27/06/2026
تحریر: تقی آخوند زادہ
اگرچہ میں امجد حسین کی اس سیاسی کاوش کو سراہتا ہوں جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اپنی کمزور ہوتی ہوئی سیاسی پوزیشن کو بحال کرنے میں کامیاب ہوئی، تاہم ان کی جانب سے تاحال حلف نہ اٹھانا اور باضابطہ طور پر وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے گریز کرنا میرے لیے باعثِ حیرت ہے۔
گلگت بلتستان کے مالی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات ایک فعال اور بااختیار انتظامی سربراہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے حالات میں آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تاخیر نہ صرف غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہے بلکہ حکومتی ترجیحات اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے بھی جائز سوالات اٹھاتی ہے۔
عوامی عہدہ محض ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی جانب سے سونپی گئی ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ عوام کے مینڈیٹ اور پارٹی کے اعتماد کا تقاضا ہے کہ اس منصب کی ذمہ داریاں بروقت اور مؤثر انداز میں سنبھالی جائیں۔
گلگت بلتستان اس وقت متعدد چیلنجز سے دوچار ہے اور اسے واضح سمت، سیاسی استحکام اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ یہ صورتحال جلد واضح ہوگی اور تمام فیصلے عوام اور خطے کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔اگر امجد حسین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عاشورۂ محرم کے بعد حلف اٹھانے کے منتظر ہیں، تو یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا بنیادی مقصد دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تحفظ، عدل و انصاف کا قیام، اور نااہل و جابر حکمرانی کے خلاف جدوجہد تھا۔ اسی تناظر میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود وہ اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کو سنبھالنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں۔