Shafique Faizi

Shafique Faizi For Political views and analysis and support value bassed politics please like our page and share it

یہ وہ علماء کرام ہیں جن کے نام کے آگے اور پیچھے مذہبی جلسوں کے اشتہارات میں القابات کے لیے الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ مائک...
12/08/2026

یہ وہ علماء کرام ہیں جن کے نام کے آگے اور پیچھے مذہبی جلسوں کے اشتہارات میں القابات کے لیے الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ مائک پر ان کی گھن گرج ایسی کہ بجلیاں بھی شرمندہ ہو جائیں، اور نعروں کی گونج میں استقامت و کرامت کی ایسی طویل روداد کہ جس کے سامنے انسائیکلوپیڈیا بھی تنگ پڑ جائے۔

آج جب انہیں ملتِ اسلامیہ ہند کے درد کی دوا سوجھی تو ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ کے مصداق مسلمانوں کے مبینہ قاتلوں میں مسیحائی تلاش کرنے پہنچ گئے۔ مختار انصاری کی تباہی سے عتیق احمد کی خانماں بربادی تک، مظفر نگر کی لہولہان گلیوں سے اخلاق کی لنچنگ تک، مسلمانوں کے بے وقعتی سے اعظم خان کے سیاسی خاتمے تک، وہ کون سا زخم ہے جس کے لیے ملائم پریوار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا؟

ملت کے یہ بہی خواہ آج اکھلیش یادو سے ہمارے دکھوں پر مرہم رکھنے کی بھیک مانگنے پہنچے ہیں، جنہیں ہمارے نام سے بھی نفرت ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو انہوں نے ’’اقلیتی یونیورسٹی‘‘ کہا، PDA کے ’’پچھڑا، دلت، الپ سنکھیک‘‘ فارمولے سے مسلمانوں کو باہر نکال پھینکا اور ہمارے ان ہر فن مولا علماء کرام کو خبر تک نہیں ہوئی۔ وعدہ کیا تھا کہ 2012 میں حکومت بنی تو 18 فیصد ریزرویشن دیں گے۔ ریزرویشن تو نہیں دیا، لیکن مظفر نگر میں ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام ضرور ہو گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ’’مومن ایک ہی سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘، لیکن یہ کون سے علماء کرام اور مسلمان ہیں جو بار بار ’’آ بیل، مجھے مار‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں؟

ایک آخری بات۔ یہی علماء کہتے ہیں کہ اسلام کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے، اور ماشاء اللہ یہ حضرات اسلامیات میں مہارتِ تامہ بھی رکھتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ صاحبانِ علم و فن آخر کس مسئلے کا حل کفر کی تاریکیوں میں تلاش کر رہے ہیں؟

معاف کیجیے، اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے، مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں۔ لیکن پریشانی یہ ہے کہ یہ حضرات کس اسلام کو فالو کرتے ہیں جس میں انہیں اپنے ملی مسائل کا حل نہیں ملا اور جس کے چلتے انہیں کفر کے خوگر لوگوں کی آغوش میں پناہ لینی پڑ رہی ہے؟

ان تمام افراد کے نام، عہدے اور متعلقہ خانقاہوں کے نام کے بارے میں مجھے اشتباہ ہے، اس لیے اس ’’انقلابی تبدیلی مشن‘‘ میں کون کون شامل ہے، ان کے ناموں سے پردہ اٹھانے کی ذمہ داری میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

ایک خلش اور ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش یہی ہاتھ کسی اپنے کے ساتھ ملاتے، بالواسطہ انہی قاتلوں سے سمجھوتہ کرتے لیکن اپنی قیادت اور اپنی سیاست کے توسط، کم سے کم یہ پیغام تو جاتا کہ مومن ایک ہی سوراخ سے دوبار سہی لیکن بار بار نہیں ڈسا جاتا۔

ایک ایسے عالمِ دین کی فاتحہ میں، جن کی زندگی میں اختلاف کی کوئی بڑی لکیر دکھائی نہیں دیتی، اچانک اتنی پولیس کیوں؟ آخر مو...
12/08/2026

ایک ایسے عالمِ دین کی فاتحہ میں، جن کی زندگی میں اختلاف کی کوئی بڑی لکیر دکھائی نہیں دیتی، اچانک اتنی پولیس کیوں؟ آخر مولانا سید احمد انجم عثمانی کے انتقال کے بعد ایسا کیا بدل گیا کہ ان کی دعائیہ تقریب بھی حساس بنا دی گئی؟ سوال صرف ایک خانقاہ یا ایک تقریب کا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں اپنی نسلوں کی تباہی کا ورثہ کیوں بنا رہے ہیں؟

خانقاہ عثمانیہ یارعلویہ کی سالانہ تقریبِ فاتحہ خوانی میں کل شرکت کرنے کا موقع ملا۔ چونکہ مولانا محمد سید احمد انجم عثمانی علیہ الرحمہ میرے واحد ایسے استاد ہیں، جن کی رحلت پر میری آنکھوں نے بے ساختہ آنسو بہائے۔ عام طور پر میں کسی بھی مذہبی جلسے میں شرکت نہیں کرتا، کیونکہ وہاں کے شور و ہنگامے اور بے مقصد گفتگو سے بیزاری سی محسوس ہوتی ہے، لیکن گزشتہ دو برسوں سے شہزادہ حضرت مولانا سید احمد انجم عثمانی، جناب اشرف الجیلانی عرف انجم بھیا کی مہربانیوں سے یہ سب برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

خانقاہ کے اردگرد پولیس عملے کی تعیناتی اور ان کی غیر معمولی کثرت نے مجھے بڑی حیرت میں ڈال دیا۔ مولانا انجم رحمہ اللہ کی زندگی میں بھی میں بگولہوا قاضی گیا، لیکن ایسے کسی اختلاف کا سامنا نہیں ہوا۔ ہاں، معراج ربانی کو مولانا انجم علیہ الرحمہ سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ضرور سنا تھا، لیکن مجموعی طور پر پورا گاؤں حضرت سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔ خلافِ معمول پولیس کی کثرت نے مجھے سوال کرنے پر مجبور کر دیا۔

پولیس ٹیم سے میں نے ان کی کثرت کے بارے میں سوال کیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ایک عالمِ دین، جن کی زندگی میں ان سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں تھا، لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی دعائیہ تقریب کو انتہائی حساس بنا دیا گیا۔ اختلاف بری بات نہیں، لیکن اختلاف جب ملی انتشار میں تبدیل ہو جائے تو پوری کمیونٹی کی تباہی کی شروعات ہو جاتی ہے۔

ملک کے حالات اور مستقبل کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے ملتِ اسلامیہ ہند کو مختلف اجسام کے باوجود ایک جان ہونے کی ضرورت ہے، لیکن ہم اپنی ناعاقبت اندیشی کے باعث مزید اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ مولانا سید احمد انجم پوری زندگی کسی اختلاف کا سبب نہیں بنے، تو انتقال کے بعد ایسا کب، کیسے اور کیوں ہوا؟ میں اس کے اسباب و علل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن اتنا ضرور کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر اختلافات نظریاتی ہیں تو انہیں ملی انتشار میں تبدیل نہ کریں، اور اگر ان اختلافات کی بنیاد ذاتی ہے تو خدا کے لیے اپنی انانیت کو لات ماریں۔ وقت اور حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے باہمی انتشار کو ختم کیا جائے۔

اس اختلاف سے کسی کو کوئی فائدہ ہو یا کسی کا کوئی نقصان، لیکن ملتِ اسلامیہ ہند کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان روزافزوں بڑھ رہا ہے، اور یہی اختلاف ہماری نسلوں میں منتقل ہو کر ان کی اجتماعی بربادی کا سبب بنے گا۔ ملت مزید بربادیوں کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہے۔ اس لیے مجھ ناچیز کی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان اختلافات کو قبل از وقت ختم کر لیا جائے۔

پروگرام اور اس کے معیار پر گفتگو کرنا ضروری نہیں، لیکن ایک بات جو میں گزشتہ کئی برسوں سے نوٹس کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ سجادہ نشین خانقاہ عثمانیہ یارعلویہ، جناب اشرف الجیلانی عرف شمیم انجم، میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے، لیکن ان کی خدمات محدود دائرے تک سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ ان کی توانائی وہاں صرف ہو رہی ہے جہاں سے واہ واہی تو حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن ایسے مستقل اور مثبت نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی جو ملتِ اسلامیہ ہند کو لاحق خطرات سے بچانے میں معاون ثابت ہوں۔

صاحبِ سجادہ کی نگاہ ملت کو لاحق خطرات سے کیسے اوجھل ہے، یہ میرے لیے تعجب خیز ہے۔ تقریباً دس برس پہلے انہوں نے ایک پہل میرے توسط سے شروع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ مہم سردمہری کا شکار ہو گئی۔ اس کے وجوہات بھی میرے سامنے نہیں آ سکے۔ اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ان کی نگاہ صرف روایتی کاموں تک محدود ہے، یہ بات انہیں زیب نہیں دیتی۔

سال میں ایک بار ہی سہی، لیکن جب صاحبِ سجادہ سے ملتا ہوں تو دل میں ایک حسرت ضرور پیدا ہوتی ہے کہ کاش ان جیسے صاحبِ حیثیت لوگوں کو ملت کی بے حسی اور اس کے وجود کو لاحق خطرات کا احساس ہو جائے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں دولت، شہرت اور نام و نمود کی کوئی ضرورت نہیں، پھر بھی دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ اگر ایسے افراد ملت کی تعمیر میں دلچسپی لیں تو نہ صرف ملتِ اسلامیہ ہند کی عظمتِ رفتہ کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے، بلکہ ان کی اپنی شہرت اور مقبولیت میں بھی چار چاند لگ سکتے ہیں۔

میں بالواسطہ یہ پیغام اہلِ بگولہوا قاضی اور صاحبِ سجادہ تک نہیں بھیج سکتا، لیکن پھر بھی میری خواہش ہے کہ یہ پیغام ان تک پہنچے۔ امید ہے کہ احباب یہ پیغام ان تک پہنچائیں گے اور میری جانب سے کی جانے والی اتمامِ حجت کو پورا کرنے میں اپنے حصے کا فریضہ ضرور ادا کریں گے۔

شفیق فیضی

🤔

آگ میں لپٹی ہوئی اے آئی سے بنی خانۂ کعبہ کی وائرل ویڈیو آپ نے بھی دیکھی ہوگی۔ اس حوالے سے متعدد افراد نے فون کرکے شکوہ ...
11/08/2026

آگ میں لپٹی ہوئی اے آئی سے بنی خانۂ کعبہ کی وائرل ویڈیو آپ نے بھی دیکھی ہوگی۔ اس حوالے سے متعدد افراد نے فون کرکے شکوہ کیا کہ میں نے ابھی تک اس پر کچھ کیوں نہیں لکھا۔

دراصل یہ شکایت نہیں، ان کی محبت اور ملی ہمدردی ہے، ایک ایسا جذبہ ہے جو کچھ کر گزرنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے، لیکن اسے راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ لوگ ان روح تڑپا دینے والے واقعات سے نجات چاہتے ہیں، مگر انہیں کوئی واضح لائحۂ عمل، اجتماعی منصوبہ بندی یا ایسا مؤثر پلیٹ فارم نظر نہیں آتا جہاں وہ اپنی بے چینی کو عملی جدوجہد میں تبدیل کر سکیں۔ چنانچہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہم جیسے لوگوں سے کچھ ناراضگی، گلہ اور شکوہ کر لیتے ہیں۔

ان کا جذبہ اپنی جگہ بالکل قابلِ فہم ہے۔ خانۂ کعبہ مسلمانوں کے عقیدت کا مرکز ہے، اس لیے اس نوعیت کی توہین آمیز یا اشتعال انگیز ویڈیو پر ملت کا بے چین ہونا فطری ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے:

ہماری ناراضگی کا حاصل کیا ہوگا؟

کیا آج تک ہم بھارت میں اسلام مخالف کسی منظم مہم کو روکنے میں کامیاب ہوئے؟ کیا ہم ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مؤثر قانونی، سیاسی اور ابلاغی جدوجہد کھڑی کر سکے؟ اگر ہم اپنے ہی ملک میں اپنے مذہبی تشخص، جان و مال اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر ادارہ جاتی قوت پیدا نہیں کر سکے تو پھر صرف ایک وائرل ویڈیو پر چند گھنٹوں یا چند دنوں کی شدید ناراضگی ہمارے لیے کیا تبدیل کرے گی؟

یہ سوال بھی اہم ہے کہ خانۂ کعبہ کے تقدس کی پامالی پر اتنی بے چینی کیوں؟ جب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے، ہمارے اپنے ملک میں مسلمانوں کو بے قصور ماردیا جاتا ہے تب یہ ہماری غیرت کہاں مرجاتی ہے؟

کیا خانۂ کعبہ کا تقدس ایک مسلمان کی جان، عزت اور حرمت سے زیادہ قیمتی ہے؟

ہرگز نہیں۔

اگر ہم ناموسِ رسالت کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہمیں خانۂ کعبہ کی بے حرمتی پر آنسو بہانے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے؟ اگر ناموسِ رسالت پر ہونے والی گستاخیاں ہمیں اس قدر بے چین نہیں کرتیں تو خانۂ کعبہ کے تقدس کی پامالی پر اتنا چراغ پا ہونے کا جواز کیا ہے؟

اگر ہم سیکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں مسلمانوں کے ناحق قتل پر آواز بلند نہیں کرتے، ان کے خون پر ہمارے ضمیر نہیں جاگتے، تو پھر خانۂ کعبہ کے لیے یہ شور، یہ احتجاج اور یہ آواز کیوں؟ کیا اللہ کے گھر کا تقدس اہم ہے، مگر اللہ کے بندوں کا خون نہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ایمان مردہ، ہماری غیرت گروی رکھ دی گئی ہے، ہم ضمیر فروش اور ہماری بے حسی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ایسے واقعات پر ہمارا یہ روایتی ردِعمل بھی دراصل ایک منافقانہ عمل کے سوا کچھ نہیں۔ ہم اپنے اسی طرزِ عمل کے ذریعے خود کو مظلوم ثابت کرکے دنیا کی ہمدردیاں، مراعات اور مفادات سمیٹنا چاہتے ہیں۔

ہمیں اسلام، مسلمان اور اس کے اصولوں سے زیادہ اس فانی زندگی کی چند سانسیں عزیز ہیں، حالانکہ یہ چند سانسیں آج نہیں تو کل ہمارا ساتھ چھوڑ ہی دیں گی۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسی عارضی زندگی کے سامنے اپنے ایمان، غیرت، ضمیر اور اصول سب کچھ گروی رکھ چکے ہیں۔

اسلام مقامات مقدسہ کے احترام کے ساتھ انسان کی جان، عزت، انصاف اور حقوق کی حفاظت کا بھی درس دیتا ہے۔ اس لیے کسی ایک مقدس مقام کے بارے میں جذباتی ردعمل کو ان تمام اجتماعی ذمہ داریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو ایک مسلمان معاشرے پر عائد ہوتی ہیں۔

اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہمارا ردعمل اکثر واقعے کے بعد شروع ہوتا ہے، جبکہ ہمیں اپنی قوت واقعے سے پہلے تیار کرنی چاہیے۔

ایک ویڈیو وائرل ہوئی، ہم غصے میں آگئے۔ کسی نے گستاخی کی، ہم احتجاج کرنے لگے۔ کسی نے مسلمانوں کے خلاف بیان دیا، ہم مذمتی بیان جاری کرنے لگے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسا مستقل نظام موجود ہے جو ان واقعات کی نگرانی کرے، فوری طور پر حقائق کی جانچ کرے، قانونی کارروائی کے راستے تلاش کرے، میڈیا میں اپنا مؤقف پیش کرے اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی سطح تک اپنا موقف پہنچائے؟

اگر ایسا نظام موجود نہیں تو پھر ہمیں صرف غصہ کرنے کے بجائے نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

میرے عزیزو! میرے دوستو!

اس دلخراش موضوع پر فوراً نہ لکھنے کی پہلی وجہ یہی تھی کہ میں محض جذباتی ردعمل دینا نہیں چاہتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تحریر کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر کچھ عملی مصروفیات بھی جاری ہیں۔ ان کے لیے پیشگی تیاری، ممکنہ سوالات کا جائزہ، ان کے جوابات کی تیاری اور عملی منصوبہ بندی بھی درکار ہوتی ہے۔

موضوعات کی کثرت، محدود وسائل اور افرادی قلت بھی یہ اجازت نہیں دیتی کہ ہر واقعے پر فوراً خامہ فرسائی شروع کر دی جائے۔ تاہم اس کا مطلب خاموشی یا بے حسی ہرگز نہیں ہے۔

کوشش یہ ہے کہ صرف واقعات پر ردعمل دینے کے بجائے ایسے افراد، ادارے اور پلیٹ فارم تیار کیے جائیں جو مستقبل میں ان واقعات کا مؤثر جواب دے سکیں۔

ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا کہ خانۂ کعبہ کی ایک جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پر کیا لکھا جائے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ آئندہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو ہمارے پاس کیا نظام ہوگا؟

کیا ہمارے پاس فوری ردعمل دینے والا میڈیا ہاؤس ہوگا؟
کیا ہمارے پاس قانونی ماہرین کی ٹیم ہوگی؟
کیا ہمارے پاس تحقیق اور فیکٹ چیکنگ کا نظام ہوگا؟
کیا ہمارے پاس ایسا ابلاغی نیٹ ورک ہوگا جو دنیا کے سامنے چند گھنٹوں میں ہمارا مؤقف پہنچا سکے؟

اگر ان سوالوں کا جواب "نہیں" ہے تو پھر آج کا غصہ کل کی بے بسی میں تبدیل ہونے سے پہلے ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔

مقدسات کی حفاظت صرف جذبات سے نہیں ہوتی، اس کے لیے شعور، علم، قانون، میڈیا، تنظیم اور مسلسل عملی جدوجہد بھی ضروری ہے۔

اسی لیے میری ترجیح محض یہ نہیں کہ اس وائرل ویڈیو پر چند سخت جملے لکھ دوں۔ میری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایسے حالات دوبارہ پیدا ہونے پر ہم صرف تماشائی، شکوہ کرنے والے یا مذمت کرنے والے نہ رہیں، بلکہ ہمارے پاس جواب دینے کی صلاحیت، وسائل اور ادارہ جاتی قوت موجود ہو۔

شاید یہی اس وائرل ویڈیو کا سب سے بڑا سبق بھی ہے:

غصہ ضرور کیجیے، مگر غصے کو قوت میں تبدیل کیجیے۔
غم ضرور کیجیے، مگر غم کو منصوبہ بنائیے۔
احتجاج ضرور کیجیے، مگر احتجاج کے بعد ایک ادارہ ضرور بنائیے۔

شفیق فیضی

نشہ خوری: ہمارے گھروں کی دہلیز تک پہنچتا ہوا طوفانایک زمانہ تھا جب ہمارا معاشرہ آج کی طرح پڑھا لکھا، ترقی یافتہ اور وسائ...
11/08/2026

نشہ خوری: ہمارے گھروں کی دہلیز تک پہنچتا ہوا طوفان

ایک زمانہ تھا جب ہمارا معاشرہ آج کی طرح پڑھا لکھا، ترقی یافتہ اور وسائل سے مالا مال نہیں تھا۔ لوگ سادہ تھے، مگر اصولوں کے پکے تھے۔ دین کے بارے میں شاید زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے، لیکن مسجد کے امام کی بات کو بڑی حد تک حجت سمجھتے تھے۔ بے جا دکھاوے سے دور رہتے، اپنے رویوں سے معاشرے کے لیے مسئلہ بننے سے گریز کرتے اور سماجی حدود کا خیال رکھتے تھے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو وہ شاید اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھے، لیکن جہالت کے اس درجے میں بھی مبتلا نہیں تھے جس کا مظاہرہ آج ہمارے بعض تعلیم یافتہ طبقات کر رہے ہیں۔

پھر حالات نے کروٹ لی۔ غربت نے کسی حد تک خوش حالی کا لباس پہنا، وسائل بڑھے، دنیا بدل گئی اور ہمارے طرزِ زندگی نے بھی رخ بدل لیا۔ لیکن اس تبدیلی کے ساتھ ہمارے اصول، ضابطے اور مذہبی حدود بھی کمزور ہوتے گئے۔ ذہنی تعیش پسندی نے ہمیں بہت سی اخلاقی پابندیوں سے بے نیاز کر دیا۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے بعض حصے ایسی بے حسی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں نوجوان لڑکوں میں شرم و حیا کم ہوتی جا رہی ہے، لڑکیوں کے لیے بھی معاشرتی حدود پہلے جیسی اہم نہیں رہیں اور خاندان کی نگرانی کا نظام کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

والدین کا اولاد پر کنٹرول کم ہوا، اولاد زیادہ خودمختار ہوئی، لیکن اس خودمختاری کے ساتھ ذمہ داری کا شعور اسی تناسب سے پیدا نہیں ہو سکا۔ رشتوں کا تقدس، خاندان کی حرمت اور دینی حدود بہت سے گھروں میں کمزور پڑ رہی ہیں۔

سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مسلم محلے بعض جگہوں پر آوارگی اور نشہ خوری کے مراکز میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض مساجد کے ائمہ نشے کے عادی افراد کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود معاشرہ اس مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک نہیں کر پا رہا۔

یہاں مسئلہ صرف شراب نوشی کا نہیں ہے۔

آج نوجوانوں میں اسمیک/ہیروئن، میڈیکل اوپیئڈز، گانجا/چرس، MDMA، نشہ آور گولیاں، سیرپ اور بعض کف میڈیسنز کا غلط استعمال، اور inhalants جیسے مختلف substances کے استعمال کا مسئلہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ بعض افراد ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ نشہ آور اشیا استعمال کرتے ہیں، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

مثلاً کشمیر میں ہونے والے ایک مطالعے میں نشے کے علاج کے لیے آنے والے افراد میں متعدد substances کے بیک وقت استعمال کی شرح قابلِ توجہ پائی گئی تھی۔ یہ پورے مسلم معاشرے کی نمائندگی کرنے والا سروے نہیں، لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ نشے کا مسئلہ صرف ایک substance یا ایک مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہا۔

ہمیں اپنے روزمرہ ماحول کو بھی دیکھنا ہوگا۔

دیہی علاقوں میں رات تقریباً نو بجے اور شہروں میں گیارہ یا بارہ بجے کے بعد عام زندگی سست پڑنے لگتی ہے، لیکن بعض مسلم محلوں میں نوجوانوں کی محفلیں اسی وقت شروع ہوتی ہیں۔ رات گئے تک چوک چوراہوں پر بیٹھنا، بے مقصد گپ شپ، آوارہ گردی اور معاشرتی حدود کو پامال کرنے والی سرگرمیاں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں ایک واقعہ میرے علم میں آیا جس کی میں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، اس لیے اسے حتمی واقعے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ بتایا گیا کہ پڑوسی ملک نیپال کے دیہی علاقے میں شراب کے عادی ایک مسلم نوجوان نشے کی حالت میں اپنی بیوی اور بہن کے درمیان تمیز بھول گیا۔ وقت رہتے اس کی بہن نے خود کو محفوظ کر لیا، ورنہ ایک ناقابلِ تصور سانحہ پیش آ سکتا تھا۔

چاہے یہ واقعہ درست ہو یا نہ ہو، اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے: اگر نشہ انسان کی عقل، شعور اور رشتوں کی پہچان تک چھین لے تو ہمارا معاشرہ اس خطرے کو معمولی کیسے سمجھ سکتا ہے؟

اس سے پہلے کہ نشہ خوری کی یہی کہانی ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی کہانی بن جائے، ہمیں سنجیدگی سے جاگنا ہوگا۔

اس مسئلے سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف ائمہ اور علماء پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اہلِ ثروت، سرمایہ دار، سیاسی رہنما، سماجی کارکن، تعلیمی ادارے اور والدین سب کو علماء اور ائمہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

صرف جمعہ کے خطبے میں نشے کی مذمت کافی نہیں۔ ہمیں نوجوانوں کے لیے رہنمائی، مشاورت، کھیل، تعلیم، ہنر، مثبت سرگرمیوں اور ضرورت پڑنے پر علاج و بحالی کے راستے بھی پیدا کرنا ہوں گے۔ والدین کو اپنی اولاد کے دوستوں، معمولات، رات کی سرگرمیوں اور بدلتے ہوئے رویوں سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔

یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نشہ صرف ایک فرد کو تباہ نہیں کرتا۔ یہ خاندان کو متاثر کرتا ہے، رشتوں کو کمزور کرتا ہے، تعلیم اور روزگار کو برباد کرتا ہے، جرائم کا خطرہ بڑھاتا ہے اور بالآخر پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کر سکتا ہے۔

انسانی زندگی میں دین اور دینی اصولوں کی اہمیت کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نشے کے جسمانی، ذہنی، معاشرتی اور معاشی نقصانات کے بارے میں بھی نوجوانوں کو جدید اور سائنسی انداز میں آگاہ کرنا ہوگا۔

ہمیں یہ سوال ابھی پوچھنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں یا محفوظ بھی؟

اگر آج ہم نے اس مسئلے کو محض چند نوجوانوں کی "خراب عادت" سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو کل یہ ایک پورے معاشرے کا بحران بن سکتا ہے۔

اس لیے اب وقت صرف مذمت کا نہیں، نگرانی، تربیت، تعلیم، علاج، بحالی اور اجتماعی اقدام کا ہے۔

نشہ خوری کا طوفان ہماری دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ ہم دروازہ بند کرنے کے لیے کب جاگیں گے؟

شفیق فیضی

تین ماہ میں 25 مسلمان ہلاک: ہم کب جاگیں گے۔۔۔؟صرف تین ماہ میں 25 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ India Persecution...
11/08/2026

تین ماہ میں 25 مسلمان ہلاک: ہم کب جاگیں گے۔۔۔؟

صرف تین ماہ میں 25 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ India Persecution Tracker کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں مسلمانوں کی 44 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں 19 ہلاکتوں میں ریاستی اہلکار مبینہ طور پر ملوث یا متعلق تھے، جبکہ 25 اموات ہندو انتہا پسندوں کے حملوں سے منسوب کی گئی ہیں۔

بعد کے تین ماہ کے دوران ہونے والی 25 اموات میں سے 15 معاملات میں ریاستی اہلکار مبینہ طور پر ملوث یا متعلق تھے، جبکہ مزید 10 ہلاکتیں مذہبی نوعیت کے حملوں میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہوئیں۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جس نسلی صفایا کے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے تناظر میں یہ اعداد و شمار ایک سنگین صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کا دائرہ وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عام مسلمان اپنے اردگرد تنگ ہوتا گھیرا محسوس کرنے لگا ہے، لیکن صفِ اول میں بیٹھی ہماری سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت کا ایک بڑا طبقہ اب بھی اپنی دولت، شہرت اور نام نہاد سیکولر سیاسی تحفظ کو اپنی ڈھال سمجھتا دکھائی دیتا ہے۔

لیکن ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے: دولت ہمیشہ ڈھال نہیں بنتی۔ سیاسی تعلقات ہمیشہ تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ اثر و رسوخ ہمیشہ کام نہیں آتا۔

اگر دولت واقعی تحفظ کی ضمانت ہوتی تو مختار انصاری کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کبھی نہ ہوتا۔ اگر نام نہاد سیکولر سیاسی تعلقات مستقل تحفظ فراہم کرتے تو اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو جیل کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اگر سیاسی اثر و رسوخ اور ماضی کی طاقت کسی شخص کے وجود کو محفوظ رکھ سکتی تو عتیق احمد اور ان کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کبھی رونما نہ ہوتے۔ اور اگر سماجی دبدبہ ہر خطرے سے بچا سکتا تو بہار کے سیوان میں محمد شہاب الدین کے ساتھ پیش آنے والی صورتِ حال ہمارے سامنے نہ آتی۔

اس لیے جھوٹے بھرم سے باہر نکلنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ شخصی تعلقات، دولت، شہرت اور سیاسی قربت کسی قوم کے مستقبل کی ضمانت نہیں۔ اگر واقعی اپنی نسلوں کا تحفظ مطلوب ہے تو ان کاموں کی طرف توجہ دینا ہوگی جو اجتماعی قوت پیدا کرتے ہیں۔

مزارات کے تقدس کا تحفظ کیجیے، لیکن وہاں کے ڈبوں کی لوٹ سے خود کو بچائیں۔ بزرگوں اور پیرانِ کرام کی قدر کیجیے، لیکن ملی مسائل کے حوالے سے ان کی خاموشی اور سرد مہری پر سوال بھی کیجیے۔

مساجد کو صرف سجدہ گاہ تک محدود نہ رکھیے۔ انہیں تعلیم، تربیت، سماجی خدمت، مشاورت اور اجتماعی بیداری کے مراکز میں تبدیل کیجئے، کیونکہ اسلام میں مساجد کی حیثیت صرف عبادت گاہ کی نہیں، بلکہ ایک پارلیمنٹری سسٹم ہے، جہاں سے نظام عالم کیسے چلانا ہے اس کے اصول طے ہوتے ہیں۔

ہر گلی اور محلے میں نیا مدرسہ قائم کرنے کے بجائے پہلے سے موجود مدارس کے تحفظ، معیارِ تعلیم، انتظامی شفافیت اور آسان رسائی پر توجہ دیجیے۔ نئی عمارتیں بنانے سے زیادہ ضروری ہے کہ موجودہ اداروں کو مضبوط، معیاری اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

ملتِ اسلامیہ ہند میں موجود ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری اجتماعی ترقی اور عظمتِ رفتہ کی بحالی میں معاون ہو سکتی ہیں۔ ہر محلے میں ایسے افراد تیار کیے جائیں جو معیاری تعلیم، سیاسی بیداری اور بیانیہ سازی جیسے بنیادی مسائل پر مسلسل کام کریں۔

مدارس کی تعلیم کو صرف زکوٰۃ کے وسائل پر منحصر رکھنے کے بجائے مستقل اور پائیدار مالی نظام قائم کیجیے۔ اپنی محنت کی کمائی کو بے مقصد جلسے جلوس، نام و نمود، چادر پوشی اور شادی بیاہ کی غیر ضروری فضول خرچیوں میں خرچ کرنے کے بجائے تعلیمی، سماجی، سیاسی، قانونی اور ابلاغی ادارہ سازی پر صرف کیجیے۔

اپنی انا کو ایک طرف رکھیے اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دیجیے۔ اپنی تمام تر توجہ اعلاء کلمۃ الحق، عدل، امن، تعلیم، کردار سازی اور اجتماعی تعمیر پر مرکوز کیجیے۔

دشمن کی طاقت سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کی قوت، حکمتِ عملی اور طریقۂ کار کو سمجھ کر اپنی تدبیر کیجیے۔ عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسلام کا غلبہ تعداد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اصول، کردار، علم، نظم اور مسلسل جدوجہد پر مبنی ہے۔

خدا کے لیے بدلتے منظرنامے سے چشم پوشی نہ کریں، عصری تقاضوں اور ابلاغ و ترسیل کے اصولوں کو سمجھیں، ان پر عمل کرنے کریں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد تعداد کے بل پر غلبہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ امن، انصاف، اخلاق اور اصولوں کی بالادستی قائم کرنا ہونا چاہئے، کیونکہ یہی ہمارے دین کا اصول ہے۔

آج ضرورت کسی معجزے کے انتظار کی نہیں، بلکہ تعلیم، تنظیم، سیاسی شعور، ادارہ سازی، میڈیا اور مسلسل عملی جدوجہد کی ہے۔

یہ وقت جذبات میں بہنے کا نہیں، جاگنے کا ہے۔
یہ وقت شکایت کا نہیں، تیاری کا ہے۔
اور یہ وقت صرف اپنے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔

شفیق فیضی

11/08/2026

اگر ایک شخص چار سال کے قریب جیل میں رہنے کے بعد بھی ضمانت کے قابل نہیں سمجھا جاتا، تو پھر ضمانت کے لیے عملی طور پر کون س...
10/08/2026

اگر ایک شخص چار سال کے قریب جیل میں رہنے کے بعد بھی ضمانت کے قابل نہیں سمجھا جاتا، تو پھر ضمانت کے لیے عملی طور پر کون سا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے؟

ریاستی سلامتی اور فرد کی آزادی کے درمیان توازن کہاں قائم ہوگا؟۔۔۔۔۔۔۔

مولانا قمر غنی عثمانی کی ضمانت پر ہورہی تاخیر پر ایک تحقیقی آرٹیکل پورا پڑھنے کے لئے کمنٹ میں پن لنک پر کلک کریں

شوکت علی: سیاست دان کم، تاجر زیادہ؟مجلس اتحادالمسلمین کے اتر پردیش کے ریاستی صدر شوکت علی سیاست دان کم ایک تاجر مزاج شخص...
10/08/2026

شوکت علی: سیاست دان کم، تاجر زیادہ؟

مجلس اتحادالمسلمین کے اتر پردیش کے ریاستی صدر شوکت علی سیاست دان کم ایک تاجر مزاج شخص زیادہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے ملت کا کوئی سودا کر رکھا ہے، بلکہ میرے ذاتی تجربے میں ان کا سیاسی انداز اجتماعی قوت، باصلاحیت افراد اور مضبوط تنظیم سازی کے بجائے ایک محدود اور مرکزی طرزِ قیادت کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جذبات اور وقتی سیاسی اشتعال ان کی سیاست میں زیادہ نمایاں ہیں، جبکہ مستقل کیڈر سازی اور اجتماعی سیاسی قوت کی تعمیر پر وہ توجہ نظر نہیں آتی جس کی ایک سیاسی جماعت کو ضرورت ہوتی ہے۔

اگر مجھے صحیح طور پر یاد ہے تو 2016 میں لکھنؤ کے پارٹی دفتر میں شوکت علی صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ میرے ساتھ ایک برہمن سیاسی رہنما بھی تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں مجھے یہ احساس ہوا کہ شوکت صاحب کی ترجیح ٹیم بنانے سے زیادہ موجودہ ٹیم کو اپنے انداز میں چلانا ہے۔ اس زمانے میں پارٹی کارکنوں کو نکالے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید اور ٹرولنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے باوجود 2017 میں اویسی صاحب کے خلیل آباد دورے کے موقع پر سونی ہوٹل میں ایک بار پھر شوکت علی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوری کوشش کی کہ میری ملاقات اسد الدین اویسی صاحب سے ہو جائے، لیکن شوکت صاحب اور ان کی ٹیم کا اصرار تھا کہ جو بات کہنا ہے، ہم سے کہیں، ہم خود اویسی صاحب تک پہنچا دیں گے۔

ہوٹل کے منیجر میرے شناسا تھے۔ انہوں نے بھی اپنی طرف سے سفارش کی، لیکن ملاقات نہیں ہو سکی۔ بالآخر میں نے اویسی صاحب کو ٹیکسٹ میسج کرکے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ممکن ہے مصروفیت کے باعث وہ میرا پیغام نہ دیکھ سکے ہوں۔ اسی روز اویسی صاحب بلرامپور کے ایک پروگرام کے لیے تقریباً بارہ بجے خلیل آباد سے روانہ ہو گئے۔

جب ہمیں محسوس ہوا کہ وہاں مزید رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تو ہم بھی واپس روانہ ہوگئے۔ تقریباً بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شوکت علی صاحب کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ آپ کہاں ہیں؟ میں نے بتایا کہ ہم کافی آگے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلرامپور، گیسڑی آ جائیے، اویسی صاحب سے ملاقات ہو جائے گی۔ مجھے اس وقت یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ رابطہ اویسی صاحب کی اطلاع یا ہدایت کے بعد ہوا ہو، لیکن اس بارے میں میں کوئی قطعی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ بہرحال، میں نے انہیں بتا دیا کہ اب بلرامپور، گیسڑی آنا ممکن نہیں ہے۔

اس کے بعد 2022 میں ایک بار پھر میں نے اٹوا اسمبلی حلقے سے موجوہ اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے کے مقابلے میں امیدوار کھڑا کرنے کی بات کی۔ شوکت صاحب نے کہا کہ فارم اپلائی کروا دیں، ٹکٹ مل جائے گا۔ لیکن جب میں نے پارٹی کے کیڈر اور تنظیمی تیاری کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کوئی جواب دیے بغیر فون کاٹ دیا۔

میری معلومات اور مشاہدے کے مطابق مجلس 2012 سے اتر پردیش میں سرگرم ہے، لیکن ابھی تک ریاست میں وہ سیاسی کامیابی حاصل نہیں کر سکی جس کی اس سے توقع کی جا سکتی تھی۔ اس دوران پارٹی کے طریقۂ کار اور تنظیمی حکمتِ عملی پر متعدد سوالات بھی اٹھتے رہے۔ میرے نزدیک ان سوالات کا سنجیدہ تنظیمی جائزہ لینے کے بجائے شوکت علی صاحب کی توجہ اپنی انتخابی سیاست پر زیادہ رہی ہے۔ پہلے کانپور کے سیسہ مئو سے اور اب بہرائچ کے مٹیرا سے ان کے انتخاب لڑنے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی محسوس ہوتی ہیں۔ تاہم ان کوششوں کے نتائج پر ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت اس کے کارکن، تنظیم اور کیڈر ہوتے ہیں۔ میری نظر میں گزشتہ کئی برسوں میں اتر پردیش مجلس کے اندر نئے لوگوں کو جوڑنے اور مضبوط سیاسی کیڈر تیار کرنے کے بجائے لوگوں کے الگ ہونے یا الگ کیے جانے کے واقعات زیادہ نمایاں رہے ہیں۔ آج اتر پردیش میں مجلس کی جو شناخت موجود ہے، اس میں شوکت علی صاحب کی تنظیمی کارکردگی کے بجائے اسد الدین اویسی کی قومی شناخت اور ان کے نام کا بڑا کردار ہے۔

ریاستی قیادت کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض اختلافات نے پارٹی کے اندرونی تعلقات کے بارے میں بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ مثال کے طور پر قومی ترجمان سید عاصم وقار اور شوکت علی صاحب کے تعلقات میں مبینہ کشیدگی کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے، اس بارے میں میرے پاس مکمل معلومات نہیں ہیں، اس لیے میں اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں دینا چاہتا۔

البتہ اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مجھے مجلس اتر پردیش کی ریاستی قیادت میں ایک ایسی مرکزی طرزِ سیاست دکھائی دیتی ہے جس میں فیصلوں اور سیاسی سرگرمیوں کا محور ایک شخص واحد کے ارد گرد گھومتی ہے۔ اگر ایک سیاسی جماعت میں اجتماعی قیادت، مضبوط کیڈر، باصلاحیت افراد اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے بجائے تمام راستے ایک ہی شخص پر انحصار کرتے ہوں تو پھر وہ جماعت رفتہ رفتہ ایک منظم سیاسی ادارے کے بجائے "ون مین شو" بننے کا خطرہ مول لیتی ہے۔

میرا اعتراض کسی فرد کی ذات سے زیادہ سیاسی طریقۂ کار پر ہے۔ مجلس کو اگر اتر پردیش میں واقعی ایک مضبوط اور دیرپا سیاسی قوت بننا ہے تو اسے شخصیات سے آگے بڑھ کر تنظیم، کیڈر، تربیت، مقامی قیادت اور اجتماعی فیصلہ سازی پر توجہ دینی ہوگی۔

کیونکہ سیاست صرف الیکشن لڑنے کا نام نہیں۔ سیاست دراصل لوگوں کو جوڑنے، کارکن تیار کرنے، قیادت پیدا کرنے، ادارے بنانے اور مسلسل عوامی رابطے کے ذریعے سیاسی قوت تعمیر کرنے کا نام ہے۔

شفیق فیضی

"عقلمند دشمن، بیوقوف دوست سے بہتر ہوتا ہے"جب میں حالات اور وقت کے تقاضوں کی بات کرتا ہوں تو بعض اوقات گالیوں کا سامنا کر...
10/08/2026

"عقلمند دشمن، بیوقوف دوست سے بہتر ہوتا ہے"

جب میں حالات اور وقت کے تقاضوں کی بات کرتا ہوں تو بعض اوقات گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں انہی حالات اور انہی لوگوں کے بارے میں لکھنا پڑ رہا ہے، کیونکہ خاموشی اختیار کر لینا مسئلے کا حل نہیں۔

عرسِ اعلیٰ حضرت میں شرکت کے لیے سفر کرنے والےان مسلم نوجوانوں کے جذبات چھلک پڑے اور انہوں نے ٹرین میں ہی اپنی عقیدت کا اظہار شروع کر دیا۔ عقیدت اور محبت کا اظہار کوئی بری بات نہیں، لیکن وقت، حالات اور ماحول کو سمجھے بغیر اٹھایا گیا کوئی بھی قدم اکثر اوقات غیر متوقع مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

اس معاملے میں اب یہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ٹرین میں منقبت پڑھنے کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس کے بعد "سدرشن نیوز" سمیت بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول کو دیکھتے ہوئے یہ امکان بھی موجود ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی ہو بھی جائے۔

اندھی محبت اور اندھی تقلید کا انجام اکثر یہی ہوتا ہے ایک لمحے کا جذباتی فیصلہ طویل عرصے تک اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ لمحے خطا کرتے ہیں اور صدیاں سزا بھگتتی ہیں۔

فی الحال اس معاملے میں اگر کارروائی ہوئی تو ان افراد کے خاندان کو ہی اپنے دم پر ان کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔ خانقاہ اعلیٰ حضرت یا کسی دوسری خانقاہ کی جانب سے ان کے حق میں کوئی مؤثر اور عملی قدم اٹھایا جائے گا اس بارے میں زیادہ امید رکھنا شاید آسان نہیں۔ جب مولانا توقیر رضا خان کے مسئلے پر خانقاہیں ان کے ساتھ کھڑا ہونے سے گریز کرتی رہیں، تو پھر ان عام لوگوں کے لیے کون کھڑا ہوگا جو جذبات میں آکر ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں؟

میں بار بار کہتا ہوں کہ جذبات نہیں، منصوبہ بندی ضروری ہے؛ نعرے بازی نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں۔

سدرشن نیوز اور دیگر میڈیا ادارے اگر کسی واقعے کو اپنے بیانیے کے مطابق اچھالتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہمارے پاس اس بیانیے کا جواب دینے کے لیے کیا موجود ہے۔ کیا ہمارے پاس کوئی مؤثر میڈیا ہاؤس، قانونی ادارہ یا ایسا منظم پلیٹ فارم ہے جو فوری طور پر حقائق سامنے رکھ سکے اور یک طرفہ بیانیے کا جواب دے سکے؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف مذمتی بیانات سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس کے پاس بیانیہ قائم کرنے کا مضبوط نظام ہوگا، آخرکار اسی کی آواز زیادہ دور تک پہنچے گی۔

یہ بھی درست ہے کہ ٹرینوں میں مختلف مذاہب کے لوگ بھجن، کیرتن اور مذہبی نغمات پڑھتے ہوئے ویڈیوز بناتے رہے ہیں۔ لیکن صرف یہ دلیل پیش کر دینا کہ "دوسرے بھی ایسا کرتے ہیں" کسی قانونی یا انتظامی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو، اور کسی بھی مذہبی جذبات کے اظہار کے معاملے میں امتیازی سلوک نہ ہو۔

مذہب کو سیاست اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بالکل الگ سمجھنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ مذہبی جذبات تو موجود رہتے ہیں، لیکن ان کے تحفظ کے لیے ضروری سیاسی، قانونی، ابلاغی اور ادارہ جاتی قوت پیدا نہیں ہو پاتی۔ پھر ہر نئی مشکل کے بعد ہم صرف احتجاج، مذمت اور شکایت تک محدود رہ جاتے ہیں۔

یہاں ہمیں اپنے طرزِ فکر پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اسلام نے مسلمانوں کو صرف جذبات نہیں دیے، بلکہ شعور، حکمت، تدبیر، عدل اور ذمہ داری کا بھی درس دیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسلام کی قوت اکثریت میں نہیں، اصول، کردار، علم، تنظیم اور مسلسل جدوجہدمیں ہے۔

اسی لیے میرا سوال آج بھی وہی ہے: ہم کب جذبات سے آگے بڑھ کر منصوبہ بندی کریں گے؟ کب اپنی سیاسی، قانونی اور ابلاغی قوت پیدا کریں گے؟ اور کب یہ سمجھیں گے کہ عقیدت کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے؟

محض جذباتی اظہار سے نہ مساجد محفوظ ہوں گی، نہ مدارس، نہ مزارات، نہ مذہبی تشخص۔ اس کے لیے افراد، ادارے، قانون، سیاست، میڈیا اور سب سے بڑھ کر دوراندیش منصوبہ بندی درکار ہے۔

شفیق فیضی

योगी का सिद्धार्थनगर दौरा: सौगात से ज्यादा राजनीतिक संकेत!मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ का सिद्धार्थनगर दौरा अपने पीछे कई स...
10/08/2026

योगी का सिद्धार्थनगर दौरा: सौगात से ज्यादा राजनीतिक संकेत!

मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ का सिद्धार्थनगर दौरा अपने पीछे कई सवाल छोड़ गया है। एक तरफ सिद्धार्थनगर को कई विकास योजनाओं और परियोजनाओं की सौगात मिली, तो दूसरी तरफ बीजेपी के अंदर चल रही राजनीतिक हलचल भी सामने आती दिख रही है। आने वाले दिनों में बीजेपी के कुछ चर्चित चेहरों के विधानसभा क्षेत्र में बदलाव या टिकट कटने की खबरें सुनने को मिलें, तो शायद ज्यादा हैरानी नहीं होनी चाहिए।

आमतौर पर बीजेपी की चुनावी रणनीति में कमजोर विधानसभा क्षेत्रों को मजबूत करने पर खास ध्यान दिया जाता है, लेकिन इस दौरे में परंपरा के उलट ध्यान कमजोर सीटों के बजाय उन क्षेत्रों पर रहा, जहां बीजेपी पहले से जीतती रही है।

अगर योगी आदित्यनाथ को सिद्धार्थनगर का दौरा करना ही था, तो इटवा या डुमरियागंज ज्यादा महत्वपूर्ण चुनावी क्षेत्र हो सकते थे। इन इलाकों में थोड़ी अतिरिक्त मेहनत करके जिले की पांचों विधानसभा सीटों को फिर से बीजेपी के खाते में लाने की कोशिश की जा सकती थी। लेकिन उम्मीद के उलट ऐसा नहीं हुआ।

सवाल यह है कि आखिर क्यों?

इस सवाल का जवाब शायद उत्तर प्रदेश की बदलती राजनीतिक स्थिति में छिपा है। बीजेपी शायद अब सिर्फ अपनी सीटों की संख्या बढ़ाने के बजाय मौजूदा सीटों को सुरक्षित रखने की रणनीति पर ज्यादा ध्यान दे रही है। क्योंकि पार्टी यह जोखिम नहीं लेना चाहती कि ज्यादा सीटें हासिल करने की कोशिश में कहीं सत्ता ही हाथ से निकल जाए।

अगर यही रणनीति है, तो आने वाले दिनों में उत्तर प्रदेश की राजनीति में बड़े पैमाने पर बदलाव देखने को मिल सकते हैं।

सिद्धार्थनगर को लेकर भी इसी पृष्ठभूमि में कुछ सवाल उठ रहे हैं। अटकलें हैं कि जिले के एक चर्चित बीजेपी नेता और डुमरियागंज के पूर्व विधायक राघवेंद्र प्रताप सिंह के राजनीतिक भविष्य पर दोबारा विचार हो सकता है, या संभव है कि उनके विधानसभा क्षेत्र में बदलाव किया जाए। इसी तरह पूर्व राज्य शिक्षा मंत्री और इटवा के पूर्व विधायक सतीश चंद्र द्विवेदी का राजनीतिक भविष्य भी इस समय चर्चा में दिखाई दे रहा है।

इटवा विधानसभा क्षेत्र की सड़कों और दीवारों पर दिखाई देने वाली राजनीतिक गतिविधियां भी कई सवाल खड़े कर रही हैं। हालांकि असली तस्वीर आने वाले दिनों में ही साफ होगी।

दरअसल मामला सिर्फ राघवेंद्र प्रताप सिंह या सतीश चंद्र द्विवेदी का नहीं, बल्कि पूरी बीजेपी की चुनावी रणनीति और राजनीतिक साख का है। इसलिए संभव है कि पार्टी हारे हुए मोर्चों पर नई ताकत लगाने के बजाय उन सीटों को मजबूत करने पर ज्यादा ध्यान दे, जहां उसे अपनी जीत अपेक्षाकृत सुरक्षित दिखाई देती है।

बीजेपी शायद यह बात अच्छी तरह समझ रही है कि अगर एक बार उत्तर प्रदेश में सत्ता हाथ से निकल गई, तो वापसी आसान नहीं होगी। इसलिए आने वाले चुनाव से पहले पार्टी के अंदर टिकट, विधानसभा क्षेत्रों और उम्मीदवारों को लेकर बड़े फैसले किए जाने की संभावना से इनकार नहीं किया जा सकता।

सिद्धार्थनगर में इन दोनों राजनीतिक चेहरों को लेकर पर्दे के पीछे अभी बहुत कुछ चल रहा है। फिलहाल इसकी पूरी तस्वीर सामने नहीं आई है, लेकिन राजनीतिक संकेत जरूर मिल रहे हैं।

इसलिए फिलहाल अपनी कुर्सी की पेटी कसकर बांध लीजिए...
क्योंकि सिद्धार्थनगर की राजनीति में एक बड़ा तूफान आने वाला है!

शफ़ीक़ फैजी

Address

Itwa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shafique Faizi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shafique Faizi:

Shortcuts

Share