District Gujrat

District Gujrat District Govt Gujrat is the first District social media page by the District Govt Gujrat to update Gujrat People about District Gujrat Specially.

The People of Gujrat can participate there with his poetry, columns, news, views and his local advertisements like Mehfil-e-Naat, Religious Event, School/College Activities, Political Adverts and much more you want to publish with your district. Visit Our Website which has the same capacity of socialize your self/business www.districtgujrat.com

جب چھوٹے بچے یا بچیاں اکیلے دکان پر/// سامان لینے جائیں، توانہیں درج ذیل باتیں لازمی سکھانی چاہئیں:///1. دکان پر کھڑے ہو...
02/07/2026

جب چھوٹے بچے یا بچیاں اکیلے دکان پر/// سامان لینے جائیں، توانہیں درج ذیل باتیں لازمی سکھانی چاہئیں:///
1. دکان پر کھڑے ہونے کی صحیح جگہ (سب سے اہم)//
کاؤنٹر کے باہر رہیں: بچوں کو واضح طور پر بتائیں کہ انہیں ہمیشہ دکان کے کاؤنٹر یا گلے کے باہر، پبلک جگہ پر کھڑے ہونا ہے۔ ////

کبھی بھی دکان کے اندر، پردے کے پیچھے، یا کاؤنٹر پار کر کے ایسی جگہ نہیں جانا جہاں سے باہر کھڑے لوگ انہیں دیکھ نہ سکیں۔///

فاصلہ رکھیں: دکاندار یا دوسرے گاہکوں سے ایک مناسب فاصلہ (کم از کم دو ہاتھ کی// دوری) رکھ کر کھڑے ہوں۔//

راستہ کھلا رکھیں: ہمیشہ ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں سے بھاگنے یا باہر نکلنے کا راستہ بالکل صاف ہو۔l///

2. بات چیت کا طریقہ اور لہجہ///

مضبوط اور اونچی آواز:

بچوں کو سکھائیں کہ دکاندار سے بات کرتے ہوئے ڈرنے یا شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی بات (سامان کا نام) بالکل صاف اور اتنی اونچی آواز میں کہیں کہ آس پاس کے لوگوں کو بھی سنائی دے۔

فضول باتوں سے گریز: ///

دکاندار کو صرف کام کی بات بتائیں، اپنے گھر کے حالات، امی ابو کہاں ہیں، یا گھر میں کون کون ہے، ایسی معلومات دکاندار یا کسی بھی اجنبی کو بالکل نہ دیں۔///

3. "ناں" کہنے کی عادت (آپ کی بتائی ہوئی بات)
متبادل کا انتخاب: جیسا کہ آپ نے اس بچی کو سمجھایا، بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالیں کہ اگر کوئی دکاندار بدتمیزی کرے، غصہ دکھائے،///

سامان دینے میں جان بوجھ کر دیر کرے، یا دکان کے اندر بلائے، تو وہاں کھڑے رہنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ فوراً کہیں: "مجھے نہیں چاہیے" اور دوسری دکان پر چلے جائیں۔

چیزیں واپس کرنا://

اگر دکاندار خراب چیز دے یا پیسے پورے واپس نہ کرے، تو وہیں کھڑے ہو کر بحث کرنے کے بجائے چیز وہیں چھوڑیں اور گھر آ کر بڑوں کو بتائیں۔//

4. جسمانی حفاظت اور "نو ٹچ" (No Touch) اصول
ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں: بچوں کو سختی سے سمجھائیں کہ دکاندار ہو یا کوئی گاہک، کسی کو بھی انہیں پیار سے یا کسی اور بہانے سے ہاتھ لگانے، ۔
کندھے پر ہاتھ رکھنے، یا گال تھپتھپانے کی اجازت نہیں ہے۔

کوئی چیز مفت نہ لیں:///

اگر دکاندار اپنی طرف سے کوئی ٹافی، چاکلیٹ یا آئس کریم مفت میں دے، تو وہ ہرگز نہ لیں۔

5. سامان لینے اور پیسے دینے کا طریقہ

پیسے پہلے سے تیار رکھیں: ////

دکان پر جا کر جیبوں یا پرس سے پیسے ڈھونڈنے کے بجائے، گھر سے ہی پیسے ہاتھ میں یا کسی محفوظ جیب میں رکھ کر جائیں۔
///
سامان لے کر فوراً واپسی:

جیسے ہی دکاندار سامان اور باقی پیسے دے، انہیں وہیں کھڑے ہو کر گننے یا دیکھنے کے بجائے سیدھا گھر کا رخ کرنا چاہیے، یا کسی محفوظ جگہ (جہاں ہجوم ہو) کھڑے ہو کر دیکھنا چاہیے۔
۔
والدین کے لیے ایک چھوٹی سی مہم:

شروع شروع میں بچوں کو اکیلے بھیجنے کے بجائے، خود ان کے ساتھ جائیں اور دور کھڑے ہو کر ان پر نظر رکھیں۔

جب وہ دکان کے باہر کھڑے ہو کر صحیح طریقے سے سامان لے لیں، تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

آپ کا یہ طریقہ بچوں میں خود اعتمادی بھی پیدا کرے گا اور وہ ہر قسم کے حالات سے باخبر رہیں گے۔۔///

اس پیغام کو لازمی آگے شیر کریں
ہر ماں باپ تک اس پیغام کو پہچنا///

fans

Remembering the legacy of  ,   and
25/06/2026

Remembering the legacy of , and

28/05/2026

Eid Mubarak from Qatar StepUp
(Sponsored Ad)

#2026

پرکاش ٹنڈن کی پرانی گلیاںاز: عامر مفتیمحلہ کھاری کھوئی کی گلیوں میں، جہاں پرکاش ٹنڈن کی یادیں اب بھی خاموش دیواروں کے سا...
09/05/2026

پرکاش ٹنڈن کی پرانی گلیاں

از: عامر مفتی

محلہ کھاری کھوئی کی گلیوں میں، جہاں پرکاش ٹنڈن کی یادیں اب بھی خاموش دیواروں کے ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں، وقت ایک عجیب ٹھہراؤ کے ساتھ گزرتا ہے۔ ان گہری اور نیم تاریک گلیوں میں، ہندو عہد کے پرانے مکان، گول کنویں، تنگ راستے اور جھروکوں والی عمارتیں آج بھی ماضی کے موسموں کی خوشبو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہیں۔

ایک طویل زمانہ بیت چکا، مگر ان گلیوں کے نام آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے تقسیم سے پہلے تھے۔ نئی نسلوں نے بھی ان ناموں کو محض پتوں کی علامت نہیں سمجھا بلکہ انہیں اپنے باطن کے نوستالجیہ اور تہذیبی وابستگی کے طور پر سنبھال رکھا ہے۔ محلہ کھاری کھوئی دراصل اس قدیم ہندو عہد کی ایک باقی ماندہ علامت ہے، جہاں وقت کی تہیں ایک دوسرے پر جمی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

شاہدولہ روڈ کے بالمقابل اور پولیس چوکی کے قریب واقع بازار سے ایک راستہ اس محلے کی طرف مڑتا ہے۔ اس راستے کے کنارے پرانی انگریزی بیکری کی عمارت آج بھی خاموش کھڑی ہے، جبکہ بٹاشوں، خشک میوہ جات اور مٹھائیوں کی دکانیں اس گزرگاہ کو ایک مخصوص تہذیبی رنگ دیتی ہیں۔

اسی راستے پر بائیں جانب ماسٹر خالد شوکت کا گھر تھا۔ وہ پبلک ہائی اسکول نمبر 1 کے استاد تھے—ایک نرم دل، شفیق اور محبت کرنے والے انسان۔ بورڈ اور یونیورسٹی کے نتائج کے دنوں میں ان کے گھر کے باہر طلبہ کا ہجوم لگا رہتا۔ ہر کوئی اپنے مستقبل کی خبر سننے کے لیے بے تاب ہوتا، اور ماسٹر خالد شوکت اپنے مخصوص تحمل اور شفقت کے ساتھ ان نوجوان چہروں کو دیکھتے۔

محلہ کھاری کھوئی اپنے اطراف میں شادی بیاہ کے بڑے بینڈوں، پتنگ فروشوں، کبوتروں کی دکانوں اور اسٹیشنری کی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے گھرا ہوا تھا۔ انہی میں ایک دکان غوری صاحب کی بھی تھی، جو قدرے کم سنتے تھے مگر ان کی نگاہ بڑی تیز اور شخصیت منفرد تھی۔

بائیں جانب مڑتی ہوئی گلی محلہ قانون گوئیاں کی طرف جاتی تھی جہاں ڈاکٹر رمضان کا کلینک واقع تھا۔ ڈاکٹر رمضان اپنی وضع قطع میں لیاقت علی خان سے اس قدر مشابہت رکھتے تھے کہ لوگ اکثر انہیں دیکھ کر چونک جاتے۔ ان کا لمبا نیلا کوٹ، خاموش چال اور سنجیدہ چہرہ ایک پرانی سیاسی تصویر کا گمان دلاتا تھا۔

کلینک کے ساتھ بلو کا تنور تھا، جہاں سے ہر وقت گرم روٹیوں کی خوشبو اٹھتی رہتی۔ وہیں ایک نیلی آنکھوں والی بھاری بھرکم لڑکی اکثر دکھائی دیتی، جو اس سارے منظر کا ایک مستقل حصہ معلوم ہوتی تھی۔

اسی راستے سے ایک گلی دائیں طرف مڑتی اور ایک تاریک گزرگاہ میں داخل ہو جاتی، جہاں کالے پرندوں کے گھونسلے پرانی دیواروں کے ساتھ لٹکے دکھائی دیتے تھے۔ انہی گھروں کے سامنے پرکاش ٹنڈن کا تین منزلہ مکان ایستادہ تھا۔

پرکاش ٹنڈن ایک غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے—ایک کامیاب منتظم، ثقافت شناس اور یادداشتوں کو محفوظ رکھنے والے شخص۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری تین جلدوں میں ایک نیم افسانوی انداز میں لکھی۔ وہ ڈائری نویسی کے عادی تھے اور ماضی کے کسی منظر، کسی آواز یا کسی واقعے کو قلمبند کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔

انہوں نے اپنی معروف کتاب “ہنڈرڈ ایئرز آف پنجاب” میں اپنے گھر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا مکان ایک متوسط طبقے کا مگر منفرد طرز تعمیر رکھنے والا گھر تھا، جس کی ہر منزل پر رنگین شیشوں والی کھڑکیاں اور روشن دان نصب تھے۔

وہ لکھتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے ہندو اور مسلمان اگرچہ الگ محلوں میں رہتے تھے، مگر ان کے محلے میں دونوں برادریاں ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتی تھیں۔ ان کے خاندان کے بزرگوں کے مقامی خاندانوں سے گہرے مراسم تھے، اور اسی وجہ سے ان کے گھر کو محلے میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔

پرکاش ٹنڈن نے گورنمنٹ ہائی اسکول گجرات میں تعلیم حاصل کی، وہی اسکول جہاں ان کے والد اور دادا بھی زیر تعلیم رہے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا خاندان طویل عرصے سے گجرات میں آباد تھا۔

بعدازاں ایک پرانی رجسٹری دستاویز، جو سہیل منظور مفتی کو ملی، اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ مکان لالہ رام داس نے مفتی محمد اقبال کو فروخت کیا تھا۔ رجسٹری کے کاغذات پر دونوں کے دستخط آج بھی ماضی کی ایک خاموش شہادت کے طور پر محفوظ ہیں۔

وقت گزرتا گیا۔ پرکاش ٹنڈن اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے، پھر بمبئی اور دنیا کے مختلف شہروں میں رہے، مگر کھاری کھوئی کی وہ تاریک گلی، وہ پرانا کنواں اور وہ رنگین شیشوں والا گھر ان کے حافظے سے کبھی محو نہ ہو سکے۔

1960ء کی دہائی میں جب وہ پاکستان آئے تو خواہش تھی کہ اپنے پرانے گھر کو دوبارہ دیکھیں، مگر حالات کی کشیدگی کے باعث انہیں مکمل طور پر وہاں جانے نہ دیا گیا۔ وہ بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔

پھر 1976ء میں، رفیق شیخ اور شریف کنجاہی کی دعوت پر وہ دوبارہ گجرات آئے۔ اس وقت وہی مکان ڈاکٹر شاہین مفتی اور ان کے خاندان کے زیر استعمال تھا۔

شاہین مفتی بیان کرتی ہیں کہ ایک گرم دوپہر دروازے کی گھنٹی بجی۔ جب دروازہ کھلا تو سامنے پرکاش ٹنڈن اپنے دو بیٹوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاموش وقار تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی نمی بھی۔

وہ گھر کے اندر گئے، دیواروں کو دیکھا، رنگین شیشوں کو چھوا، اور پھر اس پرانے کنویں کے پاس خاموش کھڑے رہے جو اب زمین کی تہوں میں کہیں دب چکا تھا۔

جب انہیں گھر کا میٹھا پانی پیش کیا گیا تو مذہبی روایتوں کے باعث انہوں نے ہلکا سا تردد کیا، مگر پھر چند گھونٹ پی لیے—جیسے برسوں کی پیاس بجھا رہے ہوں۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ وہ اپنے پرانے گھر میں رہے۔ پھر جب واپس جانے لگے تو گلی میں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، جیسے ان کے قدم اس زمین سے جدا ہونے پر آمادہ نہ ہوں۔

اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی گجرات نہ آئے۔

20 اکتوبر 2004ء کو پونا میں ان کا انتقال ہو گیا، مگر کھاری کھوئی کی گلیاں آج بھی ان کے قدموں کی چاپ سننے کا گمان کرتی ہیں۔

:ایک صدی قبل کا گجراتگجرات میں آگ بجھانے کی کوئی گاڑی نہی تھی۔ آگ لگنا میں نے پہلی دفعہ منڈی میں دیکھا۔ آگ بہت بڑی تھی ا...
17/02/2026

:ایک صدی قبل کا گجرات

گجرات میں آگ بجھانے کی کوئی گاڑی نہی تھی۔
آگ لگنا میں نے پہلی دفعہ منڈی میں دیکھا۔ آگ بہت بڑی تھی اور جس جگہ آگ لگی تھی اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کا گودام تھا۔ آگ بجھانے کے لیے سارا شہر امنڈ پڑا۔ قریبی کنوؤں سے بالٹیوں میں پانی لایا گیا جنہوں نے ایک زنجیر صورت اختیار کر لی تھی۔ آگ پر پانی ڈالا جاتا رہا۔ یہ شدید جنگ گھنٹوں تک جاری رہی۔ گجرات جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں عمارتیں لکڑی اور اینٹوں سے بنی ہوں آگ بڑی ہولناک ہو سکتی ہے۔ ایک تنگ سی گلی کے ایک طرف آگ لگنے سے یہ پورے محلے کو محبوس کر سکتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات بہت کم تھے۔ مجھے آتش زدگی کا کوئی دوسرا واقعہ یاد نہیں پڑتا۔

سبزیاں خریدنے، ریزگاری لینے اور بچوں کا حال احوال پوچھنے کے بعد ہم پھر چل پڑتے تھے اور بڑی گلی میں آ جاتے تھے۔ یہ بڑی دلکش گلی تھی اور بڑی تیزی سے اوپر کو سب سے اونچی جگہ کی طرف جاتی تھی۔ میرے لیے یہ گلی بڑی دلچسپی کا باعث تھی۔

یہاں سوڈا واٹر کی رنگین بوتلوں سے بھری ہوئی دکانوں کی قطاریں تھیں۔ ان بوتلوں میں مصنوعی رنگ اور ذائقے ڈالے جاتے تھے۔ ایک دکاندار کہتا تھا کہ اس کے پاس پچاس سے زائد ذائقے ہیں۔ ان دکانوں کے بعد پھلوں کی دکانیں تھیں۔ اس کے بعد نان بائیوں کی دکانیں آتی تھیں جو آلو، تندوری روٹی، کلیجی، گردے، کباب اور آلو کی ٹکیاں بیچتے تھے۔ یہ سب خاصے کے کھانے تھے جو کوئلوں پر بھونے جاتے تھے یا سیخوں پر تیار کیے جاتے تھے۔ ان کی مہک میرے ناک میں پہنچ کر مجھے بہت للچاتی تھی۔ اس کے بعد حلوائیوں کی دکانیں تھیں جو اور بھی زیادہ للچاتی تھیں۔ مکھیوں اور میرے لیے رنگ برنگی مٹھائیاں بڑی پرکشش تھیں۔ پھر جنرل مرچنٹس کی دکانیں آتی تھیں۔ یہ اکثر بنا بنایا درآمد شدہ سامان بیچتے تھے، جو عموماً انگریزی یا جرمن معلوم ہوتا تھا۔ ان کے تجارتی نام زبانوں پر زیادہ عام تھے۔ اس وقت جاپان ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا تھا۔

ان دکانوں پر ہر قسم کا سامان ملتا تھا جیسے چاقو، چھریاں، سوتی اور ریشمی دھاگے، آئینے، صابن، بوتلوں میں عطر، سر میں لگانے کا تیل، اسپرے، جرابیں، سوتی اور اونی بنے ہوئے کپڑے وغیرہ۔ مقامی چیزوں کے مقابلے میں یہ باہر کا مال زیادہ شاندار سمجھا جاتا تھا۔ ہاتھ سے بنی ہوئی لکڑی کی کنگھیوں کے مقابلے میں ہم باہر کی کنگھیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح مقامی لوہاروں کی ٹھوس فولاد کی بنی ہوئی قینچیوں اور چاقوؤں کے مقابلے لمیں ہم شیفیلڈ اور سولجن کی الیکٹرو پلیٹڈ قینچیوں اور چاقوؤں کو ترجیح دیتے تھے۔ گھر میں بنے ہوئے صابن کے مقابلے میں دوسرے خوشبو دار پئیرز سوپ اور ونولیاصابن بہتر سمجھے جاتے تھے۔

یہ گلی بڑے چوک میں جا کر ملتی تھی، جہاں چاروں گلیاں آ کر آپس میں جڑتی تھیں۔ چوک کے بائیں طرف سناروں کا بازار تھا اور دائیں طرف پنساریوں کی دکانیں تھیں۔ پنساری جڑی بوٹیوں کی دوائیاں بیچتے تھے، مثلاً قلاقند اچار، چٹنیاں، مربے، عرق گلاب، عرق کیوڑا، پستہ، بادام اور کئی اور غیر معمولی سامان۔

قریب ہی سونے اور چاندی کے ورق تیار کرنے کی دکانیں تھیں۔ یہ ورق مٹھائیوں پر لگانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ سونے یا چاندی کے باریک ذرات کو بھورے رنگ کے آٹھ انچ لمبے اور پانچ انچ چوڑے کاغذوں میں لپیٹ کر پتھر پر رکھا جاتا، پھر پتھر ہی کے دستے سے کوٹا جاتا تھا۔ یوں یہ ذرات باریک ورق کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ مٹھائیوں پر لگانے کے لیے کاغذ کو اوپر اٹھا کر بڑی آہستگی سے الٹا دیتے تھے تو ورق خود بخود لہراتا مٹھائی پر آ کر چپک جاتا۔

یہ ورق سجاوٹ کے لیے بھی تھا اور اسے مقوی بھی سمجھا جاتا تھا۔ وقار اور نزاکت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس گلی سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ میں نے ایک عجیب اور دہشت انگیز منظر دیکھا جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ تجارتی سامان سے بالکل خالی ایک دکان میں ایک شخص پیتل کے ایک لمبے دیے کے سامنے مراقبے کے انداز میں سر جھکائے بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ دیے میں صرف ایک بتی جل رہی تھی۔ اس آدمی نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ دیے کی روشنی میں اس کا سایہ پیچھے والی دیوار پر پڑ رہا تھا۔ گلی میں چلتے ہوئے لوگ اسے رک کر دیکھتے تھے مگر کوئی اس سے بات نہیں کرتا تھا اور وہ بھی آنکھ اٹھا کر کسی کو نہیں دیکھتا تھا۔ یہ صبح کا وقت تھا۔

اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دن کی روشنی میں اس نے دیا کیوں جلایا ہوا ہے اور وہ کسی سے بات کیوں نہیں کرتا؟ اوپر اس کے گھر سے بھی رونے پیٹنے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی کوئی موت واقع ہوئی تھی۔ جب تک میں اسکول نہ پہنچا، مجھے کسی سے پوچھنے کی جُرأت نہ ہوئی۔ اسکول پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ اعلان کر رہا تھا کہ وہ دیوالیہ ہو گیا ہے۔

دیوالیہ کا مطلب ہے دن کو دیا جلانا۔ دیے کو "دیوا" بھی کہتے ہیں، چنانچہ اس حرکت یا کام کو "دیوا نکالنا" یا "دیا نکالنا" کہا جاتا ہے۔ مناسب وقت پر اس کے کیے ہوئے اس فعل پر اس دیوالیہ شخص سے، اس کی برادری اور پنچایت سے بات کی جاتی ہے۔ لیکن آنے والے تو صرف یہ افسوسناک منظر ہی دیکھتے رہیں گے۔ اس پرسرِعام اعتراف اور کفارے کے اس واقعے کو لوگ پشتوں تک یاد رکھیں گے۔

پرکاش ٹنڈن کی کتاب ۔ پنجاب کے سوسال سے اقتباس
مترجم ۔ رشید ملک

Basant Baharan Mubarak! 🌸نئی بہار، نئی سوچ، نئی جدتdpanel.co کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل آئیڈیاز کو نئی بلندیوں تک لے جائیں 💛🪁  ...
06/02/2026

Basant Baharan Mubarak! 🌸
نئی بہار، نئی سوچ، نئی جدت
dpanel.co کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل آئیڈیاز کو نئی بلندیوں تک لے جائیں 💛🪁

05/02/2026

Opportunity



https://www.facebook.com/share/p/1J6JVtCrqS/?mibextid=wwXIfr

dpanel.co excels in graphics design, website & app development, remittance software, and social media services. Our innovative approach delivers captivating designs & seamless user experiences. We empower businesses to thrive digitally.

🏛️ گجرات کا تاریخی شاہکار — رام پیاری محل (فوارہ چوک)گجرات شہر کے دل میں فوارہ چوک کے قریب، سرکلر روڈ پر واقع ایک شاندار...
04/02/2026

🏛️ گجرات کا تاریخی شاہکار — رام پیاری محل (فوارہ چوک)
گجرات شہر کے دل میں فوارہ چوک کے قریب، سرکلر روڈ پر واقع ایک شاندار تاریخی عمارت ہے جسے لوگ آج بھی محبت اور احترام سے رام پیاری محل کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جس کا نام گجرات کی تاریخ، ثقافت اور پرانے وقتوں کی شان و شوکت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور آج اسی عمارت میں گجرات میوزیم اینڈ آرٹ گیلری قائم ہے۔
یہ محل صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ گجرات کے ماضی کی ایک زندہ تصویر ہے—جس میں محبت کی کہانی بھی ہے، فنِ تعمیر کا کمال بھی، اور تقسیمِ ہند کے بعد بدلتی تاریخ کی جھلک بھی۔
📜 محل کب اور کس نے بنایا؟
رام پیاری محل 1918 میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اسے اُس وقت کے معروف ٹھیکیدار سندر داس چوپڑا (Sundar Das Chopra) نے بنوایا تھا۔ روایت کے مطابق سندر داس چوپڑا نے یہ عظیم عمارت اپنی تیسری بیوی “رام پیاری” کے نام سے تعمیر کروائی—اور اسی نسبت سے یہ محل “رام پیاری محل” کہلایا۔ یہ عمارت اپنے دور میں ایک شاہانہ تحفے کی طرح سمجھی جاتی تھی، اسی لیے لوگ اسے آج بھی محبت کی یادگار بھی کہتے ہیں۔
❤️ محبت کی نشانی اور ایک یادگار
یہ محل ایک ایسی عمارت ہے جس میں صرف رہائش کا تصور نہیں تھا بلکہ اس میں ایک جذباتی پہلو بھی شامل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت رام پیاری کے لیے ایک یادگار تحفہ تھی، اسی لیے اس کا نام بھی ان کے نام پر رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ محل گجرات کی شناخت بن گیا اور لوگ اسے ایک تاریخی علامت کے طور پر یاد کرنے لگے۔
🏛️ فنِ تعمیر کی خاص باتیں
رام پیاری محل اپنی مضبوط بنیاد، کشادہ ہالز اور خوبصورت اندازِ تعمیر کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس میں یونانی (Greek) اور ہندوستانی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ محل میں Doric اور Corinthian طرز کے ستون، خوبصورت ڈیزائن، اور دیواروں پر فرانسیسی ٹائلس کے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ محل اپنی ساخت کے لحاظ سے بھی بہت خاص ہے، کیونکہ اس میں تقریباً 40 سے زائد کمرے موجود ہیں اور اس کے ساتھ 4 تہہ خانے بھی بتائے جاتے ہیں۔ اس کے ہالز اور راہداریوں میں کھڑے بلند ستون آج بھی اس عمارت کی شان اور مضبوطی کا ثبوت ہیں۔
🧭 خاندان کب آباد ہوا اور کب یہ جگہ چھوڑ کر گئے؟
سندر داس چوپڑا اور رام پیاری کا خاندان اسی علاقے میں اس محل کے ساتھ وابستہ رہا۔ لیکن 1947 کی تقسیمِ ہند کے بعد حالات بدل گئے۔ بہت سی غیر مسلم خاندانوں کی طرح رام پیاری اور ان کا خاندان بھی ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔
یوں یہ محل بھی اس تاریخی دور کی یاد بن گیا جب پورے خطے کی آبادیاں، خاندان اور شہر بدل گئے۔
🏙️ تقسیم کے بعد محل کا استعمال
تقسیم کے بعد یہ عمارت مختلف سرکاری اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ وقت کے ساتھ یہاں:
لڑکیوں کے کالج/اسکول کا ہاسٹل قائم رہا
بعد میں یونیورسٹی آف گجرات کا ہاسٹل بھی یہاں بنایا گیا
یعنی یہ عمارت کبھی رہائش گاہ رہی، کبھی تعلیمی ضرورت بنی، اور پھر تاریخ نے اسے ایک اور روپ دے دیا۔
🏛️ میوزیم اور ورثے کا تحفظ
وقت گزرتا گیا، مگر یہ محل اپنی عظمت کے ساتھ کھڑا رہا۔ پھر اس تاریخی عمارت کو محفوظ کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب نے اس عمارت کی بحالی پر کام کیا اور اسے ایک باقاعدہ میوزیم میں تبدیل کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج یہ عمارت گجرات میوزیم اور آرٹ گیلری کے طور پر جانی جاتی ہے، اور 2021 میں اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے میوزیم کی شکل میں کھول دیا گیا۔
🖼️ آج رام پیاری محل میں کیا ہے؟
آج اس تاریخی محل میں مختلف گیلریز کے ذریعے گجرات اور برصغیر کی:
تاریخ
ثقافت
قدیم اشیاء
لوک ورثہ
اور دستکاری
کو نمائش کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ جگہ اب صرف ایک عمارت نہیں بلکہ گجرات کے لوگوں کے لیے ایک ثقافتی خزانہ بن چکی ہے۔
✨ رام پیاری محل آج بھی گجرات کی شان ہے—ایک ایسی جگہ جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہر صرف بازاروں سے نہیں بنتے، شہر اپنی یادگاروں، تاریخ، فن اور روایت سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگر آپ کبھی فوارہ چوک کے پاس سے گزریں تو ذرا ٹھہر کر اس محل کو دیکھیں…
یہ عمارت خاموش ضرور ہے، مگر اس کی دیواریں آج بھی ایک صدی پرانی کہانی سناتی ہیں۔ ❤️🏛️




Shab e barat Mubarak 😇
03/02/2026

Shab e barat Mubarak 😇

🌿 رامتلائی کی داستان — گجرات کی مٹی کی خوشبوگجرات کے مضافات میں ایک جگہ ہے جسے لوگ رامتلائی کہتے ہیں۔آج یہ نام سننے میں ...
02/02/2026

🌿 رامتلائی کی داستان — گجرات کی مٹی کی خوشبو
گجرات کے مضافات میں ایک جگہ ہے جسے لوگ رامتلائی کہتے ہیں۔
آج یہ نام سننے میں عام لگتا ہے، مگر بزرگوں کی باتوں میں اس بستی کے ساتھ ایک پرانا قصہ جڑا ہوا ہے… ایسا قصہ جو پانی کی ٹھنڈک، سفر کی تھکن اور مٹی کی مہک سے بنا ہے۔
کہتے ہیں بہت پہلے کی بات ہے، جب نہ پکی سڑکیں تھیں، نہ بجلی کے قمقمے…
لوگ پیدل سفر کرتے، بیل گاڑیوں میں آتے جاتے اور شام ہوتے ہی راستے سنسان ہوجاتے تھے۔
اس زمانے میں گجرات کے اس علاقے میں ایک بڑا سا تالاب ہوا کرتا تھا۔
پانی ایسا شفاف کہ دن میں آسمان بھی اس میں جھلک دکھاتا، اور رات کو چاند ایسے لگتا جیسے تالاب کے اندر اتر آیا ہو۔
یہ تالاب صرف پانی کا ذخیرہ نہیں تھا…
یہ مسافروں کی امید تھا۔
دور دور سے قافلے گزرتے تو یہی جگہ ان کا پڑاؤ بنتی۔
لوگ یہاں آ کر:
پیاس بجھاتے
جانوروں کو پانی پلاتے
تھکن اتارتے
اور چند لمحے سکون کے سانس لیتے
تالاب کے کنارے ایک چھوٹا سا کچا سا چبوترہ تھا۔
وہاں ایک آدمی رہتا تھا، سادہ مزاج، خاموش طبیعت… مگر دل کا بڑا۔
لوگ اسے رام کے نام سے جانتے تھے۔
رام کا کام صرف یہ تھا کہ تالاب کے کنارے صفائی رکھے،
راستہ بھٹکے مسافر کو سمت بتا دے،
اور اگر کسی کے پاس پانی کا برتن نہ ہو تو اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر دے دے۔
بزرگ کہتے ہیں، “رام کی نیت میں عجیب خیر تھی…”
اس کی زبان کم بولتی تھی، مگر اس کی خدمت بولتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔
تالاب کے گرد لوگوں نے کچے گھر بنا لیے۔
کسی نے چھپر ڈال لیا، کسی نے مٹی کی دیواریں اٹھا لیں۔
پھر کھیت بنے، راستے بنے، اور آہستہ آہستہ وہاں آبادی بسنے لگی۔
جب کوئی مسافر پوچھتا کہ “یہ کون سی جگہ ہےمیں؟”
تو جواب ملتا:
“یہ رام والی تلائی ہے…
یہاں پانی ہے، سکون ہے، اور راہگیروں کے لیے آسرا ہے۔”
یوں “رام والی تلائی” زبان پر چڑھتے چڑھتے بس رامتلائی بن گئی۔
آج تالاب پہلے جیسا نہ رہا ہو،
کچی پگڈنڈیاں سڑکوں میں بدل گئی ہوں،
اور وقت بہت آگے نکل آیا ہو…
مگر رامتلائی کا نام آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
کبھی ایک جگہ صرف پانی کی وجہ سے نہیں
بلکہ انسان کی خدمت اور نیت کی وجہ سے مشہور ہوتی تھی۔
اور شاید اسی لیے بزرگ آج بھی کہتے ہیں:
“گجرات کی مٹی میں کچھ جگہیں صرف زمین نہیں…
وہ کہانی ہوتی ہیں۔”
#حسن #شاہ

Address

Court Road, Near Zahoor Elahi Stadium
Gujrat
50700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Gujrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to District Gujrat:

Shortcuts

Share