14/06/2026
چراغِ دل بجھا ہے،راستے ہیں بے خبر کب سے
درو دیوار رہتے ہیں تمہارے منتظر کب سے
کوئی آہٹ، کوئی سایہ، کوئی خوشبو نہیں آئی
مگر آنکھیں ہماری ہیں درِ امید پر کب سے
میں اپنے آپ سے چپ چاپ باتیں کر رہی ہوں اور
مرے اندر ہی جاری ہے ادھوری بن سنور کب سے
ترے وعدوں کی بارش میں بھگویا تھا جو اک موسم
وہی موسم مری سوچوں میں ٹھہرا ہے جگر کب سے
یہ کمرہ، یہ کتابیں، یہ سلگتی خواہشیں مہوش
تری خوشبو کے جھونکے مانگتی ہیں رات بھر کب سے
#اردوـزبان #اردو