27/10/2023
# **سعودی عرب کفیل! آزاد ویزہ یا کمپنی ویزہ
**
# یہ ان بھائیو کے لئے پوسٹ ہے جو پشاورہ یا پہاڑی علاقوں کے مکین یا رہنے والے سیدھے سادے لوگ جن کے دل میں سعودی عرب کی محبت اور عظمت ہے کہ عبادت بھی کریں گے اور روزگار بھی ملے گا۔ اس کے علاوہ وہ دنیا کی بھیڑ بارڈ سے بخبر ہیں۔
# سعودی حکومت کا ایمگریشن قانون، نظام اور سسٹم اپنے سعودی مواطنین کے حق میں ہی ہے دوسرے مسلمان ممالک کے لئے کوئی رعایت نہیں۔
# آپ ویزہ بیورو آف ایمگریشن کی رجسٹرڈ ایجنسی کے ذریعے خرید رہے ہیں یا اپنے کسی جاننے والے کے ذریعے خرید رہے ہیں سپانسر، کفیل، کمپنی چیک کریں وہ مشہور ہونی چاہئے جس کی ویب سائٹ بنی ہو اور کامیاب کاروباری ہو۔ ان کے ویزہ پر سعودی عرب جائیں تنخواہ بھلہ کم ہو مگر یہاں آپ کو کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ زندگی پرسکون ہے۔
# عرب مواطنین نے بھی ویزوں کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے، گمنام کمپنیاں رجسٹرڈ کرواتے ہیں، اس پر ای۔نمبر جاری کروا کر بیچتے ہیں، ایمبیسی ویزہ جاری کرتی ہے، جب لوگ سعودی عرب پہنچتے ہیں تو کچھ کفیل ایسے ہیں جو پاسپورٹ وصول کرنے کے بعد دوبارہ ملتے ہی نہیں جس سے یہ اقامہ سے بھی محروم رہ جاتے ہیں
# اور کچھ عرب کفیل ایسے ہیں جو کچھ عرصہ کام کرواتے ہیں اور پھر انہیں ہروب لگوا دیتے ہیں، ان کے ان کو بھی اقامہ جاری نہیں کیا جاتا۔
# کچھ کفیل کام کرواتے ہیں اور تنخواہ بھی نہیں دیتے، اقامہ بناتے ہیں اور ان کے نام پر کریڈٹ کارڈ اور قرض لے کر انہیں مشکل میں پھنسا دیتے ہیں۔ ایسے ہی اور بھی فراڈ ہیں۔
# اس سے غریب پاکستانی جو پہلے ہی قرض لے کر گئے ہوتے ہیں اور دن بدن مشکل میں پھنستے جاتے ہیں۔ میرا انبکس ایسے معصوم لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔
# ایسے ممبران جب سعودی عرب جانے کے لئے جس سے بھی ویزہ ڈیل کر رہے ہیں آپ کا حق ہے ایجنٹ سے پہلے ہی جاننا کہ کمپنی کونسی ہے اس کا نام بتائے، اس کے بعد اس گروپ میں یا کسی دوسرے سعودی گروپ میں جائیں اور کمپنی کے بارے میں کنفرم کریں، اگر مثبت گواہی ملے تب ویزہ ڈیل کریں، ورنہ انکار کر دیں اور مزید پر کوشش جاری رکھیں، دیر آئے مگر درست آئے۔ جلد بازی سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔ ویزہ کاروبارہ اور ویزہ فراڈ میں سعودی مواطنین بھی کسی سے کم نہیں۔ اللہ سبحان تعالی ایسے ممبران کا حامی و ناصر ہو اور ان کی مدد فرمائے آمین۔
نوٹ: ممبران سے گزارش ہے کہ کوئی بہودہ کمنٹس نہ کریں! شکریہ