𝘼𝙃𝙂𝘼𝙈

𝘼𝙃𝙂𝘼𝙈 AHGAM ZACHALDARA HANDWARA

30/04/2026

اگر زندگی کو سمجھنا ہے تو ان تین جگہوں پر ضرور جائیں
ہسپتال یہاں آپ دیکھیں گے کہ زندگی کتنی نازک ہے امیر اور غریب دونوں ایک ہی بستر پر پڑے ہیں ایک ہی طرح کی مشینوں سے جڑے ہوئے زیادہ وقت کی بھیک مانگتے آپ سمجھ جائیں گے کہ صحت آپ کی پہلی دولت ہے باقی سب کچھ صرف شور ہے
جیل یہاں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح ایک غلطی ایک غلط دوست یا غصے کا ایک لمحہ پورے مستقبل کو تباہ کر سکتا ہے آپ انتخاب کی حقیقی قیمت کو سمجھیں گے اور یہ کہ آزادی آپ کے پاس اب تک کی سب سے بڑی عیش و آرام کی چیز ہے
قبرستان یہاں آپ کو پتھر میں تراشے ہوئے نام نظر آئیں گے جن میں دولت خوبصورتی یا حیثیت کا کوئی ذکر نہیں ہے صرف ایک تاریخِ پیدائش اور ایک تاریخِ وفات اور اس کے درمیان کی ہر چیز غائب آپ سمجھ جائیں گے کہ زندگی مختصر ہے اور محبت مہربانی اور میراث باقی ہیں.

16/04/2026

سب سے بڑا جھوٹ اور کسان کی دانائی

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ یہ جھوٹ ہے اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا
انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے ایک نے کہا جہاں پناہ میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا بادشاہ مسکرا کر بولا ہو سکتا ہے قدرت کی قدرت ہے یہ سچ ہو سکتا ہے
دوسرا بولا بادشاہ سلامت میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا موسم گرم ہوگا پانی کھول گیا ہوگا میں اسے جھوٹ نہیں کہتا
بادشاہ دراصل بہت عیار تھا وہ ہر بڑے سے بڑے جھوٹ کو ممکن ہے کہہ کر رد کر دیتا تاکہ اسے انعام نہ دینا پڑے آخر کار ایک غریب کسان دربار میں حاضر ہوا اس کے ہاتھ میں ایک بڑا خالی مٹکا تھا
بادشاہ نے پوچھا تم کیا سنانے آئے ہو
کسان نے بڑی سنجیدگی سے کہا عالی جاہ میں کوئی کہانی سنانے نہیں آیا بلکہ اپنا قرض لینے آیا ہوں
بادشاہ حیران ہوا کیسا قرض
کسان بولا جہاں پناہ شاید آپ بھول رہے ہیں آپ کے مرحوم والد نے میرے مرحوم والد سے ایک ہزار سونے کے سکے ادھار لیے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ ان کا بیٹا یعنی آپ یہ رقم مجھے واپس کرے گا میں وہی ایک ہزار سکے لینے آیا ہوں
اب بادشاہ مشکل میں پڑ گیا دربار بھرا ہوا تھا اور ساکھ کا سوال تھا
اگر بادشاہ کہتا کہ یہ جھوٹ ہے تو کسان شرط جیت جاتا اور اسے انعام کے طور پر سونے کے سکے دینے پڑتے
اگر بادشاہ کہتا کہ یہ سچ ہے تو اسے بطور قرض کسان کو ایک ہزار سونے کے سکے ادا کرنے پڑتے
بادشاہ کسان کی عقل مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا اور مسکراتے ہوئے بولا تم جیت گئے تمہاری عقل مندی تمہارے جھوٹ سے زیادہ بڑی ہے بادشاہ نے اسے انعام دے کر رخصت کیا سبق عقل مند انسان وہ ہے جو اپنی بات کو ایسے طریقے سے پیش کرے کہ سامنے والا اسے رد نہ کر سکے

15/03/2026

انسان اللّٰہ کا محتاج ہے

انسان ہر لمحہ اللّٰہ سبحان و تعالی کا محتاج ہے انسان کی تخلیق پرورش بقا رزق صحت اور حتی کہ ہر سانس اللّٰہ کے حکم سے ممکن ہے قرآن مجید میں بھی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے
اللّٰہ رب العزت کا فرمان ہے
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
اے لوگو تم سب اللّٰہ کے محتاج ہو اور اللّٰہ ہی بے نیاز لائقِ حمد و ثنا ہے
(سورۃ فاطر آیت نمبر 15)
انسان کی جسمانی روحانی اور مادی ضروریات سب اللّٰہ تعالی کے حکم سے پوری ہوتی ہیں یہاں تک کہ علم ہدایت صبر اور ہمت بھی اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللّٰہ کے سامنے عاجزی اختیار کرے اسی سے مدد مانگے اور اس کا شکر گزار رہے.

19/02/2026

رمضان
یہ مہینہ ہمیں محبت بھائی چارے اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے
آئیے عہد کریں کہ اس رمضان میں ہم زیادہ سے زیادہ عبادت تلاوتِ قرآن اور نیکی کے کام کریں گے دعا ہے کہ یہ رمضان آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے لیے
سلامتی خوشحالی اور کامیابی کا ذریعہ بنے
اللہ ہم سب کو رمضان کی برکتیں نصیب فرمائے آمین

09/01/2026

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو ۞ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے ۞

04/01/2026

کسی کی خدمت میں پیش کیے جانے والے تحفوں میں سے سب سے بہترین تحفے خلوص محبت اور اچھے الفاظ ہیں زبان کی حفاظت دولت کی حفاظت سے زیاده مشکل ہے اچھے لہجوں سے مخاطب ہونے والا انسان خوش اخلاق ہی نہیں وہ سب سے زیادہ خوبصورت اور با عزت ہوتا ہے تحفہ صرف چیزوں کی صورت دیدہ زیب ڈبوں اور لفافوں میں پیک کر کے ہی نہیں دیا جاتا بلکہ آپ کے وہ الفاظ بھی تحفہ ہوتے ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ایسے الفاظ پھول کی مانند خوبصورت ہوتے ہیں اور شیریں لہجے اس پھول میں موجود خوشبو کی طرح جو آپ کے احساس کو ہمیشہ مہکائے رکھتے ہیں صحیح بات اور درست لہجہ مخاطب کو اپنی طرف ایسے کھینچتا ہے جیسے گلاب کا پھول تتلیوں کو اچھے لوگ ہمیشہ اللّٰہ پاک کے تحائف استعمال کرتے ہیں ہونٹوں پر سچ چہرے پر مسکراہٹ الفاظ میں دعا آنکھوں میں ہمدردی دل میں محبت ہاتھوں میں خدمت اور فطرت میں عاجزی جو خوشبو انسان کے کردار اخلاق عمل کی ہے وہ کسی عطر کی نہیں یہ خوشبو اس وقت چلی جاتی ہے جب انسان میں تکبّر آ جاتا ہے

01/01/2026

گناہوں سے توبہ کرنے والے انسان کو کبھی بھی اس کے سابقہ گناہوں کا طعنہ نہ ماریں لوگوں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ان کا کہا جانے والا صرف یہ جملہ دیکھا ہوا ہے تمہیں کتنے پارسا ہو تم یہ تاںٔب کو ایسی ذہنی اذیت میں مبتلا کردیتا ہے جس کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں اللّٰہ تعالی فرماتے ہیں
لا تقنطوا من رحمۃ اللّٰہ
تم اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو تو اللّٰہ کہیں فرماتے ہیں
ان اللّٰہ یحب التوابین
اللّٰہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے اللّٰہ کو بندے کی توبہ کیوں اس قدر پسند ہےاسی وجہ سے کہ توبہ کرنا بہت مشکل ہے گناہوں سے ہجرت کرنا بہت کٹھن ہوتا ہے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے پھر سسکتے ہوئے اللّٰہ کے پاس آتا ہے پھر گناہ ہوتا ہے پھر اللّٰہ کے سامنے روتا ہے کسی نشہ کرنے والے انسان کو دیکھا ہے نشہ نہ ملے کیا حال ہوتا ہے گناہوں سے تاںٔب ہونے والا بھی اس اذیت سے گزرتا ہے دنیا کے لوگ ظاہر دیکھتے ہیں اللّٰہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر مانگی جانے والی بندے کی معافیاں دیکھتے ہیں تمام انسان اللّٰہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں خدارا لوگوں کو ماضی کا طعنہ دے کر اذیت نہ دیں کافی لوگ اسی وجہ سے چاہنے کے باوجود توبہ نہیں کرتے
اَللّٰهم انی اسئلک توبۃ نصوحا قبل الموت
اے اللّٰہ موت سے پہلے پہلے ہمیں سچی توبہ نصیب فرما

A large new study involving nearly 100,000 people has found that frequent use of short-form videos on infinite-scroll pl...
29/12/2025

A large new study involving nearly 100,000 people has found that frequent use of short-form videos on infinite-scroll platforms is linked to weaker thinking skills and poorer emotional health.

Heavy users showed lower attention, reduced self-control, and weaker basic reasoning, along with higher levels of anxiety, stress, and depression.

Researchers say constant exposure to fast, highly stimulating content may make it harder for the brain to handle slower tasks like reading or problem-solving. While the study shows a link and not direct cause, scientists warn that excessive short-form video use could contribute to long-term cognitive decline.

کیوں ذہین لوگ معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتے۔؟ کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ زیادہ سمجھدار ہونا کبھی کبھی سزا کیوں مح...
17/09/2025

کیوں ذہین لوگ معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتے۔؟
کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ زیادہ سمجھدار ہونا کبھی کبھی سزا کیوں محسوس ہوتا ہے؟ اکثر اوقات حقیقی طور پر ذہین لوگ خود کو اکیلا پاتے ہیں جبکہ معمولی یا اوسط ذہانت کے حامل افراد کی سماجی زندگی زیادہ خوشگوار گزر رہی ہوتی ہے۔ اس سوال کا جواب فلسفی آرتھر شوپن ہاور نے صدیوں پہلے ہی دے دیا تھا جسے آج کی جدید سائنس بھی ثابت کر رہی ہے۔ شوپن ہاور جسے تاریخ کا سب سے کڑوا مگر سچا فلسفی کہا جاتا ہے، نے کہا تھا کہ "ذہانت ایک آئینے کی مانند ہے جو سامنے والے کو اس کا سچ دکھا دیتی ہے، وہ سچ جسے وہ خود بھی دیکھنا نہیں چاہتا"۔

لوگوں کا خیال ہے کہ ذہین افراد اس لیے اکیلے ہوتے ہیں کیونکہ وہ سماجی طور پر اناڑی ہوتے ہیں لیکن شوپن ہاور نے اس بات کو مزید گہرائی سے سمجھا۔ اس نے کہا کہ کسی ذہین انسان کو زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی, اس کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے۔ وہ بس کمرے میں داخل ہوتا ہے اور باقی لوگ خود بخود بے چین ہو جاتے ہیں جیسے کسی نے ان کے اندر کی حقیقت کو کھول دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اپنا سچ دیکھنا نہیں چاہتا۔ جب پیسہ ہوتا ہے تو لوگ جھکتے ہیں، خوبصورتی پر لوگ مرتے ہیں، طاقت پر لوگ عزت دیتے ہیں مگر ذہانت سے لوگ جلتے ہیں۔ یہ حسد وہ کسی کو بتاتے نہیں بلکہ خود سے بھی چھپا کر رکھتے ہیں۔

شوپن ہاور نے دیکھا کہ یہ ایک ایسا نمونہ ہے جو بار بار دہرایا جاتا ہے: جتنا کوئی شخص گہرائی میں سوچتا ہے، لوگ اسے لطیف طریقوں سے سائیڈ لائن کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ بدتمیز نہیں ہوتا، نہ ہی انا دکھاتا ہے، پھر بھی اس کی موجودگی سے لوگ خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

جدید سائنس کے مطابق آج کی سوشل سائیکالوجی اور برین ریسرچ شوپن ہاور کی باتوں کی تصدیق کر رہی ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کوئی انسان خود کو کسی سے کم ذہین محسوس کرتا ہے تو اس کے دماغ کے وہی حصے فعال ہوتے ہیں جو جسمانی درد کی صورت میں ہوتے ہیں۔ یعنی جب کوئی کہتا ہے کہ "اس نے میری انا کو ٹھیس پہنچائی" تو یہ محض ایک بات نہیں ہوتی بلکہ دماغی سطح پر یہ لفظی طور پر "درد" ہوتا ہے۔ 2021 کی ایک تحقیق نے تو یہ بھی پایا کہ جب ہم کسی بہت ہوشیار شخص کے سامنے ہوتے ہیں تو ہمارا دماغ اسے "خطرے" کی طرح پروسیس کرتا ہے۔ دماغ میں ایک حصہ جسے *"امیگڈالا (amygdala)" کہتے ہیں، خطرے کا الارم بجاتا ہے۔ جب سامنے کوئی ایسا شخص ہو جو واضح طور پر ہم سے زیادہ ذہین ہو تو امیگڈالا فوراً فعال ہو جاتا ہے، جیسے کوئی حقیقی خطرہ آ گیا ہو۔ اسی لیے لوگ سوچے سمجھے بغیر دفاعی ہو جاتے ہیں۔ اسٹینفورڈ کی ایک اور تحقیق کے مطابق اگر آپ اس ذہین شخص کے ساتھ اکیلے ہیں تو یہ ردعمل ہلکا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی کمرے میں مزید لوگ آ جائیں یہ "انا" اور زیادہ جاگ جاتی ہے کیونکہ انسان اکیلے کی بجائے عوامی طور پر اپنا اسٹیٹس بچانا چاہتا ہے۔

شوپن ہاور نے یہ بھی سمجھا کہ یہ محض خودکار ردعمل نہیں ہیں۔ انسان اسے شعوری طور پر بھی محسوس کرتا ہے اور یہیں سے ایک بڑا کڑوا سچ سامنے آتا ہے: لوگ کسی ذہین شخص سے یوں ہی حسد نہیں کرتے؛ ذہانت خود ایک جذباتی محرک (emotional trigger) بن جاتی ہے۔ یہ انسان کے اندر کچھ ایسا چھیڑ دیتی ہے جسے وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتے ہیں۔ جب کوئی ذہین شخص کسی گفتگو میں شامل ہوتا ہے تو باقی سب لوگ خود بخود اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں، چاہے وہ ایسا کرنا چاہیں یا نہ چاہیں۔ اکثر تو بس اس کی خاموش موجودگی ہی لوگوں کو یہ محسوس کراتی ہے جیسے وہ انہیں جج کر رہا ہو۔ سب سے ستم ظریفی یہ ہے کہ جتنا کوئی شخص سچ میں سمجھدار ہوتا ہے وہ اتنا ہی کم دوسروں کو جج کرتا ہے۔

شوپن ہاور نے یہ بھی دیکھا کہ ذہانت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مسترد ہونے کا سبب بنتی ہے مگر دونوں کے لیے یہ ردعمل مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ ذہین مردوں کو یا تو مقابلہ ملتا ہے یا انہیں آہستہ آہستہ گروپ سے نکال دیا جاتا ہے لیکن ذہین عورتوں کے لیے ردعمل ایک اور سطح کی کشیدگی بن جاتا ہے جسے شوپن ہاور نے "ڈبل بائنڈ double bind" کہا۔ انہیں صرف سمجھدار ہونے کی نہیں بلکہ اس "ناقابل دید سماجی قید" کو توڑنے کی بھی سزا ملتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ "ایک عورت کو ایسا ہونا چاہیے۔ معاشرہ انہیں ایک انتخاب دیتا ہے: یا تو "پسندیدہ" بنو یا "قابل احترام"۔ عورتوں کی خوبصورتی کو کھلے عام سراہا جاتا ہے مگر ان کی ذہانت کو نہیں۔ شوپن ہاور نے ایک دردناک سچ کہا تھا کہ اگر کوئی عورت خوبصورت بھی ہے اور ذہین بھی، تو یہ دونوں خصوصیات مل کر اسے اور زیادہ اکیلا بنا دیتی ہیں کیونکہ خوبصورتی لوگوں کو اوپر سے متوجہ کرتی ہے لیکن ذہانت وہیں سے لوگوں کو دور بھی کر دیتی ہے۔

جدید تحقیق بھی یہی دکھا رہی ہے: ذہین عورتیں اکثر اپنی صلاحیتوں کو چھپا لیتی ہیں، خاص کر سماجی محفلوں میں، کیونکہ ان پر ایسا دباؤ ہوتا ہے جو مردوں پر اتنا نہیں ہوتا۔ ماہرین نفسیات اسے "کمپیٹنس لائیکیبلٹی ٹریڈ آف" (Competence-Likability Trade-off) کہتے ہیں، یعنی جتنی کوئی عورت زیادہ اسمارٹ یا قابل نظر آئے گی اتنی ہی کم پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔

شوپن ہاور نے واضح کیا کہ اوسطیت لوگوں کو کیوں آرام دیتی ہے۔ یہ ایک گرم کمبل کی طرح ہے جو یہ احساس دلاتا ہے، "فکر مت کرو، جیسے ہو ویسے ہی ٹھیک ہو"۔ اوسط سوچ رکھنے والے لوگ کبھی کسی کی انا کو ٹھیس نہیں پہنچاتے اور نہ ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "شاید تمہیں بھی تھوڑا اور بڑھنا چاہیے" بلکہ وہ آپ کو اس بات کی تصدیق دیتے ہیں کہ آپ کی سوچ بھی کافی ہے۔

جب آپ کسی عام گروپ کی گفتگو سنتے ہیں تو موضوعات کیا ہوتے ہیں؟ سادہ باتیں، ہنسی مذاق، کچھ بھی ایسا نہیں جو تھوڑی سوچ مانگے کیونکہ سطحی گفتگو ہی آرام دہ ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی شخص گہری یا پیچیدہ بات کرتا ہے کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے اور ماحول بھاری ہو جاتا ہے۔ شوپن ہاور نے یہ پیٹرن ہر شعبے میں دیکھا تھا: اوسط درجے کا فنکار گیلری میں نظر آتا ہے لیکن باکمال فنکار باہر کھڑا رہتا ہے۔ عام مصنف ٹاپ سیلر بن جاتا ہے لیکن گہرا مفکر ان پڑھ رہتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ لوگ فرق سمجھ نہیں پاتے، بلکہ اس لیے کہ اوسطیت کبھی کسی کی حقیقت کو چیلنج نہیں کرتی، جب کہ ذہانت کرتی ہے۔ ذہانت وہ آئینہ ہے جو یاد دلاتا ہے کہ "تم بھی تھوڑا اور سوچ سکتے تھے، مگر تمہیں آسان راستہ چاہیے تھا۔ اور اسی غیر آرام دہ حقیقت سے لوگ بچتے ہیں۔

آج کی دنیا میں بھی شوپن ہاور کے تمام پیٹرن نئے ناموں کے ساتھ دہرائے جا رہے ہیں۔ ورک پلیس میں "کلچر فٹ" اور "ایموشنل انٹیلیجنس" جیسے نام استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن "ناٹ اے کلچر فٹ" کا اصل مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص دوسروں کو ذہنی طور پر بے چین کر دیتا ہے۔ سماجی میڈیا پر بھی گہری باتیں اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں اور سادہ، ہاں میں ہاں ملانے والی چیزیں وائرل ہو جاتی ہیں، کیونکہ گہرائی سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور سوچنے سے بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

اس پورے پیٹرن میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ معاشرے کو ذہانت چاہیے بھی اور اسی سے سب سے زیادہ ڈر بھی لگتا ہے۔ شوپن ہاور نے اسے "حتمی سماجی تضاد" کہا تھا۔ ہر معاشرہ اپنے نابغہ روزگار افراد کو ان کے مرنے کے بعد سراہتا ہے۔ نیوٹن، آئن سٹائن، کیوری کو آج عزت کی بلندیوں پر رکھا جاتا ہے، لیکن جب وہ زندہ تھے تو نیوٹن اکیلے رہتے تھے، آئن سٹائن کو اس کے اساتذہ نے "بے وقوف" کہا تھا، اور کیوری کو پوری سائنسی دنیا نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ تضاد ہر جگہ نظر آتا ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں جدت چاہیے، لیکن جیسے ہی کوئی نظام کو چیلنج کرتا ہے، اسے سائیڈ کر دیا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ذہانت کو کیسے نیویگیٹ کریں؟ لیکن اس پیٹرن کو سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو ہمیشہ اکیلا محسوس کرنا پڑے گا۔ شوپن ہاور صرف مسئلہ نہیں بتا رہا تھا وہ آپ کو ایک طریقہ بھی دکھا رہا تھا:
1. سمجھیں کہ آپ غلط نہیں ہیں: اگر آپ ذہین ہیں، تو آپ کوئی غلطی نہیں کر رہے۔ لوگوں کا ردعمل آپ سے نہیں ہوتا، یہ بس ایک قدرتی سماجی پیٹرن ہے۔ یہ بات سمجھنے سے ہی بہت سا ذہنی بوجھ اتر جاتا ہے۔
2. ہر کمرے کو پڑھنا سیکھیں: ہر جگہ گہری باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنی سب سے پیچیدہ سوچ انہیں دیں جو اسے سچ میں سمجھ اور سراہ سکیں۔
3. اپنا قبیلہ تلاش کریں: شوپن ہاور نے خود دیکھا تھا کہ حقیقی ذہین لوگ بڑے گروپس میں نہیں رہتے، وہ چھوٹے مگر گہرے تعلقات والے حلقوں میں پروان چڑھتے ہیں۔ آج کے انٹرنیٹ والے دور میں ایسے دماغ ڈھونڈنا پہلے سے کہیں آسان ہو گیا ہے۔ آپ کو پوری دنیا سے توثیق نہیں چاہیے، بس کچھ لوگ چاہیں جو آپ کو سمجھ سکیں، اتنا کافی ہے۔

تاریخ کے کچھ سب سے کامیاب ذہنوں نے بھی یہی کیا۔ رچرڈ فائن مین جیسے ذہین ماہرِ طبیعیات نے پیچیدہ چیزوں کو اتنے سادہ اور قابلِ فہم انداز میں سمجھایا کہ سننے والا متجسس ہو جائے، الجھے نہیں۔ ایڈا لولیس نے "سوشل لیبارٹریز" بنائیں جہاں سوچنے والے لوگ کھل کر بات کر سکیں اور دوسروں کو بھی خوش آمدید محسوس کرائیں۔ بینجمن فرینکلن، ایک عظیم مفکر ہونے کے باوجود، ہمیشہ خود کو ایک سیکھنے والے کے طور پر پیش کرتے تھے اور اپنی باتوں کو نصیحت یا سوال کی طرح رکھتے تھے تاکہ سننے والے کو برابری کا حصہ محسوس ہو نہ کہ کوئی برتری۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذہین ہونے کا مطلب اکیلا ہونا نہیں۔ شوپن ہاور نے یہ باتیں آپ کو ڈرانے کے لیے نہیں کہی تھیں بلکہ حقیقت بتائی تھی تاکہ آپ اسے سمجھ کر *سمارٹ طریقے سے زندگی گزار سکیں۔ اپنی ذہانت کو چھپانا بھی نہیں اور نہ ہی اوسط بننے کی اداکاری کرنی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ ان سماجی پیٹرنز کو سمجھیں اور ان سے لڑنے کے بجائے ان میں اپنے طریقے سے نیویگیٹ کریں۔

معاشرہ بھلے ہی ذہین دماغوں سے ڈرتا ہو لیکن انہیں سب سے زیادہ ضرورت بھی انہی کی ہوتی ہے۔ ہر بڑی تبدیلی ہمیشہ کسی ایسے شخص سے آئی ہے جس نے گہرائی میں سوچا، واضح دیکھا اور سچ میں ذہین بننے کی ہمت رکھی۔ لہٰذا اگلی بار جب آپ محسوس کریں کہ لوگ آپ کی سوچ سے بے چین ہیں تو بس شوپن ہاور کی بات یاد رکھیں:
آپ کچھ غلط نہیں کر رہے، آپ بس ایک آئینہ پکڑے کھڑے ہیں اور اس آئینے میں لوگ کیا دیکھتے ہیں یا کیسے ردعمل دیتے ہیں، وہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

حسد کی تعریفحسد کا مطلب ہے کہ’’کسی دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوش حالی دور ہوکر اسے مل جا...
04/07/2025

حسد کی تعریف
حسد کا مطلب ہے کہ
’’کسی دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوش حالی دور ہوکر اسے مل جائے۔‘‘

حاسد وہ ہے جو دوسروں کی نعمتوں پر جلنے والا ہو۔ وہ یہ نہ برداشت کرسکے کہ اللہ نے کسی کو مال، علم، دین، حسن ودیگر نعمتوں سے نوازا ہے۔ بسا اوقات یہ کیفیت دل تک رہتی ہے اور بعض اَوقات بڑھتے بڑھتے اس مقام تک آپہنچتی ہے کہ حاسد (حسد کرنے والا) محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے خلاف کچھ عملی قدم اٹھانے پہ آ جاتاہے۔ اس کی کیفیات کا اظہار کبھی اس کی باتوں سے ہوتا ہے اور کبھی اس کا عمل اندرونی جذبات و اِحساسات کی عکاسی کرتا ہے۔حسد کی کیفیت جب تک حاسد کے دل ودماغ تک محدود رہے ، محسود کے لیے خطرہ کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ سراسر حاسد کے لیے ہی وبالِ جان بنا رہتاہے اور یوں وہ اپنی ذات کا خود ہی بڑا دشمن بن بیٹھتاہے، لیکن جب وہ اپنی جلن کو کھلم کھلا ظاہر کرنے لگے تو یہی وہ مقام ہے جس سے پناہ مانگنے کے لیے خالق کائنات نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:
{وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدٍ} (الفلق:۵)
’’(میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگی۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں یہ نہیں سکھایا گیا کہ ’’حاسد کے شر سے پناہ مانگو‘‘ بلکہ اس بات کی قرآن میں مختلف مقامات پر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حسد کا ذکر کیا ہے ان آیات سے حسد کا معنی اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔
{حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ}(البقرۃ:۱۰۹)
’’اپنے دلوں میں حسد کی وجہ سے۔‘‘
{أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ}(النساء :۵۴)
’’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کواپنے فضل سے عطا کیا ہے۔‘‘

{فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا} (الفتح :۱۵)
’’پس عنقریب وہ کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔‘‘
مذکورہ بالا آیات میں حسد کی بات کی گئی ہے جو دلوں تک محدود رہتا ہے اور کینہ وبغض کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے لیکن سورہ فلق میں إذا حسد کے الفاظ سے واضح ہوتاہے کہ جب وہ حسد کا عملی مظاہرہ کرنے لگے
حسد کی مذمت میں نبی اکرم ﷺسے مختلف اَحادیث مروی ہیں، مثلاً
’’کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے۔‘‘ (سنن نسائی:۲۹۱۲)
’’تمہاری طرف پچھلی قوموں کی برائیاں حسد اور بغض سرایت کر آئیں گی جو مونڈ ڈالیں گی میں نہیں کہتاکہ یہ بالوں کومونڈ دیں گی بلکہ یہ دین کو مونڈ دیں گی۔‘‘(سنن ترمذی:۲۵۱۰) طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ
’’حاسد کے شر سے پناہ مانگو جب وہ حسد کرنے لگے‘‘
کیونکہ جب تک اس کا حسد ظاہر نہیں ہوتا تب تک وہ ایک قلبی وفکری بیماری ہے جس کا تعلق حاسد کی ذات سے ہے اور یہ درجہ محسود کے حق میں نقصان دہ نہیں ہے
قرآن میں مختلف مقامات پر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حسد کا ذکر کیا ہےان آیات سے حسد کا معنی اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔
{حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ}(البقرہ 109)
’’اپنے دلوں میں حسد کی وجہ سے۔‘‘
{أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ}(النساء :۵۴)
’’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کواپنے فضل سے عطا کیا ہے۔‘‘
{فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا} (الفتح :۱۵)
’’پس عنقریب وہ کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔‘‘

Address

Handwara

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝘼𝙃𝙂𝘼𝙈 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share