13/02/2026
(ڈاکٹر عثمان انور جیسا IG پولیس صدیوں بعد پیدا ھوتا ھے )
( پوری سروس میں رینکرز کے ساتھ سوتیلوں جیسا ھوتا رھا)
(کوئی بڑا TC والا بھی SP نہیں بن سکا ڈاکٹر صاحب نے نام کمایا)
( جن گھروں میں SP ھونا خواب ھوتا تھا وھاں حقیقتی SP بنے)
ــــــــــــــــــ ڈاکٹر عثمان تجھے زمانہ یاد کرے گا انشاء اللہ ـــــــــــــــــــــ
""""'''""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""
ڈاکٹر عثمان انور صاحب سابق آئی جی پنجاب سدا کسی نے نہیں رہنا ،
کسی عہدے پر آنا ہے تو ایک دن چھوڑنابھی ہے ،کسی اچھی یاد کے ساتھ رخصت ہوا جائے تو یہ خوش قسمتی ہوتی ہے ،
پنجاب پولیس کی تاریخ میں اب تک 53 ائی جی ائے اور رخصت ہو چکے ۔
آئی جی خان قربان علی خان اگست 1947ءکو پہلے پنجاب پولیس کے سربراہ تھے ۔
ان کے بعد میاں انور علی اگست 1952ء
ایس این عالم جون 1953ء
اے بی اعوان مئی 1956ء
ایم شریف خان مئی 1958ء
ایس ڈی قریشی جولائی 1963ء
میاں بشیر احمد جولائی 1968ء
ایم انور آفریدی اپریل 1970ء
صاحبزادہ رؤف علی اکتوبر 1972ء
راؤ عبد الرشید اگست 1974ء
عطا حسین اپریل 1976ء
چودھری فضل حق مارچ 1977ء
ایم عارف جولائی 1977ء
مسرور حسین ستمبر 1977ء
حبیب الرحمان خان فروری 1978ء
ایم اعظم قاضی جولائی 1979ء
عبید الرحمان خان نومبر 1980ء
لئیق احمد خان جون 1981ء
حافظ ایس ڈی جامی ستمبر 1985ء
نثار احمد چیمہ اگست 1987ء
منظور احمد مارچ 1989ء
سردار محمد چوہدری جون 1991ء
جی اصغر ملک جون 1993ء
ایم عباس خان جولائی 1993ء
ذو الفقار علی قریشی اگست 1996ء
چوہدری ایم امین نومبر 1996
جہانزیب برکی مارچ 1997ء
ایم رفیق حیدر اکتوبر 1999ء
ملک آصف حیات جون 2000ء
سید مسعود شاہ دسمبر 2002ء
سعادت اللہ خان اپریل 2004ء
ضیاالحسن خان جون 2005ء
احمد نسیم دسمبر 2006ء
شوکت جاوید اپریل 2008ء
خالد فاروق فروی 2009ء
طارق سلیم ڈوگر اپریل 2009ء
جاوید اقبال جنوری 2011ء
حاجی ایم حبیب الرحمان فروری 2012ء
آفتاب سلطان اپریل 2013ء
خان بیگ مئی 2013ء
مشتاق احمد سکھیرا جون 2014ء
کیپٹن (ر) ایم عثمان اپریل 2017ء
کیپٹن (ر) عارف نواز خان جولائی 2017ء
ڈاکٹر سید کلیم امام جون 2018ء
ایم طاہر ستمبر 2018ء
امجد جاوید سلیمی اکتوبر 2018ء
کیپٹن (ر) عارف نواز خان اپریل 2019
شعیب دستگیر نومبر 2019ء
انعام غنی ستمبر2020ء
راؤ سردار علی خاں 8 ستمبر 2021ء
فیصل شاہکار 23 جولائی 2022ء
عامر ذو الفقار 22 دسمبر 2022ء
آئی جی پی ڈاکٹر عثمان انور 24 جنوری 2023ء
ان 53 سربراہان پنجاب پولیس میں کتنے ایسے ہوں گے جن کے نام لوگوں کو یاد ہوں گے؟ صرف چند ایک ۔
نام زندہ رکھنے کے لیے کچھ منفرد کرنا پڑتا ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور کچھ ایسے ہی تھے ۔پولیس کے لوگ ہوں یا پنجاب کے عام شہری ڈاکٹر عثمان انور کا نام اپنے ذہنوں سے کھرچنا بھی چاہیں گے تو نہیں کر پائیں گے ۔
ہم اپنے کردار اور عمل سے زندہ رہتے ہیں ہمارا مثبت یا منفی کردار لوگوں کے ذہنوں میں ایک عرصہ تک رہتا ہے
اس محکمہ کے لوگ ڈاکٹر عثمان انور کو یاد کر کر کے روئیں گے ،
رینکرز ترقیوں کو ترستے ریٹائر ہو جاتے تھے لیکن کوئی نہیں سنتا تھا ،
ڈاکٹر عثمان انور کے تین سالہ دور میں کانسٹیبل سے ایس پی تک ہزاروں رینکرز کی اتنی ترقیاں ہوئیں کہ ایک تاریخ رقم ہوئی ،
52 ائی جیز کے دور کی ترقیاں ایک طرف اور اکیلے ڈاکٹر عثمان انور کے دور کی ترقیاں ایک طرف ۔
،ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں لاکھوں لوگوں کو پنجاب بھر میں واردات میں ہونے والے نقصان کی ریکوریاں ملیں ۔
ڈاکٹر عثمان انور نے جہاں عوام کے لیے بہت سے کام کیے وہاں پولیس کے ساتھ ان کا رویہ بھی دوستانہ رہا بڑی سے بڑی غلطی پر بھی کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کی
اپ شاہد جٹ والے واقعہ کو ہی دیکھ لیں اس نے ائی جی پنجاب کو گالیاں دیں بدلے میں ڈاکٹر عثمان انور خود چل کر گئے، شاہد جٹ کو حوالات میں بند کرنے کے بجائے اس سے محبت اور شفقت والا رویہ رکھا ،اس کا علاج کروایا اسے نوکری سے نہیں نکالا ۔ایسی برداشت کس میں ہے ۔
ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس میں اصلاحات کے لیے بہت کام کیے جس طرح جرم ختم نہیں ہو سکتا کم ہو سکتا ہے اسی طرح پولیس کے محکمے میں بدعنوانی بھی ختم نہیں ہو سکتی کم ضرور کی جا سکتی ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔
ڈاکٹر عثمان انور ایک وژنری ائی جی تھے ۔وہ چیزوں کو اور انداز سے دیکھتے تھے تبدیلی کے بہت خواہش مند تھے ۔ ۔
ماضی میں پولیس کے شہداء کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی یہ ڈاکٹر عثمان انور تھے جنہوں نے پولیس کے شہداء کے لواحقین کو عزت بخشی ،پاک فوج کے جوانوں کی طرح ان کا خیال رکھا ،شہداء کے لواحقین کو گھر لے کر دیے ،بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کا انتظام کرایا ۔ماضی کے 52 ائی جیز کے دور میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔
سر آپ نے بطور آئی جی پنجاب بہترین کام کیا دعا ہے کہ آپ اسی طرح مسکراتے رہیں اور جہاں بھی جائیں کامیابی آپ کے قدم چومے۔۔۔
اور اللّٰہ ربّ العزت مزید عزتوں کامیابیوں کامرانیوں قابلیتوں صلاحیتوں خوبیوں اچھائیوں رعنائیوں رحمتوں برکتوں سعادتوں اور ڈھیروں خوشیوں سے زندہ و سلامت رکھے آمین ثمہ آمین ۔