23/08/2026
جامعہ گجرات کے مستقبل کا پانچ سالہ روڈ میپ؛ وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق، ڈاکٹر زاہد یوسف اور جرنلسٹ حامد میر میں تبادلہ خیال
تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مالی خود انحصاری اور گورننس میں 2029 تک بڑی پیش رفت کے اہداف زیرِ بحث
گجرات: جامعہ گجرات اور یونیورسٹی آف رسول کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق (تمغۂ امتیاز) اور جامعہ گجرات کی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین و چیئرپرسن سینٹر فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف سے جرنلسٹ حامد میر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں جامعہ گجرات کے پہلے Strategic & Operational Plan 2025-2029 پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ پانچ برسوں کے دوران جامعہ کے تعلیمی، تحقیقی، انتظامی اور مالی اہداف کا جائزہ لیا گیا۔
گفتگو میں اس امر پر توجہ مرکوز رہی کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی ماحول میں جامعات کو روایتی تدریسی کردار سے آگے بڑھ کر تحقیق، اختراع، جدید ٹیکنالوجی، صنعت سے روابط اور روزگار کی منڈی سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں کو ترجیح دینا ہوگی۔ جامعہ گجرات کے پانچ سالہ منصوبے میں بھی انہی شعبوں کو ادارے کی مستقبل کی سمت کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق جامعہ گجرات نے 2029 تک طلبہ کی تعداد میں تقریباً 36 فیصد اضافے، تحقیقی پیداوار اور انڈسٹری کے ساتھ اشتراک کو دوگنا کرنے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ سمیت متعدد قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے ہیں۔
اسٹریٹجک پلان میں جامعہ کو اسمارٹ، گرین اور زیادہ جامع کیمپس میں تبدیل کرنے، جدید کلاس رومز اور تحقیقی سہولیات کو فروغ دینے، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر توجہ بڑھانے اور پائیدار انفراسٹرکچر کی جانب پیش رفت کو بھی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
ملاقات میں جامعہ کی بین الاقوامی شناخت اور رینکنگ بہتر بنانے کے پہلو پر بھی گفتگو ہوئی۔ منصوبے کے تحت QS اور Times Higher Education سمیت عالمی رینکنگز میں جامعہ کی پوزیشن بہتر بنانے اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد 200 سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مالی استحکام بھی پانچ سالہ روڈ میپ کا نمایاں حصہ ہے۔ منصوبے کے مطابق جامعہ نے 2029 تک غیر سرکاری ذرائع سے ایک ارب روپے تک آمدن پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے انڈسٹری روابط، شراکت داریوں، سابق طلبہ کے نیٹ ورک اور دیگر متبادل مالی ذرائع کو مؤثر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
گفتگو میں گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی جوابدہی کو بھی جامعہ کی مستقبل کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ اسٹریٹجک پلان میں انتظامی کارکردگی، شفافیت، احتساب اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد بہتر بناتے ہوئے گورننس میں HEC کی اعلیٰ درجہ بندی کے حصول کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
منصوبے میں جامعہ کی موجودہ صورتحال کا SWOT Analysis بھی شامل ہے، جس میں ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی، وسیع تعلیمی پروگراموں، نسبتاً قابلِ رسائی تعلیم اور موجودہ انفراسٹرکچر کو ادارے کی طاقت قرار دیا گیا، جبکہ کم بین الاقوامی تعاون، پی ایچ ڈی فیکلٹی کے تناسب، تحقیقی پیداوار، سابق طلبہ کے محدود نیٹ ورک اور بعض انتظامی پیچیدگیوں کو بہتری طلب شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
اسی طرح مشترکہ ڈگری اور تحقیقی پروگرام، عالمی جامعات کے ساتھ تعاون، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور متبادل مالی ذرائع کو اہم مواقع قرار دیا گیا ہے، جبکہ برین ڈرین، بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے، مالی دباؤ اور سیاسی و بیوروکریٹک مداخلت جیسے عوامل کو مستقبل کے ممکنہ چیلنجز میں شمار کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کامیابی صرف طلبہ کی تعداد میں اضافے سے نہیں بلکہ معیاری تحقیق، مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیم، جدید مہارتوں کے فروغ، صنعت سے عملی روابط، مؤثر گورننس اور طلبہ کی بہتر پیشہ ورانہ تیاری سے وابستہ ہے۔
جامعہ گجرات کا First Strategic & Operational Plan 2025-2029 یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 50ویں اجلاس میں منظور کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ جامعہ کے لیے آئندہ پانچ برسوں کا پہلا باقاعدہ جامع روڈ میپ ہے، جس کے ذریعے ادارے کو تعلیمی معیار، تحقیق، اختراع، بین الاقوامی شناخت، مالی استحکام اور انتظامی کارکردگی کے میدان میں ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
جامعہ گجرات کے مستقبل کا پانچ سالہ روڈ میپ؛ وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور الحق، ڈاکٹر زاہد یوسف اور جرنلسٹ حامد میر میں تبادلہ خیال
تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مالی خود انحصاری اور گورننس میں 2029 تک بڑی پیش رفت کے اہداف زیرِ بحث
گجرات: جامعہ گجرات اور یونیورسٹی آف رسول کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق (تمغۂ امتیاز) اور جامعہ گجرات کی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین و چیئرپرسن سینٹر فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف سے جرنلسٹ حامد میر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں جامعہ گجرات کے پہلے Strategic & Operational Plan 2025-2029 پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ پانچ برسوں کے دوران جامعہ کے تعلیمی، تحقیقی، انتظامی اور مالی اہداف کا جائزہ لیا گیا۔
گفتگو میں اس امر پر توجہ مرکوز رہی کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی ماحول میں جامعات کو روایتی تدریسی کردار سے آگے بڑھ کر تحقیق، اختراع، جدید ٹیکنالوجی، صنعت سے روابط اور روزگار کی منڈی سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں کو ترجیح دینا ہوگی۔ جامعہ گجرات کے پانچ سالہ منصوبے میں بھی انہی شعبوں کو ادارے کی مستقبل کی سمت کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق جامعہ گجرات نے 2029 تک طلبہ کی تعداد میں تقریباً 36 فیصد اضافے، تحقیقی پیداوار اور انڈسٹری کے ساتھ اشتراک کو دوگنا کرنے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ سمیت متعدد قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے ہیں۔
اسٹریٹجک پلان میں جامعہ کو اسمارٹ، گرین اور زیادہ جامع کیمپس میں تبدیل کرنے، جدید کلاس رومز اور تحقیقی سہولیات کو فروغ دینے، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر توجہ بڑھانے اور پائیدار انفراسٹرکچر کی جانب پیش رفت کو بھی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
ملاقات میں جامعہ کی بین الاقوامی شناخت اور رینکنگ بہتر بنانے کے پہلو پر بھی گفتگو ہوئی۔ منصوبے کے تحت QS اور Times Higher Education سمیت عالمی رینکنگز میں جامعہ کی پوزیشن بہتر بنانے اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد 200 سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مالی استحکام بھی پانچ سالہ روڈ میپ کا نمایاں حصہ ہے۔ منصوبے کے مطابق جامعہ نے 2029 تک غیر سرکاری ذرائع سے ایک ارب روپے تک آمدن پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے انڈسٹری روابط، شراکت داریوں، سابق طلبہ کے نیٹ ورک اور دیگر متبادل مالی ذرائع کو مؤثر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
گفتگو میں گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی جوابدہی کو بھی جامعہ کی مستقبل کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ اسٹریٹجک پلان میں انتظامی کارکردگی، شفافیت، احتساب اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد بہتر بناتے ہوئے گورننس میں HEC کی اعلیٰ درجہ بندی کے حصول کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
منصوبے میں جامعہ کی موجودہ صورتحال کا SWOT Analysis بھی شامل ہے، جس میں ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی، وسیع تعلیمی پروگراموں، نسبتاً قابلِ رسائی تعلیم اور موجودہ انفراسٹرکچر کو ادارے کی طاقت قرار دیا گیا، جبکہ کم بین الاقوامی تعاون، پی ایچ ڈی فیکلٹی کے تناسب، تحقیقی پیداوار، سابق طلبہ کے محدود نیٹ ورک اور بعض انتظامی پیچیدگیوں کو بہتری طلب شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
اسی طرح مشترکہ ڈگری اور تحقیقی پروگرام، عالمی جامعات کے ساتھ تعاون، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور متبادل مالی ذرائع کو اہم مواقع قرار دیا گیا ہے، جبکہ برین ڈرین، بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے، مالی دباؤ اور سیاسی و بیوروکریٹک مداخلت جیسے عوامل کو مستقبل کے ممکنہ چیلنجز میں شمار کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کامیابی صرف طلبہ کی تعداد میں اضافے سے نہیں بلکہ معیاری تحقیق، مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیم، جدید مہارتوں کے فروغ، صنعت سے عملی روابط، مؤثر گورننس اور طلبہ کی بہتر پیشہ ورانہ تیاری سے وابستہ ہے۔
جامعہ گجرات کا First Strategic & Operational Plan 2025-2029 یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 50ویں اجلاس میں منظور کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ جامعہ کے لیے آئندہ پانچ برسوں کا پہلا باقاعدہ جامع روڈ میپ ہے، جس کے ذریعے ادارے کو تعلیمی معیار، تحقیق، اختراع، بین الاقوامی شناخت، مالی استحکام اور انتظامی کارکردگی کے میدان میں ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
Zahid Yousaf University of Gujrat