13/08/2024
ہمارے ایک ٹیچر نے آن لائن سیشن میں کہا کہ انہوں نے ایک امریکن کمپنی سے آن لائن 16 کروڑ روپے کا پراجکٹ لیا ہے جو 2 سال میں مکمل ہوگا اس بات سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان لائن مارکیٹ کتنی بڑی ہے یہ ایک چھوٹی سے مثال ہے اس طرح ہزاروں کی تعداد میں کال سنٹرز اور ان لائن کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ پر چلتے ہیں
فَکِستان میں کئ دنوں سے انٹرنیٹ کا شدید مسئلہ ہے ایک طرف حکومت ان genius لوگوں کو جاب نہیں دی رہی جو فری لانسرز ہیں انہوں نے بہت مشکل سے آن لائن کسٹمرز ڈھونڈے ہوتے ہیں اور بہت مشکل سے ان کسٹمرز کا اعتماد حاصل کرتے ہیں کیونکہ فکستانیوں کو باہر کے لوگ چوروں کی نظر سے دیکھتے ہیں -
اب اگر کسی نے اپنا سیٹ اپ بنایا ہے حکومت سے جاب کی توقع نہیں ہے اور اس ملک کی معیشت میں ایک اچھا خاصا کنٹریبیوشن کرتے ہیں وہ بھی ڈالرز میں - بجائے اس کے کہ ان کو اپریشیئٹ کیا جائے ان کیلئے کام کرنے کا ایک سازگار ماحول بنایا جائے لیکن یہاں س بلکل الٹ ہے انٹرنیٹ کام نہیں کررہا کلائنٹس سے کمیونیکیشن نہیں ہورہی جو کام ان کو چاہئیے وہ بروقت ان کو ڈلیور نہیں ہورہا یہ ایک ایک دن ان فری لانسرز کیلئے بہت نقصان کا سبب بن رہاہے -
ملک کے الیٹ کلاس کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کیلئے اواز اٹھائیں گے کیونکہ ان کو یہ مسائل نہیں ان کیلئے فری کے ایسے سہولیات میسر ہیں جو ایک فائو سٹار ہوٹل میں بھی نہیں - یہ صرف غریب عوام ہیں جو اس چکی میں پِس رہے ہیں
کل چودہ اگست ہے بقول مطالعہ فکیستان 1947 کو یہ ملک انگریزوں سے آزاد ہوا تھا اور وہ 27 رمضان کا دن تھا یہ صرف اسلامی ٹچ دینے کیلئے کہا گیا ہے ورنہ وہ 27 رمضان کا دن نہیں تھا روز اول سے یہ ملک جھوٹ اور فریب پر چل رہاہے دو قومی نظریہ کی اگر نئ تشریح کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں ایک الیٹ کلاس ہے جن کیلئے قانون کوئی نہیں مہنگائی ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی وہ اپنی مرضی سے فیصلے کرتے ہیں اور دوسرا غریب عوام ہیں جن کیلئے روزی روٹی کمانا بھی مشکل ہے
یہاں صرف انٹرنیٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ غربت, ایجوکیشن کے مواقع نہ ہونا, صحت, بجلی, مہنگائی, لوڈشیڈنگ اور سب سے اہم امن کا نہیں --- یہ ملک ایک لاعلاج مریض بن گیا ہے اور لاعلاج مرض کی دوا کا ہرکسی کو پتہ ہے.... اللہ کرے وہی ہوجائے... آمین
لہذا اس چودہ گز پر ہمارا بھی یہی نعرہ ہے کہ......
اس ملک سے زندہ بھاگ
احسان خان