10/05/2026
سراج محسود، جو وزیرستان کا رہائشی اور راولپنڈی میں ایک دکان کا مالک تھا، اُس نے زین نامی شخص کو 3 لاکھ 50 ہزار روپے قرض دیے تھے۔ جب سراج محسود نے اپنی رقم واپس مانگی تو زین نے اُسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس واقعے کی CCTV فوٹیج بھی موجود ہے۔ بعد ازاں سراج محسود کے کم عمر بھائی نے زین کو قتل کر دیا۔
مگر اس کے بعد راولپنڈی پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے سراج محسود کے خاندان کو ہی نشانہ بنایا۔ اُس کی والدہ اور اہلیہ سمیت خاندان کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ زین کے خاندان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ یہ عمل نہ صرف قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
آج راولپنڈی میں پشتون قوم کی ایک بڑی جرگہ منعقد ہو رہی ہے، جس میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں پشتون شریک ہیں۔ شرکاء کا مطالبہ ہے کہ سراج محسود کے خاندان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، اور تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
شرکاء کا کہنا ہے کہ پشتونوں کے ساتھ عرصہ دراز سے امتیازی سلوک، اجتماعی سزا اور ریاستی ناانصافیاں جاری ہیں۔ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پورے خاندان اور پورے قبیلے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ طاقتور عناصر قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پشتون نوجوان، مشران اور سیاسی و سماجی کارکن اس ظلم کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔
یہ جرگہ صرف سراج محسود کے خاندان کے لیے انصاف کی آواز نہیں، بلکہ پشتونوں کے خلاف جاری نسلی تعصب، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ جب تک انصاف نہیں ملتا، اُن کی آواز بلند ہوتی رہے گی۔