فکر نامہ Fikr Nama

فکر نامہ Fikr Nama سچ کی تلاش
فکر نامہ

مشہور وزیرستانی ٹیک ٹاکر نے صرف بیس دنوں میں نوے ہزار سوٹ بھیچ کر ایک نٸی مثال قاٸم کی۔   #فکرنامہ
14/01/2026

مشہور وزیرستانی ٹیک ٹاکر نے صرف بیس دنوں میں نوے ہزار سوٹ بھیچ کر ایک نٸی مثال قاٸم کی۔
#فکرنامہ

14/01/2026

جنوبی وزیرستان کے مولانا عبدالرشید نے طالبان اور افواج پاکستان کو مذکرات کرنے کی درخواست کی ہے۔
کہ جیسے تیسے بھی ہو مذکرات ہونی چاٸے

الحمد لله قربان علی 11 دنوں بعد اپنے گھر واپس پہنچ گٸے۔
13/01/2026

الحمد لله قربان علی 11 دنوں بعد اپنے گھر واپس پہنچ گٸے۔

12/01/2026

خیبرپختونخواہ میں آٹا غریب عوام کی پہنچ سے دور ۔۔
پی ٹی آئی 🇧🇫 خیبرپختونخواہ وزیر اعلی عوام کی پیسوں پر کراچی میں جلسے کررہے ہیں

12/01/2026

خیبر تیراہ میں اس وقت ایک اور فوجی آپریشن جاری ہے۔ معصوم بچے بمباری اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ جو آگ اور بارود سے بچ جاتے ہیں، وہ شدید سردی، بھوک اور بے گھری کے ہاتھوں جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ مائیں اپنے لختِ جگر اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں، بوڑھے کھلے آسمان تلے سسک رہے ہیں، اور پورا علاقہ کربناک خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے۔
مگر افسوس!
خیبر تیراہ کا نام نہاد نمائندہ اور خیبر پختونخواہ کا وزیرِ اعلیٰ اس نازک گھڑی میں کراچی کے جلسوں اور جلوسوں میں مصروف ہے۔ نہ اپنے علاقے کا دورہ، نہ متاثرین کی داد رسی، نہ کوئی واضح مؤقف۔
جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے:
“یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔”
سوال یہ ہے کہ اگر یہ وقت نہیں تو پھر کون سا وقت ہوگا؟
کیا وقت صرف سیاست، تقریروں اور طاقت کے مراکز کو خوش رکھنے کے لیے مخصوص ہے؟
اور جب ان کے حامیوں سے سوال کیا جائے تو وہ بھی یہی کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ:
“آپریشن تو فوج کر رہی ہے، سہیل افریدی کیا کر سکتا ہے؟”
یہ دلیل نہیں، بے حسی کا اعتراف ہے۔
اگر آپریشن رکوایا نہیں جا سکتا تو
کیا متاثرین کی مدد بھی نہیں کی جا سکتی؟
کیا زخمیوں کو ادویات فراہم نہیں کی جا سکتیں؟
کیا بے گھر خاندانوں کے لیے خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور خوراک کا بندوبست نہیں ہو سکتا؟
کیا سردی سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات بھی کسی کے اختیار میں نہیں؟
کیا کم از کم متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی اخلاقی ذمہ داری بھی ختم ہو چکی ہے؟
اگر نمائندہ بول نہیں سکتا، سوال نہیں اٹھا سکتا، متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا، تو پھر اس کی نمائندگی کا جواز کیا ہے؟
خیبر تیراہ کے عوام کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموشی بھی جرم ہوتی ہے،
اور جو قیادت مشکل وقت میں نظر نہ آئے، وہ صرف اقتدار کی زینت ہوتی ہے، عوام کی نہیں۔
یہ وقت سوال کرنے کا ہے،
یہ وقت جاگنے کا ہے،
ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ خاموش قوموں کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔😢
#فکرنامہ
#خیبرپختونحواہ

11/01/2026

دو نمبری چیک کریں
تحریک انصاف کے 2 کارکن خود سے ہی پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گئے اور کیمروں کے سامنے پولیس کی طرف سے گرفتار کرنے کا دعوی کرنے لگے
پولیس والوں نے دیکھا تو بولے او بھائیوں گھر جاو
تہانوں کس نے گرفتار کیتا 😂

پی ٹی آٸی قیادت کیسے عوام کے ذہنوں سے کھیل رہی ہو یہ آپ کو اس پوسٹ میں نظر آٸے گا۔ایک طرف یہ نعرہ فسطاٸیت اور ظلم کے خلا...
11/01/2026

پی ٹی آٸی قیادت کیسے عوام کے ذہنوں سے کھیل رہی ہو یہ آپ کو اس پوسٹ میں نظر آٸے گا۔
ایک طرف یہ نعرہ فسطاٸیت اور ظلم کے خلاف لگا رہیں ہیں اور دوسری طرف سکرین کے پردہ کے پیچھے خیبر میں کیا چل رہا ہے اس پر کوٸی دھیان بھی نہی افسوس اج بھی ہم سوٸے ہوٸے ہیں

11/01/2026

وادیِ تیراہ کے سنگلاخ پہاڑ آج گواہ ہیں کہ وہاں سے اٹھنے والی آہیں اور فریادیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ رہی ہیں۔ ایک طرف ریاستی سطح پر دہشت گردی کے نام پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں جن کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنی صدیوں پرانی بستیوں سے بے دخل ہو چکے ہیں، تو دوسری جانب شدید سردی نے ان مصیبت زدہ لوگوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ برفانی ہوائیں، منجمد راتیں اور کھلے آسمان تلے سسکتے بچے اس المیے کی ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جسے دیکھ کر بھی صوبائی قیادت کے دل نہیں پسیج رہے۔
اس انسانی بحران کے عین درمیان خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا طرزِ عمل خود ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ سکیورٹی آپریشنز کے فیصلے شاید ان کے اختیار میں نہ ہوں، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بے گھر ہونے والے شہریوں کی دیکھ بھال، ان کے لیے پناہ، خوراک اور علاج کا بندوبست کرنا براہِ راست صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کیا سرد راتوں میں ٹھٹھرتے ہوئے یہ خاندان کسی اور صوبے کا مسئلہ ہیں؟ کیا ان کے زخموں پر مرہم رکھنا کسی وفاقی اعلان کا محتاج ہے؟
یہ کیسا المیہ ہے کہ جب تیراہ کی مائیں اپنے بچوں کو برف سے بچانے کے لیے اپنے وجود کی حدت قربان کر رہی ہیں، اسی وقت ان کا منتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور سندھ کی شاہراہوں پر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ سہیل آفریدی کی ترجیحات صاف بتا رہی ہیں کہ صوبے کے مظلوم عوام کے دکھ درد سے زیادہ اہمیت انہیں ایک سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے ہونے والی ریلیوں اور جلسوں کی ہے۔ جب کسی صوبے کا سربراہ اپنے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر سیاسی وفاداری کے مظاہروں میں الجھ جائے تو اسے قیادت نہیں بلکہ بے حسی کی انتہا کہا جاتا ہے۔
اگر وزیرِ اعلیٰ کے لیے آپریشن رکوانا ممکن نہیں تھا تو کم از کم اتنا تو کیا جا سکتا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش، گرم لباس، خوراک اور بنیادی ادویات کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جاتا۔ مگر افسوس کہ صوبے کے وسائل، جو اس وقت انسانی جانیں بچانے کے لیے استعمال ہونے چاہیے تھے، وہ دوسرے صوبوں میں سیاسی طاقت کے مظاہروں پر لٹائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک فرد کی سیاسی رہائی واقعی پورے صوبے کے امن، استحکام اور انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟
سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک شخصیت کے گرد وفاداری کا حصار کھڑا کرنا۔ آج تیراہ کے عوام خود کو تنہا اور لاچار محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کی پہچان یا تو وہ گولہ بارود ہے جو ان کے گھروں کے آس پاس برس رہا ہے، یا وہ برف ہے جو ان کے خیموں کو ڈھانپ کر ان کی امیدیں منجمد کر رہی ہے۔ جب صوبے کا سب سے بڑا عہدیدار ہی میدان چھوڑ دے تو پھر انتظامیہ کی بے عملی پر حیرت کیسی؟
اگر یہی روش برقرار رہی تو تاریخ سہیل آفریدی کو ایک ایسے حکمران کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اقتدار اور سیاسی وابستگی کی خاطر اپنے عوام کو سرد راتوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ پنجاب اور سندھ کی سیاسی مصروفیات ترک کریں، پشاور میں بیٹھ کر ریلیف سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کریں، کیونکہ یہ جلسے شاید کسی کو رہا نہ کرا سکیں، مگر مظلوم عوام کی آہیں اور بددعائیں بڑے بڑے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا دینے کی طاقت ضرور رکھتی ہیں۔
فکر نامہ Fikr Nama
Muhammad Sohail Afridi
PTI Karachi
PTI Lahore
PTI Khyber Pakhtunkhwa
PTI Punjab
PTI Gilgit Baltistan
Imran Khan
Pakistan Tehreek-e-Insaf Sindh
#فکرنامہ

سردی کی شدد سے جان بحق ہونے والا تیراہ کا معصوم پھول اور اسی تیراہ کا نماٸندہ کراچی میں سیر سپاٹوں میں مصروف فکر نامہ Fi...
11/01/2026

سردی کی شدد سے جان بحق ہونے والا تیراہ کا معصوم پھول اور اسی تیراہ کا نماٸندہ کراچی میں سیر سپاٹوں میں مصروف
فکر نامہ Fikr Nama

11/01/2026

یہ صرف ایک خبر نہیں…
یہ ایک وادی کا نوحہ ہے…
یہ تیراہ کی ان پہاڑیوں کی فریاد ہے،
جہاں آج گولیوں کی گونج ہے،
اور برف میں لپٹے معصوم بچوں کی سسکیاں ہیں۔
وادیِ تیراہ…
جہاں سے اٹھنے والی آہیں آج پشاور کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں،
اور پنجاب و سندھ کے جلسوں کے شور میں دب جاتی ہیں۔
ایک طرف نام نہاد دہشت گردی کے خلاف آپریشن…
دوسری طرف ہزاروں خاندان،
جو اپنی صدیوں پرانی زمینیں،
اپنے گھر،
اپنی قبریں چھوڑ کر
ہجرت پر مجبور کر دیے گئے۔
اور قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے…
کہ اس بے گھری کے ساتھ
سردی کا وہ قہر نازل ہوا
جس میں خون رگوں میں جم جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں
کہ آپریشن کس نے شروع کیا؟
یا فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟
سوال یہ ہے
کہ جب آپریشن شروع ہو گیا
تو بے گھر عوام کی ذمہ داری کس کی ہے؟
کیا یہ بھی وفاق کا کام ہے
کہ تیراہ کے بچوں کو کمبل ملے؟
کیا یہ بھی اسلام آباد طے کرے گا
کہ ایک ماں کو خیمہ دیا جائے یا نہیں؟
اور اسی لمحے…
اسی وقت…
خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ
پنجاب اور سندھ کی سڑکوں پر
سیاسی میلے سجا رہا ہے۔
تیراہ کی مائیں
برف میں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے
کھلے آسمان تلے بیٹھی ہیں
اور ان کا منتخب وزیرِ اعلیٰ
نعرے لگانے میں مصروف ہے۔
ترجیحات صاف ہیں۔
عوام کی جان سے زیادہ قیمتی
ایک سیاسی قیدی کی رہائی ہے۔
یہ قیادت نہیں…
یہ نمائندگی نہیں…
یہ عوامی استحصال ہے۔
اگر آپ آپریشن نہیں رکوا سکتے
تو کم از کم
گرم کپڑے تو دلوا سکتے تھے۔
خوراک، ادویات، خیمے
یہ سب تو آپ کے اختیار میں تھا۔
مگر افسوس…
صوبے کے وسائل
امدادی کیمپوں پر نہیں
سیاسی لشکر کشی پر خرچ ہو رہے ہیں۔
یہ کیسی حکمرانی ہے
جہاں ایک فرد کی وفاداری
پورے صوبے کی بقا سے زیادہ اہم ہو جائے؟
سہیل آفریدی صاحب!
یاد رکھیے…
سیاست عبادت ہے، غلامی نہیں۔
عوامی خدمت فرض ہے،
سیاسی بندگی نہیں۔
آج تیراہ کے لوگ
خود کو لاوارث سمجھ رہے ہیں۔
ان کے لیے ریاست
یا تو بارود ہے
یا برف۔
اور جب صوبے کا سب سے بڑا عہدیدار
خود مفرور کی طرح
دوسرے صوبوں میں جلسے کرتا پھرے
تو ماتحت اداروں سے
انصاف کی امید رکھنا فضول ہے۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی۔
اگر یہی رویہ برقرار رہا
تو تاریخ سہیل آفریدی کا نام
ایک ایسے حکمران کے طور پر لکھے گی
جس نے اقتدار کی بانسری بجائی
اور اپنے عوام کو
سرد راتوں میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
اب بھی وقت ہے…
جلسے ختم کیجیے،
پشاور واپس آئیے،
ریلیف کی خود نگرانی کیجیے۔
کیونکہ
یہ جلسے شاید کسی کو رہا نہ کرا سکیں…
لیکن عوام کی بددعائیں
تخت و تاج ضرور الٹ دیا کرتی ہیں۔

11/01/2026

کچھ بے وقف پشتونوں کو ابھی بھی سمجھ نہی آرہی کہ پی ٹی آٸی پشتون قوم کی دشمن ہے ان کو استعمال کررہی ہے۔
دیکھٸے قید میں ناحق صرف عمران خان نہی بلکہ ہزاروں پختون قید ہے لیکن پی ٹی آٸی کو صرف عمران خان چاہٸے باقی پختون جاٸے بھاڑ میں۔
اور اگر اس سے بھی آپ کو سمجھ نہی آرہی تو ذرا کل کا واقعہ دیکھ لیجٸے خیبر تیراہ کے لوگو کو اپنے گھروں سے نکال کر آپریشن شروع ہے اور سہیل افریدی کراچی میں مزے لے رہا ہے کسی کا پرواہ ہی نہی اور میرے پختون ابھی بھی واہ واہ کررہے ہیں😢

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فکر نامہ Fikr Nama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share