04/07/2024
کسی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا تھا- کسی امانت دار کے بات سُناؤ.تو کہنے لگے سناتا ہوں فاروق اعظم کی بات فرمانے لگے : میں عمر رضی اللہ تعالی عنہا سے ملنے گیا۔کہتے ہیں جب میں اُن کے پاس گیا تو دیا جل رہا تھا اندر داخل ہوتے ہی سلام لیا تو حال چال پوچھنے کے بجائے عمر پوچھنے لگے کہ علی کوئی سرکاری کام آئے ہو یا دینی کام آئے ہو ؟ یا ذاتی کام آئے ہو ؟تو حضرت علیؓ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں تو ذاتی کام سے آیا ہوں تو کہتے ہیں عمر جلدی سے اُٹھے اور دیا اُنھوں نے گل کر دیا چراغ بجھا دیا کہتے ہیں میں نے کہا کہ عمر چراغ کیوں بجھایا ہے ؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہا فرمانے لگے ! میں سرکاری دستاویزات لکھ رہا تھا تو یہ سرکار کا دیا جل رہا تھا اتنی دیر تک ! اب ہم ذاتی بات کرنے لگے ہیں مجھے ڈر لگتا ہے ! چند قطرے تیل ذاتیات کے لیے استعمال ہو گیا تو رب کی بارگاہ میں کیا جواب دوں گا؟ (سبحان اللہ) اور آج پاکستان کے حکمران جو ہیں تو مسلمان اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کو فالو کرتے ہے لیکن ان کا ایک کام بھی ان جیسا نہیں ہے ہم موجودہ پنجاب وزیر اعلی کی بات کرے تو جب وہ آئی تو اتے ہی سرکاری بلٹ پروف گاڑی کے ٹائر اور سیٹ سب تبدیل کرا دی اور عوام کے لاکھوں روپے لگا دیے جب کے گاڑی کے صرف ٹائر تبدیل ہونے تھے۔ اس ہی طرح ہر سال عوام کے پیسہ پر حکومتی وزیر رو کے گھر والے اُن کے رشتے دار اور دوست وغیرہ بی حج عمرہ اور انٹرنیشنل ٹور کرتے ہیں۔ اس ہی طرح قومی اسمبلی پنجاب اسمبلی دیگر پاکستان کی اسمبلی جہاں عوام کے حقوق انصاف اور ان کے لئے آسانیاں اور مُلک کی ترقی پر بات ہونی چاہئے وہاں یہ لڑائیاں گالی گلوچ اور ایک دوسرے کو نیچے دیکھا نے پر ہوتاہے ۔ جب تک ہم اپنی زندگی میں اور حکومت میں دین کو مکمل طور پر شامل نہیں کرے گے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کو فالو نہیں کرے گے تب تک ہم مُلک کو ترقی پر نہیں پہنچا سکتے ہیں