Tarz e Zindagi

Tarz e Zindagi Self Improvement ...

26/04/2026

*اب پہلے جیسے استاد ہی نہیں رہے*
وجہ میں بتاتا ہوں
کیونکہ معاشرے نے اسے استاد رہنے ہی نہیں دیا۔
وہ خود نہیں بدلا،
اسے مجبور، کمزور اور بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔
موبائل نے شاگرد کو گستاخ بنا دیا
پہلے شاگرد استاد سے سیکھتا تھا
آج گوگل سے بحث کرتا ہے
نہ ادب، نہ جھجک، نہ لحاظ
ہر دوسرا بچہ سمجھتا ہے کہ وہ استاد سے زیادہ عقل رکھتا ہے
یہ علم نہیں — بدتمیزی کا ڈیجیٹل لائسنس ہے
والدین نے استاد کا ہاتھ باندھ دیا
پہلے کہتے تھے:
“بچہ غلط ہو تو ٹھیک کریں”
اب کہتے ہیں:
“میرے بچے کو کچھ کہا تو اسکول دیکھ لوں گا”
یعنی
بچہ بدتمیز ہو سکتا ہے
مگر استاد سختی نہیں کر سکتا
یہ تربیت نہیں — بگاڑ کی سرپرستی ہے
قانون نے مجرم اور استاد کو ایک صف میں کھڑا کر دیا
استاد ڈانٹے ---> شکایت
سختی کرے --> ویڈیو بنا لو
نمبر کم دے --> ہراسانی کا الزام
نتیجہ؟
استاد پڑھانے سے زیادہ خود کو بچانے کی ڈیوٹی کر رہا ہے
معاشی ذلت نے پیشہ کمزور کر دیا
کم تنخواہ
زیادہ کام
کوئی سہولت نہیں
اوپر سے عزت بھی نہیں
آپ ایک انسان سے جذبہ چاہتے ہیں
مگر اسے دیتے کچھ بھی نہیں
یہ تعلیم نہیں — سستے مزدوروں کا نظام ہے
تدریس اب مشن نہیں، مجبوری ہے
پہلے لوگ استاد بنتے تھے شوق سے
اب بنتے ہیں نوکری نہ ملنے پر
جب نیت روزگار کی ہو اور عزت بھی نہ ملے
تو نتیجہ صرف حاضری پوری کرنا ہوتا ہے
کردار سازی نہیں
شاگرد نہیں، گاہک پیدا ہو رہے ہیں
فیس دو
نمبر لو
ڈگری لو
اخلاق، کردار، تربیت؟
کسی کو پرواہ نہیں
اسکول ادارے نہیں رہے
مارکیٹ بن چکے ہیں
سسٹم کو رزلٹ چاہیے، انسان نہیں
فائلیں پوری
رزلٹ اچھا
رینکنگ اونچی
بس
بچہ انسان بن رہا ہے یا نہیں؟
کسی کی ترجیح نہیں
استاد کو مشین بنا دیا گیا ہے
اصل سچ
آج استاد کمزور نہیں ہوا
اسے کمزور کر دیا گیا ہے
شاگرد بے ادب
والدین جانبدار
نظام ظالمانہ
معاشرہ بے حس
اور پھر ہم کہتے ہیں:
“آج کل استاد ویسے نہیں رہے”
کیسے رہیں؟
جب عزت چھین لو
اختیار چھین لو
تحفظ چھین لو
تو باقی کیا بچتا ہے؟
اگر یہی چلتا رہا
تو مستقبل میں استاد نہیں ہوں گے
صرف سبق سننے والے ملازم ہوں گے
اور پھر ہم روتے رہیں گے کہ
نسلیں کیوں بگڑ گئیں۔
کیونکہ یاد رکھیں:
جہاں استاد بے عزت ہو جائے
وہاں معاشرہ زیادہ دیر مہذب نہیں رہتا۔....!!
منقول

وقت لگتا ہے ۔۔۔ خود کو تراشنے میں۔۔۔
15/04/2026

وقت لگتا ہے ۔۔۔ خود کو تراشنے میں۔۔۔

27/03/2026

*(مفہومِ قرآن)*

*بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہو اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہوسکتے ہیں؟ کہو کہ کیا علم والے اور بے علم برابر کے ہیں؟ یقینا نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔*

*(سورة الزمر، آیت 9، پارہ 23)*

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَاترجمہ: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔(البقرہ 2:286)⭐...
07/01/2026

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا

ترجمہ: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
(البقرہ 2:286)

⭐ تفسیر ابنِ کثیر:

یہ آیت اللہ تعالیٰ کی عدل اور رحمت کو واضح کرتی ہے۔
اللہ بندے کو کبھی ایسی ذمہ داری یا آزمائش میں نہیں ڈالتا
جو اس کے بس سے باہر ہو۔
جو مشکلات آتی ہیں، وہ دراصل انسان کی صلاحیت کے مطابق ہوتی ہیں،
چاہے انسان کو اس وقت ایسا محسوس نہ ہو۔

⭐ تفسیر جلالین:

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ
ہر حکم، ہر آزمائش اور ہر فریضہ انسان کی طاقت اور استطاعت کے مطابق ہے۔
اللہ کی شریعت سخت نہیں بلکہ آسانی اور رحمت پر مبنی ہے۔

⭐ تفسیر معارف القرآن (مفتی محمد شفیع):

یہ آیت مومن کے دل کو اطمینان اور حوصلہ دیتی ہے۔
جب انسان مشکل حالات میں گھِر جاتا ہے،
تو یہ یقین رکھے کہ اللہ نے اسے اس آزمائش کے قابل سمجھا ہے۔
یہ آیت مایوسی کا علاج اور صبر کی بنیاد ہے۔

📌 خلاصہ پیغام:

جو بوجھ آیا ہے، وہ تم اٹھا سکتے ہو۔

جو امتحان ملا ہے، وہ تمہارے ظرف کے مطابق ہے۔

اللہ کی رحمت آزمائش سے زیادہ ہوتی ہے۔

ہمت نہ ہارو، کیونکہ اللہ تمہیں جانتا ہے۔



Address

Sector 9
Karachi
75760

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tarz e Zindagi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tarz e Zindagi:

Shortcuts

Share