Shafique Faizi

Shafique Faizi For Political views and analysis and support value bassed politics please like our page and share it

12/05/2026

वीडियो देख कर शर्म आती है, आखिर क्या फर्क़ रह गया है किसी के धार्मिक होने या ना होने में, दुनिया की लालच ने कहां से कहां पहुंचा दिया
Balrampur
जैनुलआब्दीन पुत्र अहमद निवासी हर्रैय्या चंद्रसी थाना पचपेड़वा को किया गया गिरफ्तार,एमडीएम घोटाले का एक और आरोपी हुआ गिरफ्तार ,बलरामपुर जिले मे MDM घोटालेबाज,

NEET 2026 पेपर लीक नहीं, यह छात्रों के भविष्य की लूट है!NEET 2026 का पेपर रद्द होने की खबर सिर्फ एक परीक्षा के रद्द होने...
12/05/2026

NEET 2026 पेपर लीक नहीं, यह छात्रों के भविष्य की लूट है!

NEET 2026 का पेपर रद्द होने की खबर सिर्फ एक परीक्षा के रद्द होने की सूचना नहीं, बल्कि उस सड़े-गले सिस्टम का आईना है जहाँ छात्रों की मेहनत से ज्यादा पेपर माफिया की पहुँच मजबूत दिखाई देती है। सवाल यह है कि आखिर कब तक देश के लाखों छात्र सिस्टम की लापरवाही, भ्रष्टाचार और अक्षमता की कीमत चुकाते रहेंगे?

एक छात्र सालों तक दिन-रात मेहनत करता है, परिवार अपनी जमा-पूंजी दांव पर लगा देता है, सपनों को टाल देता है, और फिर एक सुबह पता चलता है कि कुछ लोगों की बेईमानी ने सब पर पानी फेर दिया। दोषियों की संख्या मुट्ठीभर होती है, लेकिन सजा लाखों ईमानदार छात्रों को मिलती है। यह कैसा न्याय है?

सबसे बड़ा सवाल सरकार और व्यवस्था से है, क्या शिक्षा अब सिर्फ भाषणों का विषय रह गई है? अगर देश की सबसे महत्वपूर्ण परीक्षाओं की गोपनीयता भी सुरक्षित नहीं, तो फिर "न्यू इंडिया" के दावे किस काम के? हर बार जांच समिति, हर बार कड़ी कार्रवाई का वादा, और फिर अगली परीक्षा में वही कहानी, क्या यही प्रशासनिक जवाबदेही है?

पेपर लीक अब अपवाद नहीं, एक खतरनाक परंपरा बनती जा रही है। और अगर व्यवस्था अब भी नहीं जागी, तो सिर्फ परीक्षाएं नहीं, युवाओं का सिस्टम पर भरोसा भी पूरी तरह रद्द हो जाएगा।

Shafique Faizi

ीक्षा ीक्षा

میری شکل دیکھ لیں، میری عقل دیکھ لیں اور ممکن ہو تو میرا پہناوا بھی دیکھ لیں، اس بعد بھی جلسے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں ...
12/05/2026

میری شکل دیکھ لیں، میری عقل دیکھ لیں اور ممکن ہو تو میرا پہناوا بھی دیکھ لیں، اس بعد بھی جلسے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو میرے حساب سے میرا تو کچھ نہیں لیکن آپ کی جگ ہنسائی ضرور ہوگی
"معذرت کے ساتھ"

लो कर लो बात। एक और बड़ी उपलब्धि।
11/05/2026

लो कर लो बात। एक और बड़ी उपलब्धि।

देशहित में यह संदेश ज्य़ादा से ज़्यादा शेयर कीजिये।एक शेयर सिद्ध करेगा कि आप देशप्रेमी हो अथवा देशद्रोही? 😂😂😂           ...
11/05/2026

देशहित में यह संदेश ज्य़ादा से ज़्यादा शेयर कीजिये।
एक शेयर सिद्ध करेगा कि आप देशप्रेमी हो अथवा देशद्रोही? 😂😂😂

मेरे दोस्त को शादी के 10 वर्षों बाद उसके ससुरे ने यह शानदार बाइक गिफ्ट की है, बधाई रुकनी नहीं चाहिये!
11/05/2026

मेरे दोस्त को शादी के 10 वर्षों बाद उसके ससुरे ने यह शानदार बाइक गिफ्ट की है, बधाई रुकनी नहीं चाहिये!

"حقائق کو ایک مخصوص کہانی، زاویۂ نظر یا فکری فریم میں ڈھال کر پیش کرنے کو نیریٹیو کہا جاتا ہے۔"نیریٹیو کے اس کھیل میں وا...
11/05/2026

"حقائق کو ایک مخصوص کہانی، زاویۂ نظر یا فکری فریم میں ڈھال کر پیش کرنے کو نیریٹیو کہا جاتا ہے۔"

نیریٹیو کے اس کھیل میں واقعہ وہی رہتا ہے، مگر اس کی تعبیر بدل دی جاتی ہے۔ اور جیسے ہی تعبیر بدلتی ہے، عوام کی رائے بھی بدلنے لگتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی مسلم نوجوان پر کوئی الزام عائد ہو جائے، تو نیریٹیو ساز اداروں کی سرخیاں عموماً کچھ اس طرح ہوتی ہیں:

"دہشت گردی سے روابط کی جانچ ضروری"
"مشکوک تعلقات کے انکشاف کا امکان"
"کیا کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک سے کنکشن ہے؟"

یعنی مقدمہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی میڈیا کی عدالت لگ جاتی ہے، اور عوام کے ذہن میں ایک مخصوص تصویر بٹھا دی جاتی ہے۔

لیکن اگر اسی نوعیت کا الزام اکثریتی طبقے کے کسی فرد پر ہو، تو لہجہ یکسر بدل جاتا ہے:

"کیا ذہنی دباؤ میں اٹھایا گیا قدم؟"
"ذاتی تنازعے کا معاملہ معلوم ہوتا ہے"
"تحقیقات جاری ہیں، فی الحال کسی سازش کی بات کرنا قبل از وقت ہوگا"

یہی نیریٹیو سازی آج کے دور میں نظریاتی جنگ جیتنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ بھارت میں مسلمان اس محاذ پر بری طرح پسپا دکھائی دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ اپنا مؤثر نیریٹیو تشکیل نہیں دے پا رہے، بلکہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اپنے خلاف بنائے گئے نیریٹیو کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

کچھ انفرادی کوششیں ضرور ہو رہی ہیں، لیکن جب تک ایسے افراد کی آواز عام لوگوں تک پہنچتی ہے، تب تک آر ایس ایس اور بی جے پی کے حامی بیانیے اپنا اثر دکھا چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار حقیقت سامنے آنے کے باوجود ذہن نہیں بدلتے، اور مسلمانوں کے خلاف تعصب، تشدد اور ناانصافی کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔

کسی بھی نیریٹیو کا مؤثر توڑ اسی وقت ممکن ہے جب اس کے بنتے ہی متبادل بیانیہ عوام تک پہنچا دیا جائے۔ دیر سے آنے والا ردِعمل اکثر صرف وضاحت بن کر رہ جاتا ہے، اثر نہیں پیدا کرتا۔

پہلے ایک بیانیہ بنانے میں دنوں بلکہ ہفتوں لگتے تھے۔ آج صرف چند منٹوں میں ایک ہیش ٹیگ، مختصر ویڈیو، یا ایک میم لاکھوں ذہنوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

موجودہ دور میں نیریٹیو سازی کا سب سے طاقتور امتزاج "سوشل میڈیا، ویژول میڈیا، اور الگورتھمک ایمپلیفیکیشن ہے۔ لیکن اگر ایک ہی پلیٹ فارم کو سب سے زیادہ مؤثر کہا جائے تو وہ سوشل میڈیا ہے۔ خصوصاً "X، YouTube، Instagram Reels، اور WhatsApp"۔

اسی خلا کو پُر کرنے کی سمت میں "نیوز جی 24" ہماری ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ یہ صرف ایک پلیٹ فارم نہیں، بلکہ بیانیے کی اس جنگ میں ایک چھوٹی مگر سنجیدہ پیش رفت ہے۔ اس کوشش کو آپ کی توجہ، اعتماد اور تعاون درکار ہے۔

آپ "NewsG24" کی پیڈ ممبرشپ لے کر اس مشن میں اپنا حصہ آسانی سے ادا کر سکتے ہیں۔ ممبرشپ کے لیے ہماری ویب سائٹ پر لاگ اِن کیجیے۔ لنک کمنٹ سیکشن میں ہے۔

شفیق فیضی

اس واقعے کو اگر محض ایک انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے تو شاید بات اتنی بڑی محسوس نہ ہو، لیکن اگر اسے بھارت میں م...
11/05/2026

اس واقعے کو اگر محض ایک انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے تو شاید بات اتنی بڑی محسوس نہ ہو، لیکن اگر اسے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے رویّوں کے وسیع تناظر میں رکھا جائے تو یہ ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا قانون اور شبہات کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہے؟

اتر پردیش کے کشی نگر کے ایک مدرسے میں لگا ایک پنکھا خراب ہوگیا۔ مرمت کے لیے آئے مکینک نے جب اس پر “Made in Pakistan” لکھا دیکھا تو معاملہ فوراً پولیس تک پہنچ گیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ مدرسے کے منتظم کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پنکھا دبئی میں مقیم ایک شخص نے خرید کر مدرسے کو عطیہ کیا تھا۔ یعنی نہ کوئی خفیہ سرگرمی، نہ کوئی مجرمانہ نیت، صرف ایک عطیہ میں آیا ہوا برقی سامان۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی چیز پر کسی ملک کا نام لکھا ہونا، بذاتِ خود جرم کی دلیل بن جاتا ہے؟ اور اگر یہی چیز کسی دوسرے ادارے، کسی اور کمیونٹی، یا کسی غیر مسلم مقام پر پائی جاتی، تو کیا ردِعمل یہی ہوتا؟

یہی وہ سوال ہے جو بھارت میں مسلمانوں کے تعلق سے “دوہرے معیار” کی بحث کو جنم دیتا ہے—جہاں بعض اوقات ایک معمولی سی چیز بھی شک، نگرانی اور کارروائی کا سبب بن جاتی ہے، جبکہ اسی نوعیت کے معاملات میں دوسروں کے لیے رویّہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔

“بس اتنی بات پر اُس نے ہمیں بلوائی لکھا ہے
ہمارے گھر کے برتن پر آئی۔ایس۔آئی لکھا ہے”

قمر غنی عثمانی کیس: انصاف، آزادی اور عدالتی توازن کا امتحانقمر غنی عثمانی کا کیس محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں، بلکہ ہندوست...
11/05/2026

قمر غنی عثمانی کیس: انصاف، آزادی اور عدالتی توازن کا امتحان

قمر غنی عثمانی کا کیس محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں، بلکہ ہندوستانی عدالتی نظام کے سامنے کھڑا ایک پیچیدہ آئینی سوال بھی ہے۔ گجرات کے دھنڈھوکا میں کشور بھرواد قتل کیس کے تناظر میں قمر غنی عثمانی پر الزام ہے کہ انہوں نے براہِ راست قتل میں حصہ نہیں لیا، بلکہ مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر اور نظریاتی اکسانے کے ذریعے اس جرم کے ماحول کو ہموار کیا۔ ان پر IPC کی سنگین دفعات کے ساتھ UAPA اور GUJCTOC جیسے سخت قوانین بھی عائد ہیں، جس سے مقدمہ مزید حساس بن جاتا ہے۔ حالانکہ قمر غنی عثمانی کے جس بیان کو اس معاملے سے جوڑ کر دکھایا گیا ہے۔ اس کا براہ راست اس قتل سے کوئی لینا دینا نہیں اور ان کا بیان بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشتعال انگیزی سے عبارت نہیں ہے۔

اس کیس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ قمر غنی گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے بطور انڈر ٹرائل جیل میں ہیں، جبکہ مقدمے کا ٹرائل اب بھی سست رفتاری کا شکار ہے اور تمام گواہوں کے بیانات مکمل نہیں ہو سکے۔ مزید یہ کہ بعض ایسے شریک ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے جن پر استغاثہ کے مطابق زیادہ براہِ راست کردار کے الزامات تھے۔ یہی نکتہ قمر غنی کی ضمانت کی درخواست کو قانونی وزن دیتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص کو جرم ثابت ہونے سے پہلے غیر معینہ مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے، یا پھر آئین کے تحت شخصی آزادی کا اصول غالب آنا چاہیے؟اور اس سے بھی اہم سوال، اس طرح کے مقدمات میں ایک کمیونٹی خاص کو ہی ضمانت ملنے میں اس قدر دشواری کیوں ہوتی ہے؟

مختصر یہ کہ قمر غنی عثمانی کا ضمانت کیس نہ تو مکمل طور پر کمزور ہے اور نہ ہی قطعی طور پر مضبوط۔ قانونی طور پر ضمانت کے امکانات موجود ہیں، خاص طور پر طویل حراست اور ٹرائل میں تاخیر کے تناظر میں، مگر سخت انسدادِ دہشت گردی قوانین اور ہائی کورٹ کے سخت مشاہدات اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ مقدمہ دراصل اسی توازن کا امتحان ہے جہاں عدالت کو آزادی اور سلامتی کے درمیان باریک لکیر پر فیصلہ کرنا ہے۔

فی الحال 15مئی 2026 کو سپریم کورٹ میں مولانا قمر غنی عثمانی صاحب کے ضمانت عرضی کی سنوائی ہے اس درمیان آپ احباب سے گذارش ہے کہ کمنٹ میں ReleaseQamarGhaniUsmani # لکھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ، پیج کو فالو کرنا ہرگز نہ بھولیں!

شفیق فیضی

सुकून के कुछ पल, किन्तु काम पर लौटने की जल्दी भी है।
10/05/2026

सुकून के कुछ पल, किन्तु काम पर लौटने की जल्दी भी है।

ऐसे सो कर चुनाव कौन लड़ता है?
10/05/2026

ऐसे सो कर चुनाव कौन लड़ता है?

Address

Itwa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shafique Faizi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shafique Faizi:

Share