06/02/2026
ریاضُ الجنۃ نبی کریم ﷺ کے حجرۂ مبارک اور منبرِ شریف کے درمیان واقع وہ بابرکت مقام ہے جس کی فضیلت محض عوامی عقیدت یا روایت نہیں، بلکہ صحیح احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»
"میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔"
📚 صحیح البخاری: 1196
📚 صحیح مسلم: 1391
محدثین اور شارحینِ حدیث نے اس حدیث کی تشریح میں بیان فرمایا ہے کہ اس مقام کی فضیلت حقیقی بھی ہے اور تشریفی بھی۔
علامہ نووی رحمہ اللہ کے مطابق اس کی دو ممکنہ توجیہات ہیں:
یا تو یہ جگہ قیامت کے دن بعینہٖ جنت میں منتقل کر دی جائے گی،
یا یہاں کی عبادت بندے کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ اور سبب بنے گی۔
📖 شرح صحیح مسلم (نووی)
اسی وجہ سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس مقام میں نماز، ذکر اور دعا کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ ریاضُ الجنۃ میں خشوع، آنسو اور دل کی حاضری محض جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایمان کی زندگی کی علامت ہے۔
اہلِ علم نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ:
ریاضُ الجنۃ میں نفل نماز ادا کرنا مستحب ہے
یہاں دعا قبولیت کے اسباب میں سے ہے
لیکن فرائض اپنی مقررہ صفوں میں ادا کرنا زیادہ افضل ہے
ریاضُ الجنۃ ہمیں یہ عظیم پیغام دیتی ہے کہ عبادت کی اصل خوبصورتی جگہ کی عظمت میں نہیں، بلکہ اخلاص، اتباعِ سنت اور دل کی سچائی میں ہے۔