31/08/2026
۱۷ (17) ربیع الاول، ۷۱۵ یا ۶۴۳ ہجری
یوم وصال شریف
خواجہِ خواجگان، درویشِ کامل
حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی
قدس سرہ العزیز
حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی کا تعلق "انجیر فغنہ" نامی گاؤں سے تھا جو بخارا سے تین فرسنگ دور قصبہ واہکنہ سے متصل تھا - آپ کا ابتدائ زمانہ واہکنہ میں گزرا جہاں آپ نے علومِ ظاہری کی تکمیل فرمائ -
آپ کا ذریعہِ معاش گلکاری تھا - آپ نے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بیعت فرمائ اور ساری عمر ان کی خدمت میں رہ کر مرتبہِ کمال کو پہنچے اور مرتبہِ خلافت پر فائز ہوئے - چنانچہ حضرت خواجہ محمود انجیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے واہکنہ میں مقیم رہ کر طالبانِ حق کی تربیت و راہنمائ کا فریضہ سر انجام دیا -
آپ نے طریقہ نقشبندیہ کی روش کے برعکس "ذکر جہر" شروع کیا کیونکہ آپ کے خیال میں یہ مصلحتِ وقت کا تقاضا تھا - آپ سے دریافت کیا گیا کہ:
آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں"؟
تو آپ نے فرمایا:
"تا کہ سویا ہوا بیدار ہو جائے، غافل آگاہ ہو جائے اور شریعت و طریقت پر استقامت اختیار کر کےاس راہ پر آئے اور اس میں حقیقی توبہ و انابت کی رغبت پیدا ہو جائے" -
نیز فرمایا:
"ذکرِ جہر اس شخص کے لئے مناسب ہے جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے پاک ہو، حلق شبہ و حرام کے لقمہ سے صاف ہو، دل ریا سے منزہ ہو اور ذہن ماسواء اللہ کے خیال سے خالی ہو" -
آپ کے خلیفہ و جانشین حضرت خواجہ علی رامیتنی سے روائت ہے کہ ایک مرتبہ ایک درویش نے حضرت خواجہ خضر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ دور حاضر کے مشائخ میں سے ایسا کون ہے جس کی اقتداء کی جائے تو انہوں نے جواب دیا "حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی" -
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے سالِ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے - بعض روایات میں ۷۱۵ ہجری جبکہ بعض روایات میں ۶۴۳ ہجری کا سنہ آیا ہے -
آپ کا وصال شریف واہکنہ کے مقام پر ہوا اور وہیں آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ خلائق اور منبعِ فیوض و برکات ہے -
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
Muhammad Adnan Rizvi Official