12 Studio Official

12 Studio Official An islamic page for the videos related recitation of Holy Quran,naat shareef,islamic qawwali & islam

🌴100 سے زیادہ اولیا ٕ کرام کی نام کیساتھ تصاویر🌴🌴نورانی چہروں والےاولیأ ٕ اللہ ؒ کی زیارت کی سعادت🌴💐الحَمْدُ ِلله۔۔اولیا...
27/06/2023

🌴100 سے زیادہ اولیا ٕ کرام کی نام کیساتھ تصاویر🌴
🌴نورانی چہروں والےاولیأ ٕ اللہ ؒ کی زیارت کی سعادت

🌴💐الحَمْدُ ِلله۔۔اولیا ٕکرام ؒ کی تصاویر زیارت کی نیّت سے شیٸر کر دی گٸی ہیں۔ یقینًا اولیا ٕ کرام کی کثیر تعداد کی تصاویر اس میں ابھی نہہں ھوں گی۔تاھم اتنی تعداد میں ایک ساتھ زیارت ھمارے لۓ بہت بڑی سعادت ھے۔اللہ کریمﷻ ھمیں ان نفوسِ قدسیہ ؒ کے پاکیزہ نقشِ قدم پہ چلنے اور انکی تعلیمات پہ عمل کرنے کی سعادت سے سرفراز فرماۓ۔آمین 💐💐💐
طالبِ دُعا۔قاری نورعالم چشتی قادری۔923007644117+
🌹💚🌹💚🌹💚🌹💚🌹💚🌹💚🌹💚🌹

27/04/2021

🌴💐عالمی ایوارڈ یافتہ قاری کرامت علی نعیمی صاحب ؒ
🌴💐وصال سے قبل کی خوبصورت تلاوت قرآن کریم💐
🌴💐ثواب کی نیّت سے شیٸر ضرور کردیں۔ جزاك اللهُ‎💐
💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

13/02/2021

🌿💐زیاراتِ مقدّسہ,انکے ساتھ خوبصورت محفل💐
🌿💐مُوۓ مبارک و نعلین پاک منسوب حضور کریمﷺ,
🌿💐حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ,حضرت امام حسن و حضرت امام حسین,حضرت امام تقی,حضرت بلال حبشی
(رضوان اللہ علیھم اجمعین),حضور غوث پاک ؒ بال داڑھی مبارک و نعلین پاک اور دیگر بہت سی زیاراتِ مقدسہ
🌿💐تلاوت و نعت۔قاری نورعالم چشتی(گولڈمیڈلسٹ)
https://www.facebook.com/qarinooralamchishti512/
💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐
https://youtube.com/channel/UCUcgI2b8qE6TaPML3N8cslg
💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐

https://www.facebook.com/chishti512/🌴🌹اولیا ٕکرام کی شان ورا ُٕ الورٰی ھے۔اللہ کریمﷻ کے یہ پاک پیارے اور برگزیدہ بندے ھم...
28/11/2020

https://www.facebook.com/chishti512/
🌴🌹اولیا ٕکرام کی شان ورا ُٕ الورٰی ھے۔اللہ کریمﷻ کے یہ پاک پیارے اور برگزیدہ بندے ھم عاشقوں کے دلوں کی دھڑکن اور ھمارے سروں کے تاج ہیں۔اولیا ٕ کرام کی تصاویر انکے ناموں کیساتھ شیٸر کی جا چکی ہیں۔اب کوشش کی گٸی ھے کہ ان نفوسِ قدسیہ کے شہزادگان اوراجداد کرام کی تصاویر زیارت کیلۓ پیش کی جاٸیں۔لہٰذا بھرپور محبّت,ذوق و شوق,محنّت اور عرق ریزی سے جتنی بھی میّسر آسکیں وہ زیارت کیلۓ حاضر ہیں۔اللہ کریم ان مبارک ہستیوں کے فیض سے ھم سب کو مستفیذ فرماۓ🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

نوٹ:الحَمْدُ ِلله اولیا ٕ کرام کی نٸی تصاویر زیارت کی نیّت سے شیٸر کی گٸی ہیں۔ یقینًا اولیا ٕ کرام کی کثیر تعداد کی تصاویر اس میں نہہں ھوں گی۔تاھم اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ زیارت ھمارے لۓ بہت بڑی سعادت ھے۔اللہ کریم ھمیں ان نفوسِ قدسیہ کے پاکیزہ نقشِ قدم پہ چلنے اور انکی تعلیمات پہ عمل کرنے کی سعادت سے سرفراز فرماۓ۔

طالبِ دُعا:۔قاری نورعالم چشتی قادری (گولڈ میڈلسٹ)
۔923007644117+ WhatsApp
https://www.youtube.com/channel/UCUcgI2b8qE6TaPML3N8cslg

🌴🌹سلاسلِ اولیا ٕ کرام کا تعارف 🌹🌹🌹🌹🌹

اولیائے امت کے چند سلاسل تصوف کے نام ملاحظہ ہوں.
1.سلسلہ عیاضیہ ): منسوب بہ حضرت شیخ فضیل ابن عیاض رحمت اللہ علیہ
2. سلسلہ ابرہیمیہ ): منسوب بہ حضرت شیخ ابراہیم ادھم رحمت اللہ علیہ
3. سلسلہ عجمیہ) : منسوب بہ حضرت شیخ حبیب عجمی رحمت اللہ علیہ
4. سلسلہ طیفوریہ) : منسوب بہ حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمت اللہ علیہ
5. سلسلہ کرخیہ) : منسوب بہ حضرت شیخ معروف کرخی رحمت اللہ علیہ
6.سلسلہ سقطیہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ سری سقطی رحمت اللہ علیہ
7. سلسلہ جنیدیہ) ; منسوب بہ حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
8. سلسلہ چشتیہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ ابو اسحاق چشتی شامی رحمت اللہ علیہ ( کچھ بزرگان دین اس سلسلہ کو حضرت شیخ عثمان ہرونی رحمت اللہ علیہ سے منسوب کرتے ہیں)
9.سلسلہ سہروردیہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی رحمت اللہ علیہ.
10. سلسلہ قادریہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ
11. سلسلہ نوریہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ ابو الحسن نوری رحمت اللہ علیہ
12. سلسلہ شاذلیہ ): منسوب بہ حضرت شیخ ابو الحسن علی بم عبداللہ شاذلی رحمت اللہ علیہ.
13. سلسلہ صابریہ) منسوب بہ حضرت شیخ علاؤالدین صابر کلیری رحمت اللہ علیہ
(بابا فرید شکر گنج, فرید الدین مسعود رحمت اللہ علیہ کے بھانجے)
14. سلسلہ رفاعیہ) ; منسوب بہ حضرت شیخ سید احمد رفاعی رحمت اللہ علیہ
15. سلسلہ نظامیہ) ; منسوب بہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمت اللہ علیہ
16. سلسلہ اشرفیہ); منسوب بہ حضرت شیخ مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمت اللہ علیہ
17. سلسلہ نقشبندیہ); منسوب بہ حضرت شیخ بہاء الدین نقشبند رحمت اللہ علیہ
18. سلسلہ برکاتیہ); منسوب بہ حضرت شیخ برکت اللہ مارہروی رحمت اللہ علیہ
19. سلسلہ مداریہ); منسوب بہ حضرت شیخ شاہ بدیع الدین قطب مدار رحمت اللہ علیہ
20. سلسلہ شطاریہ); منسوب بہ حضرت شیخ عبداللہ شطاری ( بابا بلھے شاہ قادری) رحمت اللہ علیہ
21. سلسلہ مجددیہ); منسوب بہ حضرت شیخ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمت اللہ علیہ
22. سلسلہ رشیدیہ); منسوب بہ حضرت شیخ دیوان عبدالرشید جون پوری رحمت اللہ علیہ
23. سلسلہ قلندریہ); منسوب بہ حضرت شیخ شاہ بو علی قلندر پانی پتی رحمت اللہ علیہ
24.سلسلہ نقیبیہ) منسوب بہ حضرت خواجہ خواجگان فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ رحمت اللہ علیہ
25.سلسلہ جہانگیری) حضرت شاہ جہانگیر سیدنا مولانا صوفی محمد مخلص الرَّحمٰنِ شاہ

(اگرچہ بعد میں بھی کچھ سلاسل بنے ہیں, مگر بعد والے انہیں بڑے سلاسل کی ذیلی شاخیں ہیں).

ان چار سلاسل نے اپنی ذریں خدمات کی بناء پر بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی.

1. سلسلہ قادریہ
2. سلسلہ چشتہ
3.. سلسلہ نقشبندیہ
4. . سلسلہ سہروردیہ

عصر حاضر کے نامور صوفی مؤرخ حضرت مولانا محمد عاصم اعظمی صاحب علیہ رحمہ نے مرأةالاسرار, عوارف المعارف, فتوح الغیب وغیرہ کتب کے حوالے سے ان چار بڑے سلاسل کا تعارف بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایا ہے. انہی کے الفاظ میں پیش کرنے کی بابرکت سعادت..

1. سلسلہ قادریہ.

اس خاندان طریقت کے بانی محبوب سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمت الرحمان کثیرا ابدا ہیں.
سلسلہ عالیہ قادریہ کا تعلق شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ سے ہے. آپ کی شان میں عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلی' حضرت امام احد رضا خان علیہ رحمہ ایک قصیدہ میں فرماتے ہیں.
√ واہ کیا مرتبہ ہے اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچے کے سروں سے قدم بالا تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا..
اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا...
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا.........

سلسلہ قادریہ کو ام السلاسل بھی کہا جاتا ہے. اس خانوادہ میں تقوی' و طہارت کے علاوہ شریعت کی سختی سے پابندی ہے اور باطن کی آراستگی کے لئیے ظاہر پہ بھی گہری نظر ہے.خود سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ نے نہ صرف اس کی تعلیم دی بلکہ عملی طور پہ اس روش پر سختی سے کاربند رہے کہ شریعت کے عمل سے ایک شمہ برابر کوئی تضاد ہوا تو طریقت سے اس عمل کو دور رکھا, یہی وجہ ہے کہ سلسلہ قادریہ کی روش بہت زیادہ محتاط ہے.
اس سلسلہ میں شریعت کی پابندی پہ بطور خاص توجہ دی گئی ہے مگر دنیا سے کنارہ کشی , ریاضت و مجاہدہ اور تسلیم و رضا کی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے.
(واضع رہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کے مسلک کے پیروکار تھے..موجودہ دور میں سلسلہ قادریہ سے منسلک اکثریت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے مسلک کے پیروکاروں کی ہے).
حضرت سیدنا غوث پاک رحمت اللہ علیہ نے اپنی کتاب "فتوح الغیب" میں اس سلسلہ کی تعلیم دی ہے.

اسی کتاب کے باب نمبر 75 میں اپنے فرزند حضرت سید سیف الدین عبدالوہاب کو وصیت فرمائی اور عارف کامل کا دستورالعمل بیان فرمایا.
فرماتے ہیں....

"میں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقوی' اور اطاعت اختیار کرو, احکام شرع کی پابندی لازم رکھو, سینہ کو خیانت_نفس سے پاک رکھو, نفس میں جواں مردی رکھو, کشادہ رو رہو, جو چیز عطا کرنے کے قابل ہو اسے عطا کرتے رہو, آداب_دوستی نگاہ میں رکھو, بزرگوں کی بزرگی کی نگہداشت کرتے رہو, برابر والوں سے حسن_ معاشرت رکھو, چھوٹوں کو نصیحت کرتے رہو, اپنے رفیقوں سے جنگ نہ کرو, وفا کو اپنے اوپر لازم کر لو.
ذخیرہ مال فراہم کرنے سے بچو"

عام مسلمانوں کے لئیے ہدایت فرمائی,
مومن کے لئیے ہر حال میں یہ تین چیزیں لازمی ہیں ; "ایک یہ کہ حکم_الہی پر راضی رہے, دوسرے یہ کہ ممنوعات سے بچتا رہے, تیسرے یہ کہ قضائے الہی پر راضی رہے....پس مومن کے لئیے کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں سے خالی نہ ہو"
(فتوح الغیب.. از عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ)

2. سلسلہ نقشبندیہ

اس سلسلہ کے بانی حضرت بہاءالدین نقشبند علیہ رحمة والرضوان ہیں. اس سلسلہ کی نسبت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی' عنہ سے ہے.

یہ سلسلہ طریقت مختلف ناموں سے موسوم رہا.
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت شیخ بایزید بسطامی علیہ رحمہ تک یہ سلسلہ "صیدیقیہ" کہلایا. حضرت بایزید بسطامی رحمت اللہ علیہ سے حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمت اللہ علیہ تک "طیفوریہ" کہلایا, خواجہ عبدالخالق غجدوانی سے خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمت اللہ علیہ تک "خواجگانیہ" کہلایا اور حضرت خواجہ نقشبند سے شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی) رحمت اللہ علیہ تک "نقشبندیہ" کے نام سے موسوم رہا اور ہندوستاں میں حضرت مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ سے منسوب ہو کر "مجددیہ" کہلایا.

اس سلسلہ میں شریعت کی پابندی اور اتباع_سنت پر کافی زور دیا گیا ہے. ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے شریعت کی پابندی ناگزیر ہے. تقوی' کے ساتھ احتیاط کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے. حضرات_نقشبندیہ عزیمت پر عمل کو حتی المقدور ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور رخصت پر عمل تجویز نہیں کرتے. احوال و مواجید کو احکام_شریعیہ کے تابع رکھتے ہیں. اوذاق و معارف کو علوم_دینیہ کے خادم سمجھتے ہیں.

حضرت خواجہ بہاءالدین رحمت اللہ علیہ کو سلوک پر جذبہ کی تقدیم کا الہام ہوا تھا. مشائخ نقشبندیہ اسی پر عامل ہیں ,جب کہ دوسرے بعض صوفیاء سلوک کو جذبہ پر مقدم کرتے ہیں... اس راہ کا پہلا قدم جذبہ ہے جو وصول کی دہلیز ہے.

داخل_سلسلہ ہونے سے پہلے طالب کو ریاضت و مجاہدہ کی منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے. منزل اذکار و اشغال کے ذریعہ طے کروائی جاتی ہے. پھر طالب_راہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ حلقہ ارادت میں داخل ہو کر سلوک و معرفت کے مدارج طے کرنے لگے. اسی لئیے ان کی تعلیم کا مسلک "نظر بر قدم" "خلوت در انجمن" "سفر در وطن" ہے.
وصول الی اللہ کے لئیے ذکر و مراقبہ اور عظمت_شیخ ضروری ہے.

"ذکر".. نفی , اور اثبات یعنی لا الہ (نفی) الا اللہ (اثبات) کا ذکر ہے. یہ ذکر اس سلسلہ کے متقدمین سے مروی ہے. اس ذکر کے لئیے طالب ایسے وقت کا انتخاب کرے کہ خارجی مشاغل اور پریشانیوں سے خالی ہو اور داخلی تشویش یعنی حد سے زیادہ اذیت اور غصہ سے پاک ہو. مجلس_ ذکر میں طالب موت کو یاد کرے اور ایسے تصور کرے کہ موت اس کے سرہانے موجود ہے ,پھر اپنے گناہوں سے مغفرت چاہے. ہونٹ اور آنکھیں بند کر ے سانس اپنے پیٹ میں روکے, دل میں " لا" کہے اور اسے اپنی ناف سے دائیں کو کھینچے پھر وہ اپنے شانوں کو ہلائے اور انہیں اپنے سر کی طرف جھکا دے اور کہے "الہ" پھر اپنے دل میں "الا اللہ" کی پختہ ضرب لگائے..
مشائخ نقشبندیہ کا کہنا ہے کہ حبس دم میں بڑی عجیب خاصیت ہے , اس سے باطن مین گرمی, عزم میں یکسوئی اور عشق و محبت میں برانگیختگی پیدا ہوتی ہے اور طالب وسوسوں(پراگندہ خیالات) سے نجات پا جاتا ہے. اس ذکر کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ جب طالب "لا الہ" کہے تو اللہ کے سوا ہر معبود, ہر مقصود, ہر وجود کی نفی کرے اور جب "الا اللہ" کہے تو پورے کامل اور رسوخ اطمینان قلب سے صرف اللہ تعالی' کی ذات میں معبودیت, مقصودیت اور وجودیت کا اثبات (اقرار, طلب) کرے.

سلسلہ نقشبندیہ میں تذکیہ قلب و تصفیہ باطن کے 11 اصول مقرر کیۓ گئے ہیں جن پر چل کر سالک قرب الہی کی نعمت سے شرف یاب ہوتا ہے. یہ اصول دراصل حضرت خواجہ نقشبند رحمت اللہ علیہ کے کلمات ہیں.
ان میں سے آٹھ کلمات قدسیہ اور تین کلمات مصلحات نقشبندیہ میں سے ہیں. انہی گیارہ کلمات پہ طریقہ نقشبندیہ کی بنیاد ہے.

1.وقوف_عددی ( مراد ذکر میں سانس کو طاق عدد پہ چھوڑنا)

2.وقوف_زمانی(سالک واقف نفس رہے/پاس انفاس کو ملحوظ رکھے, ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے)

3. وقوف_قلبی (ذکر کے وقت دل حق تعالی' سے واقف و اگاہ رہے, ذکر کے معنی و مفہوم سے غافل نہ ہو)

4. ہوش دردم(سالک کا ہر سانس حضور و آگاہی سے ہو نہ کہ غفلت سے)

5. نظر برقدم(چلتے وقت سالک کی نظر اپنے پاؤں کی پشت پر رکھے تا کہ راہ چلتے ادھر ادھر نہ دیکھے)

6. سفر دروطن(سیر درانفس). (مراد صفات ذمیہ سے صفات حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے... دوسرے سلاسل میں سلوک کو سیر آفاقی سے شروع کرتے ہین اور سیر انفسی پہ ختم کرتے ہیں)

7.خلوت درانجمن. ( ظاہر میں خلائق کے ساتھ, باطن میں حق کے ساتھ)

8.یاد کرد. ( ہر وقت ذکر میں مشغول رہے خواہ قلبی ہو زبانی)
9.بازگشت.( ذاکر جب کلمہ توحید کا ذکر کرے تو دل سے کرے , زبان_دل سے کہے :خدایا مقصود,میرا تو ہے اور تیری رضا)

10نگاہ داشت.( قلب کو خطرات و حدیث نفس سے نگاہ رکھا جائے)

11. یادداشت. ( دوام آگاہی بحق سبحانہ.. اپنے وجود کا ہوش نہ رہے).

ان سے میں سے ہر ایک کلمہ کی تشریح کے لئیے ایک دفتر درکار ہے, مگر اختصار سے کام لیا ہے..
ربنا تقبل ھذا.

3. سلسلہ چشتیہ۔

اس خاندان تصوف کے بانی حضرت شیخ ابو اسحاق چشتی رحمت اللہ علیہ ہیں۔
اس سلسہ کی اشاعت شہر چشت سے ہوئی پھر سنجان، دمشق، سجستان، خراسان اور نیشا پور سے ہوتا ہوا یہ سلسۃ طریقت سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمت اللہ علیہ کے ذریعے ہندوستان آیا۔

اس سلسہ میں ظاہر سے زیادہ باطن پہ زور دیا گیا ہے{اور پابندیِ شریوت قدم قدم پر لازم رکھی گئی ہے}

سلسلہ چشتیہ کی چند اہم خصوصیات:

1۔۔ سلسلہ چشتیہ کی اساس عشقِ الٰہی پر ہے۔ طاعت، عبادت، ریاضت اور مجاہدہ کا اصل مقصود سوزِعشق کا فروغ ہے۔

2۔نفس کی مخالفت اس سلسلے میں کلیدی حثیت رکھتی ہے۔ چشتی مشائخ کے نزدیک {النفس الصنم الاکبر}نفس سب سے بڑا بت ہے جس کی شکست و ریخت راہِ سلوک کی پہلی منزل ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "چشتی صوفیاء کے نزدیک نفس کی مخالفت عبادت کی اصل ہے اور اس کی موافقت کفر ہے"۔
نفس کو زیر کرنے اور اس کی تادیب کے لئیے مجاہدات پہ زور دیا جاتا ہے۔ ریاضت و مجاہدہ کا مقصود تصفیہ باطن اور تذکیہ اخلاق ہے۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ہمارے خاندان [چشت] میں دو باتیں ہیں ایک تو مخالفتِ ہوا و نفس اور دوسرے ایصالِ منفعت للغیر"۔

3۔۔اخلاقی اقدار اور صفاتِ محمودہ کے فروغ پر خاص زور دیا جاتا ہے۔
اخلاقی تادیب و تربیت کے دو پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک تخلیہ ہے اور دوسرا تحلیہ۔
تخلیہ یہ ہے کہ طبعی اور رذیل اخلاق جیسے کینہ، تکبر، غسہ، غیبت اور بدگوئی وغیرہ سے نفس کو پاک کیاجائے۔۔۔ اخلاق محمودہ جیسے سخاوت، عفو درگزر،صبر وتھمل، ایثار، توکل وقناعت کی آبیاری کا نام تحلیہ ہے۔۔
چشتی مشائخ نہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں نہ کسی کو ضرر پہنچانے ہین، وہ جاہ وترفع پر تواضع و انکساری کو ترجیح دیتے ہیں۔ خلقِ خدا کے ساتھ ان کا سلوک حد درجہ محبت،شفقت اور درگزر کا ہوتا ہے۔ مخلوقِ خدا کی اذیتوں اور سختیوں پر ضبط وتحمل سے کام لیتے ہیں اور اسے روحانی ترقی کا ذریعہ گرادانتے ہیں، فقر کو غناء پر ترجیح دیتے ہیں۔

4۔۔۔ اس سلسلہ میں علومِ ظاہری، باطنی کی بڑی جامعیت اور شریعت میں توازن وتلاوم پایا جاتا ہے، وہ علومِ ظاہری کی تکمیل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم کاحفظ اور اس سے حد درجہ شغف چشتی صوفیاء کا امتیازی نشان ہے۔ چشتی صوفیاء افراط وتفریظ کے مغالطوں میں پڑنے سے بچتے ہیں اور زہد وترکِ دنیا کے باب میں غلو نہیں کرتے، شریعت کی پاسداری کا پورا پورا لحاظ کرتے ہیں۔

5۔۔۔ چشتی صوفیاء سماع کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سماع سوزِ عشق کو بھڑکانے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ لیکن سماع {مزامیر سے پاک اور دوسرا} شرائط اور قیود کے ساتھ ہونا چاہئے۔

6۔۔۔۔ اس سلسلے میں ایک شب و روز کا مجاہدہ ہےمعین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں "ہمارے سلسلہ میں ایک شب وروز کا مجاہدہ ہے اور زیادہ ذوقِ مشاہدہ ہے"

4. سلسلہ سہروردیہ

اس خانوادہِ طریقت کے بانی حضرت شیخ ضیاءالدین ابو نجیب سہروردی رحمت اللہ علیہ ہیں جوشیخ وجیہ الدین ابو حفص رحمت اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔
اس سلسلہ کی اشاعت آپ کے مرید وخلیفہ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمت اللہ علیہ سے ہوئی۔ آپ کی مشہورِ زمانہ کتاب" عوارف المعارف " تصوف کی گراں قدر کتاب اور صوفیاء کے لئے مشعلِ ہدایت ہے۔

اس سلسلہ طریقت میں اتباعِ اور محبت الٰہی کی تعلیم دی گئی ہے بلکہ پیرویِ رسول اللہ ﷺ عین محبتِ الٰہی ہے۔
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ لکھتے ہیں ؛"پس جو جتنا متبعِ رسولﷺ ہے، اسی قدر محبتِ الٰہی کا حصہ دار ہے اور صوفیاء نے اسلامی گروہ میں سب سے بڑھ کر اتباعِ رسولﷺ کی ہے"۔

اس سلسلہ تصوف میں علم و عمل دونوں پر توجہ دی جاتی ہے لیکن پیرویِ رسولﷺ اور محبتِ رسولﷺ پر زیادہ زور ہے۔ پیروی راہِ حق اور اتباعِ مسلک خاص اصول ہیں۔
حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین رحمت اللہ علیہ اکثر فرماتے تھے کہ " میرا فرزند وہی ہے جو میرے طریقے پر چلے اور میری راہِ ہدایت اختیار کرے۔"

اس سلسلہ کی اشاعت کا مرکز بغداد تھا ۔ وہاں سے یہ سلسلہ حضرت خواجہ بہاءالدین زکریا ملتانی علیہ رحمہ کے ذریعے ہندوستان آیا اور پنجاب، یو-پی، بہار اور بنگال میں خوب پھیلا۔۔
تمت بالخیر

ایک کامل شیخ، کامل ولی اللہ، کامل مرشد سالک کو کسی سلسلہ میں بھی مرید کر سکتا ہے.

مآخذ۔
۱۔ مرآۃ الاسرار
۲۔عوارف المعارف
۳۔فتوح الغیب۔
۴ مقدمہ تاریخ مشائخ نفشبندیہ۔

أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَO
(يونس، 10 : 62)
’’خبردار! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے‘‘.
https://www.youtube.com/channel/UCOVCZuqXvNxG-tJV1RFbLSA

https://www.youtube.com/channel/UCUcgI2b8qE6TaPML3N8cslg🌴💐شہزادگانِ سیّدُالاولیا ٕ شہنشاہِ ولاٸت حضور سیّدنا غوثِ اعظم م...
03/11/2020

https://www.youtube.com/channel/UCUcgI2b8qE6TaPML3N8cslg
🌴💐شہزادگانِ سیّدُالاولیا ٕ شہنشاہِ ولاٸت حضور سیّدنا غوثِ اعظم میراں محیّ الدّین الگیلانی الحسنی و الحسینی ؓ
💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
https://www.facebook.com/chishti512/
مرید نے مرشد کو اچھے موڈ میں دیکھا تو با ادب ھو کر گویا ھوا !
میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق تو کچھ بتائیے ،کیا اسی کو آبِ حیات کہتے ھیں؟ اور اس پانی کا چشمہ پھوٹتا کہاں سے ھے ؟؟؟
مرشــد نے گہری نظر سے مرید کی طرف دیکھا اور سوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزر گئ تو مرید کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے مرشد کو ناراض کر دیا ھے،، وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا، حضرت جی اگر میرے سوال سے آپ کو کوفت ھوئی ھے تو میں معافی کا طلبگار ھوں !
ایک لمبی ' "ھـُـــــــوں" کے بعد مرشد نے نرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تو نہیں ھوا مگر فکرمند ضرور ھوں...... ،،میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا تو ھمارے درمیان 12 سال کی طویل جدائی پڑ گئ تھی ،،میں سوچ یہ رھا تھا کہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کر سکوں گا بھی یا نہیں،، اس دوران اگر میری اجل آگئ تو کہیں تمہاری محنت ضائع نہ ھو جائے،، بیٹا یہ عرقِ حیات یا آبِ حیات ،، یہ الفاط میں نہیں سمجھایا جا سکتا،، سمجھاؤ تو سمجھ نہیں آتا ! اس لئے میرا مرشد تو آب حیات کے چشمے کےکنارے کھڑا کر کے ،اس میں انگلی ڈبو کر دکھایا کرتا تھا کہ یہ ھے عرقِ حیات !! میں نے یہ سوال اپنے مرشد سے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا !!
تم نے بہت دیر کر دی ھے،، خیر اللہ بہتر کرے گا،، میں تمہیں ایک پودا دکھاتا ھوں ،، اس پودے کے پھول کا عرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرنا ھے اور جب یہ شیشی بھر جائے تب میرے پاس واپس آنا ھے،، یہ عرق ھی ھماری آنکھوں میں عرقِ حیات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے گا !!یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ھے ، اور اگر شیشی فوراً بند نہ کرو تو فوراً اڑ بھی جاتا ھے،، اور یہ پودا جنگل میں کہیں کہیں ملتا ھے ! اس کے بعد مرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مرید کو پکڑائی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا ! مرید بہت پرجوش تھا،، آبِ حیات کا معمہ بس حل ھونے کو تھا ، اور اسے آبِ حیات کو دیکھنے اور چھونے کا موقع ملے گا،، مگر ایک تو اس پودے کو ڈھونڈنا ایک جوکھم تھا تو ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اور ایک پھول میں ایک قطرہ !!
الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں ،، جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئ زندگی کی نوید تھا،، ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رھا تھا تو دوسری طرف اسے بار بار یہ خیال ستا رھا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ھوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات چشمہ تو صرف مرشد کو ھی پتہ تھا !! وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتا تو کبھی دوڑتا،، اپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا،، مرشد کے ڈیرے پہ نظر پڑنا تھا کہ وہ بیتاب ھو کر دور سے ھی چلایا ،، میرے مرشد ،، اے میرے مرشد، دیکھ میں اپنی تپسیا میں کامیاب رھا،،میں بوتل بھر لایا ھوں ،، اس کی آواز پر مرشد اپنے کٹھیا سے بار نکلا ،، بارہ سالوں نے اس کی کمر دھری کر دی تھی مگر وہ بھی مرید کی کامیابی پر خوش نظر آتا تھا !!
اپنے مرشد پر نظر پڑنا تھا کہ مرید بے اختیار دوڑ پڑا اور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پر قدم کا سٹکنا تھا کہ مرید لڑکھڑایا اور عرق سے بھری شیشی اس کے ھاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھر پر لگی اور چورا چورا ھو گئ،، عرق کے کچھ چھینٹے مرشد کے پاؤں پر پڑے باقی کو جھٹ زمین نگل گئ،، بے اختیار مرید کی چیخ نکل گئ ،،میرے مرشد میں لٹ گیا میں برباد ھو گیا میری محنت ضائع ھو گئ ،،میرے بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئ،، میرے مرشد میں تباہ ھو گیا،، مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا اور ایک اور چھوٹی سی شیشی لایا جس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسو بھرنا شروع کر دیئے ،، اور وہ شیشی بھر لی !!
اب مرید رو رھا تھا تو مرشد ھنس رھا تھا،، میرے مرشد میری زندگی برباد ھو گئ اور آپ مسکرا رھے ھیں ؟ مرید نے تعجب سے پوچھا !! مرشد اسے اندر لے گیا اور بکری کے دودھ کا پیالہ پینے کو دیا ،، پھر اس نے اس چھوٹی شیشی کو کھولا جس میں مرید کے آنسو بھرے ھوئے تھے، اور اپنی انگلی کو ان سے گیلا کر کے کہا کہ یہ ھے " عرقِِ حیات " یا " آبِ حیات " یا مقصدِ حیات !!
اور پھر آنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کو چھو کر کہا یہ ھیں آبِ حیات کے چشمے !!
یاد رکھو ! اللہ نے انسان کو ان آنسوؤں کے لئے پیدا کیا ھے ،، ان میں ھی زندگی چھپی ھوئی ھے،، کچھ اس کی محبت میں زارو قطار روتے ھیں جیسے انبیاء ،، اور کچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذرا سی غلطی سےگراتے اور انہیں ٹوٹتے اور اپنی محنتیں ضائع ھوتے دیکھتے ھیں تو تیری طرح بلبلاتے ھیں ،، جس طرح پانی نکلنے اور نکالنے کے مختلف طریقے ھیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کا سامان کیا گیا ھے،، یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ھیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی ،، آسمان والوں کے مٹکے ھر دم بھرے رھتے ھیں،،وھاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے ، ان کے رونے میں تسبیح ھے،، پچھتاوہ نہیں ھے ! ھمیں اسی مقصد سے بنایا گیا ھے،پھر اس دنیا کے ٹیڑھے میڑھے رستوں پر ھاتھ میں تقوے کی بوتل دے کر دوڑایا جاتا ھے ،، اور جب ذرا سی بے احتیاطی سے تقوے کی وہ سالوں کی محنت کسی گناہ میں ڈوب جاتی ھے اور ھم پچھتاتے ھیں اور زار و قطار روتے ھیں تو اللہ فرشتوں کو اسی طرح ھمارے آنسو سمیٹنے پر لگا دیتا ھے جس طرح آج میں نے تیرے آنسو شیشی میں جمع کئے ھیں !!
یہ وہ پانی ھے جس سے جہنم کی آگ بھی ڈرتی ھے،، اللہ کے رسول ﷺ نے حشر کا نقشہ کھینچا ھے کہ جہنم کی آگ فرشتوں کے قابو میں نہیں آ رھی ھوگی،، اور میدانِ حشر میں باغیوں کی طرف پھنکاریں مارتی ھوئی لپکے گی،، فرشتے اپنی بے بسی کا اظہار کریں گے تو اللہ پاک جبرائیل سے فرمائیں گے کہ وہ پانی لاؤ ،، اور پھر جبرائیل اس پانی کے چھنٹے مارتے جائیں گے اور آگ پیچھے سمٹتی جائے گی یہاں تک کہ اپنی حد میں چلی جائے گی،، صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ وہ کونسا پانی ھو گا؟ آپ نے فرمایا اللہ کے شوق میں اللہ کے خوف سے رونے والوں کے آنسو ھوں گے جو اللہ نے آگ پر حرام کر رکھے ھیں!! یہی وہ رونا ھے جو امیر خسرو روتے ھیں کہ !!

بہــــت ھـــــــی کٹھــــــن ڈگـــــــر پنگھـٹ کی
کیسے بھــــر لاؤں میـں جھـــٹ پٹ مٹــــــــکی ؟

یہی وہ آبِ حیات ھے جس کی بشارت انسان کو دی گئ ھے کہ اس کے چشمے اس کی اپنی ذات کے اندر ھیں !!

اے تن تیـرا رب سَچے دا حـجـــــرہ ، پا اندر ول جھــاتی ھو
نہ کــــــر مِنـت خـــواج خضــر دی، تیرے اندر آبِ حیـاتی ھو !

اسی کی طرف میاں محمد بخش صاحب اشارہ کرتے ھیں

سب سیاں رَل پانی چلیاں تے کوئی کوئی مُڑسی بھر کے
جنہاں بھـریا ، بھــر سِر تے دھــریا، قدم رکھن جَـر جَـر کے !

یعنی تمام روحیں اصل میں ان سہیلیوں کی طرح ھیں جو کنوئیں سے آبِ حیات بھرنے جاتی ھیں،،مگر ان میں سے کوئی کوئی بھر کر واپس آئے گی بہت ساریوں کے گھڑے رستے میں ٹوٹ جاتے ھیں،، لیکن جو بھر کر سر پر رکھ لیتی ھیں ان کے قدم رکھنے کا انداز بتاتا ھے کہ ان کا گھڑا بھرا ھوا ھے ! وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر قدم رکھتی ھیں ! یہ مضمون اللہ پاک نے سورہ الفرقان میں اپنے بندوں کی تعریف کرتے ھوئے بیان کیا ھے،،
"و عباد الرحمن الذین یمشون علی الارضِ ھوناً ،،،، رحمان کے بعد بندے زمین پر بہت تھم تھم کرقدم رکھتے ھیں"
یعنی پروقار چال چلتے ھیں،، ان کی چال بتاتی ھے کہ گھڑا بھرا ھوا ھے ! میاں صاحب دوسری جگہ فرماتے ھیں !
لوئے لوئے بھر لے کُڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا ! شام پئــی بِن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا !!
یہ بھرے گھڑے تڑوانے والوں کا ذکر اللہ پاک نے قرآن حکیم بھی بار بار کیا ھے،،
ائے ایمان والوں تمہارے ازواج اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ھیں،،ان سے خبردار رھو !( التغابن ) میاں صاحب فرماتے ھیں
اکھیوں انَۜا تے تِلکَن رستہ کیوں کر رھے سنبھالا ؟
دھـــکے دیــون والے بُہــتے تُـــو ھتھ پکــڑن والا !

اے اللہ آنکھوں سے بھی میں اندھا ھوں،ان مادی آنکھوں سے تو نظر نہیں آتا، اور رستہ بھی پھسلن والا ھے،، دوسری جانب ھر بندہ اس پھسلن رستے پر سہارا دینے کی بجائے دھکے دینے والا ھے ،،جب کہ صرف تیری ذات ھاتھ پکڑنے والی ھے !!
ھم کو بھی وضو کر لینے دو،ھم نے بھی زیارت کرنی ھے
کچھ لـوگ ان بہتـی آنکھـوں کو ولیـوں کا ٹھکانہ کہتے ھیں ...............!
(منقول)

🌹درود پاک کے فضائل🌹 آپ یہ مضمون پڑھیں گے اور آپ کا قلب پڑھنےکے بعد پرسکون ہوجائیگا اور طبعیت روحانیت سے معمور ہوجائیگی۔ ...
11/09/2020

🌹درود پاک کے فضائل🌹
آپ یہ مضمون پڑھیں گے اور آپ کا قلب پڑھنےکے بعد پرسکون ہوجائیگا اور طبعیت روحانیت سے معمور ہوجائیگی۔ ان شاءَ اللہ تعالیٰ۔
1) حبیب خدا ﷺ پر درود پاک پڑھنے والے پر اللہ تعالیٰ درود بھیجتا ہے۔ ایک کے بدلے ایک نہیں بلکہ ایک کے بدلے کم از کم دس۔
2) درود پاک پڑھنے والے کے لئے رب تعالیٰ کے فرشتے رحمت اوربخشش کی دعائیں کرتے ہیں۔
3) جب تک بندہ درود پاک پڑھتا رہتا ہے، فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4) درود پاک گناہوں کا کفارہ ہے۔
5) درود پاک سے (نیک) عمل پاک ہوجاتے ہیں۔
6) درود پاک خود اپنے پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ استغفار کرتا ہے۔
7) درود پاک پڑھنے سے درجے بلند ہوتے ہیں۔
8) درود پاک پڑھنے والے کے لئے ایک قیراط ثواب لکھا جاتا ہے جو کہ احد پہاڑ جتنا ہے۔
9) درود پاک پڑھنے والے کو پئمانے بھر بھر کے ثواب ملتا ہے۔
10) جو درود پاک کو ہی وظیفہ بنالے، اس کے دنیا اور آخرت کے سارے کے سارے کام اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔
11) درود پاک پڑھنے کا ثواب غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔
12) درود پاک پڑھنے والا ہر قسم کے ہولوں (خوف) سے نجات پاتا ہے۔
13) شفیع المذنبین ﷺ درود پاک پڑھنے والے کے ایمان کی گواہی دیں گے۔
14) درود پاک پڑھنے والے کے لئے شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔
15) درود پاک پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت لکھ دی جاتی ہے۔
16) اللہ تعالی ٰ کے غضب سے امان لکھ دیا جاتا ہے۔
17) اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہےیہ نفاق سے بری ہے۔
18) لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوزخ سے بری ہے۔
19) درود پاک پڑھنے والے کو قیامت کے دن عرشِ اِلٰہی کے سائے کے نیچے جگہ دی جائيگی۔
20) درود پاک پڑھنے والے کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔
21) درود پاک پڑھنے والے کے لئے جب وہ حوض کوثرپر جائیگا، خصوصی عنایت ہوگی۔
22) درود پاک پڑھنے والا کل سخت پیاس کے دن امان میں ہوگا۔
23) پل صراط پر سے نہایت آسانی سے اور تیزی سے گذر جائیگا۔
24) پل صراط پر اس نور عطا ہوگا۔
25) درود پاک پڑھنے والا موت سے پہلے اپنا مکان جنت میں دیکھ لیتا ہے۔
26) درود پاک پڑھنے والے کو جنت میں کثرت سے بیویاں عطا ہونگیں۔
27) درود پاک کی برکت سے مال بڑھتا ہے۔
28) درود پاک پڑھنا عبادت ہے۔
29) درود پاک پڑھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب عملوں سے پیارا ہے۔
30) درود پاک (ذکر کی) مجلسوں کی زینت ہے۔
31) درود پ تنگدستی دور کرتا ہے۔
32) درود پاک پڑھنے والاقیامت کے دن بس لوگوں سے زیادہ آنحضور ﷺ کے زیادہ قریب ہوگا۔(اور جس نے جتنا زیادہ پڑھا ہوگا، اتنا زیادہ قریب ہوگا)
33) درود پاک، درود شریف پڑھنے والے کو او ر اسکی اولاد کو اور اس کی اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے۔ (خود بھی ولی بنتا ہے، اسکی اولاد بھی ولی بنتی ہے اور اسکی اولاد کی اولاد بھی ولی بنتی ہے۔صرف انہی سلسلوں کے خانوادوں میں ولایت باقی رہتی ہے، جو کثرت درود کرتے ہیں، کثرت سے مراد عام کے لئے 1،000 اور اس سے اوپر کے لئے 3،000 اور اس سے اوپر کے لئے 10،000 اور خلفا اور خانوادوں کے لئے 30،000 ہے)
34) درود پاک پڑھ کے جس کو بخشا جائے، اسے نفع دیتا ہے۔
35) درود پ پاک پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔
36) درود پاک پڑھنے سے دشمنوں پر فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے۔
37) درود پاک پڑھنے والے کا دل (قلب) زنگار (گناہوں کی سیاہی) سے پاک ہوجاتا ہے۔
38) درود پاک پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
39) درود پاک پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
40) سب سے بڑی نعمت یہ کہ درود پاک پڑھنے والے کو آنحضور ﷺ کا دیدار نصیب ہوتا ہے،( جو منزل مقصود مؤمن ہے۔)
41) ایک بار درود پاک پڑھنے والے سے دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ دس درجے بلند ہوتے ہیں اور دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
42) درود پاک پڑھنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے۔
43) درود پاک پڑھنے والے کا کندھا جنت کے دروازے پر آنحضور ﷺ کے کندھے مبارک کے ساتھ چھوجائیگا۔
44) درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب سے پہلے آقائے دوجہاں ﷺ کے پاس پہنچ جائیگا۔
45) درود پاک پڑھنے والے کے لئے ۔۔۔۔۔قیامت کے دن آنحضور ﷺ متولی (ذمہ دار) ہوجائینگے۔
46) درود پاک پڑھنے سے دل پرنور ہوتا ہے۔
47) درود پاک پڑھنے والے کو سکرات کی تکلیف نہیں ہوتی۔
48) جس مجلس میں درود پاک پڑھا جائے، اس مجلس کو فرشتے رحمت سے گھیر لیتے ہیں۔
49) درود پاک پڑھنے سے آنحضور ﷺ کی محبت بڑھتی ہے۔
50) آنحضور ﷺ درود پاک پڑھنے والے سے محبت کرتے ہیں۔
51) قیامت کے دن سید دوعالم نور مجسم ﷺ درود پاک پڑھنے والے سے مصافحہ کریں گے۔
52) فرشتے درود پاک پڑھنے والے سے محبت کرتے ہیں۔
53) فرشتے درود پاک پڑھنے والے کے درود شریف کو سونے کی قلموں سے چاندی کے ورق پر لکھتے ہیں۔
54) درود پاک پڑھنے والے کا درود شریف فرشتے دربار رسالت ﷺ میں لے جا کریوں عرض کرتے ہیں،
"یارسول اللہ! فلاں کےبیٹے فلاں نے آنحضور ﷺ کے دربار میں درود پاک کا تحفہ حاضر کیا ہے۔
55) درود پاک پڑھنےوالے کا گناہ تین دن تک فرشتے نہیں لکھتے۔
تو کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ درود پاک پڑھ کر دنیا، قبر، حشر اور قیامت کی ساری خوشیاں حاصل کرلو۔ آج سے نیت کرتے ہیں کہ کم سے کم نیچے نیت دیا گیا درود پاک یا کوئی بھی درود پاک، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، ایک ہزار کم سے کم پڑھیں گے اور زیادہ کا کوئی شمار نہیں۔
درود کے بارے میں آثار و اقوال
1۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، "نبی اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھنا، گناہوں کو یوں مٹادیتا ہے، جیسے کہ پانی آگ کو بجھادیتا ہے۔اور حضور ﷺ پر سلام بھیجنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئےغلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار چلانے اور جانیں قربان کرنے سے افضل ہے۔
2۔ ام المؤ منین،حبیبہ حبیب رب العالمین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ، "مجلسوں کی زینت نبی کریم ﷺ پر درود پاک پڑھنا ہے، لہذا مجالس کو درود پاک سے مزین کرو۔
3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد گرامی ہے، آپ نے فرمایا کہ، نبی اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھنا، جنت کا راستہ ہے۔
4۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت زید بن وہب سے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آئے تو رسول اللہ ﷺ پر ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنا ترک نہ کرو۔
5۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کو، اور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے۔
6۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمان جاری کیا کہ جمع کے دن علم کی اشاعت کرو اور نبی اکرم ﷺ پر درود پاک کی کثرت کرو۔
7۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، نبی اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھنا، اللہ تعالی کی عبادت ہے۔
8۔ حضرت امام زین العابدین، جگر گوشہ، شہید کربلا کا ارشاد گرامی ہے کہ، حق جماعت کی علامت اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ پر درود پاک کی کثرت کرنا ہے۔
9۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان عالی مقام ہے کہ، جب جمعرات کا دن آتا ہے تو عصر کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے زمین پر اتارتا ہے۔ ان کے پاس چاندی کے ورق اور سونے کے قلم ہوتے ہیں۔ جمعرات کی عصر سے لے کر جمعہ کے دن غروب آفتاب تک زمین پر رہتے ہیں اور وہ نبی اکرم، شفیع المذنبین، شفیع اعظم ﷺ پر درود پاک پڑھنے والوں کا درود پاک لکھتے ہیں۔
10۔ حضرت امام شافعی نے ارشاد فرمایا کہ، میں اس چیز کو محبوب رکھتا ہوں کہ انسان ہر حال میں درود پاک کثرت سے پڑھے۔
11۔ حضرت ابن نعمان نے فرمایا کہ، اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھنا ، سب عملوں سے افضل ہے۔ اور اس میں انسان دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابیاں حاصل کرلیتا ہے۔
12۔ حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی،غوث اعظم کا ارشاد گرامی ہے کہ، اے مؤمنوں! تم مسجدوں اور اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ پر درود پاک لازم کرلو۔
13۔ حضرت عارف صاوی نے فرمایا کہ، درود پاک انسان کو بغیر مرشد کے اللہ تعالیٰ تک پہنچادیتا ہے، کیوں کہ باقی اذکارمیں شیطان دخل اندازی کرلیتا ہے،اس لئے مرشد کے بغیر چارہ نہیں، لیکن درود پاک میں مرشد سید دو عالم ﷺ ہیں، لہذا شیطان دخل اندازی نہیں کرسکتا۔
14۔ حضرت شاہ عبدالرحیم والد ماجد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فرمایا کہ، بہا وجدنا ما وجدنا، جو کچھ بھی پایا ہے، سب کا سب درود پاک کی برکت سے پایا ہے۔
15۔ حضرت توکل شاہ نے فرمایا کہ، بند ہ جب عبادت اور ذکر میں مشغول ہوتا ہے تو اس پر فتنے اور آزمائشیں بکثرت وارد ہوتیں ہیں اور درود شریف کا عمدہ خاصہ یہ ہے کہ اس کا ورد رکھنے والے پر کوئی فتنہ اور ابتلا نہیں آتا اور حفاظت الٰہی شامل ہوجاتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ بلیات (عذاب) جب اترتی ہیں تو گھروں کا رخ کرتی ہیں مگر جب درود پاک پڑھنے والے کے گھر پر آتی ہیں، تو وہ فرشتے جو درود پاک کے خادم ہیں،وہ اس گھر میں بلاؤں کو نہیں آنے دیتے، بلکہ انکو پڑوس کے گھروں سے بھی دور پھینک دیتے ہیں۔
16۔ حضرت سید محمد اسماعیل شاہ نے فرمایا کہ، درود پاک ہی اسم اعظم ہے۔
17۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام فرماتے ہیں کہ، ہم نے آنحضور ﷺکو فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یوں پاک کردیتا ہے، جیسے پانی کپڑے کو پاک کردیتا ہے۔
18۔ حضرت امام شعرانی فرماتے ہیں کہ، ہمارا طریقہ یہ ہے کہ، ہم درود پاک کی اتنی کثرت کریں کہ ہم حالت بیداری میں سید دو عالم ﷺ کے حضور حاضر ہوں، جیسے کے صحابہ کرام حاضر ہوتے تھے۔
آگے فرماتے ہیں کہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر ہم کو یے حاضری نصیب نہ ہو تو ہم درود پاک کی کثرت کرنے والوں سے شمار نہ ھونگے
بِسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ ارَّحِيم
إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
****اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ
وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ،
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
****اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَسَلِّمُ.
****اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىَ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَىَ آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ
تَسْلِيماً كَثِيراً
******جزی اللهُ عَنَا سَيِّدِنَا مُحَمَّدا مَا هُوَ أُهْلْه
******اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 12 Studio Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share