18/02/2026
مری کے علاقے مسیاڑی میں باعمل باحجاب خاتون نے درندگی سے بچتے ہوئے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔۔۔ اور موقع پہ دم توڑ گئی ۔۔۔
درندوں کے دور میں معصوم کلیوں کا مسلنا پورے معاشرے کیلیے انتہائی شرم کا مقام ہے ۔۔۔
وہ لڑکی
صرف گاڑی میں نہیں بیٹھی تھی…
وہ اعتماد میں بیٹھی تھی۔
وہ اس یقین کے ساتھ بیٹھی تھی
کہ یہ معاشرہ ابھی مرا نہیں،
کہ راستے ابھی محفوظ ہیں،
کہ مرد ابھی انسان ہیں۔
وہ باپردہ تھی…
عالمہ تھی…
قرآن اس کے سینے میں تھا
اور بھروسہ اس کی آنکھوں میں۔
اس نے سوچا ہوگا:
یہ گاڑی والا مجھے بہن سمجھے گا…
میں محفوظ ہوں…
میں اللہ کے بعد انسانوں پر اعتماد کر سکتی ہوں…
مگر گاڑی چلی…
اور اعتماد ٹوٹنے لگا۔
ہر گزرتا لمحہ
اس کے دل پر خنجر چلا رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خوف اترا،
ہونٹ کانپے،
دل دہل گیا۔
اس نے یقیناً کہا ہوگا:
بھائی! اللہ کا واسطہ…
گاڑی روک لو…”
مگر
جس کے دل میں رحم مر چکا ہو
وہ خدا کا واسطہ بھی نہیں سنتا۔
وہ لمحہ کتنا قیامت خیز ہوگا
جب اسے احساس ہوا
کہ جس پر اس نے بھروسہ کیا،
وہی اس کی موت بن گیا۔
اس کے سامنے دو فیصلے تھے:
ایک —
زندہ رہنا،
مگر ٹوٹ کر…
بے عزت ہو کر…
زندگی بھر کا زخم لے کر…
دوسرا —
مر جانا…
مگر پاک،
سرخرو،
عزت کے ساتھ…
اس نے دوسرا راستہ چن لیا۔
ایک پاؤں گاڑی پر تھا…
جیسے ابھی بھی دل مان رہا ہو
کہ شاید گاڑی رک جائے…
اور دوسرا پاؤں فضا میں تھا…
جیسے کہہ رہا ہو:
یا اللہ! اب تو ہی میرا سہارا ہے…
اور پھر
زمین نے اس کو گلے لگا لیا
جسے انسانوں نے دھوکہ دیا تھا۔
وہ مر گئی…
مگر اس کا اعتماد ہمارے منہ پر طمانچہ ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں گری؟
آج سوال یہ ہے کہ
ہم کس قدر گِر چکے ہیں؟
کیا اب کوئی باپردہ لڑکی
راستے پر اعتماد بھی نہ کرے؟
کیا اب بھروسہ کرنا بھی جرم ہے؟
یہ صرف ایک لڑکی کی موت نہیں…
یہ اعتماد کا جنازہ ہے۔