23/06/2025
کالم: "جنگ کا میدان اور فیس بک کے شیر"
✍️ از: مزاح خان لپیٹا پوری
ایران اور اسرائیل کی لڑائی زوروں پر ہے، امریکہ حسبِ عادت ہر فریق سے کہہ رہا ہے:
"گھبراؤ نہیں، ہم سب کے ساتھ ہیں… مگر تیل ہمارے ساتھ ہو!"
ادھر اسرائیل نے حملہ کیا، ایران نے ویڈیو بنا کر کہا:
"ہم نے دشمن کی کمر توڑ دی ہے!"
کمر کون سی تھی، کہاں تھی، کب توڑی…؟ کوئی ثبوت نہیں! بس ایک ڈرون کی فوٹیج اور بہت سا جذبہ۔
لیکن اصل میدان تو فیس بک ہے، جہاں پاکستانی قوم نے اعلانِ جنگ سے پہلے ہی اپنی پوزیشن سنبھال لی:
🧠 دانشوروں کا تجزیہ:
"اصل مسئلہ فلسطین نہیں، بلکہ ریٹنگ ہے۔"
"ایران شیعہ ہے، اسرائیل یہودی ہے، امریکہ عیسائی ہے… اور ہم تبصرہ نگار ہیں۔"
📱 سوشل میڈیا مجاہدین:
ڈی پی میں مسجدِ اقصیٰ کی تصویر
کیپشن: "اب خاموشی گناہ ہے!"
اور ساتھ میں ایک تبصرہ:
"اللہ کرے کوئی میزائل مری یا ناران میں نہ گرے، ہمارا ٹرپ پلان خراب نہ ہو!"
🤷 پاکستانی حکومت:
خاموش
پاک فوج: مصروفِ مشق
قوم: فیس بک پر فتح کے شادیانے بجا رہی ہے!
🔥 ایک کمنٹ میں تین فتوے:
"ایران ٹھیک ہے، اسرائیل غلط ہے، مگر امریکی ڈالر اچھا ہے… دعا کریں جنگ لمبی چلے تاکہ ڈالر مزید اوپر جائے!"
جنگیں ختم ہوں گی، میزائل رک جائیں گے…
مگر پاکستانیوں کے تبصرے، پوسٹیں اور یوٹیوب کے تھمب نیل ہمیشہ زندہ رہیں گے:
"خفیہ پلان سامنے آگیا!"
"دجال کا ظہور قریب!"
"اصل جنگ تو خلا میں ہو رہی ہے!"
اختتامیہ:
دنیا لڑ رہی ہے، ہم لکھ رہے ہیں...
اور فیس بک کہہ رہا ہے:
"Please calm down, you're posting too fast!"
😆