25/10/2023
2023 کا فزکس کا نوبل انعام کس کے حصے میں آیا اور کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
اس سال2023 کا فزکس کا نوبل انعام تین سائنسدانوں فرانس کے پیغ آگوسٹینی اور انے لوئیلیغ اور ہنگری کے فرینس کراؤز کو اُن تجرباتی طریقہ کار کو وضع کرنے پر ملا ہے جن کے ذریعے روشنی کی قلیل مدتی شعاعوں کو بنایا جا سکتا ہے۔ کتنی قلیل مدتی؟ آٹو سیکنڈ۔ یہ کتنا ہوا؟
ریاضی میں دس کی منفی اٹھارہ سیکنڈ یعنی ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کا بھی دس لاکھواں حصہ۔ جس طرح ایک بندوق سے وقتاً فوقتاً گولیاں نکلتی ہیں جو دراصل آتش گیر مادے کو ایک خ*ل میں رکھے ہوتے ہیں۔ ویسے ہی اگر ہم تصور کریں کہ ایک لیزر ایک بندوق ہے، وقت ایک خ*ل اور روشنی کے بنیادی ذرے یعنی فوٹانز آتش گیر مادہ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سائنسدانوں نے وہ طریقہ وضع کیا ہے جسکے ذریعے ایک کھرب کے دس لاکھویں سیکنڈ کے "وقت کے خ*ل" میں اربوں روشنی کے ذرے قید کیے جا سکتے ہیں جنہیں وقتاً فوقتاً لیزر سے فائر کیا جا سکتا ہے۔
اس کا کیا فائدہ ہے؟ ایٹموں میں بہت سے عوامل نہایت قلیل مدتی ہوتے ہیں جیسے کہ الیکٹران کی ایک سٹیٹ سے دوسری سٹیٹ میں تبدیلی ، اسکی حرکت، اسکی سپن کا بدلنا وغیرہ وغیرہ۔ ان عوامل کو سمجھ کر ہم مخلتف طرح کے مادوں کی حالت، انکی خصوصیات اور ان سے بنے کیمائی اجزاء کے تال میل حتٰی کہ خلیوں میں حیاتیاتی عوامل کو بھی بہتر طور پر جان اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار سے دراصل ہمارے لیے ایٹم کے رازوں کو جاننے کی ایک کھڑکی تصور کیجئے جہاں ہم الیکٹران کو قلیل مدت میں نہ صرف روشنی کے ذریعے جانچ سکتے ہیں بلکہ کسی حد تک کنٹرول بھی کر سکتے ہیں۔ گویا ہم اس طریقہ کار سے فطرت پر تصرف پانے کا ایک اور زینہ چڑھ چکے ہیں۔
اسی وجہ سے یہ ایوارڈ ان سائنسدانوں کو ملا ہے کہ انہوں نے فطرت کے راز آشکار کرنے میں انسانیت کی مدد کی ہے، اُنہیں ایک طریقہ فراہم کیا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ سائنس میں نوبل انعام
ہمیشہ ایسی تحقیق پر ملتا ہے جو اس قابل ہو کہ یہ سائنس کی ایک نئی فیلڈ کھولے جو ہمارے علم میں اضافے کے لیے ایک بڑی چھلانگ لگوائے۔
خوش رہیں، سائنس سیکھتے رہیں۔