30/05/2017
فما اصبرھم علی النار
قسط نمبر تین
یہ ’’اہل خیر‘‘ کون ہیں؟
جن ’’ اہل خیر‘‘ میں مولویوں کی اور اس ’’خاکی جان‘‘ کی جان اٹکی ہوئی ہے، دراصل ان سے ’’ اہل کیش‘‘ مرادہیں۔ مولوی کے نزدیک ان سے زیادہ کوئی حامل ایمان نہیں ہوتا۔ جمعہ والے دن جب ان’’ اہل خیر‘‘ میں سے کوئی امام صاحب کی جیب میں کچھ ڈالتا ہے تو مولوی صاحب کے منہ سے اس کے لیے بے ساختہ بے حساب دعائیں نکل جاتی ہیں: اﷲ آپ کے کاروبار میں اور ترقی عطا فرمائے،آپ تو دین کے سچے خیر خواہ ہیں، آپ جیسے افراد ہی نے تو اسلام کو قائم رکھا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ مولوی صاحب کو پتہ ہے کہ اسلام میں سود، رشوت، جھوٹ ،فریب،موسیقی وغیرہ کے ذریعے کی گئی کمائی حرام ہے مگراس فکرمیں پڑنے سے ہاتھ آنے والی موٹی رقم کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور ویسے بھی اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے کیونکہ جب قرآن ہی کو کھانے کمانے کا ذریعہ بنالیا تو اب مزیدحجاب کیسا!! مفتی جابر صاحب بھی اہل خیر سے فریاد کرتے نظر آتے ہیں کہ کیاآپ لوگ مجھے بھول گئے؟ میری کتابوں کو بھول گئے؟ میری کمائی۔۔۔؟ ایسی ہی ایک اور درخواست موصوف نے اپنے کتابچے ’’قرآن و حدیث میں تحریف‘‘ کے آخری صفحے پر بھی کی ہے۔دراصل یہ رسالے لکھنے کا مقصد ’’کمائی‘‘ ہی ہے،ورنہ اگر یہ اسلام کی تبلیغ کے لیے لکھی جاتیں تو مکمل طور پر ’’فی سبیل اﷲ‘‘ ہوتیں جس طرح ڈاکٹر عثمانی نے حصول علم سے فارغ ہونے کے باوجود دین کو پیشہ نہیں بنایااور اپنے عالم دین ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے ان موصوف اور ان کے قبیل کے دوسرے افراد کی اصلاح کے لیے کتاب و سنت کے بھر پور دلائل پر مبنی لٹریچر فی سبیل ﷲ چھپواکرتقسیم کیا۔رحمۃ اللّٰہ علیہ رحمۃ واسعۃ
حق کو مشتبہ بنانا
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مذکورہ احکام الٰہی کی اطاعت میں اﷲ سے ڈرتے اور کتاب اﷲ کے انکار پر مبنی اس ’’تجارت‘‘ سے توبہ کرتے،لیکن ہوا یہ کہ اﷲ کے اس حکم کو باطل کے ساتھ ملا کر اسے مشتبہ بنانے کی کوشش کی تاکہ انتہائی منافع بخش کمائی پر آنچ نہ آئے اور یہ سلسلہ روزافزوں جاری رہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں موصوف لکھتے ہیں:
’’ آج کل عذاب قبر کے منکریں نے عذاب قبر کے علاوہ دینی امور پر اجرت کے مسئلے کو بھی اپنا ایشو بنا رکھا ہے اور اس بات کی وہ رات دن تبلیغ کر رہے ہیں کہ دینی امور پر اجرت ناجائز ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے لٹریچر بھی شائع کیا ہے جس میں کچھ روایات سے انہوں نے اجرت کے عدم جواز پر استدلال کیا ہے یہ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ عذاب قبر کی صحیح اور متواتر احادیث کو تو یہ فرقہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔لیکن دینی امور پر اجرت کے مسئلہ کے لئے ضعیف روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں جو روایات اجرت کے جواز کا ثبوت فراہم کرتی ہیں ان کی دور ازکار قسم کی تاویلات پیش کی گئی ہیں‘‘ ( صفحہ ۱۰)
مفتی موصوف کا یہ کہنا کہ ہماری جماعت عذاب قبر کی صحیح اور متواتر احادیث تسلیم نہیں کرتی، سراسرجھوٹ اور بہتان طرازی ہے۔ الحمدﷲ موصوف کے اس جھوٹ کی مکمل قلعی اتار دی گئی ہے اور اگر موصوف میں آخرت کا ذرا بھی خوف ہوگا تو آئندہ اس جھوٹ کی ہمت نہ کریں گے۔موصوف کا یہ کہنا بھی بالکل جھوٹ ہے کہ دینی امور پر اجرت کے سلسلے میں ضعیف روایات بیان کی گئی ہیں( اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)۔ ہم نے اپنی کتاب میں سب سے پہلے قرآنی آیات پیش کی ہیں لیکن موصوف نے ان آیات کے بجائے بات احادیث کے حوالے سے شروع کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی آیت کو مفتی صاحب نہ ضعیف قرار دے سکتے تھے اور نہ ہی موضوع، لہٰذا ا نداز یہ اپنایا ہے کہ ان سے صرف نظر کیا جائے اور ابتداء احادیث کے حوالے سے شروع کی جائے اور پھر ضعیف و موضوع کا فریب دے کر اپنے پیش رو علماء اہل کتاب کی طرح حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کردیا جائے۔
ولا تشتروا بایٰتی کی تاویلیں
سورہ بقرہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
ولا تشتروا بایٰتی ثمناً قلیلا ( البقرۃ:۴۱
’’اور میری آیات کو (دنیا کی) قلیل قیمت پرنہ بیچو ‘‘
اس آیت کے حوالے سے موصوف نے اپنے کتابچے کے صفحہ نمبر ۷۵ پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم نے اس آیت میں تحریف کی ہے ۔اسے کہتے ہیں ’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘! موصوف نے اپنے طرز عمل کو ہمارے اوپر منڈھ دیا ہے۔عذاب قبر کے بارے میں ہمارے مضمون میں موصوف کی ان خیانتوں کا ذکر کیا جاچکا ہے جو انہوں نے اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیات کے ساتھ کی ہیں۔ وہی انداز مولوی صاحب نے یہاں بھی اپنایا ہے کہ قرآنی آیت کا مدعا ہی بدل ڈالا(جس کی تفصیل ان شاء اﷲ آگے آرہی ہے)۔ اس آیت کی صاف اورسادہ سی تفسیر یہ ہے کہ قرآن کی آیات کو ذریعۂ معاش نہ بنایا جائے۔ اﷲ کے اس حکم کی تشریح نبی انے اس طرح فرمائی کہ
قرآن پڑھو۔۔۔ اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ،نہ اس کے ذریعے دنیاوی فائدے حاصل کرو‘‘ ( مسند احمد: جلد ۵،صفحہ۴۴۴
عبادہ بن الصامت ص کو تعلیم قرآن پر ہدیہ لینے سے بھی منع کردیا اور اسے آگ کا طوق قرار دیا( ترمذی:کتاب الفضائل
لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ہدایت نامہ کو اپنی معاش کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، وہ یہ بات ٹھنڈے پیٹوں کیسے قبول کرلیں! چنانچہ موصوف نے اس آیت کی تشریح میں سورہ بقرہ آیت ۷۹،۱۷۴ اور سورہ آل عمران آیت۱۸۷ کوبھی شامل کردیا اور اس کا رخ اس طرف موڑ دیا کہ اس آیت میں جو قرآن کو ذریعہ معاش نہ بنانے کا ذکر ہے تویہ ان لوگوں کو منع کیا گیا ہے جو اﷲ کی نازل کردہ باتوں کو چھپاتے اور اس کے عوض معاوضہ لے لیتے ہیں، یا پھر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے اور لوگوں میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویا یہ اﷲ کا حکم ہے۔ موصوف نے اپنی کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے اس آیت کی تفسیر میں دوسری آیات کی تفسیر شامل کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قرآن کی تفسیری تحریف ہے۔ ان مذکورہ دوسری آیات میں بے شک اس بات کو بیان کیا گیا ہے لیکن ولا تشتروا والی آیت میں بہرحال قرآنی آیات پر اجرت لینے سے ہی منع کیا گیا ہے۔نبی اکی حدیث اوپر بیان کی جاچکی ہے، اس میں نبی ا نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ قرآن پڑھ کر ، اسے چھپا کر، اسے ذریعہ معاش نہ بناؤ‘‘ بلکہ فرمایا :
اقرؤا القرآن ولا تغلوا فیہ ولا تجفوا عنہ ولا تأکلو بہ ولا تستکثروا بہ
(مسند احمد: جلد ۵،صفحہ ۴۴۴)
’’ قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو، اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فوائد حاصل کرو‘‘
دوسری روایت میں ہے:
تُعَلَّمُوْا الْقُرانَ فَاِذَا عَلِمْتُمُوْہُ ۔۔۔۔۔۔وَلَا تَاکُلُوْ بِہٖ
( مسند احمد:مسند المکیین،حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)
یعنی قرآن سیکھو اور جب سیکھ جاؤ تو۔۔۔ اسے کمائی کا ذریعہ نہ بنالینا۔
کیا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی جو تشریح موصوف بیان کر رہے ہیں، وہ نبی ا کو (معاذاﷲ)معلوم نہیں تھی تب ہی تو انہوں نے عبادہ بن الصامت ؓ کو تعلیم قرآن پر ھدیہ (تحفہ) تک لینے سے روک دیا تھا! کیا عبادہ بن الصامتؓ قرآن کی آیات یا اس کے حکم کوچھپا رہے تھے جو انہیں تحفہ تک لینے سے منع کردیا گیا؟
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔