Pro-Client Networks

Pro-Client Networks 💡An Indoor & Outdoor Lighting Solution Provider🌍

29/02/2024
11/01/2024

Follow this page.

13 Followers, 11 Following, 2 Posts - See Instagram photos and videos from naz art ()

Elevate your style with our Fashion & Beauty and Jewellery & Watches collection: 💃💄⌚Trendsetting Fashion: Discover the l...
10/10/2023

Elevate your style with our Fashion & Beauty and Jewellery & Watches collection: 💃💄⌚

Trendsetting Fashion: Discover the latest apparel and beauty products to enhance your look. 👗💅
Timeless Elegance: Adorn yourself with exquisite jewelry and luxury timepieces for any occasion. 💍✨
Quality Assurance: We offer high-quality brands and craftsmanship, ensuring durability and sophistication. 🏆👑
Unbeatable Discounts: Enjoy exclusive discounts and special offers on your favorite fashion and jewelry pieces. 💰🎉
Redefine Your Glamour: Whether you're seeking a style upgrade or timeless pieces, redefine your glamour with us. 💎💃

We invest in founders reinventing the way the world works, trades, and transacts

Shop smart for groceries and household essentials with us:1.Quality Selection: Find fresh produce and top-quality produc...
09/10/2023

Shop smart for groceries and household essentials with us:

1.Quality Selection: Find fresh produce and top-quality products.
2.Everyday Savings: Enjoy competitive prices and exclusive deals.
3.Convenient Delivery: Get your essentials delivered to your doorstep hassle-free.

Низкие цены. Доставка по Беларуси. Пункт выдачи заказов в Минске. Честная рассрочка. Официальная гарантия. Работаем с 2000 года, без выходных. Большой ассортимент: быт...

03/01/2022

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے غیر منظور شدہ سوسائیٹی پروجیکٹ کی فہرست جاری کردی ہے مزکورہ سوسائیٹی پروجیکٹس کی خرید و فرخت سے اجتناب کیجئے۔۔۔
1 نارتھ ٹاؤن فیز ۱ GFS Builders پولٹری لینڈ / نا کلاس
2صدف ڈریم اپارٹمنٹ / ایم کامل بلڈرز بابا موڑ سرجانی/
3 سحر کاٹیج /سحر بلڈرز۔ویھ جام چکرو ۔نا کلاس لینڈ۔پولٹری لینڈ
4 انابیہ انکلیو /ہلکانی-
5 الاحمد ٹاؤن /کنگ بلڈرز دیھ منگھو پیر۔
6 احسن سٹی/ہلکانی / سروے نمبر
7 نارتھ ٹاؤن فیز2/3فیز SGF Builders
8 گلشن بلال/ویھ بند مراد
9 لالہَ زار/ صاءیمہ بلڈرز / دیھ بند مراد خان
10 غریب آباد گوٹھ /بند مراد بلاک نمبر۳۴۵/۳۴۶
11گوٹھ حضرت آباد/
12 رئیس گوٹھ بند مرادخان
13الصفاء گارڈن۔المنزل بلڈرز/دیھ بند مراد خان
14علی ٹاؤن/ KSF Builders* دیھ بند مراد
15 سلمان ٹاؤن / نیشنل ہائی وے
16 گلشنِ سمیر/دیھ تھانو گڈاپ
17آئیڈیل سٹی
18 بروک سٹی/نا کلاس لینڈ
19ایرج ریزیڈینشیا/ایرج بلڈرز۔دیھ بند مراد/نا کلاس لینڈ
20 ماریہ سٹی گڈاپ ٹاؤن گورنمٹ لینڈ
21 الصفاء گارڈن اسکیم 33/نا کلاس لینڈ
22 عبداللہ مراد ڈریم سٹی/گڈاپ/گورنمنٹ لینڈ
23 شیراز ٹاؤن .پاک لینڈ ہاؤسنگ
24 گلشنِ علی /دیھ بند مراد۔نا کلاس بلاک نمبر ۲۱۶ /۲۱۸
25 گلشنِ نور سپر ہائیوے
26 القائم سٹی سپر ہائی وے
27 مکہ سٹی / سپر ہائی وے
28 عثمانی ٹاؤن /سپر ہائی وے
29 مدینہ سٹی /سپر ہائی وے
30 علی حسن بروہی ٹاؤن/فیز دیھ حب/فیز دیھ بند مراد بلاک نمبر ۲۲۵/۲۲۶/۲۲۷۔
31 حاجی حاکم علی زرداری ٹاؤن/دیھ ہلکانی فیز/فیزدیھ مائی گاڑہی/ فیزدیھ بند مراد بلاک نمبر ۳۷۰/۳۷۱/۳۷۲
32سرجانی ٹاؤن/ ملیحہ ٹاور/ملیحہ بلڈرز
33 حاجی جاڑو گرینڈ ٹاؤن /دیھ مٹھان فیز ۱۱
34 گلستانِ فاطمہ/دیھ گنڈپاس فیز ۱
35 دیھ بند مراد زیباء زہری ہوٹل پیٹرول پمپ
36 ہمدرد سٹی
37 عریشہ سٹی بند مراد
38 پاک چائینا ٹاؤن ناردرن بائی پاس
39 صحت سٹی ویھ ناگن
40 صائمہ رینچز/دیھ ہلکانی
41 نیا ناظم آ باد /منگھو پیر
42 مراد بروہی بلاک نمبر ۲۱۹ دیھ بند مراد خان

یہ تمام پروجیکٹس بلیک لسٹ ہیں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہاہے۔ مزید معلومات کے مطابق یہ تمام پروجیکٹس کسی قسم کا کوئی NOC یا SBCA سے نقشہ پاس کروائے بغیر عوام کو فروخت ہو رہے ہیں ۔ عوام اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بلڈرز مافیہ کے ہوالے کر کے عمر بھر رو کر گزارتے ہیں ۔

01/09/2021

💐💐بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم💐
Assalam u Alaikum.

Bahria Town Karachi 🇵🇰
Available For Sale.

P.15A. 125 S.Q Yards
Plot. 720. Series
Demand. 45 Lacs

P.15A. 125 S.Q Yards
Plot. 2570. Series
Demand. 43 Lacs

P.15A. 125 S.Q Yards
Plot. 3060 Series. Road. 3. All Paid
Demand. 48 Lacs

P. 15.B. 125 S.Q Yards
Plot. 850 Series. Road.1
Demand. 43 Lacs

P.15B. 125 S.Q. Yards
Plot. 1150. Series. Loop Road
Demand. 36.50 Lacs

P.15B. 125 S.Q Yards
Plot. 1170 Series Loop Road
Demand. 36.50 Lacs

P.16. 250 S.Q Yards
Plot. 440. Series.
Jinnah Face. All Paid
Demand. 110 Lacs

P.16. 250 S.Q Yards
Plot. 550. Series. West Open All Paid
Demand. 93 Lacs

P.27A. 500 S.Q Yards
Plot. 860 Series. Road.1 All Paid
Demand. 125 Lacs

P.31. 125 S.Q Yards
Plot. 870. Series. All Paid
Road. 14. + Park Face
Demand. 48 Lacs

P.31. 125 S.Q Yards
Plot. 830. Series. All Paid
Demand. 43.50 Lacs

10/08/2021
اپنا گھر اسکیم ۔ چند ضروری حقائقتحریر : محمّد سلیموزیر اعظم عمران خان نے جو پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا اس پر عمل در...
09/08/2021

اپنا گھر اسکیم ۔ چند ضروری حقائق

تحریر : محمّد سلیم

وزیر اعظم عمران خان نے جو پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا اس پر عمل درامد شروع کر دیا گیا ہے ۔ لیکن اس اسکیم کے تحت کسی بھی قسم کا کوئی قرضہ لینے سے پہلے چند حقائق کو جاننا انتہائی ضروری ہے ۔ کیوں کہ میرے نزدیک کسی بھی کنویں میں چھلانگ لگانے سے پہلے اس کی گہرائی ضرور ناپ لینی چاہیئے ورنہ شائد آپ پھر کبھی باہر نہ آسکیں ۔
پہلے تو چند خوش نما تشہیری حربے سن لیں جن کو سن کر کسی بھی غریب بے گھر کی رال ٹپک سکتی ہے ۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ یہ قرضہ بلاسود دیا جائے گا ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس قرضے کے حصول کے لیئے کسی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ غریب اپنی سہولت سے قسطوں کی مالیت اور واپسی کی مدت معیاد کا تعین خود کر سکتے ہیں جیسے 3300 روپے ماہانہ یا 6600 روپے ماہانہ اور 20 سال کی مدت ۔
اس کے علاوہ ابتدا میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس "کار خیر" میں حکومت اکیلی نہیں ہے یعنی لوگوں کو جو گھروں کے لیئے قرضہ دیا جائے گا وہ صرف حکومت ادا نہیں کرے گی بلکہ اس کا بڑا حصہ بینکس ادا کریں گے ۔ اور یہ کوئی مخصوص بینک نہیں ہو گا بلکہ آپ کسی بھی بینک میں "اپنا گھر اسکیم" کے تحت قرضے کے لیئے درخواست دے سکتے ہیں ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ تمام کے تمام بینکس ایک "حکومتی اسکیم" کے لیئے اپنا سرمایہ کیوں داؤ پر لگا رہے ہیں ؟
اگر کوئی ایک آدھا بینک ہوتا تو ہم سوچ سکتے تھے کہ اس بینک کے مالک نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔
لیکن تمام کے تمام بینکس غریبوں کی ہمدردی میں اپنے پیسے لے کر خان صاحب کے قدموں میں کیوں ڈھیر کر رہے ہیں ؟
یہ سب سے اہم سوال ہے ۔ کیوں کہ اس سوال کے جواب سے ساری "اسکیم" سمجھ آجاتی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اس مضمون کے اختتام تک آپ کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ تمام بینک جو سودی کاروبار کرتے ہیں وہ اس اسکیم میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں ۔
تو سب سے پہلے چلتے ہیں پہلے نکتے پر ۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ یہ قرضہ بلاسود دیا جائے گا ۔

یہ بات صریحاً جھوٹ پر مبنی ہے ۔ یہ بات میرے علم میں نہیں کہ یہ جھوٹ کس نے بولا ۔ آیا حکومتی سطح پر یہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے یا عوام خود ہی اپنی حکومت اور بینکوں کے متعلق اچانک خوش گمان ہو گئی ہے ۔ لیکن بحرحال اس مفروضے کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قرضہ اسکیم کے تحت آپ کو جتنا قرضہ دیا جائے گا اس کے
پہلے پانچ سال اس قرضے پر سود کی شرح 5 فیصد ہو گی ۔
اس کے بعد اگلے پانچ سال تک اس قرضے پر سود کی شرح 7 فیصد ہو گی ۔
پھر اس کے بعد اس کے اگلے دس سال (یا اس سے زائد) پر سود کی شرح kibor جمع 5 فیصد ہو گی ۔
اب آگے چلنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ KIBOR کیا ہوتا ہے ۔
یہ مخفف ہے Karachi inter-bank offered rate کا ۔ یعنی بینک جو قرضہ دیتا ہے وہ عمومی طور پر Kibor ریٹس پر دیتا ہے ۔ یہ Kibor ریٹ مارکیٹ کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے ۔ یہ اس وقت 13 فیصد کے آس پاس ہے لیکن جیسے میں نے بتایا کہ یہ مارکیٹ کنڈیشنز کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے تو یہ آگے جا کر بڑھ بھی سکتا ہے اور کم بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کا انحصار مارکیٹ پر ہے ۔
اب اس Kibor میں مزید 5 فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ آپ کو دس سال بعد جو سود دینا ہے وہ 13+5 = 18 فیصد ہے ۔ وہ بھی اس صورت میں جب Kibor ریٹ 13 فیصد ہی رہے ۔ اگر یہ بڑھ کر 15 , 18 یا 20 فیصد پر چلا گیا تو اس میں مزید 5 فیصد جمع کر لیں ۔ یہ وہ ریٹ ہو گا جس کی شرح سے آپ پر دس سال بعد سود پڑنا ہے ۔
اب اس کے باقی معاملات ہم تیسرے نکتے میں جا کر سمجھیں گے ۔ پہلے دوسرے نکتے پر تھوڑی بات کر لیتے ہیں ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس قرضے کے حصول کے لیئے کسی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ۔

اب اس نکتے میں سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ جب آپ بینک سے کوئی قرضہ لیتے ہیں تو آپ کو ضمانت کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ بینک سے دس لاکھ کا قرضہ لیتے ہیں اور اس کے بعد آپ بھاگ جاتے ہیں تو بینک آپ کو کہاں ڈھونڈتا پھرے گا ؟
یہ وہ مجبوری ہے جس کی بناء پر بینک آپ سے ضمانت مانگتا ہے ۔
جس اسکیم پر ہم آج بات کر رہے ہیں اس میں بینک کی ایسی کوئی مجبوری ہے ہی نہیں جس کی بنا پر اسے کسی بھی قسم کی ضمانت کی ضرورت پڑے ۔
آپ حیران ہو رہے ہوں گے ۔ لیکن یہ سچ ہے ۔
اس اسکیم کے تحت بینک آپ کو رتی برابر بھی کوئی ایسی شے نہیں دے رہا جس کے لیئے اسے ضمانت کی ضرورت پڑے ۔
آپ نے بھاگنا ہے ؟
بھاگ جائیں ۔ بینک آپ کے پیچھے بھی نہیں آئے گا ۔ کیوں کہ آپ ہی اپنی لنگوٹی چھوڑ کر بھاگیں گے ۔ بینک کا کچھ نہیں جائے گا ۔
اس اسکیم کا حسن ہی یہی ہے کہ بینک آپ کو نہ کیش دے رہا ہے نہ گھر دے رہا ہے نہ گھر کے کاغذات ۔
جو کچھ بھی دینا ہے آپ نے دینا ہے ۔
اسکیم کچھ یوں ہے کہ آپ اپنے لیئے کوئی گھر پسند کر لیں ۔
اب آپ مرے سے مرا کوئی 30 لاکھ کا گھر تو پسند کریں گے ہی ۔ حکومت خود بھی گھر بنوانے کا ارادہ رکھتی ہے جن کی مالیت 27 لاکھ بتائی جا رہی ہے ۔ لیکن اس میں ابھی وقت ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کسی سستے سے علاقے میں اپنی مرضی کا کوئی گھر پسند کریں اور بینک سے اس مخصوص گھر کے لیئے قرضہ لے لیں ۔
لیکن بینک بجائے آپ کو کیش رقم دینے کے اس گھر کی 90 فیصد ادائیگی خود کرے گا اور کاغذات بنوا کر اپنے پاس رکھ لے گا ۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ باقی کے دس فیصد کہاں سے آئیں گے ۔
تو وہ آپ نے دینے ہیں ۔
یعنی اگر آپ نے 40 لاکھ کا گھر پسند کیا ۔ تو اس میں سے 4 لاکھ آپ ادا کریں گے ۔ باقی 36 لاکھ کی ادائیگی بینک کرے گا اور آپ کو گھر کا قبضہ مل جائے گا ۔ کاغذات بینک کے پاس رہیں گے ۔
اب آپ بتائیں آپ بھاگ سکتے ہیں ؟
آپ کے پاس صرف گھر کا قبضہ ہی تو ہے ۔ وہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو بینک کو 40 لاکھ کا گھر 36 لاکھ میں مل جائے گا ۔ تو آپ کے پیچھے بھاگتی ہے اس کی جوتی ۔
آپ کا جب دل چاہے آپ بھاگ جائیں ۔ آپ کے بھاگ جانے کا فائدہ بھی بینک کو ہی ہو گا ۔
آپ جتنی جلدی بھاگیں گے اتنا ہی آپ کا نقصان کم ہو گا ۔ ورنہ جتنی قسطیں جمع کروانے کے بعد بھاگیں گے اتنے پیسے اپنے نقصان میں اور جمع کر لیں ۔
بینک کا اس میں کسی صورت کوئی بھی نقصان نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا ہر صورت میں فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ وہ آپ کے گھر پر قبضہ کر کے کسی اور کو بیچ دیں گے ۔ جو کچھ آپ نے بھرا ہے وہ سب کا سب بینک کا منافع بن جائے گا ۔
یعنی اس پوری اسکیم میں بینک کو ضمانت کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
اب چلتے ہیں تیسرے نکتے پر ۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ غریب اپنی سہولت سے قسطوں کی مالیت اور واپسی کی مدت معیاد کا تعین خود کر سکتے ہیں جیسے 3300 روپے ماہانہ یا 6600 روپے ماہانہ اور 20 سال کی مدت ۔

اس نکتے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ 20 سال کی مدت کے لیئے 27 لاکھ کا بھی قرضہ لیتے ہیں تو اس کی قسط کتنی بنے گی ؟
20 سال میں 240 مہینے ہوتے ہیں ۔ سادہ حساب سے تقسیم کر لیجیئے تو یہ 11 ہزار 250 روپے مہینہ کی قسط بنتی ہے ۔ لیکن آپ منت سماجت کر کے اس کو کسی طرح 6 یا 7 ہزار روپے مہینہ پر لے بھی آتے ہیں تو اس میں نقصان آپ کا اپنا ہے ۔
میں پہلے نکتے میں سمجھا چکا کہ اس اسکیم کے تحت لیئے گئے قرضے میں پہلے پانچ سال سود کی شرح پانچ فیصد ہے ۔ اس کے اگلے پانچ سال یہ شرح سات فیصد ہو جائے گی اور اس کے بعد آپ "ڈینجر زون" میں داخل ہو جائیں گے ۔ یعنی دس سال بعد آپ مارکیٹ کے عمومی ریٹس سے بھی پانچ فیصد زیادہ سود جو قریباً 18 فیصد بنتا ہے ادا کریں گے ۔ اور یہ شرح اس وقت تک چلے گی جب تک آپ قرضہ چکا نہیں دیتے یا ڈیفالٹ نہیں کر جاتے ۔
اب ذرا حساب لگائیں کہ آپ نے ایک گھر 30 لاکھ کا پسند کیا ۔ 3 لاکھ آپ نے ڈالے اور 27 لاکھ بینک نے دے کر آپ کو قبضہ دلوا دیا ۔
اب آپ مہینے کے مہینے 7000 روپے قسط سود سمیت بینک کو ادا کر رہے ہیں تو دس سال میں کتنا قرضہ اتر جائے گا ؟
یہ بنے گا 8 لاکھ 40 ہزار روپے ۔ یہ بھی اس صورت میں جب میں انتہائی خوش گمان ہو کر یہ سوچوں کہ آپ ہر ماہ باقاعدگی سے بینک کی قسط پورے دس سال تک ادا کرتے رہیں ۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی مائی کے لعل نے آج تک سود پر قرضہ لے کر اس کی ادائیگی کبھی وقت پر نہیں کی ۔
تو اب 27 لاکھ میں سے 8 لاکھ 40 ہزار روپے گھٹا بھی دیں تو ابھی پیچھے پورا پہاڑ باقی ہے ۔ یعنی 18 لاکھ 60 ہزار اب بھی باقی ہیں اور اس رقم پر آپ نے جو سود ادا کرنا ہے وہ ہے کم از کم 18 فیصد جو مارکیٹ کے سود کی شرح سے بھی 5 فیصد زیادہ ہے ۔
یعنی اگر آپ اس اسکیم سے ہٹ کر کبھی بھی بینک سے قرضہ لیں تو بینک آپ کو Kibor ریٹ پر بغیر کسی اضافے کے ویسے بھی قرضہ دے ہی سکتا تھا ۔ لیکن وزیر اعظم اسکیم میں آپ کو پہلے دس سال Kibor ریٹ پر 5 فیصد کی جو سہولت دی گئی وہ بعد کے دس سال میں Kibor پر 5 فیصد بڑھا کر برابر کر لی گئی ۔
اسے کہتے ہیں کاروبار ۔ یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ چوکھا آئے ۔
نفسیاتی طور پر جو لوگ سود پر قرضہ دیتے ہیں انہیں پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ لینے والا جتنی مدت کے لیئے قرض لے رہا ہے وہ اس کی دوگنی مدت میں بھی قرض لوٹا نہیں سکتا ۔ بعض لوگوں کی زندگی تمام ہو جاتی ہے صرف قسطیں بھرتے بھرتے ۔ قرضہ ختم نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ بڑھتا جاتا ہے ۔
اپنے وطن کی ہی مثال لے لیجیئے ۔
ہم نے محض چند ہزار ڈالر سے سود پر قرضہ لینے کی ابتدا کی تھی ۔ ہمارا پکا پروگرام تھا کہ یہ چھوٹا سا قرضہ تو ہم "یوں" بھگتا دیں گے ۔
آج الحمدللہ ہم ہزاروں ارب ڈالر کے قرضے کے "مالک" ہیں ۔
یہ سود کے وہ سائیڈ ایفیکٹس ہیں جن سے کم از کم مسلمان کو تو فرار ممکن نہیں ۔
صرف اتنا سوچ لیجیئے کہ 20 سال میں زندگی کہاں سے کہاں چلی جاتی ہے ۔
آج جو شخص 35 سال کی عمر میں قرضہ لے رہا ہے اس کی ایک بیوی ہو گی دو چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے ۔ خرچے کم ہوں گے تو اس قسم کا پلان آسان نظر آتا ہو گا ۔ بھئی اگر 4000 روپے گھر کا کرایہ بھی نکالنا ہی ہے تو 8000 روپے مہینہ نکال کر "کبھی نہ کبھی" تو اپنے مکان کے مالک بنیں گے ؟
لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلے 5 سالوں میں ان دو بچوں میں دو بچوں کا اور اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔
اس سے اگلے چند سال میں بچے بڑے ہونے شروع ہو جائیں گے ۔ ان کے تعلیمی اور دیگر اخراجات بڑھتے جائیں گے ۔
کبھی بیٹی کی شادی کر رہے ہوں گے تو کبھی بیٹے کی لیکن یہ قسط کی تلوار سر پر لٹکتی رہے گی ۔
کب تک بھرتے رہیں گے ۔
35 سال کا بندہ 55 سال کا ہو جائے گا لیکن قسط کا عذاب جاری رہے گا ۔
پھر اگر کسی دن بینک نے نادہندگی کے جرم میں آپ کو اسی مکان سے نکال کر باہر کھڑا کر دیا جس کی قسطیں آپ ساری زندگی بھرتے رہے ہیں تو تصور کیجیئے آپ کی ساری زندگی کا حاصل کیا ہو گا ؟
Copied

💡An Indoor & Outdoor Lighting Solution Provider🌍

Address

Karachi

Telephone

+923411112111

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pro-Client Networks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pro-Client Networks:

Share