09/02/2026
*چمن میں تھانہ کاریزات کے ایس ایچ او جبار کے حکم پر متعدد بزرگ مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔ جن میں سے ایک کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔*
*سیاسی حلقوں نے وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او کو بھی انکوائری میں شامل کیا جائے تاکہ شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔*
*چمن میں دوران احتجاج نقاب پوش پولیس کا بزرگ شہری پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر وزیرِاعلیٰ نے انکوائری کا اعلان کر دیا ہے تاہم ایس ایچ او جبار کو شامل انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جن کے حکم پر متعدد مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔
*چمن میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی و دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین پر تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ ایک بزرگ شخص پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں نقاب پوش اہلکار کو تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
*سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان واقعے کی انکوائری کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم عوامی و سیاسی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایس ایچ او کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے تاکہ شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔
*عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایس ایچ او کو بھی انکوائری میں شامل کیا جائے تاکہ شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔