Trending Pakistan

Trending Pakistan Exploring reality and simplicity.

13/07/2024

شینکہ گاؤں میں پلاٹ برائے فروخت
رابطہ نمبر۔03005605379

13/07/2024

0300 5605379
شینکہ گاؤں میں پلاٹ برائے فروخت ہیں۔
رابطہ نمبر 03005605379

02/04/2024
08/03/2024

کولہو کے ذریعے تیل نکالنے کا قدیم طریقہ ۔
#علاقہ #چھچھ تحصیل #حضرو #اٹک کے گاؤں #گڑھی #علی #زئی #پانڈک #شاھڈیر میں بیل کے ذریعے کولہو چلا کر صدیوں پرانے طریقے سے سرسوں کا تیل کشید کیا جاتا ہے۔ دیکھیے سرسوں کا خالص تیل سو سال پرانے طریقے سے سرسوں کے بیج سے کیسے نکالا جاتا ہے۔بیل کی مدد سے کولہو چلا کر سرسوں سے تیل نکالنے کا طریقہ صدیوں پرانا ہے۔اس کو گانڑی بھی کہا جاتا ہے۔
Inbox your order.





04/03/2024

وزیراعلی پنجاب شکایت سیل
080002345 فون نمبر۔

اگر آپکے گاوں کی گلیاں کوڑے کرکٹ سے بھری ہوئی ہیں۔سیوریج کی صفائی کا معاملہ ھے۔

کوئی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے،واٹر فلٹریشن پلانٹ کے کوئی مسائل ہیں اپنے مسائل کی شکایت وزیراعلی پنجاب کے قائم کردہ شکایت سیل میں کریں۔

دیہاتوں کے لوگوں سے گزارش ھے کہ اپنے اپنے گاوں کے ان تمام مسائل کی شکایت ضرور کریں تاکہ کچرہ کنڈیوں میں تبدیل ہوتے دیہات کی حالت بہتر ہوسکے۔

23/02/2024

***تجارت یا ملازمت ؟؟؟

جب آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ترکے میں صرف “کرنسی” کی مد میں 3 ارب 20 کروڑ 10 لاکھ دینار چھوڑے تھے۔ ایک دینار گول سونے کا کچھ بھاری سا سکہ ہوتا تھا جو کہ ساڑھے 4 ماشے کے برابر تھا اور اس وقت ایک ماشہ پاکستانی 6 یا 7 ہزار روپے کا ہے۔ ایک ہزار گھوڑے، ایک ہزار اونٹ اور 10 ہزار بکرے، بکریاں اور مویشی اس کے علاوہ تھے۔ مدینے اور اس کے اطراف میں بے شمار زمینیں تھیں، جبکہ آپ کی جائیداد میں سونے کی سلیں تک موجود تھیں۔ وفات کے بعد ان سلوں کو کلہاڑوں سے کاٹا گیا۔ مزدوروں نے صبح کاٹنا شروع کیا تو شام ہوگئی اور مزدوروں کے ہاتھ تک سوج گئے۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کی چاروں ازواج حیات تھیں اور بیوی کے حصے میں جائداد کا آٹھواں حصہ آتا ہے۔ آپ کی ایک ایک بیوی کے حصے میں کرنسی کی صورت میں 4 لاکھ دینار یعنی 400 ملین درہم آئے۔

یہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ تھے جن کو نہ صرف بدری صحابی ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ یہ ان 10 صحابہ میں آٹھویں نمبر پر موجود ہیں جن کو رسول اللہﷺ نے دنیا میں ہی نام لے کر جنت کی بشارت دی تھی۔

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اسلام سے پہلے بھی تجارت ہی کیا کرتے تھے اور حضرت عثمانؓ کے بہترین دوستوں میں شامل تھے۔ جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو بالکل مفلوک الحال ہوچکے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کی مواخات بھی ایک انصاری صحابی سے کروادی۔ آپ نے ان انصاری صحابی سے صرف دو سوالات کئے:
1) بازار کہاں ہے؟
2) کونسے کاروبار کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے؟

اس کے بعد سے عبدالرحمن بن عوفؓ نے جانوروں کے گلوں میں باندھنے والی گھنٹیوں کا کام شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے میں مارکیٹ سے یہودیوں کی اجارہ داری اور قبضہ ختم کروا دیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے مدینے میں جو مارکیٹ قائم کی تھی آپ وہاں کے چھوٹے تاجروں کو کم منافع اور بلاسود مال بھی سپلائی کرتے تھے۔ آپ جو کماتے اس کے دو حصے کر دیتے تھے، ایک دفعہ 8 ہزار دینار کمائے تو 4 ہزار اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے۔ آپﷺ نے پوچھا گھر پر کیا چھوڑا؟ فرمایا اتنا ہی ہے جتنا لے کر آیا ہوں۔ آپﷺ نے دعا فرمائی، “اے اللہ! عبدالرحمن جو رحمان کا تاجر ہے اس کے دونوں مالوں میں جو یہاں لے کر آیا ہے اور جو گھر پر چھوڑ کر آیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔” عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تھا تو وہ سونا بن جاتی تھی۔

ایک دفعہ مدینے میں ریت کا طوفان آ گیا۔ لوگ حیران پریشان گھروں سے باہر نکل آئے، ام المومنین حضرت عائشہؓ بھی دروازے پر آ گئیں اور پوچھا یہ طوفان کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا تجارتی قافلہ آیا ہے۔ آپ نے حیرت سے دریافت کیا؛ بھلا تجارتی قافلہ بھی ایسا ہوسکتا ہے؟ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عین وسط شہر میں 700 سامان سے لدے اونٹ کھڑے تھے۔ عبدالرحمٰن بن عوفؓ روتے جاتے اور لوگوں میں سامان بانٹتے جاتے تھے، حتی کہ پورے 700 اونٹوں کا سامان لوگوں میں تقسیم کر دیا۔

مجموعی طور پر اسلام اور اسلامی معاشرے کا مزاج یہی ہے کہ تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے جبکہ نوکری اور غلامی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ: رزق کے 10 دروازے ہیں جن میں سے 9 تجارت میں کھلتے ہیں اور باقی 1 میں دوسرے تمام شامل ہیں۔

لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اسلام تبلیغ سے پھیلا یا تلوار سے؟ میرا ماننا یہ ہے کہ اسلام تجارت سے پھیلا ہے۔ مسلمان بے انتہا وسیع سوچ کے مالک تھے۔ یہ خود کو “برانڈ” بنانا اور “برانڈ” کرنا جانتے تھے۔ مسلمانوں نے خود کو کبھی بھی مکہ، مدینہ یا عرب تک محدود نہیں کیا۔ یہ ایران، عراق اور ہندوستان سے ہوتے ہوئے جزائر غرائب الہند تک پہنچ جاتے تھے اور اپنا “برانڈ” ساری دنیا میں متعارف کرواتے تھے۔ ان کے برانڈ کا نام “اسلام” تھا۔ مقصد اسلام ہوتا تھا اور نتیجے میں پیسہ بھی ملتا تھا۔ یہ کپڑے میں نقص اور عیب بتا کر بیچتے تھے، یہ بارش کے بعد گاہک کو بتاتے تھے کہ بارش کی وجہ سے گندم گیلی ہو گئی ہے اسلئے ہم اس کو اس کی اصل قیمت سے کم پر بیچیں گے۔ یہ معمولی فائدے پر بھی گاہک کو اچھی چیز بیچ دیتے تھے اور بیچا ہوا مال واپس بھی لیتے تھے اور تبدیل بھی کرتے تھے۔

ہم ایسی دوغلی قوم ہیں کہ ہم دو دو روپے کمانے کے لیے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور چونا بھی لگاتے ہیں۔ لیکن کاروبار کرنے والوں کو چور لٹیرا بھی سمجھتے ہیں اور ان سے حسد بھی کرتے ہیں۔ آج ساری دنیا کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ امپورٹ، ایکسپورٹ، سرمایہ کاری اور تجارت کرنے والوں کو عزت دینے سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں، لیکن جن کے اباؤاجداد نے 3 براعظموں میں اپنا کاروبار متعارف کروایا وہی اس بات سے ناواقف ہیں۔دنیا میں 500 بڑی آئل کمپنیز ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی کسی بھی مسلمان ملک کی نہیں ہے جب کہ تیل پیدا کرنے والے 11 میں سے 10 ممالک عرب ہیں۔ آپ کو پاکستان کی بڑی بڑی نام نہاد فوڈ چینز اور ہوٹلز کا نام ونشان تک پاکستان سے باہر نظر نہیں آئیگا اور نہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ہماری کوئی پروڈکٹ ملے گی۔ ہمارا چاول اور آم تک ہندوستان کے نام سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔

آپ کمال ملاحظہ کریں کہ مدینے میں یہودیوں کے مقابلے میں جو بازار رسول اللہﷺ نے قائم کیا وہاں پر باہر سے آنے والوں کو ”ٹیکس فری” ماحول دیا گیا۔ وہ وہاں اپنے خیمے لگاتے تھے لیکن ان سے کسی بھی قسم کی کوئی رقم نہیں لی جاتی تھی جب کہ اس کے مقابلے میں یہودی بھاری بھاری ٹیکس لیتے تھے۔ آج کاروباری لوگوں کے لیے اسرائیل ٹیکس فری ہے جبکہ ہمارے ملک میں کاروبار کرنا ہی عذاب بن گیا ہے۔

دنیا میں کوئی ریاست 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرتی ہے اور نہ کر سکتی ہے۔ یہ اپنے ملک میں مکیش انبانی، لکشمی متل ، بل گیٹس اور جیف بیزاس جیسے لوگوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ یہ امریکا کو “بل گیٹس کا امریکا ” کہتے ہیں، لیکن ایک ہم ہیں جو دنیا میں پاکستان کا کاروباری چہرہ دکھانے والوں کو عدالتوں میں ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں غریب لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ امیروں نے ہماری دولت پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ساری دنیا کی دولت کو ہر انسان میں برابر کا تقسیم کردیں۔ یہ صرف 5 سال بعد ٹھیک انہی ہاتھوں میں دوبارہ آجائیگی، غریب غریب ہی رہے گا اور امیر دوبارہ امیر بن جائیگا، کیونکہ غربت اور امارت کا تعلق پیسے سے نہیں “مائنڈ سیٹ” سے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا سے لے کر کراچی تک MBA کرنے والوں کو دوسروں کی کمپنیوں کو بہترین انداز میں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن اپنی کمپنی شروع کرنے اور اسے آگے لے جانے کا کوئی پروگرام سرے سے ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پاس ہے ہی نہیں۔ ہمارا سارا تعلیمی نظام محض غلام اور نوکر پیدا کر رہا ہے اور اس کے دو بڑے نقصانات ہیں۔

1) پہلا نقصان یہ ہے کہ بندے کا توکل اللہ پر سے ختم ہو کر مالک، سیٹھ اور کمپنی پر ہوجاتا ہے، اس کو لگنے لگتا ہے کہ مجھے کھلانے، پہنانے اور پرورش کرنے والا میرا باس ہے، یہ عیاشیاں اور مہینے کا راشن اسی کا مرہون منت ہے اور جس دن اس خدا (باس، کمپنی، سیٹھ) کا سایہ نعوذ باللہ میرے اوپر سے اٹھ گیا میں کنگال ہو جاؤں گا یا شاید سڑک پر آجاؤں گا اور میرے بیوی بچے بھوکے مر جائیں گے۔

2) دوسرا نقصان یہ ہے کہ بندے کو اپنی قدر و قیمت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو 60 لاکھ کمانے کے لیے پیدا کیا ہو اور وہ زندگی بھر 60 ہزار کو ہی اپنا مقدر سمجھتا رہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلنے والی ہوں اور وہ اپنی ساری صلاحیتیں بس اپنے بیوی بچوں کو ہی خوش کرنے میں لگا دے۔

بہرحال، ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نوکری اور غلامی کے بجائے کاروباری ذہن اور تجارتی مزاج پروان چڑھایا جائے تاکہ ہمارے بچے دولت کے خوف اور پیسے کی جکڑ بندیوں سے باہر نکل کر بھی کچھ سوچ سکیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین**

14/02/2024

حضرت شیخ الہند کے ذوق و فکر کی ایک جھلک

اللہ جلّ شانہ نے حضرت اقدس شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کو حضرات شیخین کریمین حضرت نانوتوی ؒ وحضرت گنگوہیؒ کے علوم ونسبتوں اور ذوق وفکر کا جامع و امین بنایا تھا۔ آپؒ نے تمام کتب حدیث براہِ راست حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے پڑھیں اور ان سے ہر لحاظ سے فیضیاب ہوئے۔اس کے بعد حضرت گنگوہی ؒ کے فیض صحبت سے بھی باریابی ہوئی اور آپؒ کی طرف سے خلافت سے بھی سرفراز ہوئے ، حضرت گنگوہی ؒ کی نماز جنازہ بھی آپ ؒ نے پڑھائی تھی۔اللہ پاک نے آپؒ کو دارالعلوم دیوبند میں ایک عرصہ تک دینی علوم کی تدریس کیساتھ خدمت حدیث کا شرف بھی بخشا ۔ اسی شانِ جامعیت کا اثرتھا کہ اللہ پاک نے آپؒ کے شاگردوں میں ایک ایسی جماعت بھی پیدا کردی کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے شعبہ کا امام و مقتدیٰ تھا ، تاریخ میں اسکے نظائر کم ہی ہوں گے ۔ آپ کے شاگردوں میں حضرت علامہ سیدمحمد انور شاہ کشمیری ؒ ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، حضرت مولا نا عبید اللہ سندھی ؒ ، حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ ، حضر ت مولاناشبیر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ ، حضرت مولانا محمد الیاسؒ اور مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں ۔ اگر چہ آپ کے جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ قرار پائے ۔
*۔۔۔ چونکہ آپؒ ہر اعتبار سے بلند نظروفکر کے مالک تھے،اسی لیے آپ ملت اسلامیہ کے انفرادی واجتماعی وقار وترقی کیلئے ہمہ وقت متفکر رہتے تھے ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں: جو لوگ حضرتؒ سے واقف ہیں وہ اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ان کی یہ قید وبند عام سیاسی لیڈروں کی قید نہ تھی ، جنگ آزادی میں اس درویش کی ساری تحریکات صرف رضائے حق سبحانہ وتعالیٰ کے لیے امت کی صلاح وفلاح کے گرد گھومتی تھیں۔ مسافرت اور انتہائی بے کسی کے عالم میں گرفتاری کے وقت وہ جملہ جوان کی زبان مبارک پر آیا تھا ان کے عزم اور مقصد کا پتہ دیتا ہے ، فرمایا :
الحمد للہ ب!بمصیبتے گرفتارم نہ بمعصیتے
(الحمدللہ! مصیبت میں گرفتار ہوا ہوں نہ کہ گناہ میں)
جیل کی تنہائیوں میں ایک روز بہت مغموم دیکھ کر بعض رفقاء نے کچھ تسلی کے الفاظ کہنا چاہے۔ تو فرمایا :’’ اس تکلیف کا کیا غم ہے جو ایک دن ختم ہوجانے والی ہے ، غم اس کا ہے کہ یہ تکلیف ومحنت اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہے یا نہیں ۔‘‘
*۔۔۔مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعدعشاء دارالعلوم میں تشریف فرما تھے ، علماء کا بہت بڑا مجمع سامنے تھا ، اس وقت فرمایا کہ :’’ہم نے تومالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں‘‘ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے اسّی سال علماء کو درس دینے کے بعد آخر عمر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں؟تو آپؒ نے فرمایا کہ :
’’ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے ۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا ، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً و معناً عام کیا جائے ، بچوں کیلئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر ہربستی میں قائم کیے جائیں ، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے ، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے ‘‘(جواہر الفقہ ص ۴۳۶جلد ۱)
*۔۔۔اسی طرح آپؒ نے سامراج سے نجات اور حق کی سربلندی کے لیے حیرت انگیز انقلابی اسکیم بنائی تھی جو تاریخ میں تحریکِ ریشمی رومال کے نام سے مشہور ہے ۔ اگر وہ کامیاب ہوجاتی تو مسلمانوں کو دوہرافائدہ ہوتا کہ اس سے برطانوی سامراج کا سورج بھی ملت اسلامیہ سے غروب ہوجاتا اور دیگر ممالک اسلامیہ کے ہندوستان کے ساتھ متحدہونے کی وجہ سے ہند کا مسلمان بھی اقلیت سے اکثریت میں آجاتا ۔ جو اسلام اور مسلمان دونوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے نعمت عظمیٰ ہوتی ، لیکن تحریک کامیاب نہ ہوسکی اور آپ کو اسیر مالٹا بنالیا گیا ، وکان امراللّٰہ قدرا مقدورا۔
*۔۔۔ فرنگی استعمار نے متحدہ ہندوستان پر جب قبضہ کیا اور اہل ہند خصوصاً مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے اس کی تفصیل قارئین کرام نقش حیات جلد اول میں ملاحظہ فرمائیں ، جس سے واضح ہوگا کہ برطانوی سامراج غیر مسلم ہونے کیساتھ غاصب وظالم ،جابر ،لٹیرا اور تمام اہلِ ہند خصوصاً مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا ،اسی لیے ہمارے حضرات اکابر نے اس کے غاصبانہ اقتدار کو قطعاً تسلیم نہیں کیا اور آزادی کی جدوجہد شروع کردی۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ نے ۱۸۰۳ء میں ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتوی دیا۔، حضرت شیخ الہندؒ کے پیش نظر یہ تمام حقائق تھے جس کی وجہ سے آپؒ فرنگی استعمار کے خاتمہ کے لیے بے چین ومضطرب تھے۔ چنانچہ مالٹا سے رہائی کے بعد آپؒ نے ’’تحریکِ ترکِ موالات‘‘ سے آزادی وطن کی غیر مسلح سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا ، جس سے سارے اہل ہندمیں آزادی وطن کا جذبہ وشعور بیدار ہوا ، سامراج کا خوف ورعب ختم ہوا ، اس کا غرور پاش پاش ہوگیا اور اس نے ہندوستان چھوڑنے کا ارادہ کرلیا۔ آپؒ نے دوسرے مذاہب کے اہلِ وطن کو بھی آزادی کی اس جدوجہد میں شامل رکھا ،اس لیے کہ استعمار کا حملہ تمام اہلِ ہند پر یکساں تھا ، پس غلامی سے خلاصی بھی مشترکہ طورپر ہی کامیاب ہوسکتی تھی ۔
الحمد للہ ! جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے ’’ کاروان شیخ الہند ‘‘ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی قیادت میں رواں دواں رہا اور اُس نے سر زمین ہند کو فرنگی سامراج کی غلامی سے نجات دلائی۔یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ’’ کاروان شیخ الہند ‘‘ کے حدی خوانوں میں با نیئ مجلسِ احرار اسلام امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب ؒ کا نام گرامی بھی سر فہرست رہا ۔
*۔۔۔حضرت شیخ الہندؒ پورے عالم کوبرطانوی سامراج کی غلامی کی ذلت سے نجات دلانا چاہتے تھے ،اس لیے کہ بھلا مسلمان غلامی کوکیسے قبول کرسکتا ہے ؟وہ تو ساری انسانیت کا غلامی سے نجات دہندہ ہے۔ نیز آپؒ یہ بھی چاہتے تھے کہ علماء وصلحاء میں عدل واعتدال اورسیاسی شعور بیدارہو اوروہ تحریکِ آزادی میں شامل ہوں۔یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دور حاضر میں غلام بنانے کی شکل بدل گئی ہے ، کسی ملک پر قبضہ کرکے اس کے باشندگان کو زبردستی محکوم بنالینا ہی غلام بنانے کی ترقی یافتہ شکل ہے، جس کو استعمار ،استبداداور سامراج کہا جاتا ہے ، اسی طرح وہ سربراہ بھی ایک درجہ کا سامراج ہے جو اپنے ماتحت کے انسانی و معاشرتی حقوق پامال کرتا ہے ۔ غلامی کوقبول کرنا ذلت کو قبول کرنا ہے ، جس سے انسان میں اپنی عزت نفس کا شعور تک مفقود ہونا شروع ہوجاتا ہے اور وہ پست ذہنی او راحساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے ، جو ذریعہ بن جاتا ہے فکری ارتقاء کے خاتمہ کا۔ ایسے شخص کے اقوال وافعال پر ظالم حکمرانوں کی مرعوبیت و مغلوبیت نمایاں ہوتی ہے ،حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ قصص القرآن جلد اول کے آخر میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ: ’’پیروانِ ملت اسلامیہ کیلئے غلامی بہت بڑی لعنت ہے وراس پر قناعت کرنا عذاب الٰہی اور لعنت خداوندی پر قناعت کرنا ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوتِ ایمان دینے کے بعد پہلا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرو ، تاکہ ان کی مذہبی زندگی کے کسی شعبہ میں کافرانہ وجابرانہ اقتدار حائل نہ ہوسکے۔ اسی کیساتھ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام دعویٰ رسالت کے بعد عرصۂ دراز تک مصر میں رہے ، مگر آپ کو تورات اس وقت ملی جب بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے آزاد ہوگئے‘‘
*۔۔۔بعض مخلص مگر سادہ لوگ ہر حکومت کو دنیاداری ہی سمجھتے ہیں اگر چہ وہ اسلام ہی کی کیوں نہ ہو۔ یہ سادہ لوحی مذہب کے حوالہ سے بڑی خطرناک چیز ہے ۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ایک نہایت ہی اہم بات یہ ہے کہ شرعی حکومت کے بغیر شریعت پر پورا عمل بھی نہیں ہوسکتا ، اسلام کے نظام عمل کا ایک مستقل حصہ ایسا ہے جو حکومت پر موقوف ہے ۔ حکومت کے بغیر قرآن مجید کا ایک پورا حصہ ناقابل عمل رہ جاتا ہے ، خود اسلام کی حفاظت بھی قوت کے بغیر ممکن نہیں ۔ مثال کے طورپر اسلام کا پورا نظام مالی و دیوانی وفوجداری معطل ہوجاتا ہے ، اسی لیے قرآن غلبہ وعزت کے حصول پر زور دیتا ہے اور اسی لیے خلافت اسلامی بہت اہم اور مقدس چیز سمجھی گئی اوراسی کو اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺکی تجہیز وتکفین پر مقدم رکھا ، جسے بہت سے کوتاہ نظر نہیں سمجھے ‘‘ (تاریخ دعوت وعزیمت صفحہ ۵۷،جلد ششم ، حصہ اول)
یہا ں اس امر کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خدمت دین کے لیے تقسیم کار کے اصول میں کوئی اختلاف نہیں بشرطیکہ دین کے دوسرے شعبوں کی قدر وتائید ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ ’’تقسیم کار‘‘ نہیں بلکہ ’’تقسیم افکار‘‘ ہے ، جس سے بسااوقات دوسروں کی نفی شروع ہوجاتی ہے جو فتنہ کا ذریعہ بنتا ہے ، اس لیے خادمانِ دین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے فکر و عمل کو درست رکھنے کی کوشش کیاکریں ۔
*۔۔۔ دورِ حاضر میں ہمارے بعض دینی طبقات میں اخلاص وتقوی اور قربانی دینے کا جذبہ کچھ کمزور پڑتا جارہا ہے ، وَھْنْ ،بزدلی اور خوف دل ودماغ کو مرعوب کرتے جار ہے ہیں اس کا ازالہ ضروری ہے ۔پس اخلاص وتقوی ،ذکر وفکر کے لیے اپنے حضرات اکابر کے طرز کے مطابق خانقاہی محنت کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ساتھ ہی ہرسطح پر سیاسی شعور کی بیداری بھی نہایت ضروری ہے کہ یہ بیداری انسان میں شجاعت ، خود اعتمادی ،نظریہ اور عقیدہ کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔اسی کے ساتھ ہم کو رحمت للعالمینﷺ کے فرمان حب الدنیا وکراہےۃ الموت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم اس مرض کا شکار تو نہیں ہورہے اور یہ تو واضح ہی ہے کہ خوف ووھن کا ازالہ غیرت ملّی وجذبۂ قربانی کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جذبۂ قربانی کی اساس اخلاص اور جُہدوزہد دونوں ہی ہیں۔ سہولت پسند ،عیش وعشرت کے دلدادہ میں عمومًا جذبہ قربانی نہیں ہوا کرتا۔ہم سب کے پیشِ نظر آپﷺ کی وہ نصیحت ہونی چاہیے جوآپﷺنے اپنے محبوب صحابی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن رخصت کرتے ہوئے فرمائی تھی کہ:’’اے معاذ! اپنے آپ کو راحت طلبی اور تن آسانی سے بچانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندگانِ خاص آرام وآسائش کی زندگی نہیں گزارتے ‘‘ (مشکوۃ شریف) اس عدل و اعتدال کی محنت کے ثمرات ظاہر ہوں گے ۔ ان شاء اللہ ۔
*۔۔۔اللہ پاک منور فرمائے حضرت شیخ الہندؒ کی قبر کو کہ جنہوں نے ملت کو اتباعِ سنت ، اخلاص وتقوی کے اپنانے ، عقیدہ اور عمل کی پختگی کے ساتھ ساتھ عدل و اعتدال،غیرت ملی شجاعت وحکمت، آزادی وطن کا سیاسی شعور بخشااور ملت کو باطل طاقت کے سامنے سر اٹھانا سکھایا ،فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء۔ یقیناًملت کی سربلندی اوربقاء وتحفظ کا راز انہی صفات کے اپنانے میں ہے ، بصورت دیگرضمیر مردہ اور نظریہ وعقیدہ دفن ہونا شروع ہوجاتے ہیں اورپھر ایسے لوگوں کا شیوہ ہرطاقت کے سامنے جھکنا اور مفادات ہی کو اپنا مطمع نظر بنالینا رہ جاتا ہے، حفظنا اللّٰہ تعالی منہ ۔
الحمدللہ! آج ایک صدی گزرنے کے باوجود آپ کا ذوق وفکر زندہ وتابندہ ہے، جس کے حاملین ملّت کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں ۔اے اللہ ! آپ مجدد وقت سیدنا حضرت شیخ الہندؒ کو پوری ملت کی طرف سے اپنی ہی شایانِ شان جزائے خیر نصیب فرمادیں ،جنہوں نے ملت کو ان صفاتِ عالیہ کا ذوق بخشا اور ہم مسلمانوں کو آپؒ کی تعلیمات کی قدردانی کی توفیق بخشیں، آمین

04/02/2024

❤️ ہمیشہ شاد اور آباد رہیں. ❤️

04/02/2024

اس پیج کے ساتھ آپ کا جڑے رہنا ہمارے لیے نہایت خوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے. پیج انتظامیہ کی جانب سے شکریہ قبول فرمائیے.

04/02/2024

آپ کے اچھے اخلاق کی قدر بھی لوگ اس وقت کریں گے جب آپ کے پاس دولت اور طاقت ہو. غریب کے اچھے اخلاق کو لوگ اس کی مجبوری سمجھتے ہیں. شیخ سعدی رح

Address

Cf11 Clare Gardens
Hazro

Telephone

+447404175924

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Trending Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share