23/05/2026
آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کے پاس صلاحیت نہیں،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اُن کی توجہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
موبائل، فضول ویڈیوز، بے مقصد سکرولنگ اور وقت کا ضیاع بچوں کو پڑھائی سے دور لے جا رہا ہے۔
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ صرف تھوڑا سا موبائل استعمال کر رہا ہے،
لیکن یہی “تھوڑا سا وقت” آہستہ آہستہ اُس کی عادت بن جاتا ہے۔
پھر نہ پڑھائی میں دل لگتا ہے، نہ کوئی مقصد باقی رہتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ وقت تو گزار دیتا ہے، مگر زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتا۔
یہ حقیقت ہے کہ کامیاب بچے وہ نہیں ہوتے جو صرف ذہین ہوں،
بلکہ وہ ہوتے ہیں جو اپنے وقت کی قدر کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
مسئلے کا حل کیا ہے؟
والدین کو صرف ڈانٹنے کے بجائے بچوں کی صحیح رہنمائی کرنی ہوگی۔
بچوں کے لیے پڑھائی کا وقت مقرر کریں،
موبائل کے استعمال پر حد لگائیں،
اور اُن کے اندر کوئی مقصد پیدا کریں۔
بچے کو یہ احساس دلائیں کہ:
وقت واپس نہیں آتا
آج کی محنت ہی کل کی کامیابی بنتی ہے
مستقل مزاجی ہر بڑی کامیابی کی بنیاد ہے
اگر آج توجہ نہ دی گئی،
تو کل صرف افسوس باقی رہ جائے گا۔
لیکن اگر آج صحیح فیصلہ کر لیا جائے،
تو یہی بچہ کل آپ کی سب سے بڑی کامیابی بن سکتا ہے۔