20/02/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرایا، اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔”
حوالہ: سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 807
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے افطار کرانے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کراتا ہے اسے بھی روزہ دار کے برابر اجر ملتا ہے اور اس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں دوسروں کی مدد، کھلانا پلانا اور خیر خواہی بہت بڑی نیکی ہے، خاص طور پر رمضان میں افطار کرانا ایسا عمل ہے جو محبت، بھائی چارے اور رحمت کو بڑھاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کو کھجور، پانی یا سادہ سا کھانا بھی افطار کے لیے دے دے تو اسے روزہ دار کے برابر ثواب مل سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور وہ چھوٹے سے عمل پر بھی بندے کو بڑا اجر عطا فرما دیتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو افطار کرائیں اور ثواب کے اس عظیم موقع سے فائدہ اٹھائیں۔