26/08/2026
جو ترمیم ہوئی ہے، ہم آپس میں بیٹھے ہیں۔ میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں، ہم نے واک آؤٹ تو کیا، لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا۔اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے۔ اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ آتا تو پھر ہم نکل کر واک آوٹ لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی۔
وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کے حوالے سے، اس کو کردار دیں تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے۔ ہم اتا ترکی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے۔ آج اس قانون کے ذریعے ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے۔
اور میں درخواست کروں گا بیرسٹر گوھر، علی ظفر صاحب سے بھی، علی ظفر صاحب سے بھی، کامران صاحب سے بھی، یہ بیٹھیں آپس میں اور آپ ان چیزوں کو ڈسکس کریں کہ کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر۔
وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کے اختیارات تھے، فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایک اختیارات تھے، جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں ردوبدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا، کسی کی ملازمت میں۔۔۔یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے، وہ آپ نے آج چیف آف ڈیفنس فورسز کو حوالے کر دیے ہیں۔
اور ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے، ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنٹ میں بیٹھے گا۔ اب فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، اور وہ کیبنٹ میں بیٹھا ہو۔ آپ بتائیں، فیصلے کون کرے گا؟ فیصلہ شریف صاحب کرے گا؟ اس کی کابینہ کرے گی؟
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب