Shafique Faizi

Shafique Faizi For Political views and analysis and support value bassed politics please like our page and share it

10/06/2026

नूरानी मस्जिद ध्वस्तीकरण को लेकर एडवोकेट ने किया
बड़ा खुलासा, कोर्ट में सुनवाई से पहले क्यों?

कांग्रेस TMC का विलय?'कांग्रेस में करें TMC का विलय, देंगे राष्ट्रीय उपाध्यक्ष का पद', सोनिया गांधी का ममता बनर्जी को बड...
10/06/2026

कांग्रेस TMC का विलय?

'कांग्रेस में करें TMC का विलय, देंगे राष्ट्रीय उपाध्यक्ष का पद', सोनिया गांधी का ममता बनर्जी को बड़ा ऑफर

جامعہ ازہر قاہرہ، مصر کے ممتاز عالمِ دین ڈاکٹر عباس شومان کا یہ انتباہ آج پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بیدار کن پیغام ہے:"...
10/06/2026

جامعہ ازہر قاہرہ، مصر کے ممتاز عالمِ دین ڈاکٹر عباس شومان کا یہ انتباہ آج پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بیدار کن پیغام ہے:

"یہ وقت عقائد اور فقہی اختلافات میں الجھنے کا نہیں، اس لیے کہ دشمنانِ اسلام کسی ایک مسلک یا فرقے کو نشانہ نہیں بنا رہے، بلکہ ان کا ہدف پوری امتِ مسلمہ ہے۔ وہ امت کی جڑیں کاٹنے اور اس کی اجتماعی قوت کو مٹانے کے درپے ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس تلخ حقیقت کو سمجھیں اور اپنی سنگین غلطیوں کی اصلاح کریں۔"

اگرچہ یہ پیغام عالمِ اسلام کے ہر خطے کے مسلمانوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے، لیکن بھارت کے مسلمانوں کو اس کی ضرورت شاید سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس حقیقت کا ادراک کر پائیں گے؟

ایسے حالات میں، جب امت کو اتحاد، بصیرت اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، ہمارے ہاں مختلف مسالک کے بعض علماء اور خطباء اب بھی باہمی مناظروں، الزام تراشیوں اور فرقہ وارانہ کشمکش کو دین کی خدمت اور تبلیغ کا نام دے رہے ہیں۔ نتیجتاً وہ توانائیاں جو اسلام کی تعلیمات کے فروغ، ملت کے تحفظ اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت پر صرف ہونی چاہئیں، باہمی نزاع اور اختلافات کی نذر ہو رہی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر امت کے مشترکہ مسائل، مشترکہ خطرات اور مشترکہ مقاصد کو سامنے رکھیں۔ ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب امت کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب ہم اختلافات کی دیواریں بلند کرنے میں کیوں مصروف تھے؟

شفیق فیضی

09/06/2026

प्रदेश सरकार पर क्यों बढ़के सपा नेता ?

آنکھ والے تیرے یوبن کا تماشہ دیکھیں۔۔۔۔دوسرا مصرع میں بولوں گا تو اچھا نہیں ہوگا ، آپ بول سکتے ہیں۔۔۔
09/06/2026

آنکھ والے تیرے یوبن کا تماشہ دیکھیں۔۔۔۔
دوسرا مصرع میں بولوں گا تو اچھا نہیں ہوگا ، آپ بول سکتے ہیں۔۔۔

مساجد کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے لکھی گئی میری گزشتہ تحریر شائع ہونے کے بعد آج صبح تقریباً نو بجے ممبئی ...
09/06/2026

مساجد کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے لکھی گئی میری گزشتہ تحریر شائع ہونے کے بعد آج صبح تقریباً نو بجے ممبئی سے محترم اسماعیل باٹلی والا صاحب کا فون آیا۔ مصروفیت کے باعث میں اس وقت کال ریسیو نہ کرسکا، تاہم تقریباً دس بج کر بیس منٹ پر میں نے انہیں واپس فون کیا۔ چند منٹ کی اس گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا نکتہ بیان کیا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔

اسماعیل باٹلی والا صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار، بافکر اور متحرک شخصیت ہیں جنہوں نے ملت کے عروج و ارتقاء کے لیے متعدد تحریکیں چلائیں۔ "این آر سی ہمارا حق"، وقف مسودہ تحریک اور اتحاد موومنٹ جیسی سرگرمیاں ان کی ملی خدمات کا روشن باب ہیں، جبکہ آج کل وہ عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے ایک نئی تحریک میں سرگرم عمل ہیں۔

نورانی مسجد کی شہادت پر گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو بظاہر چونکا دینے والا تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ تھی۔ انہوں نے کہا "مسجدیں شہید نہیں کی جا رہیں، ان کا سودا کیا جا رہا ہے۔" یہ الفاظ سن کر میں کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پاسبانی اور قیادت کا دعویٰ کرنے والے ہی دراصل ہمارے آشیانوں پر بجلیاں گرا رہے ہیں۔ میڈیا میں حکومت اور آر ایس ایس کے خلاف پنجہ آزمائی کا تاثر دیا جاتا ہے، لیکن پس پردہ مفادات، مراعات اور اقتدار کی خواہش نے بہت سے افراد کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اصول اور ملی غیرت ثانوی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اندرون خانہ ان کے دلوں میں بھری منافقت کفر کے سائے میں داد عیش دیتی ہے۔ پیسہ اور پاور کی چاہ میں ہماری صف اول کی لیڈرشپ، خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی سبھی نے قشقہ اور جنیو دھارن کر لیا ہے۔

بابری مسجد کے حوالے سے سودا بازی کی باتیں میرے لیے نئی نہیں تھیں۔ ایک عرصے سے میں بھی اس سلسلے میں شواہد تلاش کرتا رہا ہوں۔ یہاں تک کہ ایک سابق رکنِ پارلیمان کی جانب سے بعض اہم معلومات ملنے کی امید بھی پیدا ہوئی، لیکن اچانک رابطہ منقطع ہوگیا اور وہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ یوں ایک ایسا راز، جو شاید بہت سے سوالوں کا جواب بن سکتا تھا، راز ہی رہ گیا۔

باٹلی والا صاحب کا کہنا تھا کہ بابری مسجد دراصل ایک ٹیسٹ کیس تھا، اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق رام مندر کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد ملک بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کے خلاف جو سلسلہ شروع ہوا، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم عمل ہے، اور اس کی سب سے بڑی دلیل ملی قیادت کی خاموشی اور بے عملی ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی انتظامیہ مسجد کو گرانا چاہتی تھی تو مسجد کے ذمہ داران نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے وقف ٹریبونل کا رخ کیوں کیا؟ کیا وقف ٹریبونل انتظامیہ کی ایسی کارروائی پر مؤثر روک لگا سکتا تھا؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر باٹلی والا صاحب کے اس دعوے کو یکسر رد کرنا آسان نہیں رہتا کہ کہیں نہ کہیں معاملات صرف قانونی نہیں بلکہ سودے بازی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

ایک بہت ہی اہم اور حوصلہ بخش نظریہ جس کی میں ہمیشہ وکالت کرتا ہوں "ملک کی عدالتوں سے بابری مسجد، گیان واپی یا بھوج شالہ کمال مولیٰ مسجد جیسے فیصلے اس وقت تک نہیں آسکتے جب تک عدالتوں کے باہر ان فیصلوں کی زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔

بابری مسجد کے بدلے دھنی پور میں زمین دیے جانے کا معاملہ ہو یا بھوج شالہ کمال مولیٰ مسجد کے تنازعے میں متبادل زمین کی بات، یہ تمام واقعات کسی نہ کسی درجے میں اسی حقیقت کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بڑے عدالتی فیصلوں کے پیچھے اکثر ایک سماجی و سیاسی فضا پہلے سے تیار کی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ چند ش*ذ و نادر مثالوں کو چھوڑ دیا جائے تو موجودہ حالات میں ایسے قوانین اور پالیسیوں کے خلاف فیصلہ آنا، جنہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہو، آسان نظر نہیں آتا۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے اگر چوکیدار ہی چور بن جائے تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا ملتِ اسلامیہ ہند اپنے سیاسی اور مذہبی قائدین کی عیش پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی قیمت اپنے مساجد، مدارس اور مزارات کی مسماری کی صورت میں ادا کرتی رہے؟ یا پھر اس صورتحال کا کوئی مثبت، عملی اور دیرپا حل بھی موجود ہے؟

اسماعیل باٹلی والا صاحب کا جواب بڑا واضح ہے۔ وہ کہتے ہیں "ایسے چوکیداروں سے صرف ہوشیار رہنے کی نہیں، انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔" ان کے مطابق ملت کو اب نئی، باصلاحیت، باکردار اور باشعور نوجوان قیادت کی طرف بڑھنا ہوگا۔

میں ان کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میری رائے میں ملک کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں باشعور نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے۔ انہیں تعلیمی، سماجی، سیاسی اور فکری میدانوں میں کردار ادا کرتے ہوئے ملت کو زبوں حالی سے نکالنے کی مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، تنظیم، حکمتِ عملی اور مؤثر نیریٹیو سازی کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

اسی مقصد کے تحت ہماری جانب سے ایک ادنیٰ سی مہم جاری ہے، جس کا محور تعلیم، سیاسی شعور اور نیریٹیو سازی ہے۔ اس مشن میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو ہماری طرف سے ہر ممکن تعاون حاصل ہوگا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر ملک بھر کے باشعور نوجوان اس سمت میں سنجیدگی سے قدم بڑھائیں تو نہ صرف حالات بدل سکتے ہیں بلکہ اسماعیل باٹلی والا صاحب اور ان جیسے مخلص افراد کی صلاحیتوں اور تجربات کو بھی اس اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

شاید یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ملت مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید، خود اعتمادی اور مستقبل کی تعمیر کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

شفیق فیضی


Ismail Batliwala Hasan ZaheerAbdurrahim RahimAbdur Rahman

کل شام سے ہی شدید صدمے کی کیفیت میں ہوں۔ نہ سوشل میڈیا پر کچھ لکھ سکا اور نہ ہی اپنے روزمرہ معمولات پر عمل کر پایا۔ دکان...
08/06/2026

کل شام سے ہی شدید صدمے کی کیفیت میں ہوں۔ نہ سوشل میڈیا پر کچھ لکھ سکا اور نہ ہی اپنے روزمرہ معمولات پر عمل کر پایا۔ دکان پر گیا ضرور، مگر گھبراہٹ اور بے چینی ایسی تھی کہ زیادہ دیر وہاں ٹھہر نہ سکا۔

یہ اداسی اس لیے نہیں کہ کوئی کاروباری نقصان ہوا ہے یا خاندان میں کسی عزیز نے داغِ مفارقت دیا ہے۔ حالانکہ میرے اس صدمے سے کسی کو کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑنا چاہیے۔ ہر انسان کی زندگی رنج و الم کی ایک طویل داستان ہے؛ کوئی اپنے دکھ دنیا کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کوئی خاموشی سے اپنے زخم سینے میں چھپائے رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر کوئی کسی کے زخموں کا مرہم نہیں بنتا، لیکن نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں دل کا بوجھ ہلکا کر لینا چاہیے۔ شاید اس سے اور کچھ نہ ہو، مگر دل کو کچھ تسلی ضرور مل جائے۔

پہلے بھارت میں جب مساجد اور مدارس پر بلڈوزر چلتے تھے تو اس کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا۔ میڈیا ہماری بے بسی کے ساتھ ساتھ ہماری بے غیرتی کا جنازہ بھی عوام کو دکھایا کرتا تھا۔

مگر جے پور کی نورانی مسجد پر ہونے والی بلڈوزر کارروائی میں تو ہمیں اس قابل بھی نہ چھوڑا گیا کہ ہم مسجد کی شہادت کے ساتھ اپنی تباہی کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

مانا کہ ظلم سہنا بہت بری بات ہے، لیکن اب ظلم اتنا برا بھی محسوس نہیں ہوتا جتنا اس کے بارے میں دعوے کیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد شاید آخری وہ مسجد تھی جہاں تک ہماری تھوڑی بہت غیرت زندہ تھی۔ اس کے بعد ہماری غیرت کا جو جنازہ نکلا، وہ تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ہم چار سو سالہ بابری مسجد کو نہ بچا سکے، گیان واپی کے تحفظ کی قانونی جنگ نہ لڑ سکے، متھرا کی شاہی عیدگاہ سے تقریباً منہ موڑ لیا، اور پانچ سو برس پرانی بھوج شالہ کمال مولا مسجد بھی ہم سے چھین لی گئی۔

یہ سب ظلم اور ناانصافیاں اسی آزاد بھارت میں ہوئیں، جہاں ورشپ پلیسز ایکٹ 1991 موجود ہے، جو 15 اگست 1947 کی حیثیت کے مطابق ہر عبادت گاہ کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

افسوس کہ اس کے باوجود ہم اپنی دھروہر، اپنی شناخت اور اپنے وجود کا تحفظ نہ کر سکے۔ پھر جے پور کی چالیس سے پینتالیس سال پرانی نورانی مسجد کو بچا لینا تو گویا آسمان سے تارے توڑ لانے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔

حسرت اور یاس سے بھرے ان چوبیس گھنٹوں میں ہزاروں بار دل میں یہ خیال آیا کہ مساجد اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اس پر کچھ لکھوں، کچھ بولوں۔ مگر پھر یہی سوچ کر خاموش ہو گیا کہ اب تک جو کچھ لکھا اور بولا، وہ بھی کم تو نہیں تھا، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ نہ کوئی آگے آیا، نہ کسی نے سنجیدہ قانونی یا سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔

آج ایک اور تحریر آخر مردہ پڑ چکی ملتِ اسلامیہ ہند میں کون سی نئی روح پھونک دے گی؟ زیادہ سے زیادہ چند لائکس، شیئرز اور فالورز بڑھ جائیں گے، مگر اس سے ہمارے وجود کو درپیش مسائل تو جوں کے توں رہیں گے۔ پھر اس لکھنے اور بولنے کا حاصل کیا؟

پوری رات بے چینی میں گزری۔ شام سے صبح اور صبح سے پھر شام ہو گئی۔ نہ کچھ لکھا اور نہ کچھ بولا۔ ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو ضرور پوسٹ کیا، مگر وہ بھی ادھورا سا محسوس ہوا۔

اب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ چند سطور لکھ رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی کو اس امت پر ترس آ جائے؛ شاید کوئی ہماری بربادیوں کا تماشہ دیکھنے کے بجائے ان تباہ کاریوں سے نکلنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کرے؛ خود کچھ نہ بھی کر سکے تو کم از کم کرنے والوں کا دست و بازو بنے۔

ہمیں اس طوفان سے نجات ملے یا نہ ملے، لیکن کوشش کا دامن تو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شاید اللہ تعالیٰ کو ہم پر رحم آ جائے، اور اقلیت کا رونا رونے والوں کا ضمیر بھی کبھی جاگ اٹھے۔

شفیق فیضی

08/06/2026

PM Modi पर बड़ा हमला | सपा नेता ने लगाये गंभीर आरोप | Kamal khan Siddharthnagar

Kamal Ahmad Khan Mata Prasad Pandey Samajwadi Party

Address

Itwa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shafique Faizi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shafique Faizi:

Share