Balakot News Agency

Balakot News Agency Welcome to Balakot News Agency, your reliable source for up-to-the-minute and comprehensive news.

05/01/2026

صوبائی حکومت کی جانب سے مینول اسٹامپ پیپرز کے اجرا پر اچانک پابندی کے فیصلے نے جہاں محکموں میں کھلبلی مچا دی ہے، وہاں عوامی و سماجی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے حالیہ مراسلے کے بعد محکمہ خزانہ کے پاس موجود کروڑوں روپے مالیت کے اسٹامپ پیپرز کے ضائع ہونے سے صوبائی حکومت کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا قوی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو نے اکائونٹنٹ جنرل اور ڈائریکٹر خزانہ کو جاری کردہ مراسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں 2022 سے ای اسٹامپ کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے، لہٰذا مینول اسٹامپ کی فروخت فوری بند کی جائے۔ اس فیصلے سے پشاور، ہزارہ اور مالاکنڈ سمیت سات ڈویژنز کے 30 سے زائد اضلاع متاثر ہوئے ہیں جہاں اسٹامپ فروشوں کو اسٹاک جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف اضلاع کے پاس موجود اسٹاک اتنا زیادہ ہے کہ اسے ختم ہونے میں کم از کم دو سال درکار تھے، جو اب کاغذ کے ردی بننے کے قریب ہیں۔

اس فیصلے کے سماجی اثرات بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک جانب صوبہ بھر میں ہزاروں اسٹامپ فروشوں کا روزگار دائو پر لگ گیا ہے تو دوسری جانب مضافاتی علاقوں کے عوام کے لیے "ای اسٹامپ" کا حصول دردِ سر بن گیا ہے۔ چونکہ ای اسٹامپ کا اجرا صرف بینک آف خیبر تک محدود ہے، اس لیے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو نہ صرف طویل سفر اور اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں بلکہ بینکوں میں گھنٹوں قطاروں میں لگنا بھی مجبوری بن گیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹاک مکمل ختم ہونے تک مینول اسٹامپ کی فروخت جاری رہنے دی جائے تاکہ سرکاری نقصان اور عوامی مشکلات سے بچا جا سکے۔

04/01/2026

ہزارہ سمیت کے پی میں بلدیاتی الیکشن سات ماہ بعد ہوں گے ۔۔نیا بلدیاتی ۔نظام مشرف دور کے بلدیاتی نظام جیسا ہو گا ۔۔
خیبرپختونخوا میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، بلدیاتی انتخابات کو اس بار مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کر چکی ہیں۔
صوبے میں موجودہ بلدیاتی نظام کی مدت مارچ میں ختم ہو رہی ہے اور طویل عرصے سے خواتین کی مخصوص نشستیں بھی خالی پڑی ہوئی ہیں، سیاسی جماعتیں ممکنہ طور پر اگست میں ہونے والے انتخابات کیلئے امیدواروں کی فہرستیں تیار کرنے اور رابطہ مہمات تیز کرنے میں مصروف ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات سابقہ بلدیاتی نظام، خاص طور پر مشرف دور کے نمونے کے مطابق ہوں گے، جس میں مقامی نمائندوں کے اختیارات بڑھا کر ویلج کونسل اور یونین کونسل کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا، صوبائی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں قانونی ترامیم پر کام جاری ہے تاکہ انتخابات شفاف، مؤثراور مکمل اختیارات کے ساتھ کروائے جا سکیں۔
انتخابی ماحول میں سکیورٹی انتظامات کو بھی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ عوام اعتماد کے ساتھ ووٹ ڈال سکیں۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

04/01/2026

جنریشن زی سوال ہی تو نہیں اٹھاتی

تحریر آصف محمود

جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے اور بومرز ناراض ہو جاتے ہیں۔ معاف کیجیے یہ بنیادی مقدمہ ہی درست نہیں، سچ تو یہ ہے کہ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہی نہیں ہے اور اسی لیے نفرت، جذباتیت اورکلٹ کا آسان اور سستا ایندھن بن جاتی ہے۔
حالیہ بحث میں جنریشن زی سے مراد وہ نوجوان لیے جا رہے ہیں جو تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور بومر وہ بڑی عمر کے لوگ ہیں جو دوسری جماعتوں کا حصہ ہیں۔ یہ جنرلائزیشن ہی خلاف واقعہ ہے کیونکہ نہ تو ساری جنریشن زی ایک صف میں ہے اور نہ ہی تمام بومر دوسری صف میں کھڑے ہیں ہیں۔ یہ خلط مبحث ہے اور علم کی دنیا میں اس تقسیم کا کوئی اعتباار ہی نہیں۔
تاہم اگر جنریشن زی اور بومرز کی اس جزوی تعریف کو وقتی طور پر قبول بھی کر لیا جائے تو معاملہ بالکل دوسرا ہے۔ معاملہ یہ نہیں کہ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سوال اٹھانے کی صلاحیت ہی کھو چکی ہے۔
جہاں سوال اٹھتے ہوں وہاں کلٹ پیدا نہیں ہوتے۔ کلٹ پیدا ہی تب ہوتے ہیں جب سوال کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ پھر کلٹ ہی دلیل ہوتا ہے اور کلٹ ہی معیار۔ سوال اٹھانے والے کو گالیاں دی جاتی ہیں اور چیزوں کو کسی قاعدے اور اصول پر نہیں پرکھا جاتا، انہیں کلٹ کے مفاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔
جنریشن زی میں سے کوئی سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ نے تو پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا تو بعد میں آپ نے پارٹی کی صوبائی قیادت انہیں کیسے سونپ دی؟ کیا آپ کو یہی کوالیفیکیشن درکار تھی؟ آپ تب غلط تھے یا اب غلط ہیں؟ آپ نے رائے بدلی ہے یا آپ کا مفاد بدلا ہے؟
جنریشن زی یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ ماضی میں آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دینے کے پیچھے کون سی حکمت تھی۔ وہ یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ آپ کی جدوجہد آئین کی بالادستی کے لیے ہے یا پارٹی کے خانہ ولدیت میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دوبارہ لکھوانے کے لیے ہے۔
جنریشن زی نے کبھی یہ بھی نہیں پوچھا کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوں سے اخلاقی طور پر کتنی بہتر اور کتنی مختلف ہے۔
جنریشن زی کی کمر پر کبھی عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ بٹھا دیا گیا تو کبھی علی امین گنڈا پور جیسا، جنریشن زی نے ایک بار بھی پلٹ کر یہ سوال نہیں ہوچھا کہ اس بوجھ کی افادیت کیا ہے۔ کون سا میرٹ ہے جو آپ پر اترا ہے۔
آداب سے ناآشنا ہے۔ اختلاف پر یہ گندی اور غلیظ گالیاں دیتی ہے۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ اس کی لگامیں کچھ خرانٹ قسم کے بومرز کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ بومرز ان کا استحصال کر رہے ہیں، تبدیلی کے بومرز نفرت کی ڈگڈگی بجا رہے ہیں اور ان کے حصے کی جنریشن زی ڈگڈگی پر اچھل کود کو عزیمت کی مسافت سمجھتی ہے۔
یہ شعور نہیں ہے۔ یہ بدترین فکری اور شعوری استحصال ہے۔ جنریشن زی اس استحصال کا شکار اس لیے ہوئی کہ وہ سوال نہیں اٹھاتی، اس کا مطالعہ محدود ہے۔ وہ کتابوں کی نہیں، سوشل میڈیا کے تھمب نیل کی قتیل ہے۔ وہ کسی بھی سنجیدہ موضوع پر مکالمے اور مطالعے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ وہ دو فقروں کے بعد ہانپ جاتی ہے اور چھلانگ لگا کر نتیجے پر پہنچ جاتی ہے اور نتیجہ بڑا سادہ ہے: ہمارا کپتان ایماندار ہے باقی سب چور اچکے اور بے ایمان ہیں۔ دوسروں کے خلاف بدتمیزی کی حدوں کو عبور کر جانا بھی اس کے نزدیک حریت فکر ہے، مگر جو کپتان سے اختلاف کرتا ہے وہ یقیناً بغض کا مارا ہوا انسان ہے اور بددیانت اور لفافہ ہے۔
نفرت اور تقسیم کے عنوانات پہلے کیا کم تھے کہ اب عمروں کے تفاوت کی بنیاد پر سماج میں ایک نیا زہر بھرا جا رہا ہے کہ جو عمر رسیدہ نسل ہے وہ دھرتی کا بوجھ ہے۔ یہ تاثر ایسا دیا جا رہا ہے جیسے معلوم انسانی تاریخ میں جوانی صرف اس جنریشن زی پر آئی ہے۔ ان سے پہلی نسل تو پنگھوڑے میں ہی عمر رسیدہ ہوگئی تھی۔

03/01/2026

وینزویلا حملہ کے بعد صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے بیرون ملک منتقل کر دیا گیا، انٹرنیشنل میڈیا

03/01/2026

امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر دیا،پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ۔

06/03/2024

قاضی فائز عیسی کے دو بڑے تاریخی فیصلے
👇
بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ غلط تھا❗
مشرف کی پھانسی کا فیصلہ درست تھا❗

03/03/2024
ہزارہ یونیورسٹی کی DNA رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے ہزارہ ...
29/02/2024

ہزارہ یونیورسٹی کی DNA رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ جینیات نے ہزارہ کے مختلف قبائل کے جینیاتی تجزیے پر مبنی رپورٹ 2014ء میں شائع کی ۔یہ رپورٹ ہزارہ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر آج بھی موجود ہے ۔
لنک یہ ہے :
http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/2751
اس منصوبے پر اکتوبر 2010ء سے مارچ 2014ء تک کام کیا گیا جس میں ہزارہ کے بڑے نسلی گروہوں پر تحقیق کی گئی ۔
اس کے بعد 2017ء میں ایک اور رپورٹ صوابی اور بنیر کے پانچ بڑے نسلی گروہوں کے جینیاتی تجزیہ کے حوالے سے شائع کی گئی ۔ اس منصوبے کو بھی ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے ڈونیٹ کیا اور ہزارہ یونیورسٹی نے اس کی رپورٹ شائع کی ۔ لنک یہ ہے:
http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/9941
ان دونوں رپورٹس کے نتائج ایک جیسے تھے۔ ذیل میں اس کے اہم نکات کو درج کیا گیا ہے :
1۔ رپورٹ کے مطابق اس علاقے کے گجر ،سید ، کڑلال، اعوان ، یوسفزئی اور سواتی نسلی طور پر ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ خاص طور پر اس علاقے کے گجروں ، سیدوں اور یوسفزئیوں کی بہت بڑی اکثریت کا ہیپلو گروپ ایک ہی ہے جو انہیں ایک ہی نسل سے ظاہر کرتا ہے ۔
2۔ J1e جو کہ بنو ہاشم عربوں کا جینیاتی کوڈ ہے وہ یہاں کی اکثر اقوام میں نہیں مل پایا جس سے وہ تمام تواریخ من گھڑت ثابت ہو گئی ہیں جن کے ذریعے یہاں کے مختلف لوگ اپنا شجرہ نسب عربوں سے ملاتے ہیں ۔
3۔ جینیاتی تجزیے کے مطابق اس خطے کا سب سے بڑا نسلی گروہ R1a سے تعلق رکھتا ہے (جس کو ٹیبل میں سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے) جو یہاں کی کل آبادی کا 53 فیصد ہے اور یہ ہپلو گروپ گجروں ، سیدوں ، اعوانوں، یوسفزئیوں ، سواتیوں میں سب سے زیادہ مشترک ہے ۔ جبکہ ایک بڑی تعداد تنولی میں اور ایک چھوٹی تعداد جدون میں بھی موجود ہے ۔
جینیٹک سائنسز کی رو سے R1a, R1b اور R2 آریاوں سے تعلق رکھتے ہیں اور
یہ ہپلو گروہ گجروں اور پشتونوں دونوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ متذکرہ بالا کئی قبائل میں بھی موجود ہیں ۔ تاریخی طور پر بھی افغانستان اور شمال مغربی ہند کا یہ علاقہ آریانہ ہی کہلاتا رہا ہے جہاں سب سے زیادہ عرصہ تک گجر قبائل نے حکومت کی۔ یہ آریاوں کی سرزمین تھی اور آج کی جدید سائنس بھی اسی بات کی تصدیق کر رہی ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس خطہ میں آریاوں کی ایک بڑی تعداد نے بظاہر اپنی آریائی شناخت کو خیر آباد کہہ کر اپنا تعلق عربوں ، ترکوں یا منگولوں سے جوڑ لیا ہے لیکن حقیقت میں آج بھی وہ اسی بڑے انسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔
4۔ تجزیہ کے مطابق 32 فیصد کا تعلق ہیپلوگروپ M سے ہے ۔ جس کو ٹیبل میں ایل سے ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ یہ اسی جینیاتی گروپ کا حصہ ہے ۔ اس ہپلو گروپ کا تعلق بنیادی طور پر جنوبی ایشیا سے ہے اور ان کو ہند کے قدیم آریاوں کے طور پر پہچانا جاتاہے ۔ حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ روزنام "سیل" میں ہڑپہ سے ملنے والے ساڑھے چار ہزار سال قبل کے ایک ڈی این اے پر تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں ان کو قدیم آریا کہا گیا ہے ۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطہ کی 85 فیصد آبادی کا تعلق ان دو ہیپلو گروپس سے ہے جو براہ راست آریاوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی دو گروپ سب سے زیادہ گجر قوم میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ہزارہ یونیورسٹی کی اس رپورٹ سے بھی ظاہر ہو رہا ہے ۔
Copied

Address

Near Degree College Balakot
Balakot
21230

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balakot News Agency posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share