Karim Mayur - کریم مایور

Karim Mayur - کریم مایور karim mayur

فنگر پرنٹس قدرت الٰہی کا شاہکاراللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ اور اللہ رب العزت نے ہمارے اند...
07/11/2018

فنگر پرنٹس قدرت الٰہی کا شاہکار

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ اور اللہ رب العزت نے ہمارے اندر بے شمار چیزیں مشترک پیدا کی ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو کہ کسی بھی صورت ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتیں۔ جیسا کہ انسان کی انگلیوں کے نشانات۔ چاہے کروڑوں انسانوں کا ہی آپ تجزیہ کرلیں لیکن ایک انسان کے بھی فنگر پرنٹس آپ کو ایک جیسے نہیں ملیں گے۔بے شک یہ اللہ کی شان قدرت ہے۔ جس کا ہم شائد تصور ہی کرسکتے ہیں۔ سبحان اللہ۔آئیے اپنے پیج کے دوستوں کو انگلیوں کے نشانات کے بارے میں کچھ حیرت انگیز معلومات دیتے ہیں۔
شائد آپ یہ حیرت انگیز بات بھی نہ جانتے ہوں کہ ہمارے نشانِ انگشت (فنگر پرنٹ) ایک دفعہ مٹنے کے بعد دوبارہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نشانِ انگشت کی جڑیں ہماری جلد کے نیچے موجود تین تہوں تک جا پہنچتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشانِ انگشت عموماً مجرم تک پہنچنے کا اہم ذریعہ بن جاتے ہیں۔ عمومًا مستریوں یا اینٹوں کا کام کرنے والوں کے نشانِ انگشت مٹتے اور بنتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ کام چھوڑیں، ان کے ہاتھوں میں مستقل نشان ثبت ہو جاتے ہیں۔
لیکن جلد کو کسی وجہ سےگہرائی تک نقصان پہنچے یا وہ جل جائے تو پھر نشانِ انگشت دوبارہ نہیں بنتے۔ ۱۹۳۰ء میں ایک برطانوی چور جان ڈلنگر نے کوشش کی تھی کہ وہ تیزاب سے اپنے نشان مٹا ڈالے لیکن ناکام رہا۔ بچ جانے والے نشانِ انگشت ہی نے آخرکار اُسے گرفتار کروا دیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ماں کے پیٹ میں حمل کے چوتھے مہینے میں جنین کی انگلیوں پر نشانات بنتے ہیں ،جوپھر پیدائش سے لے کر مرنے تک ایک جیسے رہتے ہیں۔انگلیوں کے نشان ،آڑھی ترچھی ،گول اورخمدار لکیروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو انسان کی جلد کے اندرونی وبیرونی حصّوں کی آمیزش سے بنتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی پہچان اور شناخت کے لیے ہاتھ کی لکیریں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔مگر اس بات کا بنی نوع انسان کو پتہ نہیں تھا۔تاہم دو سو سال پہلے انگلیوں کے نشانات اس قدر اہم نہ تھے کیونکہ انیسویں صدی کے آخر میں یہ بات دریافت ہوئی تھی کہ انسانوں کی انگلیوں کے نشان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
1880ء میں ایک انگریز سائنس دان Henry Fauldsنے اپنے ایک مقالے میں جو ''نیچر''نامی جریدے میں شائع ہوا ،اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ لوگوں کی انگلیوں کے نشان عمر بھر تبدیل نہیں ہوتے اوران کی بنیاد پر ایسے مشتبہ لوگ جن کی انگلیوں کے نشان کسی شے پر مثلاًشیشے وغیرہ پر رہ جاتے ہیں' مقدمہ چلایا جاسکتاہے۔ ایسا پہلی بار 1884ء میں ہوا کہ انگلیوں کے نشانات کی شناخت کی بناپر ایک قتل کے ملز م کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس دن سے انگلیوں کے نشانات شناخت کا نہایت عمدہ طریقہ بن گئے ہیں۔تاہم 19ویں صدی سے قبل غالباً لوگوں نے بھول کر بھی نہ سوچاہو گا کہ ان کی انگلیوں کے نشانات کی لہر دار لکیریں بھی کچھ معنی رکھتی ہیں اوران پر غور بھی کیا جاسکتا ہے۔
جدید سائنس نے حال ہی میں انکشاف کیاہے کہ جرائم کی تحقیقات میں پولیس کو بہت جلد انگلیوں کے نشانات سے لوگوں کے طرززندگی کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی جن کی مدد سے انہیں مجرم تک پہنچنے میں بہت مدد ملے گی۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق سے ایسے امکانات پیداہوئے ہیں جن سے سگریٹ نوشی 'منشیات کے استعمال یا انگلیوں کے نشانات میں عمر کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتا چلایا جا سکتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی انگلیوں کی لکیروں میں جو راز پنہاں رکھا ہے وہ اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نے جو بے مثال انجنیئرنگ اور ڈیزائنگ صرف چند مربع سینٹی میٹر کے رقبے میں کی ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ انسان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی چھوٹی سی جگہ کے اندر اربوں ، کھربوں نمونے تیار کیے جا سکتے ہیں۔
بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور دنیا میں اس کی قدرت کے بے شمار نمونے ہیں صرف غور کرنے کی ضرورت ہے۔

01/11/2018
08/06/2018

ــــــــــ جوتے ـــــــ

گزشتہ سال کراچی میں ہم نے ایک خوبصورت پھڈا دیکھاـ
ہوا کچھ یوں صاحب کہ ایک خوبصورت برقعہ پوش حسینہ کوکسی دل جلے نوجوان نے اپنے طویل کنوارے پن سے مجبور ہو کر سر راہ محبت کے چند الفاظ بول دیئے تھے جو اس شعلہ نشین مہہ جبین اور پردہ نشین خاتون پر ناگوار گزرے جس کے ردعمل میں دونوں کے گرد کافی لوگ جمع ہوگئے تھےـ موصوفہ شدت جذبات اور غصے کی وجہ سے نوجوان کو ایک ہی لفظ بول رہی تھی کہ "اُتارو جوتا" عقل ٹھکانے آجائے گا؟ میں بھی تماشا دیکھنے ذرا قریب ہوگیا .
اس مجمع میں تین طرح کے لوگ تھے
اول تو وہ ہیروز تھے جو اس حسینہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار کھڑے تھےـ موصوفہ کا جوتا تو شاہد سنانے کا تھا اور کھلانے جوتے ان ہیروز کے پاس تھے ـ
دوسرا گروہ ان تاڑو حضرات کا تھا جو اس اُمید پر کھڑے تھے کہ کب اس حسینہ کا جوتا اُترے اور ہم درشن پاوں سے فیض یاب ہوسکیں ـ جب کہ تیسرا گروپ انتہا پسندوں کا تھا جو کہ منتظر تھے کہ کب بات جوتا اُتارنے سے آگے بڑھےـ
افسوس کہ عشاق حضرات کے ساتھ اب تک جو ہوا ہے وہ ظالم سماج کے ہاتھوں ہوا ہے ـ عاشق کبھی بھی اپنی محبوبہ کے خوبصورت ہاتھوں سے نہیں مراـ اس نئے عاشق کا بھی اُن ہیروز نے وہ حشر کیا کہ ہمیں یہ شعر یاد آگیا ــ
رقیب کیوں نہ ہو محرم تمہارا اے صاحب
مثل ہے پیٹ کہیں چھپ سکا ہے دائی سے

#تُکبندیاں

19/02/2017

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عقاب چالیس سال کی عمر میں کیا کرتا ہے؟
آئیں آج ہم آپ کو ایک دلچسپ حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں ۔
ایک عقاب کی عمر 70سال کے قریب ہوتی ہے۔
اس عمر تک پہنچنے کے لیے اسے سخت مشکلات سے گزرنا ہو تا ہے۔
جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو اس کے پنچے کند ہو جاتے ہیں جس سے وہ شکار نہیں کر پاتا
اسی طرح اس کی مظبوط چونچ بھی عمر کے بڑھنے سے شدید ٹیڑھی ہو جاتی ہے
اس کے پر جس سے وہ پرواز کرتا ہے بہت بھاری ہو جاتے ہیں اور سینے کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے اڑان بھرنے میں اسے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ان سب مشکلات کے ہوتے ہوے اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں یا تو وہ موت کو تسلیم کر لے یا پھر 150 دن کی سخت ترین مشقت کے لیے تیار ہو جائے۔
چنانچہ وہ پہاڑوں میں جاتا ہے ۔
اور سب سے پہلے اپنی چونچ کو پتھروں پہ مارتا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔
کچھ دن بعد جب نئی چونچ نکلتی ہے تو وہ اس سے اپنے سارے ناخن جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔
پھر جن اس کے نئے ناخن نکل آتے ہیں وہ وہ چونچ اور ناخن سے اپنا ایک ایک بال اکھاڑ دیتا ہے۔
اس سارے عمل میں اسے پانچ ماہ کی طویل تکلیف اور مشقت سے گزرنا ہوتا ہے۔
پانچ ماہ بعد جب وہ اڑان پھرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ تیس سال مزید زندہ رہ پاتا ہے۔
عزیز قارئین !
عقاب کی زندگی اوران ساری باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے بعض دفعہ ہمارے لیے اپنی زندگی کو بدلنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم اس سے بہتر زندگی گزار سکیں اگرچہ اس زندگی کو بدلنے کے لیے ہمیں سخت جد وجہد کیوں نا کرنی پڑے۔
عربی ادب سے ماخوذ

07/01/2017

اگر کوئی آن پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال میں خوش رہتی ہے ۔۔۔
اگر وہ اپنی بوڑھی ساس کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ کھانے کو دیتی ہے
اگر وہ سسر کے سونے پر اپنے بچوں کو شور کرنے سے روکتی ہے ۔
اگر وہ اپنی نندوں کی شادی پر اپنے جہیز کا سامان دیتی ہے۔
اگر وہ خاوند کے گھر آنے پر مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتی ہے اور اس کی تواضع ٹھنڈے مشروب سے کرتی ہے تو میرے خیال میں وہ آن پڑھ نہیں بلکہ ماسٹرز ان سائیکلوجی ہے ۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ ایک بار پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتی اور اسے بار بار بھوک لگتی ہے ۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ بوڑھاپے میں غصہ جلدی آتا ہے اور نیند ٹوٹنے پر تو بےحد آتا ہے
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا سسرال بہت سی چیزیں خریدنا افورڈ نہیں کر سکتا ،
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرا شوہر باہر کے سرد وگرم سے نبردآزما ہوکے آ رہا ہے ۔
اگر ہر لڑکی اسی طرح اپنے سسرال میں موجود افراد کی نفسیات سمجھ لے اور مشکلات کو تدبیر سے حل کرنے لگے تو بہت سے مسائل جنم لینے سے پہلے ہی وفات پا جائیں اور خوشیوں کی پھوار ہر سمت سے برسنے لگے ۔
کیا ہم اپنے گھروں کا ماحول ایسا بنا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم اپنی بیٹی کی تربیت اس لہج پہ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو یاد رکھیے ۔ ایک دن اپکی بہو بھی ایسی ہی آ جائے گی ۔۔
🔙مزید اچھی اچھی پوسٹ کیلئے پروفائل دیکھیں شکریہ

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karim Mayur - کریم مایور posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Karim Mayur - کریم مایور:

Share