Lifeline Surgical Clinic

Lifeline Surgical Clinic Cosmetic Surgery, Gynea

16/08/2025

Cosmetics surgery done!






゚viralシfypシ゚ ゚viralシ

            ゚viralシ2024fyp    ゚viralシfypシ゚viralシalシ  ゚viral
28/09/2024






゚viralシ2024fyp
゚viralシfypシ゚viralシalシ ゚viral

29/05/2024
10/09/2023

حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔۔

کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آگیا ۔۔۔۔
کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑتوڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی ۔۔۔
وقت گزرتا گیا استاد بشیر کی دھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغہ حسن کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہو ۔ آسکر کے لیے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔
گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرفٹنگ اور فائیواسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ، دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔
کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔ پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گھٹنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر برد کرنے والی بڈھی جیسی ہو گئی۔
اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا ۔۔ برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی ۔ پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے ۔ انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی۔ رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔
گاؤں میں حویلی تعمیر کی ۔ کنواں کھدوایا ۔ اسکول بنوایا ۔ اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللہ بچائی خاتون مرحومہ ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یاد الٰہی میں گزارنے لگے۔
تو صاحبو گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے ۔ لوگ سلام چوہدری صاحب کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کے علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیم اسناد ہو یا الیکشن مہم چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔
پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا ۔ اچھا لگا ۔ چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی ۔ ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا ۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔
چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے ۔ حسب نسب پوچھا ۔ جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے ۔ پیسے کی ریل پیل ہے۔ اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔۔۔۔
شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکے کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکے کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا ۔ کچھ آنکھیں چار ہوئیں ۔ کچھ یادداشت کھنگالی گیئں ۔ آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔۔۔
“اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔
“اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا ”
کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی ۔۔
“اوئے لعنتی دی اولاد ”
”اوئے میراثیاں دا ٹولہ”
“اوئے بلی ۔ کتے کھان والیو”
“اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ۔
”اوئے سورا ”
شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔ اونچے شملے تھے ۔ کلف لگے سوٹ تھے ۔ سفید ریش نورانی چہرے تھے ۔ دولت تھی ۔ عزت تھی ۔ سوشل ورک تھا ۔ اعزازی ڈگری تھی پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔
بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے ۔ انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔“

"خدا کرے میری ارض پاک پر اترے وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو"
23/03/2022

"خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو"


08/01/2022

جب جہاں جس کی موت لکھی ہے وہ خود ہی وہاں پہنچ جائے گا. (القران)
افسوس ناک واقعہ ہے اللہ سب کی مغفرت فرمائے

Address

Islamabad

Telephone

+923198114109

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lifeline Surgical Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lifeline Surgical Clinic:

Share