29/05/2026
زندگی کے راستے میں کبھی کبھی ہمیں ایسے الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو تیر بن کر روح کو زخمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اکثر ہم دوسروں کے جملوں کو اپنی ذات کی توہین سمجھ کر اپنے سکون کو داؤ پر لگا دیتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے
یاد رکھیے انسان کے الفاظ اس کی اپنی شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں آپ کی حقیقت کا نہیں جب کوئی آپ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرے تو وہ آپ کی کمی نہیں بلکہ اپنی کم ظرفی اور تربیت کا فقدان ظاہر کر رہا ہوتا ہے جس طرح ایک برتن سے وہی کچھ چھلکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے بالکل اسی طرح انسان کی زبان وہی اگلتی ہے جو اس کے ظرف میں ہوتا ہے
خوش رہنے کا فن یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ہاتھ میں اپنے موڈ کا ریموٹ کنٹرول نہ دیں جب آپ کسی کی بات کو دل پر لینا چھوڑ دیتے ہیں
تو آپ دراصل اسے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس کی منفی سوچ آپ کے وقار سے بہت چھوٹی ہے مسکرائیے اسے اس کے حال پر چھوڑیے اور آگے بڑھ جائیے کیونکہ سمندر کبھی کنکروں کے گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا
اپنے سکون کی حفاظت کیجیے کیونکہ آپ کا ظرف دوسروں کی بدزبانی سے کہیں بلند ہے۔
ـــــــڈی ایچ کیو ایم ایس ڈاکٹر منور زریف کے ساتھ ❤️😘