19/04/2026
گلگت بلتستان پولیس میں اصلاحات: آئی جی ڈاکٹر اکبر ناصر خان صاحب سے وابستہ امیدیں
آئی جی گلگت بلتستان، ڈاکٹر اکبر ناصر خان صاحب کی آمد نے فورس کے جوانوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔ آپ کا بے داغ ماضی اور اصلاحاتی اقدامات اس بات کی ضمانت ہیں کہ اب ادارے میں میرٹ کا بول بالا ہوگا۔ آپ کی جانب سے مخصوص عہدوں پر برسوں سے براجمان افسران کی تبدیلی ایک جرات مندانہ آغاز ہے، مگر فورس کے جوانوں کو دو بڑے اور سنگین مسائل درپیش ہیں جو فوری توجہ کے طالب ہیں:
1. پروموشن کا تعطل اور جوانوں کی ذہنی اذیت
اس وقت پولیس کے بے شمار سپاہی ایسے ہیں جو گزشتہ 30 سالوں سے ایک ہی عہدے پر فائز ہیں اور پروموشن کے منتظر ہیں۔ ترقی نہ ملنے اور محکمانہ پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے کیسز برسوں سے کورٹ کچہریوں میں لٹک رہے ہیں۔ وکیلوں کی بھاری فیسیں بھرنے اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کی وجہ سے ان جوانوں کے پورے گھرانے معاشی اور شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ یہ جوان اپنی پوری جوانی فورس کی نذر کر چکے ہیں، مگر ان کا حقِ ترقی تاحال ادھورا ہے۔
2. ریزرو پولیس میں 23 سالہ اجارہ داری کا سنگین مسئلہ
دوسرا انتہائی سنگین مسئلہ ریزرو پولیس گلگت میں اہلکاروں اور افسران کی تعیناتیوں کا ہے۔ یہاں ایسے اہلکار موجود ہیں جو پچھلے 22 سے 23 سالوں سے بطور محرر اور دیگر کلیدی عہدوں پر ایک ہی پوسٹ پر براجمان ہیں۔ اتنی طویل تعیناتی نے ایک مخصوص لابی کو جنم دیا ہے جو مبینہ خفیہ لین دین کے عوض ایک خاص گروہ کو نوازتی ہے۔ ان من پسند افراد کو ایمرجنسی ڈیوٹیوں سے بچا کر راحت دی جاتی ہے، جبکہ وہ جوان جن کا کوئی اثر و رسوخ نہیں، انہیں مسلسل ڈیوٹیوں کی چکی میں پیسا جاتا ہے اور وہ سالہا سال چھٹیوں سے محروم رہتے ہیں۔
گزارش:
جناب آئی جی صاحب! برسوں سے رکی ہوئی ترقیوں کا فوری حل ہی جوانوں کے مورال کو بلند کر سکتا ہے۔ امید ہے کہ آپ کی زیرِ نگرانی ریزرو پولیس میں ڈیوٹیوں کی منصفانہ تقسیم اور پروموشن کے مسائل حل کر کے مظلوم جوانوں کی داد رسی کی جائے گی۔