14/09/2026
ذرا ایک لمحے کے لیے رک جائیے…
سوچیے…
اگر آج رات آپ کو معلوم ہو جائے کہ
کل آپ کے پاس یہ زندگی نہیں ہوگی…
تو کیا آپ آج بھی وہی باتیں سوچیں گے جن میں آپ سارا دن الجھے رہے؟
وہ ناراضگی؟
وہ ضد؟
وہ کسی کا انتظار؟
وہ لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش؟
وہ چیزیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے آپ نے اپنا سکون قربان کر دیا؟
یا پھر آپ کو اچانک احساس ہوگا کہ…
زندگی میں کچھ چیزیں ایسی تھیں جنہیں ہم بہت اہم سمجھتے رہے،
مگر حقیقت میں وہ ہماری زندگی کے قابلِ قدر وقت کے قابل ہی نہیں تھیں۔
ہم اکثر سوچتے ہیں:
“وقت ملے گا تو خود کو سنبھال لیں گے…”
“کبھی فرصت ہوئی تو اللہ کی طرف زیادہ توجہ دیں گے…”
“بعد میں معافی مانگ لیں گے…”
“بعد میں اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے…”
مگر ایک سوال ہے:
اگر “بعد میں” کبھی آیا ہی نہ تو؟
ہم دوسروں کے الفاظ یاد رکھتے ہیں،
لوگوں کی غلطیاں یاد رکھتے ہیں،
کس نے کیا کہا… کس نے کیا نہیں کیا…
سب کچھ یاد رکھتے ہیں۔
مگر کیا کبھی خاموش بیٹھ کر یہ بھی سوچا ہے کہ:
“میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟”
شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ
دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھتی ہے…
بلکہ یہ ہے کہ
جب ہم خود اپنے اندر جھانکتے ہیں،
تو ہمیں اپنا آپ کیسا نظر آتا ہے؟
آج رات صرف 5 منٹ خاموش بیٹھ کر خود سے یہ سوال ضرور کیجیے:
اگر میری زندگی کی کتاب کا آج آخری صفحہ لکھا جا رہا ہو…
تو کیا میں اس صفحے پر لکھی ہوئی اپنی زندگی سے مطمئن ہوں؟
اگر جواب “نہیں” ہے…
تو شاید ابھی دیر نہیں ہوئی۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کو پوری زندگی بدلنے کے لیے
صرف ایک سچا سوال کافی ہوتا ہے۔
آپ سے ایک سوال:
اگر آپ کو اپنی زندگی کی صرف ایک چیز بدلنے کا موقع ملے، تو وہ کیا ہوگی؟
👇 جواب صرف ایک لفظ میں بھی دے سکتے ہیں۔
غور کیجیے…
سوچیے…
شاید یہی سوال آپ کے اندر کسی نئی شروعات کو جنم دے دے۔
Faizan-e-Fikar
Ilm | Soch | Ghor-o-Fikar