PTM Karak

PTM Karak پي ټی ايم د امن سمبول🕊️
مونږ پشتانو ته امن،حوشحالي او ترقي غواړو
پيچ درسره لایک او شیئر کړئ مننه☺️ ملګري پيچ درسره لایک او شيئر کړئ

10/05/2026

پشتون تحفظ موومنٹ ملی مشر منظور پشتین نے پی ٹی ایم لورالائی کور کمیٹی ممبر ارواح شاد (فضل الرحمان) کا فاتحہ خوانی بزریعہ پیغام ان کے والد عبد الرحمن، بھائی امیر زمان، ان کے گھر والوں کو اور پی ٹی ایم لورالائی تنظیم کو دے دی گئی۔

PTM NEWS.

سراج محسود، جو وزیرستان کا رہائشی اور راولپنڈی میں ایک دکان کا مالک تھا، اُس نے زین نامی شخص کو 3 لاکھ 50 ہزار روپے قرض ...
10/05/2026

سراج محسود، جو وزیرستان کا رہائشی اور راولپنڈی میں ایک دکان کا مالک تھا، اُس نے زین نامی شخص کو 3 لاکھ 50 ہزار روپے قرض دیے تھے۔ جب سراج محسود نے اپنی رقم واپس مانگی تو زین نے اُسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس واقعے کی CCTV فوٹیج بھی موجود ہے۔ بعد ازاں سراج محسود کے کم عمر بھائی نے زین کو قتل کر دیا۔
مگر اس کے بعد راولپنڈی پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے سراج محسود کے خاندان کو ہی نشانہ بنایا۔ اُس کی والدہ اور اہلیہ سمیت خاندان کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ زین کے خاندان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ یہ عمل نہ صرف قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
آج راولپنڈی میں پشتون قوم کی ایک بڑی جرگہ منعقد ہو رہی ہے، جس میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں پشتون شریک ہیں۔ شرکاء کا مطالبہ ہے کہ سراج محسود کے خاندان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، اور تمام ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
شرکاء کا کہنا ہے کہ پشتونوں کے ساتھ عرصہ دراز سے امتیازی سلوک، اجتماعی سزا اور ریاستی ناانصافیاں جاری ہیں۔ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پورے خاندان اور پورے قبیلے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ طاقتور عناصر قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پشتون نوجوان، مشران اور سیاسی و سماجی کارکن اس ظلم کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔
یہ جرگہ صرف سراج محسود کے خاندان کے لیے انصاف کی آواز نہیں، بلکہ پشتونوں کے خلاف جاری نسلی تعصب، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ جب تک انصاف نہیں ملتا، اُن کی آواز بلند ہوتی رہے گی۔





10/05/2026

ضلع مہمند کے علاقے حلیمزئی ناساپئی میں
تین نامعلوم افراد سادہ کپڑوں میں پہاڑ پر موجود تھے۔ ایک عام شہری نے، اپنے علاقے کے تحفظ کے لیے، ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ یہ اس کا حق تھا۔ یہ ہر اس انسان کا حق ہے جو اپنے گھر، اپنی زمین اور اپنے بچوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔
لیکن اس کے جواب میں کیا ملا؟
پہلے پولیس آئی، پھر ایف سی پہنچی — اور بات چیت کے بجائے گولیاں چلیں، تشدد ہوا، اور پورے گاؤں کو سزا دینے کی کوشش کی گئی۔ مطالبہ کیا گیا کہ وہ شخص حوالے کیا جائے جس نے سوال پوچھنے کی “جرأت” کی۔
یہ کیسا انصاف ہے؟
اگر اہلکار سادہ کپڑوں میں آئیں گے، اپنی شناخت ظاہر نہیں کریں گے، تو عوام کیسے پہچانیں گے کہ کون محافظ ہے اور کون خطرہ؟
اور اگر عوام سوال کریں تو کیا اس کا جواب گولی اور تشدد ہے؟
یہ صرف ایک گاؤں کا مسئلہ نہیں ، یہ پورے خطے کا مسئلہ ہے۔
یہ وہی پالیسی ہے جس میں شہریوں کو مشکوک سمجھا جاتا ہے، اور ریاست خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔
ہم واضح طور پر کہتے ہیں:
پشتون علاقوں میں یہ “وردی کے پیچھے چھپی دھشتگردی” مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔

07/05/2026

ریاست د پښتون نسل وژنه

ضلع ہنگو کی تحصیل دورڑی میں ریاستی کارروائی کے دوران عام شہریوں کے گھروں پر مارٹر گولوں کی شدید بمباری جاری ہے۔ صورتحال ...
07/05/2026

ضلع ہنگو کی تحصیل دورڑی میں ریاستی کارروائی کے دوران عام شہریوں کے گھروں پر مارٹر گولوں کی شدید بمباری جاری ہے۔ صورتحال اس قدر خوفناک ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے بے یار و مددگار نکل کر سڑکوں پر بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ عورتیں اور معصوم بچے خوف و ہراس میں گلیوں اور کوچوں میں دربدر پھر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں شاید ہی کسی نے ایسا فاشسٹ اور ظالمانہ طرز عمل دیکھا ہو، جہاں نہ بزرگ محفوظ۔
اور دورڑی میں ایک پٹرول پمپ کے قریب مارٹر گولہ گرنے سے چار افراد شہید جبکہ بارہ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے باوجود نام نہاد میڈیا، سیاسی و سماجی شخصیات، مذہبی رہنما اور بااثر طبقات خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

05/05/2026

سفید ریش ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا ایدریس صاحب کی شھادت کے دردناک واقعے کا سُن کر بہت افسوس ہوا۔
شیخ صاحب علمی دُنیا میں ایک چراغ کے مانند تھے جو سالہہ سالوں سے درس و تدریس کے ذریعے علم کی روشنی بکھرتے رہے۔
اس واقعے کی تحقیقات اور قاتلو کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کرتے ہیں۔
اس واقعے کے خلاف ہم حضرت شیخ صاحب کے خاندان، اسکے محترم شاگرد اور جمعیت علماء اسلام کے قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پختونخوا میں بدامنی کا یہ حال ہے کہ ہر روز ہمارے علماءکرام ، سماجی و سیاسی شخصیات، عام عوام حتی کے خواتین اور بچے شہید ہورہے ہیں مگر ریاست کی طرف سے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل اور عمل نہیں ہے۔
پختونخوا کے عوام کے پاس اپنے تحفظ کے لئے مستحکم راستہ یہ ہے کہ ہم سب متحد ہوجائے اور اپنے تحفظ کا بندوبست خود کرے۔

نام نہاد جنگ میں بے گناہ پشتون لقمہ اجل بن رہے ہیںجنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پاکستانی فوج اور انکے پالے ہوئے ...
05/05/2026

نام نہاد جنگ میں بے گناہ پشتون لقمہ اجل بن رہے ہیں

جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پاکستانی فوج اور انکے پالے ہوئے مسلح گروہوں کی جعلی جنگ میں آج پی ٹی ایم کے ساتھی ظفر اقبال شہید اور ۱۸ بے گناہ انسان زخمی ہوئے جسمیں ایک ۶ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ یہ حملے ایک ایسے مسلسل ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی طاقت، عسکریت اور مقامی آبادی کے درمیان تعلقات کو ایک مخصوص انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ کھیل کے میدان جیسے عوامی مقام پر بچوں کا زخمی ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تشدد اب کسی “استثنائی” صورت حال تک محدود نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ جب فائرنگ کے تبادلے میں معصوم جانیں متاثر ہوں اور گھنٹوں تک زخمیوں کو طبی امداد اور لاشوں کو اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصل میں پاکستانی فوج پشتونوں کی نسل کشی کے ہر حد پار کر چکی ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جنوبی وزیرستان اور اس جیسے دیگر خطے طویل عرصے سے ایک ایسے سکیورٹی پیراڈائم کے تحت چلائے جا رہے ہیں جہاں عسکری کارروائیاں، ریاستی مسلح گروہوں کی موجودگی، اور مقامی سماج کی روزمرہ زندگی آپس میں گتھم گتھا ہو چکی ہیں۔ اس تناظر میں یہ تاثر کہ مختلف مسلح دھڑے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، اکثر مقامی آبادی کے لیے ایک پیچیدہ اور غیر شفاف حقیقت بن جاتا ہے جس میں اصل نقصان ہمیشہ عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ مزید برآں، وسائل چاہے وہ زمین ہو، معدنیات ہوں یا دیگر اثاثے پر کنٹرول کی سیاست بھی اس پورے عمل کو مزید الجھاتی ہے، جہاں ترقی اور سکیورٹی کے نام پر مقامی باشندوں کے حقوق اور خودمختاری کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فوج اور انکے کارندے آپس میں فکس جنگی ماحول بنائے ہوئے ہیں تاکہ زمینوں کو قبضے میں کیا جائے۔

اس صورتحال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ بچے جو کسی بھی معاشرے کا سب سے کمزور اور غیر سیاسی طبقہ ہوتے ہیں اس تشدد کا براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک ایسا کھیل کا میدان جو اجتماعی زندگی کی علامت ہونا چاہیے، وہ خوف اور خونریزی کی جگہ میں تبدیل ہو جائے تو یہ پورے سماجی ڈھانچے کے بحران کی علامت ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ نہ صرف ان واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں بلکہ اس وسیع تر سکیورٹی اور سیاسی فریم ورک کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جائے جس نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام اور تشدد کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
پی ٹی ایم کے ساتھی ظفراقبال کئ سالوں سے اس وحشی جنگ اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف عملی سیاسی جدوجھد کا حصہ رہے، لیکن آج وہ خود اس ڈالری جنگ میں شہید ہوگئے۔ ظفراقبال کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلاامتیاز پشتونوں کی نسل کشی میں مصروف ہے جس کا حصاب ایک دن استعمار سے ضرور لیا جائگا۔

مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات
پشتون تحفظ موومنٹ

03/05/2026

د ملي شهید عارف افغان د شپږم تلین په مناسبت په ټویټر (X) سپېس کې ملي مشر منظور احمد پشتین ژوره او احساساتي وینا.

نن د ملي شهيد عارف افغان د شپږم تلين په مناسبت په ټویټر ایکس سپېس کې د هغه د مبارزې، فکر، قربانۍ او د پښتون وطن له پاره ...
02/05/2026

نن د ملي شهيد عارف افغان د شپږم تلين په مناسبت په ټویټر ایکس سپېس کې د هغه د مبارزې، فکر، قربانۍ او د پښتون وطن له پاره د هغه د نه هېرېدونکو خدمتونو ياد تازه کوو. عارف افغان هغه نوم دی چې د ظلم، جبر او خاموشۍ پر ضد يې خپل غږ پورته کړی وو او تر وروستۍ سلګۍ پورې د خپل قام د حق، عزت او ازادۍ له پاره ولاړ پاتې شو.
په دې ځانګړي سپېس کې به د پښتون قومي مبارزې مخکښ مشر منظور احمد پښتون خصوصي وينا کوي او د عارف افغان د ژوند، فکر او قربانۍ بېلابېل اړخونه به را برسېره کوي. دا يوازې د يوه شخص ياد نه دی، بلکې د هغه فکر او مقاومت تسلسل دی چې نن هم د زرګونو پښتنو په زړونو کې ژوندی دی.
راځئ چې نن شپه لس بجې په ټویټر ایکس سپېس کې ګډون وکړو، د خپل ملي شهيد ياد ژوندی وساتو او نړۍ ته وښايو چې د حق غږ نه وژل کېږي او نه هېرېږي.

ملی شہید عارف وزیر کی چھٹی برسی ملی شہید عارف وزیر اس استعماری بندوبست کے خلاف ایک کھلی بغاوت کی آواز ہے جو پشتون سرزمین...
02/05/2026

ملی شہید عارف وزیر کی چھٹی برسی

ملی شہید عارف وزیر اس استعماری بندوبست کے خلاف ایک کھلی بغاوت کی آواز ہے جو پشتون سرزمین کو جنگی لیبارٹری میں بدل کر یہاں کے انسان کو صرف “سیکیورٹی مسئلہ” بنا دینا چاہتا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے ریاستی بیانیے کی مقدس گائے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کس کے مفاد میں یہ مسلسل جنگ، یہ پراکسیز، یہ بارودی معیشت مسلط کی گئی ہے؟ عارف وزیر نے افغانیت کو ایک انقلابی فہم کے طور پر اپنایا ایک ایسا انقلابی فہم جو ڈیورنڈ کی مصنوعی لکیر کو مسترد کرتا ہے اور پشتون قومی وحدت کو ایک تاریخی اور سیاسی حق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ملی شہید عارف وزیر عمل کا آدمی تھا، جو وزیرستان کے پہاڑوں سے لے کر کابل اور پشاور تک پشتونوں کو ایک مشترکہ بیانیے میں پرونے کی جدوجہد کر رہا تھا۔

اس کی سیاست دراصل اس استعماری ڈھانچے کے خلاف اعلانِ جنگ ہے جو پنجاب مرکزیت کے ذریعے حاشیوں پر آباد قوموں کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عارف وزیر جیسے لوگ ہمیشہ ریاستی جبر کا پہلا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ وہ خوف کی فضا کو توڑتے ہیں، وہ محکوموں کو بولنا سکھاتے ہیں، اور وہ استحصال کو اس کے اصل نام سے پکارتے ہیں۔ اس کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ وہی پرانا حربہ جس کے تحت یا تو لوگوں کو جیل میں دفن کیا جاتا ہے یا قبروں میں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ مزاحمت کی آوازیں قتل نہیں ہوتیں وہ اور زیادہ پھیلتی ہیں، اور زیادہ گونجتی ہیں، اور زیادہ خطرناک ہو جاتی ہیں۔

آج جب پشتون خطہ مسلسل جبری گمشدگیوں، عسکریت زدہ زندگی، معاشی لوٹ مار اور شناختی بحران کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، تو عارف وزیر کی یاد ایک انقلابی تقاضا بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ محض عقیدت کے پھول چڑھانے کا لمحہ نہیں بلکہ اپنے سیاسی موقف کو تیز کرنے، اپنے لوگوں کو منظم کرنے اور اپنی جدوجہد کو ایک واضح سمت دینے کا وقت ہے۔ عارف وزیر کا حقیقی بدلہ اس نظام سے لینا ہے جو ایسے قتل کو جنم دیتا ہے۔ جب پشتون عوام اپنے وسائل، اپنی زمین اور اپنی شناخت پر مکمل اختیار حاصل کریں گے، جب یہ جنگی معیشت ٹوٹے گی، جب استعماری بندوبست زمین بوس ہوگا تب ہی عارف وزیر کے خوابوں کو تعبیر ملے گی۔ یہی مزاحمت کا راستہ ہے، اور یہی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ بھی۔

مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات
پشتون تحفظ موومنٹ

جنگ اور استعماریت: پشتون محنت کشوں کے اصل دشمن“یومِ مئی پر پشتون تحفظ موومنٹ کا اعلامیہ”یومِ مئی کے موقع پر پشتون تحفظ م...
01/05/2026

جنگ اور استعماریت: پشتون محنت کشوں کے اصل دشمن
“یومِ مئی پر پشتون تحفظ موومنٹ کا اعلامیہ”

یومِ مئی کے موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ تمام محنت کشوں کو جدوجہد، وقار اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مزدور کی محنت ہی معاشرے کی بنیاد ہے، مگر یہی طبقہ سب سے زیادہ استحصال اور ناانصافی کا شکار ہے۔ خصوصاً پشتون افغان وطن کے جنگ زدہ علاقوں کے پشتون مزدور دہائیوں سے ایسے حالات میں دھکیلے گئے ہیں جہاں روزگار کے مواقع تباہ کر دیے گئے، اور انہیں خلیجی ممالک اور مختلف مسلح ملیشیاؤں کی عالمی لیبر مارکیٹوں میں بطور زرِ مبادلہ استعمال کیا گیا۔ ان کے خون اور محنت سے پاکستان کی استعماری معیشت چلتی رہی، مگر ان کی زندگیوں، حقوق اور مشکلات کی نہ ریاست نے خبر لی اور نہ ہی کوئی مؤثر تحفظ فراہم کیا گیا۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا ایکسپورٹ پنجاب کا کاٹن نہیں، بلکہ مزدور ہیں، اور وہ بھی پشتون۔ پاکستان کی مجموعی آبادی میں تقریباً 18 فیصد حصہ رکھنے کے باوجود، بیرونِ ملک جانے والے محنت کشوں میں پشتونوں کا تناسب دوگنا ہے، جو کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے میں آبادی کے تناسب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان کا پراکسی جنگی انفراسٹرکچر بڑی حد تک پختونخوا میں مرکوز رہا ہے، جسے عالمی جنگی صنعت میں جیو اسٹریٹجک کرایہ حاصل کرنے اور سامراجی توسیع کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں پشتون محنت کش نوجوان نہ صرف سستے جنگجوؤں کے طور پر استعمال کیے گئے بلکہ بطور “قابلِ خرچ” جانیں بھی اس نظام کا حصہ بنیں، جس کے ذریعے ڈالر کمایا گیا اور جنگی معیشت کو تقویت دی گئی۔

جنگ اور بدامنی نے شہری مراکز میں صنعتوں اور کارخانوں کو بند کر دیا، جبکہ دیہی علاقوں میں جبری انخلا اور منظم غیر آبادکاری نے لاکھوں خاندانوں کو اپنی زمینوں اور گھروں سے بےدخل کر دیا۔ زمینوں پر فوجی کارپوریٹ فارمنگ، تجارت اور انفراسٹرکچر منصوبوں نے بھی مقامی روزگار اور زندگی کو معطل کیا، جہاں سیکیورٹی کے بہانے مزید قبضے جاری ہیں۔ افغان مزدوروں کو پاکستان سے جبری طور پر ملک بدر بھی کیا گیا۔

اس جنگ میں لاکھوں پشتون خواتین، جو زرعی معیشت کا ستون تھیں، بے گھر ہو کر اپنے خاندانوں سمیت دوسرے شہروں اور صوبوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہوئیں یا طویل عرصہ تک بے گھر افراد کے کیمپوں میں رہیں۔ نتیجتاً پشتون محنت کش دوسرے صوبوں میں عارضی مزدوری پر گزارہ کرتے ہیں، جہاں انہیں منظم نسلی پروفائلنگ، پولیس کی ہراسانی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے خاندان بھی شدید سماجی و انسانی مسائل کا شکار ہیں۔ کئی خواتین عملاً “نیم بیوہ” کی زندگی گزارتی ہیں، جبکہ ان کے بچے والد کی طویل غیر موجودگی میں یتیموں جیسے حالات میں پرورش پاتے ہیں۔ لینڈ مائنز میں بے شمار بچے اپنے جسمانی اعضا کھو بیٹھے، جو اب کبھی روزگار حاصل نہیں کر سکیں گے۔

یہ جنگ پشتون افغان سرزمینوں پر مسلط کی گئی ہے، اور اس کی قیمت پشتون محنت کش عوام اپنے لہو اور محنت سے ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مزدوروں کو اپنے وطن اور اپنے گھروں میں واپس لانا ہوگا، اور انہیں باعزت روزگار دینا ہوگا۔ جب تک نوآبادیاتی جنگ اور استحصال کا اندرونی استعماری نظام، جو پنجاب اور فوجی بالادستی پر قائم ہے، برقرار رہے گا، پشتون محنت کش اس کا ایندھن بنتا رہے گا، نجات مشترکہ قومی مزاحمت میں ہے۔

یومِ مئی ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم ہر قسم کے استحصال، جبر اور ناانصافی کے خلاف متحد ہوں گے۔ پشتون تحفظ موومنٹ تمام محنت کشوں، طلبہ، خواتین اور سیاسی کارکنوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ جنگ، استعماریت اور استحصال کے خلاف قومی مزاحمت کو مضبوط کریں، اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جہاں مزدور کو اس کا حق، تحفظ اور وقار حاصل ہو، اور نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں در بدر نہ ہونا پڑے۔ یہی یکجہتی ہماری طاقت ہے، اور یہی ہماری آزادی کی بنیاد۔

پی ٹی ایم مرکزی اطلاعات

Address

Al Karak

Telephone

+923348120190

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Karak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share