05/10/2025
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں؟
دہقان تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم کہ جلاؤں
شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں؟
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر ایک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں؟
شاہیں کا جہاں آج گِرگِس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی مُلّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں؟
نظم کا مرکزی خیال
اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ:
جس مردِ مومن اور شاہین (آزاد اور خوددار نوجوان) کا تصور اقبال نے دیا تھا، آج اس میں وہ صفات باقی نہیں رہیں۔
دہقان (کسان) اپنی محنت کا پھل نہ ملنے پر پریشان ہے، اور اقبال کے پیغام (اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے) کے برعکس، اسے اب اُٹھانا مشکل ہے۔
خودی اور ذوقِ یقین کی کمی ہے، جس کی وجہ سے قوم کسی زنجیر (غلامی، مصیبت) کو کاٹنے کے قابل نہیں رہی۔
آج کا مسلمان مکاری، عیاری اور غداری جیسے عناصر سے بنتا جا رہا ہے، اور قرآن سے دور ہو چکا ہے۔