12/08/2026
یہ وہ علماء کرام ہیں جن کے نام کے آگے اور پیچھے مذہبی جلسوں کے اشتہارات میں القابات کے لیے الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ مائک پر ان کی گھن گرج ایسی کہ بجلیاں بھی شرمندہ ہو جائیں، اور نعروں کی گونج میں استقامت و کرامت کی ایسی طویل روداد کہ جس کے سامنے انسائیکلوپیڈیا بھی تنگ پڑ جائے۔
آج جب انہیں ملتِ اسلامیہ ہند کے درد کی دوا سوجھی تو ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ کے مصداق مسلمانوں کے مبینہ قاتلوں میں مسیحائی تلاش کرنے پہنچ گئے۔ مختار انصاری کی تباہی سے عتیق احمد کی خانماں بربادی تک، مظفر نگر کی لہولہان گلیوں سے اخلاق کی لنچنگ تک، مسلمانوں کے بے وقعتی سے اعظم خان کے سیاسی خاتمے تک، وہ کون سا زخم ہے جس کے لیے ملائم پریوار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا؟
ملت کے یہ بہی خواہ آج اکھلیش یادو سے ہمارے دکھوں پر مرہم رکھنے کی بھیک مانگنے پہنچے ہیں، جنہیں ہمارے نام سے بھی نفرت ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو انہوں نے ’’اقلیتی یونیورسٹی‘‘ کہا، PDA کے ’’پچھڑا، دلت، الپ سنکھیک‘‘ فارمولے سے مسلمانوں کو باہر نکال پھینکا اور ہمارے ان ہر فن مولا علماء کرام کو خبر تک نہیں ہوئی۔ وعدہ کیا تھا کہ 2012 میں حکومت بنی تو 18 فیصد ریزرویشن دیں گے۔ ریزرویشن تو نہیں دیا، لیکن مظفر نگر میں ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام ضرور ہو گیا۔
کہا جاتا ہے کہ ’’مومن ایک ہی سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘، لیکن یہ کون سے علماء کرام اور مسلمان ہیں جو بار بار ’’آ بیل، مجھے مار‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں؟
ایک آخری بات۔ یہی علماء کہتے ہیں کہ اسلام کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے، اور ماشاء اللہ یہ حضرات اسلامیات میں مہارتِ تامہ بھی رکھتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ صاحبانِ علم و فن آخر کس مسئلے کا حل کفر کی تاریکیوں میں تلاش کر رہے ہیں؟
معاف کیجیے، اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے، مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں۔ لیکن پریشانی یہ ہے کہ یہ حضرات کس اسلام کو فالو کرتے ہیں جس میں انہیں اپنے ملی مسائل کا حل نہیں ملا اور جس کے چلتے انہیں کفر کے خوگر لوگوں کی آغوش میں پناہ لینی پڑ رہی ہے؟
ان تمام افراد کے نام، عہدے اور متعلقہ خانقاہوں کے نام کے بارے میں مجھے اشتباہ ہے، اس لیے اس ’’انقلابی تبدیلی مشن‘‘ میں کون کون شامل ہے، ان کے ناموں سے پردہ اٹھانے کی ذمہ داری میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
ایک خلش اور ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش یہی ہاتھ کسی اپنے کے ساتھ ملاتے، بالواسطہ انہی قاتلوں سے سمجھوتہ کرتے لیکن اپنی قیادت اور اپنی سیاست کے توسط، کم سے کم یہ پیغام تو جاتا کہ مومن ایک ہی سوراخ سے دوبار سہی لیکن بار بار نہیں ڈسا جاتا۔