17/05/2026
7 ارب روپے صرف 18 مہینوں میں, جی ہاں بلکل ٹھیک سنا 7 ارب،
یہ کوئی کامیابی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسا سبق ہے جو آج بھی ہم میں سے اکثر لوگ سمجھ نہیں پائے۔
وزیرآباد کا ایک عام سا سائنس ٹیچر، سید صفت حسن شاہ، جس کی زندگی سادہ تھی مگر خواب بڑے تھے۔ محدود تنخواہ اور بڑھتی ضروریات نے اسے کچھ نیا کرنے پر مجبور کیا۔ 2004 میں وہ دبئی گیا، چند ماہ وہاں گزارے، اور پھر واپس آ کر ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس نے لوگوں سے پیسے لینے شروع کیے اور صرف 15 دن کے اندر وہی رقم دگنی کر کے واپس دینے لگا۔ ابتدا میں سب کچھ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔ لوگوں کو واقعی منافع مل رہا تھا، اس لیے اعتماد بڑھتا گیا۔ پہلے محلے کے چند لوگ آئے، پھر ان کے رشتہ دار، پھر دوست، اور پھر یہ سلسلہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ گیا۔
جلد ہی یہ حالت ہو گئی کہ لوگ اپنی جمع پونجی، زیورات، گاڑیاں، حتیٰ کہ زمینیں بیچ کر اس کے پاس سرمایہ لگانے لگے وجہ صرف ایک تھی… “دگنا منافع”۔
صرف ڈیڑھ سال کے اندر اس نے تقریباً 42 ہزار لوگوں سے اربوں روپے اکٹھے کر لیے۔ لیکن حقیقت وہ نہیں تھی جو لوگوں کو نظر آ رہی تھی یہ دراصل ایک Ponzi Scheme تھی، جس میں نئے آنے والوں کے پیسوں سے پرانے لوگوں کو ادائیگی کی جاتی تھی جب تک نئے لوگ آتے رہے، نظام چلتا رہا… لیکن جیسے ہی یہ سلسلہ سست ہوا، سب کچھ صفر پر آ گرا،
2007 میں وہ گرفتار ہوا، تحقیقات ہوئیں، کیس چلا، جائیدادیں ضبط ہوئیں اور اسے سزا سنائی گئی ہزاروں لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو بیٹھے،
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ جب وہ جیل سے باہر آیا تو اس کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا جلوس نکالے گئے، پھول پہنائے گئے، مبارکباد دی گئی،
ایک ایسا شخص جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ برباد ہوئے، وہی لوگوں کی نظروں میں کامیاب ٹھہرا،
جیل کے اندر اس سے 3 ارب نیب کی جانب سے ریکور کیا گیا ، اور 7 سال کی قید سنائی گئی جو کے قانون نے مطابق وہ پہلے ہی 5 سال جیل میں گزار چکا تھا ،
باقی کا چار ارب اس نے سوچا 2 سال بعد باہر نکل کر عیاشی کرونگا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا
2015 میں وہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اس دنیا سے چلا گیا اربوں کی جائیداد، طاقت اور شہرت… سب یہیں رہ گئی،
آخر میں ایک سوال ہے:
ہم کب سیکھیں گے؟
ہم کیوں ہر بار “جلدی امیر بننے” کے چکر میں اپنی محنت کی کمائی خطرے میں ڈال دیتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ دولت کبھی مسئلہ نہیں ہوتی،
مسئلہ ہماری وہ سوچ ہے جو بغیر محنت کے سب کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جو آج کل تقریباً پاکستانیوں کی کہانی ہے جو کوئ سکل سیکھ کر نہیں کچھ کرنا چاہتے صرف راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھتے ہیں،
محنت کریں توکل رکھیں اور صبر کریں ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر ہی اچھی لگتی ہے،