آو انسانیت کو جگائیں

آو انسانیت کو جگائیں پاکستان میں سیاسی اور سماجی تبدیلیوں اور کھیل کے میدانوں سے ہر خبر سے رہیں با خبر ہمارے ساتھ

10/11/2023

دیکھیں گے نصیری تو خدا کہہ دیں گے

10/11/2023

اے رسولِ امیں

اسلام و علیکم یا علی علیہ السلام کی مدد بہیت ہی افسوس کے ساتھ کچھ کہنے کی اجازت چاہتی ہوں دنیا میں جو بھی چیز  وجود میں ...
20/06/2021

اسلام و علیکم یا علی علیہ السلام کی مدد

بہیت ہی افسوس کے ساتھ کچھ کہنے کی اجازت چاہتی ہوں دنیا میں جو بھی چیز وجود میں آئی جس میں کچھ کا خالق وہ مالک ہے جیسے لفظِ کن پہ مکمل اختیار ہے اور کچھ چیزوں کے خالق انسان ہیں اس دنیا میں جو بھی چیز وجود میں آئی اُن کے کچھ نہ کچھ مقاصد ضرور ہے
خُدا قرآن میں کہتا ہے میں نے جن و انس کو پیدا کیا اپنی عبادت کے لیے جیسے جن و انس کے وجود کی وجہ خُدا کی عبادت ہے ایسے ہی ہر چیز کی تخلیق کی کچھ نہ کچھ وجہ ضرور ہے
یہاں پہ میں بات کرنا چاہتی ہوں انسان کی ایک بہیت ہی اچھی تخلیق کی جیسے انسان نے موبائل ڈیوائس کا نام دیا
جو بھی چیز بنائی گی چائیے وہ تخلیق خُدا ہو یا انسان
اس کے اگر فائدے ہیں تو نقصان بھی اب یہ ہم پہ منحصر ہے کے ہم اس کا استمعال کیسے کرتے ہیں
فیس بُک ایک آپیکشن ہے جس کے نقصان بھی ہیں اور فائدے بھی فیس بُک پہ آنے والا ہر بندہ نا تو آوارہ ہوتا ہے اور نا ہی کسی غلط مقصد کے لیے استمعال کرتے ہیں
میں کافی عرصے سے فیس بُک استمعال کر رہی ہوں نہ تو کبھی غلط پوسٹ کی اور نہ ہی کبھی کسی انسان کے ساتھ کبھی کوئی غلط بات کی
کچھ لوگوں کی پرورش ہی ایسے ماحول میں ہوتی ہے اُن کو نہ تو اپنی ماں بہین کی عزت خیال ہوتا ہے اور نہ کسی دوسری عورت کی عزت کرتے ہیں اور فیس بُک بنا کے اپنی مردانگی دیکھا رہے ہوتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں ہے اُن کی بہین بیٹی پردے میں ہیں اُن کو جان لینا چاہئے کے یہ دنیا مفا قات عمل ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
گندی ویڈیو اور اپنی گندی پک بنا کے ہر لڑکی کے نام سے بنی آئی ڈی میں بیجھ کے خود کو مرد کہنے والے
کمینے اکثر ایسے ڈاکٹر اور حکیموں کی دکانوں میں ملتے ہیں جن کے باہر لکھا ہوتا ہے یہاں مردانا کمزوری کا مکمل علاج کیا جاتا ہے یہ لوگ پیدا ہی ایسے گھٹیا ماحول میں ہوتے ہیں جہاں بہین بیٹی کی عزت کرنا نا مردی کی علامت سمجھا جاتا ہے
اکثر جن عورتوں کے تعلق اپنے محلے میں محلے کے آوارہ لوگوں کے ساتھ خوش گوار ہوتے ہیں پھر اُن کی اولاد ایسی ہی ہوتی ہے کتا جتنی مرضی اچھی نسل کا ہو اُسے اچھی برے کی تمیز نہیں ہوتی اس کا کام ہے بھونکنا اور وہ بھونکتا ہی رہتا ہے ایسے لوگوں سے گزارش ہے کے ہمیں اس طرح کی پک یہ ویڈیو بیجھ کے خوش ہوتے ہو اور فخر سے کہتے میری بہن فیس بُک استمعال ہی نہیں کرتی
اگر وہ فیس بک استمعال نہیں کرتی تو اس کا پتہ کرو پھر وہ تماری حرکتوں کا بدلہ کہیں ریئل میں نہ دے رہی ہو ۔۔۔۔

عزت کروں بہنوں کی
اپنی ہوں یا غیر وں کی

میرے کچھ دوست مجھے کہتے ہیں کے اُن کو کرنے دو ایسی حرکتیں اور آپ بلاک کر دو بس میں اُن کی دل سے قدر کرتی ہُوں کے اُن کو میری فکر ہے
پر کتنی دیر کتنے لوگ کہاں کہاں چپ رہیں
میری گزارش ہے جہاں بھی ایسا کوئی ناجائز پیدا ہوا کنجر آپ کو تنگ کرے اُس کی خلاف سب دوست مل کے اُس کی کتوں والی اوقات میں لا کے اُسے عبرت بنا دو تا کے آج کے بعد اپنی گندی پرورش کی تعلیم کسی عزت دار کو نا دے سکے آج کے دور۔ میں کوئی بھی انسان کسی بھی چیز سے لا علم نہیں ہے لوگ کیا کہیں گے یہ سوچنا بند کرو کوئی ہماری مدد کرے یہ اپنے دماغ سے نکال دو اور اپنا اپنی عزت کا دفاع کرنا خود سیکھو ہاتھ سے زبان سے يا قلم سے ۔۔۔۔ تمام عزت درد لوگوں سے گزارش ہے کے زیادہ سے زیادہ یہ پوسٹ شئیر کریں شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسلام۔۔۔۔۔۔

تحریر
رباب رابی۔۔۔۔۔

🌱موت برحق ۔🌱🍁جب میری ڈیتھ ہوئی اس وقت میری عمر انیس برس سات ماہ اور تیرہ دن تھی ۔وقت صبح ساڑھے گیارہ لے لگ بھگ تھا ۔ میں...
23/04/2021

🌱موت برحق ۔🌱

🍁جب میری ڈیتھ ہوئی اس وقت میری عمر انیس برس سات ماہ اور تیرہ دن تھی ۔
وقت صبح ساڑھے گیارہ لے لگ بھگ تھا ۔ میں صبح جاگنے کے بعد اٹھنے کا سوچ رہی تھی ۔ آج تو کالج میں فنگشن تھا ۔ میں نے ڈانس میں حصہ لیا تھا ۔ میرے مد مقابل کلاس کا لڑکا اویس تھا ۔ کتنا اچھا کپل ڈانس ھے ہمارا آج ۔ میرے اساتذہ کی پھرپور محنت سے ہم دونوں کا کپل ڈانس تیار ہوا ۔
ابھی میں نے آنکھیں کھولی تھیں ۔شائد میرے پاؤں کے انگوٹھے میں کچھ درد سا تھا ۔
ہلکا سا جنبش دی پر میری چیخ نکل گئی ۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی ۔ سوچا اٹھوں دکھوں تو کیا ہوا میرے پاؤں کے انگوٹھے کو ۔ اہ۔ یہ مجھ سے اٹھا کیوں نہیں جا رہا ۔ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ انگوٹھے سے پاؤں تلووں تک درد بڑھ چکا تھا ۔
میں نے سوچا اف آج تو مجھے کالج میں ڈانس کرنا ھے ۔ میرے پاؤں کا درد کیوں بڑھ رہا ھے۔
مجھے کیوں لگ رہا ھے جیسے کوئی میرے پاؤں کو کاٹ رہا ھے۔
اف مجھے لگ رہا ھے جیسے خون نکل رہا ہو ۔
ماما۔ ماما
یہ میرے منہ سے آواز کیوں نہیں نکل رہی ۔
درد کی شدت میرے پاؤں کے ٹخنوں تک پہنچ گئی ۔
بابا مجھے اٹھایں ۔
کل سدرہ باجی نے پتا نہیں کتنے پیسے نکالے میرے ۔ میں نے گنے بھی نہیں ۔ بھائی نے بھی تو موبائل کارڈ کے پیسے لیے تھے مجھ سے ۔ اف یہ درد بڑھتا کیوں جا رہا ھے ۔ میرے ڈانس کا کیا بنے گا ۔
مجھے ایک ضروری کال کرنا تھی فائزہ کو ۔ ھما سے آئندہ بات مت کرنا ۔ وہ تمہارے بارے میں باتیں کرتی ھے ۔
آہ ۔ میرے ٹانگوں کی پنڈلیاں لگتا ھے زخموں سے چور چور ہو رہی ہیں ۔ ایسا کیوں ہو رہا ھے میرے ساتھ ۔
ماما ۔ میری آواز کیوں نہیں نکل رہی ۔
ماما تو میرے پاس ہیں جھاڑو لگا رہی ہیں ۔ انکو کیوں نہیں پتا چل رہا میں اتنی تکلیف میں ہوں ۔
ماں کو تو ایک دم سے پتا چل جاتا ھے ۔
بابا آپ بھی چائے پی جا رہے ہیں ۔ مجھے کیوں نہیں دیکھ رہے ۔
درد میرے گھٹنوں سے اوپر تک پہنچ گیا ۔
مجھے احساس ہوا جیسے روح میرے جسم سے آہستہ آہستہ نکلی جا رہی ھے ۔ میرے جسم کے جن حصّوں کو روح چھوڑتی جا رہی ھے ۔ شائد وہاں سے خون بہہ رہا ھے ۔
نہیں نہیں ۔ یہ میرا وہم ھے ۔
میں مر نہیں سکتی ۔ میں تو ابھی چھوٹی ہوں ۔ مرتے تو بڑی عمر کے لوگ ہیں ۔
اہ ۔ یہ درد ۔ ماما آپ کو میری تکلیف نظر کیوں نہیں ا رہی ۔
میرے ارد گرد چل رہے ہیں سب ۔ مجھے کیوں نہیں دیکھ رہے ۔
روح نے اب میری بازووں کو چھوڑنا شروع کر دیا ۔
اف میرا موبائل کہاں ہوگا ۔ میں اسے پکڑ سکوں گی بھی یا نہیں ۔
مجھے کیوں لگ رہا ھے مجھے کوئی تلوار سے کاٹ رہا ھے ۔
اب آنسو میری آنکھوں سے تیزی تیزی سے بہنے لگے ۔
مجھے بہت شکوہ ۔ میرے ماں باپ جنہوں نے ہر سردی گرمی سے مجھے بچایا ۔ آج مجھے کیسے اگنور کیے ہوۓ ہیں ۔
کیسے ماں باپ ہیں میرے ۔
کیا میں مر رہی ہوں ۔
نہیں ۔ لوگ مرتے ہیں ۔ ہمساۓ مرتے ہیں ۔ بوڑھے مرتے ہیں ۔ ہم نہیں مر سکتے ۔
آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں سے مجھے اب کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا ۔
کہیں میری نظر تو نہیں جا رہی ۔
روح میرے جسم کا ساتھ چھوڑ رہی تھی ۔
میں سمجھ گئی کہ اب میرا وقت آخر ا چکا ۔
مجھے میرا اللہ‎ یاد ا گیا ۔ دنیا کے سب کام میں بھول چکی تھی ۔ مجھے سمجھ ا چکی تھی کہ مجھے تین سو ساٹھ تلواریں کاٹ رہی ہیں اور اس درد کی شدت سے میری آواز گنگ ہو گئی ۔
جب روح نے میرے دل کا ساتھ چھوڑا تو مجھے آخری ہچکی آئی اور الحمدلللہ میں نے بالآخر کلمہ طیبہ پڑھ لیا ۔ اور روح میرے جسم سے نکل کر آسمانوں کی بلندیوں کو پرواز کرنے لگی ۔
میں نے محسوس کیا کہہ لوگ میرے ارد گرد پھر رہے ہیں ۔ کسی نے شائد میرے جسم کو جھنجوڑا تو مجھے بیحد تکلیف ہوئی ۔ مجھے لگا زخموں پر لوگ وزن ڈال رہے ہیں ۔ اف رونے کا شور مجھے بہت اذیت دے رہا تھا ۔کاش کوئی میرے پاس آ کر اللہ‎ کی کلام پڑھے ۔
مجھے لگا میں آسمانوں تک پہنچ گئی ۔ وہاں بڑے بڑے میز پڑے ہیں ۔ ان پر سفید چادریں بچھی ہیں ۔ بہت بڑے بڑے رجسٹر بھی دیکھے میں نے ۔
کون ہیں یہ جو رجسٹر سے کچھ پڑھ رہے ہیں ۔ ان میں میرا نام بھی لکھا تھا ۔
اوہ میرے رب ۔ اس میں تو وہ کچھ بھی لکھا ھے جو میں کر کے بھول گئی تھی ۔
یہاں تو ترتیب وار میری سب activity لکھی ہوئی تھی ۔جسے میں کر کے بھول گئی تھی ۔
پھر میں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا ۔
میں زور زور سے چیخ رہی تھی ۔
یا اللہ‎ مجھے ایک موقع اور دے ۔
میرے مالک میں بہت غافل تھی ۔
بخش دے ۔ ایک مرتبہ ۔ صرف ایک مرتبہ موقع دے دے ۔
میں التجا کرتی ہوں ۔ تجھے تیرے نبی کا واسطہ مجھے ایک موقع دے دے ۔
میں زاروقطار چیخ رہی تھی ۔میں معافی مانگ رہی تھی ۔ مجھے پتا تھا کہ اب معافی کا وقت نہیں رہا ۔ میرے اعمال سبکی نظر میں آ گئے ۔
یا اللہ‎ صرف ایک موقع دے ۔
روتے ہوئے جب ہچکی بند گئی تو مجھے ماں کی محبت بھری آواز ای ۔ بابا کا شفقت بھرا ہاتھ بھی شائد میرے سر پر رکھا گیا ۔
اہ مجھے بابا کے ہاتھ سے کتنا سکوں مل رہا تھا ۔ ماں کی آواز میرے کانوں میں جیسے رس گھول رہی تھی ۔
میرے بھائی نے شائد میری بازو میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ۔
میری اپی نے میرے پاؤں پر ہاتھ پھیرا ھے۔
اٹھو میری جان ۔ میری بچی فجر کا وقت نکلا جا رہا ھے۔
میں نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔
یہ کیا ۔ میں تو زندہ ہو گئی ۔
میرے بابا نے مجھے سینے سے لگایا ہوا تھا ۔ وہ یہ کہہ رہے تھے ۔
میری بچی کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ھے کیا ۔ تم کیوں زار زار رو رہی تھی ۔
میں کیا بتاؤں انکو اب ۔ کہہ اللہ‎ کو میں نے واسطہ دیا تھا ۔ اللہ‎ نے میری دعا سن لی اور ایک موقع پھر سے دے دیا جینے کا ۔
میں نے اللہ‎ کا شکر ادا کیا اور ماں باپ کی شفقت بھائی بہن کی محبت پر رشک کیا ۔ میں نے محسوس کیا تھا ۔ میرے یہ حقیقی رشتے میرے لیے بہت اہم تھے ۔
مجھے میرے اللہ‎ نے ایک موقع اور دیا ۔
شائد اللہ‎ سب کو ایک مرتبہ موقع دیتا ھے۔ پر ہم سمجھتے نہیں ۔
پروردگار ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو راستہ اس نے ہمارے لئے باعث نجات رکھا ھے🍁 ۔
♥امین ۔♥️

09/04/2021

بچپن سے ایک بات سنی تھی

۔۔۔۔جاگو رکھیں سائیاں مار سکے نا کوئی۔۔۔۔

بیشک 18 ہزار عالمین پہ قُدرت صرف اور صرف اس خالق حقیقی کی ہے جس کے قبضہ قُدرت میں عالمین کی زندگی اور موت ہے اگر یہ کیمرے میں ریکارڈ نہ ہوتے تو کوئی یقین نا کرتا یک بار ویڈیو پوری دیکھو پلیز اور پیج کو لائیک کر کے ویڈیو زیادہ سے زیادہ شیئر کر دو جو جو محمد مصطفٰی کا کلمہ پڑھتا ہے وہ ویڈیو شیئر کرے گا اور پیج کو لائیک بھی کرے گا پلیز شیئر کر دو ویڈیو آپ کو اپنی ماں کی قسم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

14/03/2021

(منقبت )
۔
کیا بتاوں مقام زینب س کا
اسم اعظم ہے نام زینب س کا
۔
بخدا جو بھی مصطفی' ص نے کہا
وہ ھے سارا کلام زینب س کا
۔
رب نے بھیجا سلام زینب کو
رب نے پاپا سلام زینب س کا
۔
نانا جس کا رسول، ماں ھے بتول س
اور بابا امام زینب س کا
۔
آ کے جنت سلام کرنے لگی
جب کیا احترام زینب س کا
۔
یہ بھی توہین مصطفی' ھے بتول !
جانا دربار شام زینب س کا

(فاخرہ بتول نقوی )

اے مصطفٰی کے پاک مالک مرتضیٰ کے خالق  حضرت آدم کو  حضرت حوا سے ملانے والے  موسیٰ کو کوہ طور پہ دیدار کروانے والے  عیسٰی ...
09/02/2021

اے مصطفٰی کے پاک مالک مرتضیٰ کے خالق حضرت آدم کو حضرت حوا سے ملانے والے موسیٰ کو کوہ طور پہ دیدار کروانے والے عیسٰی کو مردہ زندہ کرنے کی طاقت دینے والے یعقوب کو یوسف سے ملانے والے تُجھے واسطہ ہے امیر المومنین کی اس ضربت کا جو تمام عبادتوں سے افضل ہے تُجھے واسطہ ہے مصطفٰی کی اس رات کا جس رات تُجھ سے محو گفتگو ہوئے تُجھے واسطہ ہے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اس چوکھٹ کا جس پہ ستارے اور جبرائیل نوکر بن کر آتے ہیں تُجھے واسطہ ہے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے اس بیٹے کا جس کے صدقے جہاں میں حُسن بانٹا گیا تُجھے واسطہ ہے امام حسین علیہ السلام کے اس سجدے کا کو کربلا میں بیٹی کے سامنے قاتل کے خنجر کے نیچے ادا کیا تُجھے واسطہ ہے اس خون کا جو مولا سجّاد کی آنکھوں سے جاری ہوا اجھے واسطہ ہے مولا باقر کے علوم کا تُجھے واسطہ ہے مولا جعفر صادق علیہ السلام کی صداقت کا تُجھے واسطہ ہے مولا موسیٰ کاظم کی قید کا تُجھے واسطہ ہے مولا رضا کی غربت کا تُجھے واسطہ ہے مولا تقی کے تقوے کا تُجھے واسطہ ہے مولا نقی کی نقابت کا تُجھے واسطہ ہے مولا عسکری کی قیادت کا تُجھے واسطہ مولا امام زمانہ کی غیبت کا تُجھے واسطہ معصومہ کے زخمی کانوں کا تُجھے واسطہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی اُن نمازوں کا جو اونٹ کی پشت پہ ادا کی تُجھے واسطہ اس شہزادے کا جس کے جگر سے برچھی باپ نے نکالی تُجھے واسطہ اس مشکی کا جس کے بازو فرات پہ قلم ہوئے تُجھے واسطہ ہے پاک سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اس پاک چادر کا جس میں توں خود رہتا ہے اس محبِ وطن اور محبِ آل محمد کو زندہ سلامت اپنے پیاروں سے ملا دیا مالک تُجھے واسطہ ہیں مصطفٰی کا میری دعا مستجاب فرما آمین

دعا گو
۔ رباب رابی

Address

Darbar Khushi Muhammad
Hafizabad
52110

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when آو انسانیت کو جگائیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to آو انسانیت کو جگائیں:

Share