GMN Urdu

GMN Urdu GMN URDU is a Digital Media Plateform of Gilgit Baltistan Where we Share all the latest Stories.

Disclaimer: The opinions and/or views expressed on our digital media platforms do not in any way reflect the views of GMN they are posted on, other sites affiliated with the site, the staff involved in maintaining the site or any members of the site.

22/05/2026

گلگت بلتستان کی خواتین مریم نواز سے بہت متاثر ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ جس طرح پنجاب میں ترقیاتی کام ہوئے، اگر یہاں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت آتی ہے اور حافظ حفیظ الرحمٰن دوبارہ چیف منسٹر بنتے ہیں تو گلگت بلتستان میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے کو ملے گی۔”

بشرہ پیرزادہ، صدر وومن ونگ پاکستان مسلم لیگ ن گلگت ڈویژن نے فضل ودود کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی

22/05/2026

ن لیگ اس وقت تیسرے نمبر پر ہے، غیر جمہوری طریقے سے آگے لانے کی کوشش کی گئی تو عوام خاموش نہیں رہے گی، گلگت بلتستان میں حقیقی اصلاحات صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے کیں، کسی اور جماعت کا نام تک اس فہرست میں شامل نہیں، سینئر وائس پریزیڈنٹ پیپلز پارٹی جمیل احمد کی ندیم خان کے پروگرام میں گفتگو

21/05/2026

سونیکوٹ یوتھ کی جانب سے تردیدی بیان

جے ایس آر (JSR) روڈ اپڈیٹعوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جے ایس آر (JSR) روڈ شنگس کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی ...
21/05/2026

جے ایس آر (JSR) روڈ اپڈیٹ

عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جے ایس آر (JSR) روڈ شنگس کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی طور پر بند تھی، تاہم اب شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔
مزید معلومات کے لیے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں ۔

(ترجمان گلگت بلتستان پولیس)

20/05/2026

پاکستان نظریاتی پارٹی گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں کتنی نشستیں حاصل کر پائے گی اور ان کا منشور گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا ہے؟ دیکھیے چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی شہیر سیالوی کی شکیل عالم کے پروگرام میں گفتگو۔

20/05/2026

شعر و سخن کی محفل شاعر عبید ثاقب کے ساتھ پروگرام "بردیئی تارے" میں ، سیاسی گہما گہمی اور الیکشن کے ماحول میں مزاج کی تبدیلی کے لئے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے.

کے آئی یو گرینڈ ڈیبیٹ کا تنقیدی جائزہتحریر:: امجد حسین برچہگزشتہ دنوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ کیمپس کے زیرِ اہتم...
20/05/2026

کے آئی یو گرینڈ ڈیبیٹ کا تنقیدی جائزہ
تحریر:: امجد حسین برچہ
گزشتہ دنوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ کیمپس کے زیرِ اہتمام ہنزہ سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو ”میرا انتخاب کیوں؟“ کے عنوان سے مباحثے کا موقع دیا گیا، جس میں تقریباً تمام امیدواروں نے شرکت کی، تاہم مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار شریک نہیں ہوئے۔
انتخابی عمل جمہوریت کی بنیادی اکائی ہے اور ترقی یافتہ معاشروں میں اس نوعیت کے مباحثوں کا انعقاد کرکے امیدواروں کی صلاحیت، بصیرت، کارکردگی اور مستقبل کے وژن کے حوالے سے ووٹرز کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ عوام اپنے نمائندوں کے انتخاب میں بہتر فیصلہ کر سکیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی انتظامیہ کی یہ کاوش یقیناً قابلِ ستائش تھی، تاہم اس میں بعض نقائص موجود تھے جبکہ کچھ امیدواروں اور شرکاء کی جانب سے بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا، جن کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے مباحثوں میں ان مسائل سے بچا جا سکے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب آپ گلگت بلتستان اسمبلی کے امیدواروں کو اس نوعیت کا فورم فراہم کرتے ہیں تو انہیں اپنی کارکردگی، مسائل، ان کے حل اور مستقبل کے وژن پر تفصیل سے بات کرنے کا مناسب موقع بھی دینا چاہیے۔ یہاں ہر امیدوار کو صرف چھ منٹ کا وقت دیا گیا، جو ہنزہ کے مسائل بیان کرنے کے لیے بھی ناکافی تھا۔ جب مسائل کا مکمل ذکر ہی نہ ہو تو ان کے حل پر بات کیسے ممکن ہے؟ اسی طرح وژن بیان کرنے کے لیے بھی مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں، جب صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو فورم مہیا کیا جا رہا تھا تو شرکاء کی تعداد اور معیار بھی اسی سطح کا ہونا چاہیے تھا۔ یہاں زبردستی بٹھائے گئے چند طلبہ و طالبات اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے چند افراد ہی دکھائی دیے۔ نہ کوئی نمبردار موجود تھا، نہ سول سوسائٹی کی کوئی قابلِ ذکر شخصیت، اور نہ ہی کوئی دانشور۔ اس طرح کے مباحثوں میں کم از کم ہر گاؤں سے چند افراد کی شمولیت یقینی بنائی جانی چاہیے تھی تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آتی۔
اس موقع پر بار بار اعلان کیا جا رہا تھا کہ یونیورسٹی مالی مشکلات کا شکار ہے اور امیدوار حسبِ توفیق مالی تعاون کریں۔ اگر اس طرح کی تقریبات کے لیے یونیورسٹی کو فنڈز کی کمی کا سامنا تھا تو پہلے فنڈ ریزنگ یا کسی این جی او سے مالی تعاون حاصل کرکے پروگرام کو زیادہ مؤثر اور باوقار بنایا جا سکتا تھا۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کا حوصلہ، برداشت اور ظرف بڑا ہونا چاہیے۔ تقریب کے دوران بعض سیاسی افراد کا رویہ درست نہیں تھا، لیکن سیاسی رہنماؤں کا فوری ردِعمل بھی مناسب نہیں تھا، بالخصوص کرنل (ر) امتیاز الحق کا۔ جب کوئی شخص سیاست میں آتا ہے تو اسے کارکنوں، ووٹرز، سپورٹرز اور بالخصوص مخالفین کی تنقید برداشت کرنا پڑتی ہے۔ سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں صرف ”یس سر“ نہیں چلتا، بلکہ بعض اوقات سخت جملے بھی سننے پڑتے ہیں۔ یہاں تنقید کا جواب برداشت، بردباری اور تحمل سے دینا ہوتا ہے۔
ووٹرز کسی کے غلام نہیں ہوتے اور نہ ہی مخالفین سے دشمنی ہمیشہ رہتی ہے۔ حمایت اور مخالفت دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ بہرحال شرکاء کو بھی چاہیے کہ وہ بات تحمل سے سنیں اور اگر کوئی سوال ہو تو اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں۔ سیاسی رہنماؤں کی تذلیل کی کوشش کسی صورت درست نہیں، کیونکہ نہ ہماری تربیت اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہماری روایات اس کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس گرینڈ ڈیبیٹ میں کچھ امیدواروں نے ایسے ایسے دعوے کیے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ اگر واقعی ان میں اتنی صلاحیت، جوش و جذبہ اور کام کرنے کی طاقت موجود ہے تو پھر وہ صرف اسمبلی کا ممبر بن کر ہی کیوں کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ اتنی صلاحیتوں کے باوجود ہنزہ کی مخدوش صورتحال، عوامی محرومیوں اور احساسِ محرومی پر تماشائی کیوں بنے رہے؟
ویسے تو میں ذاتی طور پر تمام امیدواروں کو اچھی طرح جانتا ہوں، لیکن کے آئی یو کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس مباحثے میں جس انداز کے دعوے کیے گئے، وہ تو شاید پاکستان کے وزیرِ اعظم کے اختیار میں بھی نہ ہوں۔
تاہم اس مباحثے میں استحکام پاکستان پارٹی کے نامزد امیدوار ایمان شاہ نے ایک ایسی بات کی جو دل کو چھو لینے والی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“انتخابات کے دن، بالخصوص پولنگ بوتھ میں جا کر ٹھپہ لگانے کے وہ دس سیکنڈ صرف ووٹر کے اپنے ہوتے ہیں، لیکن انہی دس سیکنڈ کے فیصلے کی بنیاد پر اگلے پانچ سال یا تو رگڑا کھانا پڑتا ہے یا سکون کا سانس لینا نصیب ہوتا ہے۔”
میں اسی گزارش کے ساتھ اس تحریر کا اختتام کروں گا کہ ووٹ کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر دیں۔ جھوٹے دعوؤں اور جذباتی نعروں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے مستقبل اور علاقے کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔

ڈائریکٹر جنرل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) گلگت بلتستان، محمد عالم نے عوام اور مستحقین کے مسائل سننے اور مختلف بی آئ...
20/05/2026

ڈائریکٹر جنرل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) گلگت بلتستان، محمد عالم نے عوام اور مستحقین کے مسائل سننے اور مختلف بی آئی ایس پی اقدامات سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک ای کچہری (E-Kachehri) کا انعقاد کیا۔

ای کچہری کے دوران بی آئی ایس پی کے تمام اہم پروگرامز اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی طور پر بی آئی ایس پی سیونگ اسکیم کے حوالے سے عوام کو آگاہ کیا گیا اور اس اسکیم کے فوائد، مالی تحفظ، اور مستحق خاندانوں کی بچت کے فروغ میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

ای کچہری کے دوران ڈی جی بی آئی ایس پی گلگت بلتستان محمد عالم نے بی آئی ایس پی کے نظام میں شفافیت، میرٹ، اور مستحقین کو بروقت سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ شفاف اور جدید نظام کے ذریعے مستحق خاندانوں کی خدمت کو یقینی بنا رہا ہے تاکہ امدادی رقوم کی فراہمی میں کسی قسم کی بدعنوانی یا کٹوتی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے بی آئی ایس پی ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹ کی اہمیت پر بھی خصوصی زور دیا اور بتایا کہ یہ نظام اب فعال ہو چکا ہے، جس کے ذریعے مستحقین کو مزید آسان، محفوظ، اور شفاف انداز میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ سسٹم کے ذریعے خواتین مستحقین اپنی امدادی رقوم براہِ راست وصول کر سکیں گی، جس سے ادائیگیوں کے نظام میں بہتری اور سہولت پیدا ہوگی۔

ای کچہری کے دوران عوام اور مستحقین کی جانب سے مختلف سوالات اور شکایات بھی پیش کی گئیں، جن کے فوری حل اور مناسب رہنمائی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ آخر میں ڈی جی بی آئی ایس پی گلگت بلتستان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی آئی ایس پی کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کسی بھی شکایت یا رہنمائی کے لیے متعلقہ دفاتر اور سرکاری ذرائع سے رابطہ کریں۔

*دیامر: تھور میں پاک فوج کی جانب سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد*دیامر کے علاقے تھور ویلی میں پاک فوج کی جانب سے مقامی آباد...
19/05/2026

*دیامر: تھور میں پاک فوج کی جانب سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد*

دیامر کے علاقے تھور ویلی میں پاک فوج کی جانب سے مقامی آبادی کے لیے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔

کیمپ میں ماہر ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کی ٹیم نے مریضوں کو مفت طبی معائنہ فراہم کیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

میڈیکل کیمپ کے دوران سرجری، میڈیسن، گائناکالوجی اور جنرل او پی ڈی سمیت مختلف شعبوں میں سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا گیا۔

مقامی آبادی نے پاک فوج کے اس اقدام کو بھرپور سراہا اور صحت کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔

19/05/2026

گلگت( پ ر)

گلگت حلقہ 2 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عتیق پیرزادہ کا سکوار میں شاندار پاور شو، جس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور عوام نے بھرپور شرکت کی۔
جلسے کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور بانی چیئرمین عمران خان کے حق میں نعرے
اس موقع پر نمبردارِ اعلیٰ اور سکوار یوتھ نے سکوار کو درپیش عوامی مسائل، بالخصوص پانی کی شدید قلت کے حوالے سے نامزد امیدوار کو آگاہ کیا۔
سکوار یوتھ اور عوام نے آمدہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عتیق پیرزادہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف سکوار بلکہ پورے حلقے میں گھر گھر انتخابی مہم چلانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقعے پر پی ٹی آئی حلقہ 2 کے نامزد امیدوار عتیق پیرزادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے گلگت شہر اور سکوار/مناور کے لیے ایک ارب روپے مالیت کے گریٹر واٹر سپلائی منصوبے کی منظوری دی تھی، تاہم ایک ممبر کی نااہلی اور دوسرے کی بدنیتی کے باعث یہ منصوبہ یہاں سے منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ گرائی جاتی تو آج سکوار سمیت گلگت شہر کے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ سکوار کے عوام، سکوار یوتھ اور تمام ذمہ داران کا شکریہ بھی ادا کیا۔

19/05/2026

پیٹرول مہنگائی اور کلائمیٹ چینج کے حل کی جانب اہم قدم،یونیکورن ای ویہیکلز فلیگ شپ سٹور کا افتتاح

Address

Near Press Club River View Road Gilgit
Gilgit
15100

Telephone

+923469215252

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GMN Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to GMN Urdu:

Share