15/05/2026
یہ خان محمد بھائی ہیں، وہی بہادر شخص جنہوں نے گزشتہ رات پکھرال چوک میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک معصوم بچے کو آگ سے نکالا تھا۔
جب ہر طرف خوف، چیخ و پکار اور بھاگ دوڑ تھی، تب یہ غریب سوزوکی ڈرائیور بغیر اپنی جان کی پرواہ کیے آگ میں کود پڑے تاکہ ایک بچے کی زندگی بچائی جا سکے۔
اللہ نے بچے کو تو محفوظ کر دیا، مگر خان محمد بھائی خود بری طرح جھلس گئے۔ ان کا تقریباً پورا جسم جل چکا ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہیں۔
کل رات ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو دل خون کے آنسو رو پڑا۔
یہ ایک دیہاڑی دار مزدور انسان ہیں، سوزوکی چلا کر اپنے بچوں کا رزق کماتے ہیں۔ نہ کوئی مالی سہارا، نہ سیاسی سپورٹ، نہ مناسب علاج۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے انسانیت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی، آج وہ خود بے یار و مددگار پڑا ہے۔
کیا ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے اصل ہیرو نہیں؟
کیا ایسے بہادر انسان صرف تعریف کے دو لفظوں کے بھی حقدار نہیں؟
تمام مخیر حضرات، سماجی تنظیموں، ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور صاحبِ استطاعت لوگوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس بہادر انسان کی مدد کریں۔
آج اسے ہمارے تعاون، علاج اور حوصلے کی ضرورت ہے۔
جو شخص کسی اور کے بچے کو بچانے کے لیے آگ میں کود سکتا ہے، وہ یقیناً پوری قوم کے احترام کا حق دار ہے۔ 😢💔