Green Gold Agricultural Consultancy Services

Green Gold Agricultural Consultancy Services Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Green Gold Agricultural Consultancy Services, Defence Phase 5, Karachi.

Green Gold Agricultural Consulting Services specializes in the marketing of vegetable seeds, foliar fertilizers, agro chemicals and infrastructure for tunnel and green house farming. Whether you are already involved in agribusiness and are now looking grow your business portfolio further, or an agri-investor seeking further opportunities with greater return potential, or a product and/or service p

rovider aiming to penetrate new markets, our portfolio of services will help you realize profitability and growth in your agri-enterprise in Pakistan

24/08/2022
28/04/2022

Harvesting of Mustard Variety Raya.....
SOWING DATE.. 20 SEPTEMBER .......
Fertilizer PLAN... 1bag urea in two split applications and 3kg 80%WDG sulpher.
..... 28munds/acre.
Super Raya: A new high yielding Mustard variety for general cultivation in Punjab, ( ).

02/09/2020

Calendar of Tunnel Farming Vegetables in Pakistan..

1st color shows... Sowing Timing
2nd colour shows... Vegetative Growth
3rd colour shows....Reproductive (Fruits) growth
4th colour shows.... Inter cropping or open vegetable.... Or green manuring..

24/08/2020
23/08/2020

کمپوسٹ اور قدرتی کھاد کیا ہے اور کس طرح تیار کی جاتی ہے؟

عام طور پر کمپوسٹ یا قدرتی کھاد سے مراد جانوروں کا گوبر لیا جاتا ہے جو کہ بلکل غلط خیال ہے گوبر یا باقی اس طرح کے قدرتی مادے کو لیکر اس کو منطقی انجام تک پہنچانا کمپوسٹ کہلاتا ہے تازہ گوبر یا درختوں کے پتے گل سڑ کر ہی کمپوسٹ بنتے ہیں کیونکہ تازہ گوبر یا ویسٹ میٹریل میں کاربن اور نائٹروجن حل شدہ حالت میں نہیں ہوتی بلکہ نا قابل استعمال شدہ حالت میں ہوتی ہے جو کہ پودا استعمال نہیں کر سکتا گوبر اور دوسرے باقیات میں 60 سے 90 فیصد تک کا ربن اور 0.5 سے لیکر 5 فیصد تک نائٹروجن ہوتی ہے اس کے علاوہ فاسفورس اور باقی اجزائے کبیرہ اور صغیرہ ہوتے ہیں۔

گوبر کے ساتھ ساتھ ہر وہ فصل جس کے باقیات بھی گلائے سڑائے جاسکتے ہیں جن میں نائٹروجن کی کافی مقدار پائی جاتی ہو کمپوسٹ یا قدرتی کھاد وہ نامیاتی کھاد ہے جس کاکوئی متبادل نہیں یعنی کیمیائی کھاد ایک دفعہ ڈال کر ایک فصل لے لی تو اس میں سے صرف 21 فیصد نائٹروجن اور 14-15 فیصد فاسفورس پودے کو ملی اور باقی ساری ضائع ہوگئی ضائع شدہ کچھ تو فضا میں چلی گئی کچھ زیر زمین چلی جاتی ہے اور کچھ زمین کے ساتھ جڑجاتی ہے باقی ماندہ این ایروبک بیکٹیریا سے تحلیل ہو کر غیر موثر ہو جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ کیمیائی کھاد کا زمین میں کوئی ذخیرہ نہیں ہوتا جبکہ کمپوسٹ، ہیومک عناصر، ہیومک ایسڈ، فلوک ایسڈ اور ہیومن کی شکل میں زمین کے اندر محفوظ رہتے ہیں یہ زمین کے اجزاءکے ساتھ تہہ لگا لیتے ہیں اور یاد رہے کہ یہ مثبت چارج کا ذریعہ بنتے ہیں ورنہ مٹی پر منفی چارج ہوتا ہے اس طرح کمپوسٹ نامیاتی مادہ کی شکل میں محفوظ ہو جاتی ہے کمپوسٹ ایک ذخیرہ کا کام دیتا ہے جیسا کہ پانی ریزروائر کا کردار ادا کرتا ہے ویسا ہی کمپوسٹ بھی قدرتی ذخیرہ ہے اور ضرورت پڑنے پر پودے کو خوراک مہیا کرتا ہے

کمپوسٹ یا قدرتی کھاد کی تیاری کا طریقہ:
فارمولا نمبر 1:
1. گوبر(بھینس ،بکری ،بھیڑ،گھوڑا وغیرہ)=50 فیصد

2. مرغی کا ویسٹ =40فیصد

3. گھاس پتے وغیرہ=5 فیصد

4. جپسم=3 فیصد

5. براﺅن کوئلہ پسا ہوا=2فیصد

فارمولا نمبر 2:

گوبر = 25 فیصد

مرغی کا ویسٹ=20 فیصد

گنے کا چورا=40 فیصد

فارمولا نمبر 3:

گوبر 25=فیصد

مرغی کا ویسٹ=25 فیصد

سبزیوں یا پھلوں کا چھلکا یا پتے=40 فیصد

خون (جانوروں کا خون)=5فیصد (یا جتنی مقدارمیسر ہو )

جپسم=3 فیصد

فش کا ویسٹ=3 فیصد

ای۔ایم (E.M) بنانے کا طریقہ(مائیکروب بنانے کا طریقہ):
1. خمیر یا yeast= 50 گرام کا پیکٹ

2. شیرا (Mollasses =4) لیٹر

3. پانی کی مقدار = 200-300 لیٹر

خمیر اور شیرے کی مجوزہ مقدار لے کر 200-300 لیٹر پانی میں اچھی طرح حل کرلیں اور ڈرم یا کسی برتن کے منہ کو اچھی طرح ڈھک کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں تا کہ مائیکروب افزائش کر لیں اگلے دن ایک فوارہ یا سپرے لیکر اس کو فارمولا نمبر1 سے لیکر فارمولا نمبر3 تک کے میٹریل پر مکس کرنے کے بعد اچھی طرح سپرے کریں

کمپوسٹ (قدرتی کھاد) کی تیاری کے مراحل:
تمام قسم کے گوبر،باقیات یا قدرتی ویسٹ کو یکجا کرنا

موٹی ٹہنیوں یا لکڑیوں کو باریک کرنا

اگر کٹر ہو یا شریڈر ہو تو باریک کرنا

ان چیزوں کا خیال رکھا جائے کہ میٹریل کو اس ریشو(Ratio) سے ملائیں کہ C:N دی گئی حد سے تجاوز نہ کرے یعنی (C:N) (20-30:1 ) یہ ریشو کمپوسٹ تیار ہونے پر ہونی چاہیے

کیمیائی تعامل(pH)بھی(6-7)کے درمیان ہونا ضروری ہے اس کے لیے جپسم سب سے سستا ذریعہ ہے جپسم میں موجودسلفر(pH)کم کر دے گا

ان تمام اجزاءکو تہہ لگا کر اچھی طرح ملائیں

اس کے بعد اس کی نمی چیک کریں جو کہ واٹر ہولڈنگ کپیسٹی کا 50 فیصد ہونا چاہیے

اس کے بعد آپکی اپنی تیار کی گئی ای۔ایم یعنی خمیر اور شیرے سے تیار کیا گیامحلول سپرے کریں

بہتر یہ ہوگا کہ 2 فیصد تک اس میں ایسی جگہ کی مٹی ملائی جائے جہاں گوبر کمپوسٹ تیار اور استعمال ہوتا ہے تا کہ اس میں بیکٹریا ،فنجائی اور دوسرے خوردبینی اور بڑے جاندار شامل ہو کر توڑ پھوڑکا عمل تیز کر سکیں

جب یہ ساری چیزیں مکس ہو جائیں تو ڈھیر لگا دیں اور اس کی اونچائی 6 فٹ تک ضرور رکھیں تا کہ مطلوبہ ٹمپریچرحاصل کیا جا سکے یعنی 70 C

ہر ہفتے ایک سے دو دفعہ اس تمام میٹریل کو مکس کریں تا کہ آکسیجن اچھی طرح گزرسکے

آکسیجن کی کمی کی وجہ سے(Anaerobic Bacteria)یعنی آکسیجن کے بغیر والے جراثیم زیادہ ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے میتیھن(CH4)گیس خارج ہونا شروع ہوجاتی ہے

یہ عمل 28-30 دن میں مکمل ہو جائے گا اور آپ کو ایک بہترین تیار شدہ کمپوسٹ مل جائے گی

مفاد عامہ کے لیے شیئر کریں

26/06/2017
11/06/2017

SOWING OF TOMATO CROP IN OPEN FIELD......IN SINDH AREA......CROP WILL BE READY WITH IN 70 DAYS AFTER TRANSPLANTING IN THE FIELD......IN MONTHS OF FEBRUARY.....WHEN RATES IN MARKET ARE VERY HIGH.........
WHILE IN PUNJAB......TOMATO SOWING IN HIGH TUNNELS ARE READY TO COMES IN MARKET IN MONTHS OF JANUARY (END OF MONTHS) WHEN RATES IN MARKET ARE VERY HIGH.............BUT MAIN PROBLEM IN PUNJAB IS COLOR OF TOMATO.....IS NOT GOING TO RED....
SO SINDH AREA HAS BIG BENEFITS AS COMPARED TO PUNJAB................
MAIN PROBLEM IS THAT THEY DO NOT NOW HOW TO GET MAXIMUM BENEFIT FROM WHETHER CONDITION...

02/02/2017

Application of zinc fertilizers

Zinc deficiency is routinely corrected by soil and/or foliar applications of zinc fertilizers. Zinc sulphate (ZnSO4) is the most widely applied inorganic source of zinc to soils or leaves due to its high solubility, low cost, and availability in the market. Zinc can also be applied to soils in forms of zinc oxide and Zn-oxysulphate. The well-known organic compound of zinc fertilizers is zinc EDTA (ethylenediaminetetraacetic acid). However, due to its high cost, use of zinc EDTA in practical agriculture is limited. In addition, recent results show that, in cases of leaf spray, zinc sulphate is more effective than zinc EDTA in terms of increasing grain zinc concentration.
Generally, foliar zinc spray is used at rates between 0.2% and 0.5% zinc sulphate. This type of foliar application may be repeated two or three times over the crop growth cycle, depending on the severity of zinc deficiency in plants, or depnding on the target level needed to increase grain zinc concentration for better human nutrition. Field trials with wheat showed that applying the foliar zinc spray twice at a rate of 0.5% zinc sulphate may increase grain zinc concentration by nearly 50% without any negative effect on grain yield when wheat plants are growing on zinc-deficient soils

Address

Defence Phase 5
Karachi

Telephone

+923337643926

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Green Gold Agricultural Consultancy Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Green Gold Agricultural Consultancy Services:

Share