Noor e Haram Online Quran Academy

Noor e Haram Online Quran Academy Learn Quran Online with Hafiz Kashif Hazarvi. This Includes Qaida, Nazra, Hifz, Quran Translation etc

05/06/2026

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
درختوں میں ایک ایسا درخت ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اس درخت کی سی ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
سب صحابہ سوچنے لگے لیکن جواب نہ آیا۔
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں اپنی (کم سنی کی وجہ سے) شرم سے نہ بولا۔
بالآخر صحابہ کرام نے عرض کی:
یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہی بتا دیجیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
وہ کھجور کا درخت ہے، اور مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے کہ کھجور کا درخت ہر موسم میں کام آتا ہے، ویسے ہی مومن بھی ہر حالت میں خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
عبداللہ بن عمر گھر آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کی:
بابا! جب آقا ﷺ نے یہ سوال پوچھا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے مگر میں بولا نہیں۔
آپ نے فرمایا:
عبداللہ! اگر اس وقت تم آقا علیہ السلام کے سامنے بتا دیتے تو عمر کا سینہ کتنا چوڑا ہو جاتا کہ عمر کا بیٹا اتنا قابل ہے۔ اس کے بدلے اگر تم سرخ اونٹ بھی خرید کر لاتے تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس بات پر ہوتی کہ میرا بیٹا سوال کے جواب پر بولا۔
اب کتنا بڑا پیغام امت کو ملتا ہے کہ علم ہونے کے باوجود موقع پر بات کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے اعتماد بڑھتا ہے اور دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے۔
دوسرا یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ادب اور بڑوں کے احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی کہ اپنی کم عمری کی وجہ سے خاموش رہے یعنی علم کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔ بعض باتیں چاہے کتنی ہی فائدہ مند کیوں نہ ہوں، موقع محل دیکھا کر کہی جاتی ہیں۔
لیکن یہاں چونکہ بڑوں کا ادب پیش نظر تھا اس لیے عبداللہ بن عمر نے جلیل القدر صحابہ کرام کی موجودگی میں خاموش رہنا بہتر سمجھا۔
خلاصہ:
ضبط کردار اور علم کے ساتھ ادب اور موقع کی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔
اس واقع کو اس مثال سے سمجھیں کہ
بہتر ہزار (72000) جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے آئے۔ ان کے جادو کو قرآن نے بڑا جادو کہا کہ انہوں نے بڑا جادو کیا۔
بس دوران مقابلہ جادوگروں کے منہ سے اللہ کے نبی کے لیے تعظیم کا ایک جملہ نکل گیا۔
انہوں نے ارادہ تعظیمی جملہ نہیں بولا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں کیونکہ اگر وہ نبی مان لیتے تو مقابلے کے لیے کیوں آتے، تو نہ چاہتے ہوئے ان کے منہ سے ایک تعظیمی جملہ نکل گیا:
"موسیٰ! پہلے آپ کچھ دکھائیں گے یا ہم پہلے کچھ دکھائیں؟"

"قالوا یا موسیٰ إما أن تلقی وإما أن نكون أول من ألقى"
اس کے بعد جب مقابلہ ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فتح ہوئی تو تمام جادوگر سجدے میں گر گئے۔
کیوں؟
کہ ادب کبھی ضائع نہیں جاتا۔ ثابت ہوا کہ اگر اللہ کے نبی کے لیے غیر ارادی تعظیم جادوگروں کو ہدایت کی طرف لا سکتی ہے اور اسلام جیسی عظیم دولت سے مالا مال کر سکتی ہے، تو ہمارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کے ادب اور احترام سے ہمیں کتنی بڑی رحمتیں مل سکتی ہیں۔
تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم عزت کی موت اور اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے کیونکہ عزتیں ساری درِ رسول پر پڑی ہیں اور اللہ کی رحمت اسی پر ہوتی ہیں جو رسولوں کی اتباع کرتے ہے
یہ ساری عزتیں جو ہمیں نصیب ہیں، یہ ہمارے گناہوں کے باوجود جو ہم اللہ کی رحمتوں کے سائے تلے ہیں، یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب ہے۔

03/06/2026

At the age of 3, we say: "Maa, Maa, Maa!"
​At the age of 8: "Ammi, where are you?"
​At the age of 16: "Ammi, please don't worry about me so much!"
​At the age of 20: "I don't want to live in this house anymore."
​At the age of 25: "Ammi, you talk too much!"
​At the age of 35: "Mother, I don't want to lose you."
​At the age of 50: "I am ready to give up everything I own... just someone bring my mother back."
​A mother is given only once in a lifetime. Cherish her love and value her presence.
If she leaves this world, it will be too late

02/06/2026

نفس کیا ہے؟ نفس کی اقسام، نفس پر قابو پانے کی جنگ، اسلامی دنیا، اصلاحی گفتگو، دین کی بات
نفس کیا ہے؟ نفس کی اقسام، نفس پر قابو پانے کی جنگ، اسلامی دنیا، اصلاحی گفتگو، دین کی بات
کیا آپ بھی نفس کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں
نفس جیت گیا تم ہار گئے ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو پالے لیکن سچ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کرتے کچھ نہیں۔
نفس کوئی ایسی چیز نہیں جسے ایک دن میں بدل دیا جائے
یہ ایک ایسی طاقت ہے جو ہر لمحہ تمہیں آزماتی ہے۔
کبھی خواہش کی صورت میں کبھی غصے کی شکل میں اور کبھی انا کے پردے میں۔ نفس تمہیں ہمیشہ آسان راستہ دکھاتا ہے جو دل کرے وہ کرو جو اچھا لگے وہی سچ سمجھو، جو مشکل ہو اسے کل پر چھوڑ دو اور تم آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہو، یہاں تک کہ تمہیں لگنے لگتا ہے کہ میں ایسا ہی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ نفس کو قابو کرنے کا پہلا قدم یہی ہے کہ تم اس کے خلاف جانا شروع کرو۔ جب دل نہ چاہے، تب نماز پڑھو۔ جب غصہ آئے، تب خاموش رہو۔ جب بدلہ لینے کا دل کرے، تب معاف کرو۔
یہی وہ وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں یا تو تم جیتے ہو۔۔۔ یا تمہارا نفس لیکن صرف وقتی جذبات کافی نہیں ہوتے۔
نفس کو قابو کرنے کے لیے انسان کو خود کا حساب لینا پڑتا ہے۔ ہر دن کے آخر میں خود سے پوچھو آج میں نے کہاں خود کو ہارا؟ اور کہاں میں نے اپنے نفس کو روکا؟ اگر تم نے خود سے سچ بولنا سیکھ لیا تو آدھی جنگ وہیں جیت جاؤ گے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ نفس اکیلا نہیں جیتتا اسے تمہارا ماحول مضبوط بناتا ہے۔ غلط صحبت بے مقصد وقت اور ہر وقت کی آسانی یہ سب نفس کو طاقت دیتے ہیں۔ نفس کو قابو کرنا کوئی دعویٰ نہیں، یہ روز کا عمل ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی جیتوں کا نام ہے ایک نماز ایک خاموشی ایک معافی آخر میں سچ سن لو نفس کبھی ختم نہیں ہوگا لیکن اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یا تم اسے کنٹرول کرو گے یا وہ تمہیں کنٹرول کرے گا۔ درمیان میں کوئی راستہ نہیں ہے
جو انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے تو دنیا کی کوئی آزمائش اسے نہیں گرا سکتی۔
اصل جنگ باہر کی نہیں، اندر کی ہوتی ہے۔ جو اپنے جذبات خواہشات اور رد عمل کو کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ زندگی کی ہر مشکل میں مضبوط کھڑا رہتا ہے۔

02/06/2026

"جب زمانے بدلتے رہے، مگر قرآن کبھی پرانا نہ ہوا"

دنیا نے مٹی کے گھروں سے شیشے کے محلات تک کا سفر طے کر لیا، قلم سے کمپیوٹر اور کمپیوٹر سے مصنوعی ذہانت (AI) تک پہنچ گئی، مگر ایک حقیقت آج بھی اسی شان کے ساتھ قائم ہے جس شان کے ساتھ چودہ سو سال پہلے تھی؛ اور وہ حقیقت قرآنِ کریم ہے۔

آج انسان ترقی کے بلند ترین دعوے کرتا ہے، نئی نئی ایجادات پر فخر کرتا ہے، نت نئے نظریات اور نظام متعارف کرواتا ہے، مگر جب سکون، کامیابی، کردار، انصاف اور حقیقی فلاح کی بات آتی ہے تو انسان کو پھر اسی دروازے پر آنا پڑتا ہے جہاں سے ہدایت کا سورج طلوع ہوا تھا۔

قرآن صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی وہ دائمی رہنمائی ہے جسے اُس رب نے نازل فرمایا جو ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی نظر میں دیکھتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب انسان مشینوں سے بات کرے گا، مصنوعی ذہانت وجود میں آئے گی، دنیا ایک چھوٹی بستی بن جائے گی، مگر اس کے باوجود انسان کی کامیابی کا راستہ وہی ہوگا جو قرآن نے بتایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زمانے کے بنائے ہوئے اصول وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر اللہ کے بنائے ہوئے احکام قیامت تک اپنی تازگی، اپنی حکمت اور اپنی افادیت کے ساتھ قائم رہیں گے۔ دنیا کے نظریات آزمائے جاتے ہیں، جبکہ قرآن کا نظام ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر نکلتا ہے۔

اگر زندگی میں سکون چاہیے تو قرآن کی طرف لوٹ آئیے، اگر کامیابی چاہیے تو قرآن کو اپنا رہنما بنائیے، اگر دنیا اور آخرت کی بھلائی مطلوب ہے تو قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کیجیے۔ کیونکہ جو تعلق قرآن سے جڑ جاتا ہے، وہ کبھی بے سمت نہیں رہتا۔

زمانے کی ہر نئی ایجاد اپنی جگہ، مگر ہدایت کا سورج آج بھی وہی ہے جو قرآن کے افق سے طلوع ہوتا ہے۔

02/06/2026

"Times Changed, But the Qur’an Never Grew Old"

The world has journeyed from mud houses to glass palaces, from the pen to computers, and from computers to Artificial Intelligence (AI). Yet one truth remains as majestic and relevant today as it was fourteen centuries ago: the Holy Qur’an.

Today, humanity boasts of remarkable progress, takes pride in groundbreaking inventions, and introduces new ideas and systems every day. Yet when it comes to inner peace, true success, noble character, justice, and genuine prosperity, mankind ultimately returns to the same source from which the light of guidance first shone—the Qur’an.

The Qur’an is not merely a book; it is the eternal guidance of the Creator of the universe. It was revealed by the One who sees the past, present, and future all at once. Allah knew that a time would come when people would communicate with machines, artificial intelligence would emerge, and the world would become a global village. Yet despite all these changes, the path to true success would remain the same—the path outlined by the Qur’an.

This is why human-made principles change with time, while the commands of Allah remain fresh, wise, and beneficial until the Day of Judgment. Human theories are tested and replaced, but the Qur’anic way continues to emerge successful through every trial and every age.

If you seek peace in life, return to the Qur’an. If you desire success, make the Qur’an your guide. If you seek goodness in this world and the Hereafter, strengthen your connection with the Qur’an. For the one whose heart is connected to the Qur’an is never left without direction.

Every new invention has its place, but the sun of guidance still rises from the horizon of the Qur’an.

13/05/2026

عشرہ ذوالحجہ کی غنیمتیں !

اللہ تم پر رحم فرمائے! جان لو کہ تمہارے یہ (ذوالحجہ کے) دس دن عام دنوں جیسے نہیں ہیں، بلکہ یہ دس فضیلتوں پر مشتمل ہیں:

پہلی فضیلت: اللہ عزوجل نے ان کی قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا: {وَلَيَالٍ عَشْرٍ} (قسم ہے دس راتوں کی)۔ اور جب "عظیم" (اللہ) کسی چیز کی قسم کھائے، تو وہ اس کی عظمت کی دلیل ہوتی ہے۔

دوسری فضیلت: اللہ تعالیٰ نے انہیں "ایامِ معلومات" (جانے پہچانے دن) کا نام دیا ہے، چنانچہ فرمایا: "اور وہ اللہ کا نام لیں معلوم دنوں میں"۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔

تیسری فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے ان ایام کے بارے میں گواہی دی ہے کہ یہ دنیا کے بہترین ایام ہیں۔

چوتھی فضیلت: (نبی کریم ﷺ نے) ان ایام میں نیک اعمال کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

پانچویں فضیلت: اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں کثرت سے تسبیح (سبحان اللہ)، تحمید (الحمد للہ) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ) پکارنے کا حکم دیا ہے۔

چھٹی فضیلت: ان دنوں میں "یومِ ترویہ" (8 ذوالحجہ) شامل ہے۔

ساتویں فضیلت: ان میں "یومِ عرفہ" (9 ذوالحجہ) ہے، جس کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

آٹھویں فضیلت: ان میں "لیلةُ جَمْع" ہے، اور وہ مزدلفہ کی رات (10 ذوالحجہ کی رات) ہے۔

نویں فضیلت: ان ایام میں حج ادا کیا جاتا ہے، جو کہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔

دسویں فضیلت: ان ایام میں قربانی واقع ہوتی ہے، جو ملتِ ابراہیمی اور شریعتِ محمدی ﷺ کا عظیم نشان (علامت) ہے۔

ماخذ: التبصرہ، مصنف: ابن الجوزی
انتخاب: ثناءاللہ حسین: 12/5/26

09/05/2026

# # **The Power of Prayer (Dua) — Facts That Will Amaze You**
**Acceptance • Time • Method**
# # # **Allah’s Promise Regarding Dua**
* Allah said— **"Ask of Me, I will grant you."**
* Dua is the **"essence of worship."** — Saying of the Prophet ﷺ
* Dua can **"change destiny."** — Hadith
* Not asking in prayer **"displeases Allah."**
* Dua is never **"wasted"** — one of three benefits is guaranteed.
# # # **Special Times for the Acceptance of Dua**
* The time of **"Tahajjud"** — the last third of the night.
* Between the **"Adhan and Iqamah."**
* During a **"special hour on Friday."**
* While in the state of **"Prostration (Sajdah)"** — the servant is closest to Allah.
* At the time of **"Iftar"** — the prayer of a fasting person is not rejected.
# # # **Reasons Why Dua May Not Be Accepted**
* **"Consuming Haram"** is an obstacle to the acceptance of prayer.
* **"Haste"** — people say they asked but did not receive.
* Prayers made with a **"heedless heart"** are weak.
* Praying while **"insisting on sin."**
* Praying **"without conviction"** — firm belief is essential.
**Dua is the weapon that never misses its mark.**

06/05/2026
27/04/2026

🌿 Deep Explanation of the Dua
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
This is a short dua of only a few words, but it contains the essence of goodness in both this world and the hereafter. Let’s understand it word by word:
1. اللَّهُمَّ (O Allah)
It begins by calling upon Allah alone. This shows pure Tawheed (Oneness of Allah) — that only Allah is the source of all help.
2. اكْفِنِي (Suffice me / Make me self-sufficient)
It means: “O Allah, be enough for me.”
This includes:
Sufficiency in wealth
Sufficiency in needs
Sufficiency in thoughts and mind
In short: complete dependence on Allah.
3. بِحَلَالِكَ (With Your Halal provision)
Meaning: “Through Your lawful provision.”
The believer is asking for pure, lawful, and blessed sustenance directly from Allah, not from doubtful or forbidden sources.
4. عَنْ حَرَامِكَ (Away from Your forbidden things)
Not just avoiding haram, but asking for:
No need for haram
No desire for haram
Even no inclination toward haram
It is a deep level of protection from sin.
5. وَأَغْنِنِي (And make me rich / self-sufficient)
Here “richness” means inner contentment, not just money.
The Prophet ﷺ said:
“True richness is the richness of the heart.”
6. بِفَضْلِكَ (By Your grace)
Meaning: “Only through Your mercy and favor.”
It shows humility — everything comes from Allah alone.
7. عَمَّنْ سِوَاكَ (From everyone other than You)
Meaning: “Make me independent from people.”
It includes:
Not needing others financially
Not depending on people emotionally
Not becoming dependent or humiliated before anyone
It is a prayer for dignity and self-respect.
🕌 Scholarly Insights (Summary)
Imam Al-Ghazali: This dua is a key to contentment and detachment from worldly greed.
Ibn al-Qayyim: It summarizes true faith and reliance on Allah.
Scholars: It protects a person from both haram and dependence on creation.
🌟 Final Meaning
This dua asks for four great protections:
Protection from haram
Protection from dependence on people
Protection from greed
Protection from humiliation
And four great blessings:
Halal and blessed provision
Inner peace and contentment
Allah’s grace
Personal dignity and independence

27/04/2026

دعا کی گہری تفسیر و تشریح

**اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ**

یہ صرف 12 الفاظ کی دعا ہے، مگر اس میں ساری دنیا اور آخرت کی بھلائی سمو دی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ کو کھول کر دیکھیے:

# # # # 1. **اللَّهُمَّ**
- یا اللہ! خاص اللہ کے نام سے شروع، جو سارے ناموں کا سرِ چشمہ ہے۔ اس ایک لفظ میں کامل توحید ہے۔

# # # # 2. **اكْفِنِي**
- مجھے کافی کر دیں، بے‌نیاز کر دیں، محفوظ رکھیں، میری حاجت روائی کر دیں۔
- "اکفنی" میں تینوں طرح کی کفایت مانگی گئی:
1. کفایتِ رزق (مال کی)
2. کفایتِ نفس (دل کی)
3. کفایتِ عقل (سوچ کی)

# # # # 3. **بِحَلَالِكَ**
- آپ کے حلال سے، یعنی وہ رزق جو آپ کی طرف سے پاک ہو، برکت والا ہو، طیب ہو،،آپ کے حکم کے مطابق ہو۔
- یہاں بندہ یہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میرا رزق آپ کے ہاتھ سے ہو، مخلوق کے ہاتھ سے نہیں۔"

# # # # 4. **عَنْ حَرَامِكَ**
- آپ کے حرام کردہ امور سے بے‌نیاز کر دیں۔
- یہاں صرف "حرام نہ کھانے" کی دعا نہیں، بلکہ تین اعلیٰ درجے مانگے گئے:
1. حرام کی مجبوری نہ ہو
2. حرام کی طرف رغبت نہ ہو
3. حرام کی طرف نظر بھی نہ جائے

یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"یہ دعا پڑھنے والا حرام سے اس طرح بچ جاتا ہے جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔"

# # # # 5. **وَأَغْنِنِي**
- اور مجھے غنیٰ کر دیں، بے‌نیاز کر دیں۔
- غنا دو طرح کا ہوتا ہے:
- غنای مال (دولت)
- غنای نفس (دل کی بے‌نیازی)
اس دعا میں دوسرا غنا مانگا گیا، جو افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
**"لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"**
(بخاری، مسلم)

# # # # 6. **بِفَضْلِكَ**
- آپ کے فضل سے، نہ کہ میری محنت سے، نہ میری عقل سے، نہ میرے کاروبار سے۔
- یہ لفظ بندے کی عاجزی کی انتہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میں کچھ بھی نہیں، سب آپ کا فضل ہے۔"

# # # # 7. **عَمَّنْ سِوَاكَ**
- آپ کے سوا سب سے۔ یعنی: لوگوں سے مانگنے سے بچالیں
- قرض لینے سے بچا لیں
- چاپلوسی کرنے سے بچا لیں
- کسی کے احسان تلے دبنے سے بچا لیں
- دنیا کے کسی طاقتور کے آگے جھکنے سے بچالیں

یہ عزتِ نفس کی آخری حد ہے۔

# # # بڑے علماء کی تشریحات

| عالم | ان کی تشریح کا خلاصہ |
|------|----------------------|
| امام غزالی (احیاء العلوم) | یہ دعا قناعت کا سب سے بڑا نسخہ ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے، اس کا دل دنیا سے نکل جاتا ہے۔ |
| ابن القیم (عدة الصابرین) | یہ دعا توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسماء و صفات کا نچوڑ ہے۔ |
| شیخ عبدالقادر جیلانی | جو اس دعا کو صبح و شام 7 بار پڑھے، اللہ اسے حلال سے مالا مال اور حرام سے پاک کر دیتا ہے۔ |
| مولانا اشرف علی تھانوی | یہ دعا پڑھنے سے رزق میں ایسی برکت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت بہت نظر آنے لگتا ہے۔ |
| شیخ البانی | اس دعا کی متعدد صحابہ سے صحت، اسے "متواتر معنوی" بنا دیتی ہے۔ |

# # # نتیجہ – یہ دعا کیوں بہت افضل ہے؟
کیونکہ اس میں بندہ چار سب سے بڑی چیزوں سے نجات مانگ رہا ہے:
1. حرام کی مجبوری
2. حرام کی خواہش
3. مخلوق کی غلامی
4. دل کی تنگدستی

اور چار سب سے بڑی چیزیں طلب کر رہا ہے:
1. حلال کی برکت
2. دل کی قناعت
3. اللہ کا فضل
4. عزتِ نفس

Address

Haripur
22620

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor e Haram Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share