12/01/2026
خیبر تیراہ میں اس وقت ایک اور فوجی آپریشن جاری ہے۔ معصوم بچے بمباری اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ جو آگ اور بارود سے بچ جاتے ہیں، وہ شدید سردی، بھوک اور بے گھری کے ہاتھوں جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ مائیں اپنے لختِ جگر اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں، بوڑھے کھلے آسمان تلے سسک رہے ہیں، اور پورا علاقہ کربناک خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے۔
مگر افسوس!
خیبر تیراہ کا نام نہاد نمائندہ اور خیبر پختونخواہ کا وزیرِ اعلیٰ اس نازک گھڑی میں کراچی کے جلسوں اور جلوسوں میں مصروف ہے۔ نہ اپنے علاقے کا دورہ، نہ متاثرین کی داد رسی، نہ کوئی واضح مؤقف۔
جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے:
“یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔”
سوال یہ ہے کہ اگر یہ وقت نہیں تو پھر کون سا وقت ہوگا؟
کیا وقت صرف سیاست، تقریروں اور طاقت کے مراکز کو خوش رکھنے کے لیے مخصوص ہے؟
اور جب ان کے حامیوں سے سوال کیا جائے تو وہ بھی یہی کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ:
“آپریشن تو فوج کر رہی ہے، سہیل افریدی کیا کر سکتا ہے؟”
یہ دلیل نہیں، بے حسی کا اعتراف ہے۔
اگر آپریشن رکوایا نہیں جا سکتا تو
کیا متاثرین کی مدد بھی نہیں کی جا سکتی؟
کیا زخمیوں کو ادویات فراہم نہیں کی جا سکتیں؟
کیا بے گھر خاندانوں کے لیے خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور خوراک کا بندوبست نہیں ہو سکتا؟
کیا سردی سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات بھی کسی کے اختیار میں نہیں؟
کیا کم از کم متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی اخلاقی ذمہ داری بھی ختم ہو چکی ہے؟
اگر نمائندہ بول نہیں سکتا، سوال نہیں اٹھا سکتا، متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا، تو پھر اس کی نمائندگی کا جواز کیا ہے؟
خیبر تیراہ کے عوام کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموشی بھی جرم ہوتی ہے،
اور جو قیادت مشکل وقت میں نظر نہ آئے، وہ صرف اقتدار کی زینت ہوتی ہے، عوام کی نہیں۔
یہ وقت سوال کرنے کا ہے،
یہ وقت جاگنے کا ہے،
ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ خاموش قوموں کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔😢
#فکرنامہ
#خیبرپختونحواہ