Professor Dr. Ghulam Mujtaba Jan

Professor Dr. Ghulam Mujtaba Jan إن الدين عند الله الإسلام

25/04/2026

ٹوکیو میں ایک صفائی ٹیم ہے جو ہر 12 منٹ میں ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔

انہیں TESSEI کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ٹوکیو اسٹیشن پر شنکانسن بُلٹ ٹرینوں کی صفائی کرتے ہیں۔

جب ٹرین پلیٹ فارم پر آتی ہے، تو اگلی روانگی سے پہلے صرف 12 منٹ کے لیے رُکتی ہے۔

2 منٹ مسافروں کے اترنے کے لیے۔
3 منٹ نئے مسافروں کے سوار ہونے کے لیے۔
یعنی صفائی کے لیے صرف 7 منٹ۔

اور ان سات منٹوں میں ایک کارکن کو یہ سب کرنا ہوتا ہے:

100 نشستوں کی صفائی

ہر ٹرے ٹیبل کو صاف کرنا
فرش کی ویکیومنگ
تمام نشستوں کو نئی سمتِ سفر کے مطابق گھمانا
ہیڈ ریسٹ کور تبدیل کرنا
اوورہیڈ بن چیک کرنا
آنے والے مسافروں کو جھک کر خوش آمدید کہنا
صرف سات منٹ۔

یہ کام وہ روزانہ سینکڑوں بار کرتے ہیں۔

ہارورڈ بزنس اسکول نے ان پر کیس اسٹڈی شائع کی۔
نیویارک ٹائمز نے اسے "سات منٹ کا معجزہ" قرار دیا۔
سیاح آج بھی صرف یہ منظر دیکھنے پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہیں۔

کام شروع کرنے سے پہلے یہ ٹرین کو جھک کر سلام کرتے ہیں۔
اور ختم ہونے پر قطار میں کھڑے ہو کر مسافروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہیں گھنٹوں کے حساب سے اجرت ملتی ہے، اور ان میں سے بہت سے افراد کی عمر 50 اور 60 سال کے درمیان ہے۔
جاپان نے صفائی ایجاد نہیں کی۔
انہوں نے چھوٹے کاموں کو بھی عزت، وقار اور کمال کے ساتھ انجام دینا سکھایا۔

23/04/2026

قران مجید کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے:
🏵️زمین و آسماں کا خالق بھی اللہ ہے
یعنی زمین و آسمان کو تخلیق بھی اللہ تعالی نے ہی کیا ہے اللہ تعالی ان کو بنانے والا ہے
🏵️مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے
اور ایسا نہیں ہے کہ بنانے کے بعد اللہ نے کسی اور کو اختیار دے دیا ہو بلکہ ملکیت بھی اللہ ہی کی ہے حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔
🏵️وارث بھی اللہ ہی ہے
اور ہمیشہ سے یہ اللہ تعالیٰ کی وراثت ہے، لوگ تو بس عارضی طور پر یہاں آتے بسیرا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اللہ ہی وارث تھا اللہ ہی وارث ہے اور اللہ ہی وارث ہوگا۔

19/04/2026

سنت الہی
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، ظالم تو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے اسے کوئی پکڑنے والا، روکانے والا نہیں ہے، اور اسی وہم میں سرکشی کی ہر حد کو عبور کرتا جاتا ہے اور یہی اس کی مہلت کی اختتامی نشانی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد سنت الہی حرکت میں آتی ہے وہ ظالم خود مقام عبرت بن جاتے ہیں۔ کبھی تو اللہ تعالی ظالموں پر اپنے لشکر ابابیل کی صورت مسلط کردیتا ہے جیسے ابرہا کے ساتھ ہوا، یا پور قوم تیز ہوا کے ذریعے ہلاک کر دی جاتی ہے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی،اور کبھی صرف ایک زور دار چنگاڑ سے ہلاک کر دیہے جاتے ہیں جیسے قوم عاد، اور کبھی پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیے جاتے ہے جیسے قوم نوح کو غرق کر دیا گیا۔ اور کبھی سمندر برد کر دیتا ہے جیسے آل فرعون کے ساتھ ہوا
ایسا بھی ہوتا ہے اللہ تعالین ظالموں پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں اور کمزور کر دیے جاتے ہیں، اور ایسی اقوام کےبہت سے شواہد سے تاریخ بھر پڑی ہے۔
وَ کَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا* کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪*
اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔

07/04/2026

القرأن دستور كامل أي كتاب قانون، أمر المسلمون فيه: افعل ولا تفعل!
خلال التلاوة لا بد من مراعاة هذه الغاية.

06/04/2026

مٹی سے انسانی تخلیق
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ (سورة طه الآية :55)
اس (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، اسی میں تمہیں لوٹائیں گےاور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔
اس آیت مبارکہ کو پڑھتے ہوئے عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے انسانی تخلیق کا مٹی سے وجود میں آنے سے مراد تخلیق آدم علیہ السلام ہے
حالانکہ اس سے مراد ہر انسان کی تخلیق ہے، انسان جو کچھ بھی کھاتا ہے اس کا اصل الاساس مٹی ہی ہے۔ مثلا جو بھی اناج کھایا جاتا ہے چاہے وہ گندم ہو یا مکئی، باجرہ ہو یا دالیں، چنے ہوں یا لوبیا ہر قسم کے اناج کی پیداوار مٹی ہے اور اگر یہ سب چیزیں پڑی پڑی خراب ہو جائیں تو پھر سے مٹی بن جاتے ہیں۔
اسی طرح ہر قسم کا گوشت جو جانداروں سے حاصل ہوتا ہےان جان داروں کا سارا چارہ زمین سے ہی اگتا ہے اور اسی چارے سے ان کی نش ونما ہوتی ہے
اسی طرح ساری کی سار ترکاریاں اور پھل بھی زمین کی ہی پیداوار ہیں
جس طرح انسان کی تخلیق میں اسے بہت سے مراحل سے گذار کر خوبصورت شکل وصورت عطا کی جاتی ہے اسی طرح ساری غذاوں کو بھی بہت سے مراحل سے گذار اجاتا ہے ، ان کو خوبصورت رنگوں اور شکلوں میں ڈھال کر بہتریں خوشبو اور ذائقہ سے سوار کر انسان کے لیے قابل استعمال بنا دیا جاتا ہے۔
یہ مختلف غذائیں خوراک کا حصہ بن جاتی ہیں اور یہی مٹی سے درآمد شدہ خوراک جسم کو توانائی عطا کرتی ہے ، اسی سے خون بنتا ہے اور خون سے ہی نطفے کی تخلیق ہوتی ہے جو نسل انسانی کی بقا کا سبب ہے
انسانی تخلیق کا آغاز نطفہ سےہوتا ہو ،نطفہ سے خون کا لوتھرا ،پھر گوشت کا ٹکڑا اور اس گوشت سے انسانی اعضاء اور شکل صورت کی تخلیق ہوتی ہے، ان مراحل میں چار ماہ لگ جاتے ہیں اور یہ سارا عمل ماں کی غذا سے ہی ارتقاء کر رہا ہوتا ہے ، چار ماہ بعد اس میں روح داخل کی جاتی ہے اور ۹ ماہ تک رحم مادر میں اسے پالا جاتا ہے ، اور دنیا میں آنے کے بعد بھی ماں جو بھی کی زمینی پیداوار استعمال کرتی ہے اسی سے دودھ جیسی نعمت میسر ہوتی ہے تو اس کی تکوین کو دو سال تک توسیع دیتی رہتی ہے۔
زندگی گزارکر انسان پھر اسی مٹی کا حصہ بن جاتا ہے اور روز قیامت اسی زمین سے سے پھر زندہ کرکے اٹھا دیا جائے گا۔

03/04/2026

پیدل چلنے والوں کو چلنے کے لیے الگ وقت ملتا تھا یا پیدل چلنے سے ان کا وقت بڑھ جاتا تھا؟

02/03/2026

عمومی طور پر لوگ حقیقت پر تخیل کو اچھا جانتے ہیں کیوں کہ اس میں وہ بھی میسر ہوتا ہے جو حقیقت میں نہیں ہوتا۔

27/01/2026

حسد
اخلاقی بیماریوں میں سے حسد انتہائی موذی بیماری ہے حاسد اپنے ساتھ ساتھ جس سے حسد کرتا ہے اس کا بھی نقصان کرتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (إياكم والحسد فإن الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب) خبردار! حسد سے بچو، حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو جلا ڈالتی ہے۔
حاسد شخص کبھی ارتکا نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتا ہے، حسد کی آگ انتہائی مہلک ہے اس کا انداذہ سورت الفلق کی آیت مبارکہ سے لگایا جا سکتاہے (من شر حاسد اذا حسد)۔ حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ حاسد کے شر سے پناہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور معوذتین (الفلق والناس) کو صبح شام تین بار پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے نیز ان سورتوں کا رات کو سونے کی پہے پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

Address

Islamabad
1234

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Dr. Ghulam Mujtaba Jan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share