22/06/2026
کسی نہ کسی طرح ابو کو منا کر مجھے معافی لے دو! گوجرانوالہ کی فائزہ والدین سے معافی کے چکر میں اپنی اور اپنے شوہر کی جان گنوا بیٹھی!
یہ کہانی ہے پنجاب کے علاقے گوجرانوالہ کی!جہاں لیکی منڈی کا عبد الوحید فائزہ کو دل دے بیٹھا ، دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا مگر معاشرا انکے خلاف ہوگیا! دونوں نے فیصلہ کیا کہ کورٹ میرج کر لیں!دونوں نے کورٹ میرج کی اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے مگر فائزہ کو رنج تھا کہ وہ والدین کی مرضی کیخلاف قدم تو اُٹھا چکی ہے مگر انکی معافی بھی ضروری ہے! اسی رنج کی وجہ سے وہ اپنی بہن کیساتھ رابطے میں تھی اور منت سماجت کرتی تھی کہ ابو کو مناؤ کسی طرح مجھے معاف کر دیں اور ہمیں قبول کر لیں!بظاہر فائزہ کے والد راضی ہوگئے دونوں خاندانوں میں بھی صلح ہوگئی مگر کوئی نہیں جانتا تھا اندر ہی اندر کیا خوفناک پلاننگ بن چکی ہے!
گھر والوں کی جانب سے فائزہ کو پیغام بھجوایا گیا کہ گھر واپس آجاؤ ، بڑی عید کے بعد تمہیں جہیز کیساتھ رخصت کرینگے!فائزہ جانتی تھی کہ اسکا والد کیساانسا ن ہے اسی لیے وہ اکیلی جانے پر راضی نہیں تھی!وحید نے اسے سمجھایا اور پھر فیصلہ ہوا کہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں!
دونوں میاں بیوی فائزہ کے گھر پہنچے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ موت انکار انتظار کر رہی ہے! شروع میں سب اچھا کا ڈرامہ رچایا گیا پھر موقع پا کر پہلے فائزہ کے باپ نے اپنے داماد وحید کو گولیاں ماری، فائزہ بچانے آئی تو اسے بھی نہ چھوڑا حتیٰ کہ اپنے ہی ایک ملازام کو جو روکنے آیا اسے بھی گولیوں کا نشانہ بنا دیا!
تینوں شدید زخمی ہوئے ، اسپتال لایا گیامگرتینوں ہی جانبر نہ ہوسکے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے!
اللہ کریم تینوں کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے!