Islamabad News

Islamabad News 📰 Welcome to Islamabad News! Stay informed with accurate reporting, timely coverage, and insightful analysis

Your trusted source for the latest breaking news, current affairs, exclusive stories, and important updates from Islamabad and across Pakistan.

مالاکنڈ لیویز کے درجنوں اہلکار ماہِ اگست کی تنخواہوں سے محروممالاکنڈ لیویز کے درجنوں اہلکار ماہِ اگست کی تنخواہوں سے تاح...
03/09/2026

مالاکنڈ لیویز کے درجنوں اہلکار ماہِ اگست کی تنخواہوں سے محروم
مالاکنڈ لیویز کے درجنوں اہلکار ماہِ اگست کی تنخواہوں سے تاحال محروم ہیں، جس کے باعث اہلکاروں میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اکاؤنٹس آفس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے تنخواہوں کی رقم تاحال ریلیز نہیں ہوئی، جس کے باعث متاثرہ اہلکاروں کے اکاؤنٹس میں تنخواہیں منتقل نہیں کی جا سکیں۔
تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث لیویز اہلکار بینکوں اور اکاؤنٹس آفس کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ اہلکاروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہِ اگست کی تنخواہیں بلا تاخیر ریلیز کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

جنید اکبر کا بڑا اعلان! 🔥"ہمیں ٹرانسپورٹ نہ دینے کی دھمکی دی گئی، لیکن ہم 27 ستمبر کو پیدل اسلام آباد پہنچیں گے"آزادی ما...
30/08/2026

جنید اکبر کا بڑا اعلان! 🔥
"ہمیں ٹرانسپورٹ نہ دینے کی دھمکی دی گئی، لیکن ہم 27 ستمبر کو پیدل اسلام آباد پہنچیں گے"

آزادی مارچ کے حوالے سے گرینڈ مشاورتی اجلاس میں للکار!

رمیز راجہ کا سینیٹر افنان اللہ کو کھلا چیلنج، ’’مجھے کمنٹری سے روک کر دکھاؤ، میں اپنی رائے کا اظہار کرتا رہوں گا۔‘‘اسلام...
30/08/2026

رمیز راجہ کا سینیٹر افنان اللہ کو کھلا چیلنج، ’’مجھے کمنٹری سے روک کر دکھاؤ، میں اپنی رائے کا اظہار کرتا رہوں گا۔‘‘

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور معروف سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے ان کی کمنٹری پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو کھلا چیلنج دے دیا ہے۔ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انہیں کسی حکومتی ادارے کی جانب سے کمنٹری کے لیے بیرون ملک نہیں بھیجا جاتا بلکہ دنیا کے مختلف میڈیا ادارے اور اسپانسرز انہیں اپنی مرضی سے مدعو کرتے ہیں، اس لیے کسی حکومت یا حکومتی عہدیدار کے لیے انہیں عالمی سطح پر کمنٹری کرنے سے روکنا ممکن نہیں۔ رمیز راجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت کے بعض ’’ناسمجھ‘‘ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ انہیں حکومت پاکستان یا پاکستان کرکٹ بورڈ کمنٹری کے لیے رقم ادا کرتا اور بیرون ملک بھیجتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ اپنے معاہدوں اور دعوتوں کی بنیاد پر کمنٹری کرتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا وہ کردار نہیں جو سینیٹر افنان اللہ کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔ سابق چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ وہ اس وقت انگلینڈ میں پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم کے لیے کمنٹری کر رہے ہیں اور انہیں اس مقصد کے لیے متعلقہ ادارے نے مدعو کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمنٹری کے دوران وہ اپنی رائے رکھنے کے لیے آزاد ہیں اور یہ فیصلہ بھی ان کا اپنا ہے کہ وہ کسی موضوع یا شخصیت کا ذکر کس تناظر میں کرتے ہیں۔ رمیز راجہ نے حکومتی عہدیدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی حکومتی شخصیت کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ انہیں دنیا میں کمنٹری کرنے سے روک سکے یا ان کی رائے کے اظہار پر پابندی عائد کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یا اس کے متعلقہ عہدیدار سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں کمنٹری سے روک سکتے ہیں تو انہیں یہ کام کرکے دکھانا چاہیے۔ سابق چیئرمین پی سی بی نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں گے اور محض کسی حکومتی شخصیت کے مطالبے کی بنیاد پر اپنی بات کہنا بند نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں روکنے کی صلاحیت کسی کے پاس ہے تو وہ اسے عملی طور پر ثابت کرے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب حکومتی عہدیدار اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں رمیز راجہ کی کمنٹری اور ان کے بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ سابق کرکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کی کمنٹری پر پابندی عائد کی جائے۔ سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کو پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بھیجتا ہے اور وہاں پہنچ کر وہ سابق وزیراعظم عمران خان کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے اسی تناظر میں بورڈ سے سوال کیا کہ رمیز راجہ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور ان کی کمنٹری کو کیوں نہیں روکا جاتا۔ ٹی وی پروگرام میں سینیٹر کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس بحث نے جنم لیا کہ آیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا سابق کرکٹرز اور کمنٹیٹرز کو بیرون ملک کمنٹری کے لیے بھیجنے میں وہ کردار ہے جس کا تاثر سینیٹر افنان اللہ کی گفتگو سے سامنے آیا، یا پھر بین الاقوامی کمنٹری کے معاملات متعلقہ میڈیا اداروں اور کمنٹیٹرز کے درمیان معاہدوں کے تحت طے ہوتے ہیں۔
رمیز راجہ نے اپنے جواب میں اسی نکتے کو بنیادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سرکاری وفد کا حصہ بن کر انگلینڈ نہیں گئے بلکہ بی بی سی کے ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم نے انہیں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے لیے کمنٹری کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی کمنٹری میں شرکت ان کا پیشہ ورانہ معاملہ ہے اور اسے حکومتی سرپرستی یا کسی سیاسی جماعت سے جوڑنا درست نہیں۔ سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف اسپانسرز اور میڈیا ادارے کمنٹیٹرز کو اپنے پروگراموں اور کھیلوں کی کوریج کے لیے مدعو کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کمنٹری کرنے والا شخص اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتا ہے، تاہم اسے کسی حکومت کی جانب سے بیرون ملک بھیجے جانے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ رمیز راجہ کے بیان کے مطابق بی بی سی کے پلیٹ فارم پر ان کی موجودگی اسی پیشہ ورانہ انتظام کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز کے دوران ان کی کمنٹری کا انتظام بی بی سی نے کیا ہے اور وہ اسی ادارے کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنازع کا ایک اہم پہلو سابق وزیراعظم عمران خان کے ذکر سے متعلق ہے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے اعتراض کیا کہ رمیز راجہ کھیلوں کی کمنٹری کے دوران بھی عمران خان کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔ اس اعتراض کے جواب میں رمیز راجہ نے کہا کہ یہ ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کمنٹری کے دوران کس شخصیت یا موضوع کا ذکر کس انداز میں کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی حکومتی عہدیدار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ان کے اظہار رائے کو روک سکے۔ دستیاب بیان کے مطابق رمیز راجہ نے بی بی سی کے پلیٹ فارم پر عمران خان کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عمران خان کی بیماری کے حوالے سے بہت تشویش ہے۔ اس بیان کو سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے سیاسی تناظر میں دیکھا گیا، جس کے بعد انہوں نے رمیز راجہ کی کمنٹری پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ رمیز راجہ اور حکومتی حلقوں کے درمیان اس معاملے میں اختلاف بنیادی طور پر اس بات پر بھی ہے کہ سابق کرکٹر کی بین الاقوامی کمنٹری کو کس ادارے کے اختیار میں سمجھا جائے۔ سینیٹر افنان اللہ کے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ رمیز راجہ نے اپنے جواب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ انہیں کمنٹری کے لیے بیرون ملک کسی حکومتی ادارے نے نہیں بھیجا۔ کرکٹ کے حلقوں میں یہ بات پہلے سے زیر بحث رہی ہے کہ بین الاقوامی میچوں کی کمنٹری کے لیے مختلف سابق کرکٹرز، ماہرین اور کھیلوں کے مبصرین کو ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا ادارے اپنے نشریاتی پینلز کا حصہ بناتے ہیں۔ ایسے معاملات میں کمنٹیٹر کی پیشہ ورانہ خدمات عموماً متعلقہ نشریاتی ادارے کے ساتھ طے شدہ انتظامات کے تحت ہوتی ہیں۔ تاہم کسی مخصوص کمنٹیٹر کے معاہدے کی تفصیلات، فیس یا اداروں کے درمیان انتظامات کا حتمی تعین متعلقہ فریقین کے بیان کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ رمیز راجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مؤقف نے اس معاملے کو ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث میں تبدیل کردیا ہے۔ ایک طرف حکومتی سینیٹر نے سابق چیئرمین پی سی بی کی جانب سے عمران خان کا ذکر کیے جانے پر اعتراض کیا اور کرکٹ بورڈ سے کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ دوسری جانب رمیز راجہ نے حکومتی اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بیرون ملک کمنٹری سے روکنا ممکن نہیں۔ رمیز راجہ نے اپنے بیان میں حکومت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے یقین ہے کہ وہ انہیں دنیا میں کمنٹری کرنے سے روک سکتی ہے تو ایسا کرکے دکھائے۔ انہوں نے اس مطالبے کو ایک کھلے چیلنج سے تعبیر کیا اور کہا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں گے۔ سابق چیئرمین پی سی بی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی اختلافات کے باعث کھیلوں سے وابستہ متعدد شخصیات کے بیانات بھی سیاسی بحث کا موضوع بن رہے ہیں۔ رمیز راجہ خود بھی عمران خان کے ساتھ اپنے سابقہ کرکٹ تعلق اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کے باعث ملکی کرکٹ اور سیاست کے مباحث میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔ رمیز راجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رہ چکے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد طویل عرصے سے کمنٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے دور میں بورڈ کے مختلف فیصلے اور پالیسی معاملات ملکی کرکٹ میں بحث کا حصہ رہے۔ چیئرمین کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی وہ بین الاقوامی کرکٹ کے تجزیوں اور کمنٹری کے ذریعے عوامی سطح پر متحرک رہے ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ خان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن سینیٹ ہیں اور مختلف سیاسی و قومی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ رمیز راجہ کے بارے میں ان کا حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، تاہم ان کے مطالبے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کسی حتمی کارروائی یا فیصلے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اس معاملے میں یہ سوال بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اگر کسی کمنٹیٹر کے بیانات پر سیاسی یا حکومتی سطح پر اعتراض ہو تو کیا پاکستان کرکٹ بورڈ اس بنیاد پر کسی ایسے شخص کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے جو کسی غیر ملکی نشریاتی ادارے کے ساتھ براہ راست کام کر رہا ہو۔ اس سوال کا جواب متعلقہ معاہدوں، بورڈ کے دائرہ اختیار اور کمنٹیٹر کی پیشہ ورانہ حیثیت پر منحصر ہوگا۔ رمیز راجہ نے اپنے بیان میں جس انداز سے حکومتی مطالبے کا جواب دیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف کرکٹ بورڈ سے متعلق انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اظہار رائے کی آزادی اور سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کمنٹری کے دوران کسی شخصیت یا موضوع کا ذکر کرنا ان کا اپنا فیصلہ ہے اور کسی حکومتی عہدیدار کو اس حوالے سے پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف یہ ہے کہ رمیز راجہ کو پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شخص کے طور پر بیرون ملک جا کر سیاسی نوعیت کے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ تاہم رمیز راجہ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے کمنٹری کر رہے ہیں۔ یوں اس معاملے میں اصل تنازع رمیز راجہ کے کمنٹری کے دوران عمران خان کے ذکر، ان کی سیاسی رائے کے اظہار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے دائرہ اختیار کے گرد گھوم رہا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے بورڈ سے کارروائی اور کمنٹری پر پابندی کا مطالبہ کیا، جبکہ رمیز راجہ نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو انہیں روکنے کا کھلا چیلنج دیا ہے۔ رمیز راجہ کے مطابق ان کی موجودہ کمنٹری کی دعوت بی بی سی کی جانب سے ہے اور وہ پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز کے لیے برطانوی ادارے کے ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی سطح پر کمنٹری کے لیے انہیں مختلف ادارے اور اسپانسرز مدعو کرتے ہیں، اس لیے پاکستان میں کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے پابندی کا مطالبہ عملی طور پر ان کے بین الاقوامی پیشہ ورانہ کام کو روکنے کے مترادف نہیں ہوسکتا۔ معاملے پر حتمی صورت حال کا انحصار پاکستان کرکٹ بورڈ یا حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ فیصلے پر ہوگا۔ فی الحال دستیاب بیانات میں سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے پابندی اور کارروائی کا مطالبہ جبکہ رمیز راجہ کی جانب سے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کھلے چیلنج کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ سیاسی اور کرکٹ حلقوں میں اس بیان بازی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کھیل اور سیاست کے درمیان حد کہاں قائم ہونی چاہیے اور کیا سابق کھلاڑی یا کمنٹیٹر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران سیاسی معاملات پر رائے دینے کا حق رکھتے ہیں۔ رمیز راجہ کا مؤقف واضح ہے کہ وہ اپنی رائے کے اظہار سے دستبردار نہیں ہوں گے، جبکہ سینیٹر افنان اللہ کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کا نوٹس لے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری کرتا ہے یا نہیں اور آیا سینیٹر افنان اللہ کے مطالبے پر کوئی انتظامی یا انتقامی کارروائی کی جاتی ہے۔ دوسری طرف رمیز راجہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اگر انہیں کمنٹری سے روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ اسے چیلنج سمجھیں گے اور اپنی رائے کے اظہار کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

موٹروے پر بی آر ٹی بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ زیر غورمنصوبہ نوشہرہ، چارسدہ، صوابی اور مردان تک ہوگا۔
30/08/2026

موٹروے پر بی آر ٹی بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور

منصوبہ نوشہرہ، چارسدہ، صوابی اور مردان تک ہوگا۔

پاکستان میں ٹین پن بولنگ کے فروغ کے لیے اہم اجلاساسلام آباد: پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن (PTBF) کے صدر اعجاز الرحمان او...
30/08/2026

پاکستان میں ٹین پن بولنگ کے فروغ کے لیے اہم اجلاس
اسلام آباد: پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن (PTBF) کے صدر اعجاز الرحمان اور نائب صدر خالد راجہ نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر حسین اور وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے بین الصوبائی رابطہ (IPC) محترمہ مہرین ساجد سے اہم ملاقات کی۔
اس موقع پر صدر اعجاز الرحمان اور نائب صدر خالد راجہ نے پاکستان ٹین پن بولنگ فیڈریشن کی جانب سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جس میں پاکستان میں ٹین پن بولنگ کے فروغ، ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
پریزنٹیشن میں ملک بھر میں ٹین پن بولنگ کو مزید منظم اور فروغ دینے، نوجوان ٹیلنٹ کو سامنے لانے، کھلاڑیوں کی تربیت و سرپرستی، جدید سہولیات کی فراہمی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان میں ٹین پن بولنگ کے مستقبل، کھیل کے دائرہ کار کو ملک بھر میں وسعت دینے اور پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمان اور نائب صدر خالد راجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ٹین پن بولنگ کو ایک مضبوط اور عالمی معیار کے کھیل کے طور پر فروغ دینے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

جاز اور زونگ کے بعد یوفون نے بھی پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ یوفون کے Super 5 EVC-6000 پیکج کی قیمت 5,500 روپے سے ب...
30/08/2026

جاز اور زونگ کے بعد یوفون نے بھی پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
یوفون کے Super 5 EVC-6000 پیکج کی قیمت 5,500 روپے سے بڑھا کر 6,000 روپے کردی گئی ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کے لیے ایک کے بعد ایک پیکجز مہنگے ہونا تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ کیا موبائل صارفین کو بڑھتی قیمتوں کے بدلے بہتر سروس اور معیار بھی مل رہا ہے؟ 🤔

سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے ایگزیگٹوڈائریکٹر ڈاکٹرعمران سکندر سمیت انتظامی عہدوں پر فائز 8 افراد کو معطل کردیاذمہ دران کیخلاف...
29/08/2026

سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے ایگزیگٹوڈائریکٹر ڈاکٹرعمران سکندر سمیت انتظامی عہدوں پر فائز 8 افراد کو معطل کردیا
ذمہ دران کیخلاف فوجداری کریمنل کوڈ قوانین کے تحت کاروائی کی منظوری، وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس
゚ ゚viralシ

کیا آپ جانتے ہیں؟ 😲اولمپکس میں حصہ لینے والے دوڑ کے گھوڑوں کو ان کے ہوم کنٹریز سے دوسرے ممالک لے جانے کے لیے خاص پروازیں...
28/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟ 😲
اولمپکس میں حصہ لینے والے دوڑ کے گھوڑوں کو ان کے ہوم کنٹریز سے دوسرے ممالک لے جانے کے لیے خاص پروازیں استعمال کی جاتی ہیں، جن کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے جہاز ہوتے ہیں!✈️🛩️🛩️✈️

28/08/2026

ریسکیو 1122 ملاکنڈ / بروقت کارروائی، دریائے سوات میں ڈوبنے والے بچے کی جان بچا لی گئی

ملاکنڈ: جوائے لینڈ پارک کے قریب دریائے سوات میں ایک بچہ نہاتے ہوئے ڈوب گیا۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ملاکنڈ کی قریبی واٹر ریسکیو پوائنٹ، بمقام جوائے لینڈ پارک، سے مقامی رضاکار لطیف خان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچے کو دریا سے بحفاظت نکال لیا۔

بچہ بے ہوشی کی حالت میں تھا، جسے موقع پر سی پی آر (CPR) فراہم کی گئی۔ سی پی آر کے بعد بچے کی حالت بہتر ہو گئی اور بچے کو ہوش آ گیا۔

ریسکیو 1122 ملاکنڈ عوام سے اپیل کرتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور انہیں دریائے سوات و دیگر آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے روکیں۔ معمولی سی غفلت بھی قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا احتیاط کریں اور بچوں کو محفوظ رکھیں۔

ترجمان ریسکیو 1122 ملاکنڈ

Address

Islamabad
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamabad News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamabad News:

Shortcuts

Share