17/08/2026
زہریلا تیل، خاموش قاتل: انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی!
ترقی اور منافع کی اندھی دوڑ میں جب انسانی جانوں کی قیمت چکانی پڑے، تو وہ نظامِ معاشرہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے جہاں غریب کی زندگی سب سے سستی اور طاقتور مافیا کی تجوریاں سب سے اہم ہو جائیں۔ آج ہمارے شہروں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ کوڑے کے ڈھیروں اور ندی نالوں سے نکلنے والا زہریلا اور غلاظت آلود تیل نہ صرف ہمارے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہا ہے بلکہ گھوم پھر کر ہمارے گھروں کے دسترخوان اور روزمرہ استعمال کی اشیاء تک خاموشی سے پہنچ رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زہر کا ذائقہ صرف غریب کی ہی قسمت میں لکھا ہے؟
آج صورتحال یہ ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار کے نتیجے میں اسپتالوں کے وارڈز ٹائیفائیڈ، شدید ڈائریا، پیٹ کی پیچیدہ بیماریوں، ہیپاٹائٹس اور خطرناک جلدی امراض میں مبتلا مریضوں سے اٹے پڑے ہیں۔ معصوم بچے اور غریب عوام اس خاموش زہر کی بھٹی میں روزانہ جھلس رہے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا افسوسناک المیہ یہ ہے کہ اس سب کے باوجود، ان بااثر بڑے تاجروں اور فیکٹری مالکان کے خلاف آج تک کوئی ٹھوس، عملی اور عبرتناک کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
آخر کیوں قانون کے ہاتھ بڑے مجرموں تک پہنچتے ہوئے کانپ جاتے ہیں؟ کیا اس نظامِ عدل و انتظام میں غریب عوام کی جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی؟ کیا اربابِ اختیار کسی بڑے انسانی سانحے کا انتظار کر رہے ہیں؟
یہ وقت اب محض افسوس کرنے یا زبانی جمع خرچ کا نہیں ہے۔ ہمارا دوٹوک اور پرزور مطالبہ ہے کہ:
کوڑے سے نکلنے والے اس غندے، زہریلے تیل کی خرید و فروخت اور اس کی تمام فیکٹریوں پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے۔
اس انسانیت سوز کاروبار کے تمام پروردہ اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری طور پر سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔
محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اپنی غفلت کی چادر اتار کر فوری نوٹس لیں اور عملی اقدامات کریں۔
اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو تاریخ اس غفلت اور مجرمانہ خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔