26/10/2025
سکھوں کیساتھ جب یوسفزئی اور خٹک لڑ رھے تھے نقصان اٹھارھے تھے تو اس وقت بھی کابل کا تخت چپ تھا
پھر جب افریدی سکھوں کے خلاف لڑے تو کابل حکومت پھر بھی چپ رھا
پھر اٹھارہ سو تیس میں افغان حکمران شاہ شجاع نے پیسے لیکے پشاور پہ سکھوں کے قبضے کی قیمت وصول کرلی
پھر دس پندرہ سال بعد انگریز نے سکھوں سے پشاور چھین لیا اور قبائلی علاقے بھی قبضہ کرلیئے مگر کابل خان گونگا بنا رھا اور پھر انہیں دنوں میں انگریز نے ایف سی ار قبائلیوں پہ نافذ کیا اس پر بھی کابل جان گونگا بنا رھا
اسکے بعد افغانستان نے انگریز کیساتھ تین جنگیں لڑیں مگر پختونخوا یا پشاور کو واپس اپنے قبضے میں لینے کی کوشش نہیں کی پھر انیسویں صدی کے اخر میں افغان حکمرانوں نے انگریز کیساتھ ڈیورنڈ معاھدہ کرکے ھمیشہ کیلئے پختونخوا سے علیحدگی اختیار کی غازی امان الله خان نے انگریزوں کیساتھ جنگیں لڑیں مگر یاد رھے یہ جنگیں پشاور واپس لینے کیلئے نہیں تھی بلکہ کابل کی خپلواکی اور خودمختاری کیلئے تھی اسلیئے یہاں بھی منہ دھو کے رکھیں
اسکے بعد جنگ عظیم ھوئی انگریز کمزور ھوا یہاں سے جانے لگا ھر طرف کانفرنسیں جاری تھی نیو کالونیئل سسٹم نافذ ھورھا تھا مگر تخت کابل اس وقت بھی بھنگ پی کے سویا ھوا تھا
پھر سن سینتالیس میں انگریز نے پختونخوا کا علاقہ پاکستان کے حوالے کیا اور چلتے بنے اسکے بعد تخت کابل نے چیخنا شروع کیا کہ پختونخوا کی سرزمین تو ھماری ھے مگر یہ بھی صرف زبانی جمع خرچ تھا پھر سن پینسٹھ اور سن اکہتر میں موقع ملا تھا مگر کابل کا تخت انگور کی بیٹی میں مدھوش پڑا رھا
تخت کابل نے کبھی بھی پشاور یا پختونخوا کی جنگ نہیں لڑی نہ انہونے اسے واپس لینے کی کوشش کی
حقائق حقائق ھوتے ھیں اور تلخ بھی ھوتے ھیں