Asim.......Ad

Asim.......Ad Advertisements & Wood Art,Marketing & Event Managment Advertisement

06/09/2025

Adverttisment with me

منرل
31/07/2025

منرل

‏باجوڑ:
‏اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ صرف وہی جانتے جو اِس کرب سے گزرتے ہیں 💔

12/01/2025
Must read
07/11/2024

Must read

Life lesson: always stay positive, regardless of the circumstances.
03/11/2024

Life lesson: always stay positive, regardless of the circumstances.

‏عورتیں دو صورتوں میں ہتھیار اٹھا لیتے ہیں ۔پہل صورت جب اس قوم کے مرد دشمن کے ہاتھوں مر چکے ہو ۔دوسری صورت میں جب مرد نا...
30/10/2024

‏عورتیں دو صورتوں میں ہتھیار اٹھا لیتے ہیں ۔
پہل صورت جب اس قوم کے مرد دشمن کے ہاتھوں مر چکے ہو ۔
دوسری صورت میں جب مرد نامرد بننے لگے ۔۔

آج ہم مر چکے ہیں
یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب عورت ہتھیار اٹھائے تو جوانوں کو چوڑیاں پہننا چاہیے ۔
ابنِ تیمیہ

25/10/2024

‏ماں نے بارہ سال کے بیٹے کو سکول کے لیے تیار کیا ناشتے کرنے کے بعد اسکا لنچ اسکے بیگ میں ڈالا جو ایک جوس پراٹھا اور آملیٹ پہ مشتمل تھا۔ بچے نے بیگ اٹھایا اور ماں نے زمین پہ بیٹھ کر اسکو سینے سے لگا کر پیار کیا

اس نے ماں کے کان میں ہلکے سے کہا

" مما آج میں لیٹ آونگا "

" وہ کیوں میرے چندا"
ماں نے واری جاتے اسکے چہرے پہ بوسہ دیتے ہویے مسکرا کر پوچھا

" مما میں نے آج خدا کو ڈھونڈنا ھے اسلیے میں دیر سے آونگا "

" میرے جگر کے ٹوٹے خدا کو تم کیسے ڈھونڈوں گے وہ تو نظر نہیں آتا ناں "

ماں نے شفقت سے اپنے معصوم بچے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہویے کہا لیکن بچے نے کوئی جواب نہیں دیا اور دوڑ کر باہر گیٹ کی طرف چلا گیا۔ اور اسے بھاگتے ہوئے دیکھتی ماں مسکرا دی۔

سکول سے واپس کے بعد بچے نے ایک بینچ پہ ایک غریب بوڑھی اماں جی کو دیکھا جو پریشان بیٹھی ہوئی تھی۔ بھوک اور غربت اسکے چہرے پر عیاں تھی۔ بارہ سال کا بچہ اسکے پاس بینچ پہ بیٹھ گیا اور اپنا ناشتہ نکال لیا۔
اس بوڑھی مسکین اماں جی نے ترستی ہوئ نگاہوں سے روٹی کی طرف دیکھا اور اپنا منہ دوسری طرف کر کے بھوک چھپانے لگی۔

بارہ سال کے معصوم نونہال نے پراٹھے کو ہاتھ میں پکڑا اور کچھ سوچا پھر اس نے پراٹھا اور آملیٹ بڑھا کر بوڑھی مسکین لاچار اور غریب اماں جی کی طرف بڑھا دی۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ ، بوڑھی اماں جی نے مسکرا کر وہ قبول کرلیا۔ اسکے بعد بارہ سال کے معصوم فرشتہ نما بچے نے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ہنستے مسکراتے ہویے جوس کی بوتل بیگ سے برآمد کرلی جیسے آلہ دین کے چراغ سے جن برآمد ہوتا تھا۔اس نے ننھے ہاتھوں سے پورا زور لگا کر جوس کا ڈھکن کھولا اور بڑھا کر اس مسکین عورت کو مسکراتے ہویے دیکھا۔

بوڑھی عورت بھوکی بھی تھی اور پیاس کی ستائی ہوئی بھی اس نے ایک ہی سانس میں سارا جوس پی لیا۔ کھانا کھاتے بوڑھی اماں بچے کو دیکھتی اور بچہ بوڑھی کو۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ۔

کھانا ختم کرنے کے بعد بچے نے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر کی طرف چلتا بنا

گھر پہنچ کر دروازے پہ گھنٹی بجایی تو ماں نے مسکرا کر اسکو بانہوں میں بھر لیا ماں نے اسکے گال پہ پیار کیا اور پوچھا

" میرے لال کو اج خدا ملا کہ نہیں "

" ہاں مما خدا ایک عورت ہے وہ بہت اچھی ہے اور جب وہ مسکراتی ہے تو اپ کی طرح لگتی ہے بلکہ خدا کی مسکراہٹ تو آپ سے بھی زیادہ پیاری ہے"

______________

دوسرا سین

بوڑھی اماں جی پراٹھا انڈہ کھا کر بینچ سے اٹھی اور اپنی راہ لی چلتے چلتے بوڑھی اماں کافی تھک گئ تھی تو وہ ایک جگہ بینچ پر بیٹھ گئیں جہاں مزید ایک عورت بیٹھی ہوئ تھی۔

بوڑھی اماں کافی خوش تھی اور مسکرا رہی تھیں

" آپ کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی " پہلے سے موجود عورت نے بوڑھی اماں سے پوچھا

" ہاں میں آج کافی خوش ہوں پتہ ہے آج میں نے خدا کے ساتھ ملکر بہت اچھا لنچ کیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے خدا دراصل ایک معصوم بچہ ہے بہت ہی پیارا اور چھوٹا سا۔ میری توقعات سے بھی چھوٹا بچہ اتنا مہربان "
__________________

تیسرا سین

قیامت کا منظر ہے

آقائے دو جہاں رحمت اللعامین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہیں اپنی امت کی شفاعت کے لیے۔

اسی دوران اللہ جل و شان ایک انسان کو بلایے گا اور اس سے شکوہ کرے گا

" میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا "
" میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی "
" میں حاجت مند تھا تم نےمیری حاجت پوری نہیں"

وہ انسان کہے گا

"یا اللہ آپ کی عیادت یا بھوک یا حاجت میں کیسے پوری کرسکتا تھا آپ کو کہاں ڈھونڈتا آپ تو خود حاجت پوری کرنے والی ذات ہیں"

اللہ فرمایے گا

" میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو اسکی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا تو اسکو کھانا کھلاتا تو مجھے وہاں پاتا میرا فلاں بندہ حاجت مند تھا تم نے اسکی حاجت پوری کی ہوتی تو تم مجھے اسکے پاس پاتے

تم نے مجھے کھبی ڈھونڈنے کی کوشیش ہی نہیں کی میں تم سے بڑا ناراض ہوں ۔

اس بارے میں ضرور سوچیں کہ آپ کا رویہ کیسا ہے دوسروں کے ساتھ ان کی ضرورت کے وقت ؟؟

مزہ تب ہے جب آپ خود مجبور ہو کر بھی کسی کی مدد ‎

With WildLens by Abrar – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
24/10/2024

With WildLens by Abrar – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

‏غفلت کی سزا موت ہے!جس زمین پر بدکاری ہو گی، وہ زمین خون سے پاک ہونا لازمی قرار دیتی ہے۔ لہذا اس پاک صفائی کے لیے لہو کو...
23/10/2024

‏غفلت کی سزا موت ہے!

جس زمین پر بدکاری ہو گی، وہ زمین خون سے پاک ہونا لازمی قرار دیتی ہے۔ لہذا اس پاک صفائی کے لیے لہو کو پانی طرح بہنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ لاء آف نیچر ہے۔
یہ عدالت کا فیصلہ نہیں ہے، یہ فطرت کا فیصلہ ہے۔
یہاں دو قانون ہیں: ایک فطرت کا قانون ہے۔ دوسرا شریعت کا قانون ہے۔
شریعت میں رحم ہے، فطرت میں رحم نہیں ہے۔
دنیا میں جیسا کرو گے، ویسا ہی بھرو گے۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔ باپ کو گالیاں دو گے، بیٹا تمہیں گالیاں دے گا۔ ماں کو گھر سے نکالو گے، ان شاءاللہ بڑا بیٹا آپ کو نکالے گا۔
یہ لاء آف نیچر ہے۔ شراب پیو گے، گردہ خراب ہوگا۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شراب پیے اور صحت مند رہے۔ لاء آف فطرت میں بخشش نہیں ہے۔ اس میں رحم نہیں ہے۔ شریعت کے قانون میں مغفرت ہے، وہ چاہے تو تمہارے گناہوں کو معاف کر دے۔
استغفر اللہ ربی من کل ذنب أذنبتہ و اتوب الیہ کہہ لو گے تو شریعت معاف کر دے گی۔
شریعت معاف کر سکتی ہے، مگر قدرت کے نظام میں، نیچر کے نظام میں اگر کوئی قوم غافل ہے، سست ہے اور جاہل ہے تو سمجھ لیجیے کہ کل وقت اس سے اپنے ضائع کرنے کا انتقام لے گا۔
اس لیے کہ زمین سستی کو گوارا نہیں کرتی۔ وہ تمام پودے سوکھ جاتے ہیں، جو سستی سے چلتے ہیں۔ وہ درخت سوکھ جاتے ہیں، جو مفید نہیں ہوا کرتے۔ صرف وہ جانور ہی باقی رہیں گے۔ جو مفیدِ مطلب ہیں۔ جو کام کے نہیں ہیں، وہ ڈائناسور کی طرح مٹ جائیں گے۔
یہ لاء آف نیچر ہے۔ اس دنیا میں وہی جیے گا، جو کام کرے گا۔ جو اپنے جینے کی جدوجہدِ کرے گا۔ ناکارہ لوگوں کے سروں پہ تاج نہیں رکھا جاتا۔ کانپنے والے قدم کبھی تخت نشین نہیں ہوا کرتے۔ مارکیٹیں ان کے ہاتھوں میں نہیں ہوتیں، جو 11 بجے آ کر دکان پر بیٹھتے ہوں۔
یہ دنیا بڑی خطرناک ہے۔ یہاں انتقامی کاروائیاں بہت ہیں۔ یہاں کچھ دو اور لو کا قانون ہے۔ یہاں غفلت کی سزا موت ہے!

زیر نظر تصویر غزہ کے پڑوس میں موجود مصر کی سرزمین پر ایک میوزیکل شو کی ہے، جس کے بارے میں ایک یہودی صحافی نے طنزیۃً یہ لکھا ہے کہ؛
"یہ وہ نسل ہے، جو ہم یہودیوں اور یورپی اقوام سے عمر مختار کی طرح جنگ کرنے کی دعوت دار ہے!"

ایک بار پھر ذہن نشین کر لیں کہ دنیا میں غفلت کی سزا موت ہے۔
یہ موت دھیرے دھیرے عالمِ اسلام کے ناکارہ پُرزوں کو صلیب اور صہیونیت کی جنگ کا ایندھن بنا رہی ہے۔

Minstory of Tourism Event at Serena HOTEL Isb..Gulf ad works
10/10/2024

Minstory of Tourism Event at Serena HOTEL Isb..Gulf ad works

Address

Street #2 New Nawaz Towan Near Paradise Complx
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asim.......Ad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asim.......Ad:

Share