29/07/2026
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا
بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے
رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ
ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے