05/06/2026
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
درختوں میں ایک ایسا درخت ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اس درخت کی سی ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
سب صحابہ سوچنے لگے لیکن جواب نہ آیا۔
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں اپنی (کم سنی کی وجہ سے) شرم سے نہ بولا۔
بالآخر صحابہ کرام نے عرض کی:
یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہی بتا دیجیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
وہ کھجور کا درخت ہے، اور مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے کہ کھجور کا درخت ہر موسم میں کام آتا ہے، ویسے ہی مومن بھی ہر حالت میں خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
عبداللہ بن عمر گھر آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کی:
بابا! جب آقا ﷺ نے یہ سوال پوچھا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے مگر میں بولا نہیں۔
آپ نے فرمایا:
عبداللہ! اگر اس وقت تم آقا علیہ السلام کے سامنے بتا دیتے تو عمر کا سینہ کتنا چوڑا ہو جاتا کہ عمر کا بیٹا اتنا قابل ہے۔ اس کے بدلے اگر تم سرخ اونٹ بھی خرید کر لاتے تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس بات پر ہوتی کہ میرا بیٹا سوال کے جواب پر بولا۔
اب کتنا بڑا پیغام امت کو ملتا ہے کہ علم ہونے کے باوجود موقع پر بات کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے اعتماد بڑھتا ہے اور دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے۔
دوسرا یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ادب اور بڑوں کے احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی کہ اپنی کم عمری کی وجہ سے خاموش رہے یعنی علم کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔ بعض باتیں چاہے کتنی ہی فائدہ مند کیوں نہ ہوں، موقع محل دیکھا کر کہی جاتی ہیں۔
لیکن یہاں چونکہ بڑوں کا ادب پیش نظر تھا اس لیے عبداللہ بن عمر نے جلیل القدر صحابہ کرام کی موجودگی میں خاموش رہنا بہتر سمجھا۔
خلاصہ:
ضبط کردار اور علم کے ساتھ ادب اور موقع کی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔
اس واقع کو اس مثال سے سمجھیں کہ
بہتر ہزار (72000) جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے آئے۔ ان کے جادو کو قرآن نے بڑا جادو کہا کہ انہوں نے بڑا جادو کیا۔
بس دوران مقابلہ جادوگروں کے منہ سے اللہ کے نبی کے لیے تعظیم کا ایک جملہ نکل گیا۔
انہوں نے ارادہ تعظیمی جملہ نہیں بولا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں کیونکہ اگر وہ نبی مان لیتے تو مقابلے کے لیے کیوں آتے، تو نہ چاہتے ہوئے ان کے منہ سے ایک تعظیمی جملہ نکل گیا:
"موسیٰ! پہلے آپ کچھ دکھائیں گے یا ہم پہلے کچھ دکھائیں؟"
"قالوا یا موسیٰ إما أن تلقی وإما أن نكون أول من ألقى"
اس کے بعد جب مقابلہ ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فتح ہوئی تو تمام جادوگر سجدے میں گر گئے۔
کیوں؟
کہ ادب کبھی ضائع نہیں جاتا۔ ثابت ہوا کہ اگر اللہ کے نبی کے لیے غیر ارادی تعظیم جادوگروں کو ہدایت کی طرف لا سکتی ہے اور اسلام جیسی عظیم دولت سے مالا مال کر سکتی ہے، تو ہمارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کے ادب اور احترام سے ہمیں کتنی بڑی رحمتیں مل سکتی ہیں۔
تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم عزت کی موت اور اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے کیونکہ عزتیں ساری درِ رسول پر پڑی ہیں اور اللہ کی رحمت اسی پر ہوتی ہیں جو رسولوں کی اتباع کرتے ہے
یہ ساری عزتیں جو ہمیں نصیب ہیں، یہ ہمارے گناہوں کے باوجود جو ہم اللہ کی رحمتوں کے سائے تلے ہیں، یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب ہے۔