25/04/2026
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
کٹنی ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لیے گئے مدرسے کے طلبہ کے حوالے سے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ مسلسل 13 دنوں کی بے چینیطویل قانونی مشقتوں اور مخلصانہ دعاؤں کے بعد آج ان مہمانِ رسول بچوں کو بالآخر رہائی نصیب ہو گئی ہے
ان معصوم بچوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ چند بچوں کے پاس بنیادی دستاویزات آدھار کارڈ وغیرہ کی کمی تھی یا ٹکٹ کے حوالے سے کچھ مسائل تھے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان بچوں کو انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین اور بے بنیاد شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جس کی وجہ سے معاملہ طول پکڑ گیا۔ نہ صرف بچوں کو روکا گیا بلکہ ان کے اساتذہ پر بھی شدید دباؤ ڈالا گیا اور مقدمات درج کیے گئے
گزشتہ 13 دنوں کے دوران بچوں کے والدین نے تڑپ کر انتظامیہ سے گوہار لگائی کہ انہوں نے اپنی مرضی سے بچوں کو علم دین حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہے لیکن ان کی فریادیں ابتدا میں ان سنی کر دی گئیں تاہم، مسلسل محنت اور سچائی پر مبنی موقف کے بعد قانون کی نگاہ میں یہ ثابت ہو گیا کہ بچے بالکل بے قصور ہیں
اس پورے بحران کے دوران جو سب سے تکلیف دہ پہلو رہا وہ مسلم قیادت اور مقامی نمائندوں کی خاموشی تھی جو لیڈر الیکشن کے وقت ماں بہن کے جذباتی رشتے جوڑ کر اور بلند بانگ دعوے کر کے ووٹ حاصل کرتے ہیں اس کڑے وقت میں وہ کہیں نظر نہیں آئے یہاں تک کہ علاقے کے ایم ایل اے اور دیگر بڑے مسلم لیڈروں نے بھی ان معصوم بچوں اور ان کے پریشان حال والدین کی طرف ہاتھ بڑھانا گوارا نہ کیا یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ جب اپنا گھر جل رہا تھا تو اپنوں نے پانی ڈالنے کے بجائے پیٹھ پھیر لی
ایک طرف جہاں اپنے پیچھے ہٹ گئے وہیں دوسری طرف ان لوگوں نے جن کا تعلق سیاسی و سماجی حلقوں سے تھا
انسانیت اور بھائی چارے کا بڑا دل دکھایا ان لوگوں نے نہ صرف ان بچوں کے لیے آواز اٹھائی، بلکہ عرضیاں لکھیں اور قانونی لڑائی میں ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے ان ہی کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ آج یہ بچے قانون کی گرفت سے آزاد ہو کر اپنے گھروں کو جا رہے ہیں
اس واقعے نے ہمیں ایک اہم سبق سکھایا ہے کہ ہمیں ہمیشہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل دستاویزات کے ساتھ سفر کرنا چاہیے تاکہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے یاد رکھیں کہ کرسیاں کبھی بھی پلٹ سکتی ہیں لیکن عوام کا دکھ سکھ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ برائی کی اڑان کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہو سچائی ہی آسمان چھوتی ہے