08/06/2026
کشمیر راولاکوٹ میں خون بہہ رہا ہے، اور قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہید ہونے والے پولیس اہلکار ہوں یا ایکشن کمیٹی کے جاں بحق کارکنان، دونوں اسی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ انسانی جان کا ضیاع کسی بھی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان ہے، اور ہر شہادت پورے معاشرے کے لیے ایک مشترکہ دکھ ہے۔
موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ کشیدگی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تمام فریقین تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، جبکہ متعلقہ ادارے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی قوانین، آئین اور حکومتی اداروں کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اپنے مطالبات اور تحفظات کو پرامن، قانونی اور جمہوری طریقے سے پیش کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
تشدد، تصادم اور نفرت کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس وقت سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، امن کا قیام اور تمام معاملات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا ہونی چاہیے تاکہ مزید خاندانوں کو سوگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خبریں چند دنوں تک سرخیوں میں رہتی ہیں، سوشل میڈیا پر بحث ہوتی ہے اور پھر وقت کے ساتھ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر جو درد، صدمہ اور محرومی پیچھے رہ جاتی ہے، وہ جاں بحق افراد کے بچوں، والدین، شریکِ حیات اور اہلِ خانہ کے لیے عمر بھر کا بوجھ بن جاتی ہے۔ ایک جان کا ضیاع صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ ایک پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ اسی لیے ہمیں ہر حال میں ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں، کیونکہ اصل قیمت وہ خاندان ادا کرتے ہیں جو اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت عطا کرے اور خطے میں امن، استحکام اور بھائی چارہ قائم فرمائے۔ آمین۔