಾತನಾಡಿ
“ದಾವಣಗೆರೆ ದಕ್ಷಿಣ ವಿಧಾನಸಭಾ ಕ್ಷೇತ್ರಕ್ಕೆ ಕಾಂಗ್ರೆಸ್ ಪಕ್ಷ ಉಪ ಚುನಾವಣೆಯಲ್ಲಿ ಮುಸ್ಲಿಂ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗೆ ಟಿಕೆಟ್ ನೀಡಿದರೆ ಸಮಾಜಿಕ ನ್ಯಾಯ ನೀಡದಂತೆ. ಇಲ್ಲ ಎಂದರೆ ಪಕ್ಷ ತನ್ನ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಯನ್ನು ಕಣಕ್ಕೆ ಇಳಿಸಲಿದೆ ಹಾಗೂ ಹೈದರಾಬಾದ್ ಸಂಸದರಾದ ಅಸಾವುದ್ದೀನ್ ಓವೈಸಿ ದಾವಣಗೆರೆ ಬಂದು ಪ್ರಚಾರ ಮಾಡಲಿದ್ದಾರೆ” ಎಂದು ತಿಳಿಸಿದರು.‌
ಇದೆ ವೇಳೆ ರಾಜ್ಯದಲ್ಲಿ ನಡೆಯಬಹುದಾದಂತಹ ಎಸ್ಐಆರ್ ಬಗ್ಗೆ ಅರಿವು ಮೂಡಿಸಲಾಯಿತು

ಮುತುವಲ್ಲಿಗಳ ಸಭೆಯಲ್ಲಿ ಮುಸ್ಲಿಂ ಮುಖಂಡರುಗಳಾದ ಕೆ.ಎಮ್‌.ಡಿ.ಸಿ. ಸದಸ್ಯ ಮೊಹಮ್ಮದ್ ಸಿರಾಜ್, ವಕ್ಫ್ ಕೌನ್ಸಿಲ್ ಸದಸ್ಯ ಅಬ್ದುಲ್ ಘನಿ ತಾಹಿರ್, ಜೆಡಿಎಸ್ ಪಕ್ಷದ ಟಿ.ಅಸ್ಗರ್, ಸಾಮಾಜಿಕ ಕಾರ್ಯಕರ್ತ ಸಿ. ಆರ್. ನಸೀರ್ ಅಹ್ಮದ್ ವಕೀಲರಾದ ರಜ್ವಿ ಖಾನ್, ಎಸ್. ಕೆ ಸಿರಾಜ್ ಅಹಮದ್, ಸಿ. ಕೆ. ಮುಸ್ತಾಕ್ ಅಹಮದ್, ಆಮ್ ಅದ್ಮಿ ಪಕ್ಷದ ಅದಿಲ್ ಖಾನ್, ಮೌಲಾನ ಹನೀಫ್ ರಜಾ, ವಕೀಲರಾದ ಸೈಯದ್ ಖಾದರ್, SDPI ಪಕ್ಷದ ಮುಖಂಡರು ಹಾಗೂ ದಾವಣಗೆರೆ ಜಿಲ್ಲೆಯ ಎಲ್ಲಾ ಮಸೀದಿಗಳ ಮುತುವಲ್ಲಿಗಳು ಸೇರಿ ಸಮುದಾಯದ ಅನೇಕ ಸಂಘ ಸಂಸ್ಥೆಗಳ ಮುಖಂಡರು ಭಾಗವಹಿಸಿದ್ದರು.

14/02/2026

ಹಾವೇರಿ (Indo Times Media): ದಿನಾಂಕ 21.01.2026ರಂದು ಹಾವೇರಿ ಶಹರದ ಅಂಜುಮನ್- ಎ -ಇಸ್ಲಾಂ ಸಂಸ್ಥೆಯ ಆಡಳಿತ ಮಂಡಳಿ ಚುನಾವಣಾ ಅಧಿಸೂಚನೆ ಹೊರಡಿಸಲಾಗಿತ್ತು. ದಿನಾಂಕ 01-02-2026 ರಂದು ಚುನಾವಣಾ ಕಣದಲ್ಲಿರುವ ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗಳ ಅಂತಿಮ ಪಟ್ಟಿಯನ್ನು ಪ್ರಕಟಿಸಲಾಗಿದ್ದು ಒಟ್ಟು 77 ಅಭ್ಯರ್ಥಿಗಳು ಕಣದಲ್ಲಿದ್ದಾರೆ. ಮತದಾನವು ದಿನಾಂಕ 15.02.2026ರ ರವಿವಾರದಂದು ಬೆಳಗ್ಗೆ 08 ಗಂಟೆಯಿಂದ ಸಂಜೆ 04 ಗಂಟೆಯವರೆಗೆ ಹಾವೇರಿ ನಗರದ ಮುನ್ಸಿಪಲ್ ಪ್ರೌಢಶಾಲೆಯಲ್ಲಿ ನಡೆಯಲಿದ್ದು, ಮತ ಎಣಿಕೆ ಕಾರ್ಯವು ಅದೇ ದಿನ ಸಂಜೆ 05 ಗಂಟೆಯಿಂದ ಮುಕ್ತಾಯಗೊಳ್ಳುವವರೆಗೆ ಮುನ್ಸಿಪಲ್ ಪ್ರೌಢಶಾಲೆಯಲ್ಲಿಯೇ ನಡೆಯಲಿದೆ ಎಂದು ಚುನಾವಣಾ ಅಧಿಕಾರಿಗಳು ಪ್ರಕಟಣೆಯಲ್ಲಿ ತಿಳಿಸಿದ್ದಾರೆ.

ಅಂಜುಮನ್‌ ಸಂಸ್ಥೆಯ ಹಾಲಿ ಸದಸ್ಯರ ಅವಧಿ ಮುಕ್ತಾಯಗೊಂಡಿದ್ದರಿಂದ, ನೂತನ ಪದಾಧಿಕಾರಿಗಳ ಆಯ್ಕೆಗೆ ಹಲವು ತಿಂಗಳ ಹಿಂದೆಯೇ ಚಾಲನೆ ನೀಡಲಾಗಿತ್ತು. ಅದರಂತೆ ಸಮಾಜದ 5,057 ಮಂದಿ, ತಲಾ ₹ 250 ಶುಲ್ಕ ನೀಡಿ ಮತದಾರರ ನೋಂದಣಿ ಮಾಡಿಸಿದ್ದಾರೆ.

ಒಟ್ಟು 33 ಸ್ಥಾನಗಳಿಗೆ ಸದಸ್ಯರ ಆಯ್ಕೆ ನಡೆಯಲಿದೆ. ಫೆ. 15ರಂದು ಮುನ್ಸಿಪಲ್ ಹೈಸ್ಕೂಲ್‌ನಲ್ಲಿ ಮತದಾನ ದಿನಾಂಕ ನಿಗದಿ ಮಾಡಲಾಗಿದೆ. ಮತದಾನಕ್ಕಾಗಿ 20 ಮತಗಟ್ಟೆಗಳನ್ನು ತೆರೆಯಲಾಗುವುದು. ಮತದಾನ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆ ಬಗ್ಗೆ ಶನಿವಾರ ಎಲ್ಲ ಸಿಬ್ಬಂದಿಗೆ ತರಬೇತಿಯಿದೆ’ ಎಂದು ಚುನಾವಣಾ ಅಧಿಕಾರಿ ಅಮೀರ್ ಪಾಷಾ ಅವರು ತಿಳಿಸಿದರು.

‘ ಚುನಾವಣೆ ಸಂದರ್ಭದಲ್ಲಿ ಯಾವುದೇ ಅಹಿತಕರ ಘಟನೆಗಳು ನಡೆಯದಂತೆ ನಿಗಾ ವಹಿಸಲಾಗಿದೆ. ಜಿಲ್ಲಾ ಎಸ್.ಪಿ. ಅವರನ್ನು ಭೇಟಿಯಾಗಿ, ಭದ್ರತೆಗೆ ಪೊಲೀಸರನ್ನು ನಿಯೋಜಿಸಲು ಕೋರಲಾಗಿದೆ. ಮತದಾನದ ದಿನದಂದು ಮತಗಟ್ಟೆ ಬಳಿ ಪೊಲೀಸ್ ಭದ್ರತೆ ಇರಲಿದೆ’ ಎಂದು ತಿಳಿಸಿದರು

ہاویری شہر میں انجمن اسلام تنظیم کے انتخابات کا نوٹیفکیشن 21.01.2026 کو جاری کیا گیا۔ انتخابی میدان میں امیدواروں کی حتمی فہرست 01.02.2026 کو شائع ہوئی تھی اور کل 77 امیدوار میدان میں ہیں۔ * ووٹنگ اتوار، 15.02.2026 کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہاویری شہر کے میونسپل ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر ہوگی اور اس دن ہی ووٹوں کی گنتی شہر کے میونسپل ہائی اسکول میں شام 5 بجے سے اس کے ختم ہونے تک ہوگی اس بات کی اطلاع پرس ریلیز میں الیکشن آفسر نے کہا ہے

10/02/2026

داونگیرے (الطاف رضوی/ انڈو ٹائمز میڈیا) ریاستی حکومت نے داونگیرے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ اوما پرشانت آئی پی یس کے تبادلے کا حکم دیا ہے۔یہ اوما پرشانت کا فطری تبادلہ ہے، جو گزشتہ تین سالوں سے داونگیرے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

اوما پرشانت کی بطور ضلع پولس سپرنٹیڈنٹ نمایاں کامیابی یہ رہی کہ داونگیرے کی عوام میں ان کی خدمات کا کافی چرچا اور تعریف کی گئی۔ انہوں ضلع میں ڈرگ مافیا کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی یس پی اومہ پرشانت نےضلع میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر مصنوعی ادویات کے خلاف سخت کارروائی کی منشیات کے مقدمات اور پولیس افسر پر حملے کے مقدمات میں سیاسی رہنماؤں کے قریبی ساتھیوں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے امن و امان برقرار رکھا۔ بداوانہ پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر گایتری پر حملہ کے سلسلے میں بااثر لوگوں کے بیٹوں کو جیل بھیج دیا

ضلع کے نیامتی تعلقہ کے ایس بی آئی بینک کی ڈکیتی کے سلسلے میں 17 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے سونے کے زیورات کو ضبط کرنا سب سے بڑی کارروائی تھی۔ قتل کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔بدمعاش شیٹر کنما عرف سنتوش کمار کے قتل کیس میں 15 سے زیادہ ملزمان کی گرفتاری نے بھی ریاست کی توجہ مبذول کرائی۔

شیکھر ایچ ٹیکناور، جو بنگلورو میں انٹیلی جنس ڈویژن کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے، کا تبادلہ داونگیرے ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر کیا گیا ہے۔ لیکن اوما پرشانت کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے آج ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اوما پرشانت، جنہوں نے حال ہی میں داونگیرے ضلع میں ڈرگ مافیا کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، بے قاعدگیوں کو روک دیا ہے۔ کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کو مصنوعی منشیات کے معاملے میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔داونگیرے بڈاونے پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر گایتری کو داونگیرے ضلع کے انچارج وزیر ایس ایس ملیکارجن کے قریبی ساتھی اور داونگیرے ساؤتھ بلاک کانگریس صدر کے تین بیٹوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔اومہ پرشانت نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے میں کبھی خوف محسوس نہیں کیا۔

06/02/2026

DAVANGERE (Md. Tariq Nakaash | Indo Times Media)

ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆ ಪ್ರಜಾಸತ್ತಾತ್ಮಕ ವ್ಯವಸ್ಥೆಯ ಅತ್ಯಂತ ಮಹತ್ವದ ಆಡಳಿತಾತ್ಮಕ ಕಾರ್ಯವಾಗಿದೆ. ಪ್ರತಿಯೊಬ್ಬ ಅರ್ಹ ನಾಗರಿಕನನ್ನು ಸರಿಯಾದ ಮತದಾರರ ಪಟ್ಟಿಯೊಂದಿಗೆ ಹಾಗೂ ಸಂಬಂಧಿತ ಮತಗಟ್ಟೆಗೆ ಸಂಪರ್ಕಿಸುವುದೇ ಇದರ ಉದ್ದೇಶವಾಗಿದೆ. ಈ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆಯಿಂದ ನ್ಯಾಯಸಮ್ಮತ ಹಾಗೂ ಪಾರದರ್ಶಕ ಚುನಾವಣೆ ಸಾಧ್ಯವಾಗುತ್ತದೆ. ಆದರೆ ಸಾರ್ವಜನಿಕರ ದೃಷ್ಟಿಕೋನದಿಂದ ನೋಡಿದರೆ, ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಸಂದರ್ಭದಲ್ಲಿ ಹಲವು ಸಮಸ್ಯೆಗಳು ಎದುರಾಗುತ್ತವೆ.

ಪ್ರಮುಖ ಸಮಸ್ಯೆಯೆಂದರೆ ಸಾರ್ವಜನಿಕ ಜಾಗೃತಿಯ ಕೊರತೆ. ಅನೇಕ ನಾಗರಿಕರಿಗೆ ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆ, ಮತಗಟ್ಟೆ ವಿವರಗಳು ಹಾಗೂ ಮತದಾರರ ಮಾಹಿತಿಯನ್ನು ನವೀಕರಿಸುವ ಮಹತ್ವದ ಬಗ್ಗೆ ಸ್ಪಷ್ಟ ಅರಿವು ಇರುವುದಿಲ್ಲ. ಪರಿಣಾಮವಾಗಿ, ತಮ್ಮ ಮಾಹಿತಿಯಲ್ಲಿ ಇರುವ ತಪ್ಪುಗಳು ಮತದಾನದ ದಿನವೇ ತಿಳಿದು ಬಂದು ಗೊಂದಲ ಮತ್ತು ಅಸಮಾಧಾನ ಉಂಟಾಗುತ್ತದೆ.

ನಿರಂತರ ವಲಸೆ ಮತ್ತು ವಾಸಸ್ಥಳ ಬದಲಾವಣೆ ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್‌ಗೆ ದೊಡ್ಡ ಸವಾಲಾಗಿದೆ. ಉದ್ಯೋಗ, ಶಿಕ್ಷಣ ಮತ್ತು ನಗರೀಕರಣದ ಪರಿಣಾಮವಾಗಿ ಜನರು ತಮ್ಮ ವಾಸಸ್ಥಳವನ್ನು ಪದೇಪದೇ ಬದಲಾಯಿಸುತ್ತಾರೆ. ವಲಸೆ ಕಾರ್ಮಿಕರು, ವಿದ್ಯಾರ್ಥಿಗಳು ಮತ್ತು ಬಾಡಿಗೆ ಮನೆಗಳಲ್ಲಿ ವಾಸಿಸುವವರು ತಮ್ಮ ವಿಳಾಸವನ್ನು ನವೀಕರಿಸದೆ ಇರುವುದರಿಂದ, ಅವರ ಹೆಸರುಗಳು ಹಳೆಯ ಮತಗಟ್ಟೆಗಳಲ್ಲಿ ಉಳಿಯುತ್ತವೆ ಅಥವಾ ಪಟ್ಟಿಯಿಂದ ಕೈಬಿಡಲ್ಪಡುತ್ತವೆ.

ಮತ್ತೊಂದು ಪ್ರಮುಖ ಸಮಸ್ಯೆಯೆಂದರೆ ಮತದಾರರ ವಿವರಗಳಲ್ಲಿ ಇರುವ ದೋಷಗಳು. ಹೆಸರು, ವಯಸ್ಸು, ವಿಳಾಸ ಅಥವಾ ಫೋಟೋದಲ್ಲಿ ಉಂಟಾಗುವ ಸಣ್ಣ ತಪ್ಪುಗಳೂ ಸಹ ಮತದಾರರನ್ನು ಸರಿಯಾದ ಮತಗಟ್ಟೆಗೆ ಮ್ಯಾಪ್ ಮಾಡಲು ಅಡ್ಡಿಯಾಗುತ್ತವೆ. ಈ ದೋಷಗಳನ್ನು ತಿದ್ದುಪಡಿ ಮಾಡಿಸಲು ಸರ್ಕಾರಿ ಕಚೇರಿಗಳಿಗೆ ಅನೇಕ ಬಾರಿ ಭೇಟಿ ನೀಡಬೇಕಾಗುತ್ತದೆ, ಇದು ಸಾರ್ವಜನಿಕರಲ್ಲಿ ನಿರಾಸೆ ಉಂಟುಮಾಡುತ್ತದೆ.

ಡಿಜಿಟಲ್ ಅಂತರ ಮತ್ತು ತಾಂತ್ರಿಕ ಅಡಚಣೆಗಳು ಸಹ ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆಯನ್ನು ಕಷ್ಟಕರಗೊಳಿಸುತ್ತವೆ. ಆನ್‌ಲೈನ್ ವೇದಿಕೆಗಳು ಮತ್ತು ಮೊಬೈಲ್ ಅಪ್ಲಿಕೇಶನ್‌ಗಳು ಈ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆಯನ್ನು ಸುಲಭಗೊಳಿಸಿದರೂ, ಹಿರಿಯ ನಾಗರಿಕರು, ಗ್ರಾಮೀಣ ಪ್ರದೇಶದ ಜನರು ಮತ್ತು ಆರ್ಥಿಕವಾಗಿ ಹಿಂದುಳಿದ ವರ್ಗಗಳಿಗೆ ಡಿಜಿಟಲ್ ಸೌಲಭ್ಯಗಳು ಸೀಮಿತವಾಗಿವೆ. ತಾಂತ್ರಿಕ ದೋಷಗಳು, ಭಾಷಾ ಸಮಸ್ಯೆಗಳು ಹಾಗೂ ಸಂಕೀರ್ಣ ಡಿಜಿಟಲ್ ವ್ಯವಸ್ಥೆಗಳು ಸಾರ್ವಜನಿಕರ ಭಾಗವಹಿಸುವಿಕೆಯನ್ನು ಕಡಿಮೆ ಮಾಡುತ್ತವೆ.

ಪರ್ಯಾಯ ದೂರು ಪರಿಹಾರ ವ್ಯವಸ್ಥೆಯ ಕೊರತೆ ಕೂಡ ಸಾರ್ವಜನಿಕರಿಗೆ ತೊಂದರೆ ಉಂಟುಮಾಡುತ್ತದೆ. ತಮ್ಮ ಅರ್ಜಿಗಳ ಸ್ಥಿತಿಯನ್ನು ತಿಳಿದುಕೊಳ್ಳಲು ಮತದಾರರಿಗೆ ಕಷ್ಟವಾಗುತ್ತದೆ. ದಾವೆ ಮತ್ತು ಆಕ್ಷೇಪಣೆಗಳ ನಿರ್ವಹಣೆಯಲ್ಲಿ ವಿಳಂಬ ಹಾಗೂ ಸ್ಪಷ್ಟ ಮಾಹಿತಿಯ ಕೊರತೆ ಸಾರ್ವಜನಿಕರ ವಿಶ್ವಾಸವನ್ನು ಕುಗ್ಗಿಸುತ್ತದೆ.

ಸಾರ್ವಜನಿಕರು ಮತಗಟ್ಟೆ ಅಥವಾ ಮತಕ್ಷೇತ್ರದ ಕೊನೆಯ ಕ್ಷಣದ ಬದಲಾವಣೆಗಳಿಂದ ಕೂಡ ತೊಂದರೆ ಅನುಭವಿಸುತ್ತಾರೆ. ಕ್ಷೇತ್ರ ಮರುವ್ಯವಸ್ಥೆ ಅಥವಾ ಆಡಳಿತಾತ್ಮಕ ನಿರ್ಣಯಗಳಿಂದ ಆಗುವ ಬದಲಾವಣೆಗಳ ಬಗ್ಗೆ ಸಮಯಕ್ಕೆ ಸರಿಯಾಗಿ ಮಾಹಿತಿ ದೊರಕದೆ ಇರುವುದರಿಂದ, ಮತದಾರರು ತಪ್ಪು ಮತಗಟ್ಟೆಗೆ ಹೋಗಿ ಮತದಾನ ಮಾಡುವ ಅವಕಾಶವನ್ನು ಕಳೆದುಕೊಳ್ಳುತ್ತಾರೆ.

ಅಗತ್ಯ ದಾಖಲೆಗಳ ಕೊರತೆ ಕೂಡ ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್‌ನಲ್ಲಿ ದೊಡ್ಡ ಅಡ್ಡಿಯಾಗಿದೆ. ಮನೆ ಇಲ್ಲದವರು, ನಗರ ಬಡವರು ಮತ್ತು ಸಾಮಾಜಿಕವಾಗಿ ಹಿಂದುಳಿದ ವರ್ಗದವರಿಗೆ ಸರಿಯಾದ ವಿಳಾಸ ಅಥವಾ ಗುರುತಿನ ದಾಖಲೆಗಳು ಇಲ್ಲದಿರುವುದರಿಂದ ಮತದಾರರ ಪಟ್ಟಿಯಲ್ಲಿ ಸೇರಲು ಸಾಧ್ಯವಾಗುವುದಿಲ್ಲ.

ಇದಲ್ಲದೆ, ಭಾಷೆ ಮತ್ತು ಸಂವಹನದ ಅಡಚಣೆಗಳು ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆಯನ್ನು ದುರ್ಬಲಗೊಳಿಸುತ್ತವೆ. ಅನೇಕ ಸಂದರ್ಭಗಳಲ್ಲಿ ಮಾಹಿತಿ ಸ್ಥಳೀಯ ಭಾಷೆಯಲ್ಲಿ ಲಭ್ಯವಿರುವುದಿಲ್ಲ ಅಥವಾ ಕಠಿಣ ಆಡಳಿತಾತ್ಮಕ ಪದಗಳಲ್ಲಿ ನೀಡಲಾಗುತ್ತದೆ, ಇದರಿಂದ ಸಾಮಾನ್ಯ ನಾಗರಿಕರಿಗೆ ಅರ್ಥವಾಗಲು ಕಷ್ಟವಾಗುತ್ತದೆ.

ಉಪಸಂಹಾರವಾಗಿ, ವೋಟರ್ ಮ್ಯಾಪಿಂಗ್ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆ ಪ್ರಜಾಸತ್ತಾತ್ಮಕ ವ್ಯವಸ್ಥೆಯ ಮೂಲಾಧಾರವಾಗಿದ್ದರೂ, ಸಾರ್ವಜನಿಕರು ಎದುರಿಸುವ ಸಮಸ್ಯೆಗಳಿಗೆ ಸೂಕ್ತ ಪರಿಹಾರ ಕಂಡುಕೊಳ್ಳುವುದು ಅತ್ಯಗತ್ಯ. ಸಾರ್ವಜನಿಕ ಜಾಗೃತಿ ಹೆಚ್ಚಿಸುವುದು, ಸರಳ ಪ್ರಕ್ರಿಯೆಗಳು, ಸಮಾವೇಶಕ ಡಿಜಿಟಲ್ ಪರಿಹಾರಗಳು, ಪರಿಣಾಮಕಾರಿ ದೂರು ಪರಿಹಾರ ವ್ಯವಸ್ಥೆ ಮತ್ತು ಸ್ಪಷ್ಟ ಸಂವಹನದ ಮೂಲಕ ಮಾತ್ರ ಈ ಸಮಸ್ಯೆಗಳನ್ನು ಪರಿಹರಿಸಬಹುದು. ಪ್ರತಿಯೊಬ್ಬ ಅರ್ಹ ನಾಗರಿಕನಿಗೂ ಮತದಾನದ ಹಕ್ಕು ಸಿಗುವಂತೆ ಮಾಡುವುದು ಬಲಿಷ್ಠ ಪ್ರಜಾಸತ್ತಾತ್ಮಕ ವ್ಯವಸ್ಥೆಯ ಮೂಲಭೂತ ಅಂಶವಾಗಿದೆ.

Address

Barline Road
Davangere

Opening Hours

Monday 10am - 8pm
Tuesday 10am - 8pm
Wednesday 10am - 8pm
Thursday 10am - 8pm
Friday 10am - 8pm
Saturday 10am - 8pm
Sunday 11am - 2pm

Telephone

+919886970209

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TARIQ URDU PRESS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to TARIQ URDU PRESS:

Share